Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 29

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 29

–**–**–

 

کہیں کچھ غلط تھا ۔ بہت غلط
فرشتے نے آہستہ سے گردن اس کی طرف موڑی-
اس کی سنہری انکھوں میں گلابی سی نمی ابھر آئ تھی-
محمل! تمہیں کچھ یاد نہیں؟
کیا ۔ کیا یاد نہیں؟ میرا بچہ کہاں ہے؟ وہ گھٹی گھٹی سی سسک اتھی-کچھ تھا جو اس کا دل ہولا رہا تھا-
محمل۔۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر گال پہ لڑھکنے لگے، بے اختیار اس نے محمل کے ہاتھ تھام لیے-تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا تھا-
فرشتے میں پوچھ رہی ہوں کہ میرا بیٹا کہاں ہے؟
تمہارے سر پہ چوٹ آئی تھی، تمہارا اسپائنل کارڈ ڈیمج ہوا تھا-
فرشتے میرا بچہ-اس کی آواز ٹوٹ گئی- وہ بے قراری سے فرشتے کی بھیگی آنکھوں کو دیکھ رہی تھی-
محمل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل! تم بے ہوش ہوگئی تھیں-تم کوما میں چلی گئی تھی،
مجھے پتا ہے میرا صبح ایکسیڈنٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح نہیں تھا وہ سات سال پہلے تھا-
وہ سکتے کے عالم میں اسے دیکھتی رہ گئی-
وقت سات سال آگے بڑھ گیا ہے-تمہیں کچھ یاد نہیں؟وہ ساری باتیں جو میں اتنے برس تم سے کرتی رہی؟وہ دن وہ راتیں جو میں نے ادھر تمہارے ساتھ گزاریں،تمہیں کچھ یاد نہیں؟
وہ پتھر کا بت بن گئی تھی-فرشتے کو لگا وہ اس کی بات نہیں سن رہی ہے-
ڈاکٹرز کہتے تھے- تم کبھی بھی ہوش میں آسکتی ہو-ہم نے بہت ویٹ کیا تمہارا محمل بہت زیادہ-
آنسو متواتر اس کے دمکتے چہرے پہ گر رہے تھے-
وہ گم صم سی اسے دیکھے گئی-گویا وہ وہاں تھی ہی نہیں-
میں نے تمہارے اٹھ جانے کی بہت دعائیں کی محمل! میں نے اپنا پی ایچ ڈی بھی چھوڑ دیا،تمہارے ایکسیڈنٹ کے دوسرے مہینے میں آگئی تھی، دو ماہ رہی، پھر واپس گئی، مگر دل ہی نہیں لگ سکا- میں پڑھ ہی نہیں سکی، پھر میں نے سب پڑھائی چھوڑ دی اور تمہارے پاس آگئی- اتنے برس محمل ، اتنے برس گزر گئے،تمہیں کچھ بھی یاد نہیں ؟ محمل-“
فرشتے نے ہولے سے اس پتھر کے مجسمے کا شانہ ہلایا- وہ ذرا سی چونکی، پھر اس کے لب کپکپائے-
میرا ۔۔۔ میرا تیمور؟
یہ تیمور تھا نہ سنی، ہم اسے سنی کہتے ہیں-
مگر وہ کیسے مانتی؟وہ جسے کوئی کالونی کابچہ سمجھی تھی، وہ اس کا اپنا بچہ تھا-یہ کیسے ممکن تھا؟اسے تو لگا تھا کہ وہ تو بس ایک دن کے لیے سوئی ہے یا شاید دن ایک حصہ- پھر صدیاں کیسے بیت گئیں؟اسے کیوں نہیں پتا چلا؟ اور تیمور ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں-
اسے کاٹ میں لیٹا اپنا نومولود بیٹا یاد آیا-
فرشتے وہ میرا بچہ ہے- اف میرے خدایا- اس نے بے یقینی سے آنکھیں موند کر کھولیں- وہ اتنا بدل گیا ہے؟
بہت کچھ بدل گیا ہے محمل!کیونکہ وقت بدل گیا ہے -وقت ہر شے پہ اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے-
ہمایوں؟ اس کے لب پھڑپھڑائے-ہمایوں کہاں ہے؟
نرس نے جب بتایا تو میں نے اسے کال کر دیا تھا- مگر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحے بھر کو ہچکچائی- وہ میٹنگ میں تھا، رات تک آسکے گا-
نہیں فرشتے ، تم اس کوبلاؤ پلیز بلاؤ اس سے کہو محمل جاگ گئی ہے،محمل اس کا انتظار کر رہی ہے-وہ میرے ایک فون پہ ہی دوڑتا چلا اآتا تھا-
وہ سات سال پہلے کی بات تھی محمل! وقت کے ساتھ یہاں بہت کچھ بدلتا ہے محمل لوگ بھی بدل جاتے ہیں-
وہ کیوں نہیں آیا؟وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی-عجیب بے یقینی سی بے یقینی تھی-
محمل! پریشان نہ ہو پلیز دیکھو-
وقت ہمایوں کو نہیں بدل سکتا – میرا ہمایوں ایسا نہیں ہے، میرا تیمور ایسا نہیں ہے-
وہ ہذیانی انداز میں چلائی- اتنی بے یقینی تھی کہ اسے رونا بھی نہیں آرہا تھا-
فرشتے تاسف سے اسے دیکھتی رہی-
ابھی اسے سنبھلنے میں وقت لگے گا ، وہ جانتی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فرشتے چلی گئی اور وہ منہ پہ چادر ڈالے انکھیں موندے لیٹی رہی ۔ اسے یقین نہ تھا کہ فرشتے نے اس سے سچ بولا ہے، اسے لگ رہا تھا کہ یہ سب ایک بھیانک خواب ہے اور ابھی وہ آنکھ کھولے گی تو وہ خواب ٹوٹ جائے گا-
پھر اس نے آنکھ ہی نہ کھولی، اسے ڈر تھا کہ اگر خواب ٹوٹا تو وہ ٹوٹ جائے گی-
جانے کتنا وقت گزرا، وہ لمحوں کا حساب نہ رکھ پائی-اور اب کون سے حساب باقی رہ گئے تھے؟
دروازے پہ ہولے سے دستک ہوئی-اس نے لمحے بھر کو آنکھیں کھولیں-ہوا سے چہرے پہ پڑی چادر سرک گئی تھی، منظر صاف واضح تھا-
کھلے دروازے کے بیچ وہ کھڑا تھا-
اس کی نگاہیں وہیں ٹھہر سی گئیں- وقت تھم گیا،لمحے ساکن ہوگئے- وہ اسے ویسا ہی لگا تھا-اتنا ہی وجیہہ اور شاندار، مگر اس کا جذبات سے عاری چہرہ اس پر چھائی سنجیدگی نہیں وہ شاید ویسا نہیں رہا تھا-
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا بیڈ کےقریب آیا اور پائنتی کے ساتھ رک گیا-
ہمایوں! تڑپ کر رہ گئی-بے اختیار آنکھوں سے آنسو گرنے لگے-
ہوں،کیسی ہو؟وہ پائنتی کے قریب کھڑا رہا، اس سے آگے نہیں بڑھا، آواز میں بھی عجیب سرد مہری تھی-
ہمایوں! وہ رونے لگی تھی-یہ سب کیا ہے؟یہ کہتے ہیں اتنے سال گزر گئے میری نیند اتنی لمبی کیوں ہوگئی؟
معلوم نہیں-ڈاکٹرز کب تمہیں ڈسچارج کریں گے؟وہ کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھ رہا تھا- جیسے جانے کی جلدی ہو،اس کے لہجے میں کوئی ناراضی کا عنصر نہ تھا، بلکہ بہت ہموار لہجہ تھا- لیکن شاید ان کے درمیاں کچھ بھی باقی نہ رہا تھا-
میں ٹھیک ہوجاؤں گی نا ہمایوں؟جیسے وہ تسلی کے دو بول سننا چاہتی تھی-
ہوں-وہ اب جیبوں میں ہاتھ ڈالے تنقیدی نگاہوں سے اطراف کا جائزہ لے رہا تھا-
یہ سب کیا ہورہا تھا اس کے ساتھ؟ہمایوں اور تیمور ۔۔ وہ اس کے ساتھ یوں کیوں کر رہے تھے؟
ہمایوں ۔۔۔۔۔۔ مجھ سے بات تو کریں-
ہاں کہو ، میں سن رہا ہوں – وہ متوجہ ہوا، لمحے بھر کو نگاہ اس پہ جھکائی-
اس کے آنسو تھم گئے- وہ بالکل چپ ہو کر رہ گئی- یہ تو محبت کی نگاہ نہ تھی، یہ تو خیرات تھی-بھیک تھی-
وہ چند لمحے منتظر سا اسے دیکھتا رہا، پھر جانے کو مڑا-
اسی پل دروازے میں فرشتے کا سراپا ابھرا – وہ ہاتھ میں فروت باسکٹ پکڑے تیزی سے اندر آرہی تھی- ہمایوں اس کے ایک طرف سے نکل کے باہر چلا گیا-
فرشتے نے پلٹ کر اسے جاتا دیکھا-
ہمایوں ابھی تو آیا تھا؟ چلا بھی گیا؟ کیا کہہ رہا تھا؟ اچنبھے سے کہتے ہوئے اس نے گردن اس کی جانب موڑی- محمل کے چہرے پہ کچھ تھا وہ لمحے بھر کو چپ سی ہوگئی-
فکر مت کرو وہ ہر کسی سے ایسے ہی بی ہیو کرتا ہے- وہ ماحول کو خوشگوار کرنے کے لیے کہتی آگے بڑھی اور فروٹ باسکٹ سائیڈ ٹیبل پہ رکھی-
مگر میں کسی تو نہیں تھی فرشتے-“وہ ابھی تک نم انکھوں سے کھلے دروازے کو دیکھ رہی تھی-
ٹھیک ہوجائے گا سب کچھ تم کیوں فکر کرتی ہو؟
مگر وہ مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہا تھا؟اس کی آنکھیں پھر سے ڈبڈبائیں-
محمل دیکھو اس تبدیلی نے وقت لیا ہے تو اس کو ٹھیک ہونے میں بھی وقت لگے گا- تم اس کو کچھ وقت دو- وہ اس کے ریشمی بھورے بال نرمی سے ہاتھ میں لیے برش کر رہی ھتی-
وقت ، وقت، وقت۔ وہ ایک ہی تکرار ہر جگہ دہرائی جا رہی تھی- اس وقت نے کیا کچھ بدل دیا تھا، اسے اس کا اندازہ آہستہ آہستہ ہورہا تھا-
وہ اپنے نچلے دھڑ کو حرکت نہیں دے سکتی تھی، وہ اپنے پاؤن نہیں ہلا سکتی تھی- اٹھ بیٹھ نہیں سکتی تھی- خود کھانا نہیں کھا سکتی تھی- اپنے پاؤں پہ کھڑی ہونے کے قابل نہیں رہی تھی- یہ سب کیا ہوگیا تھا-
اس دن اس دن جب میں گھر سے نکلی تھی تو میں نے صبح کی دعائیں نہیں پڑھی تھیں-یہ سب اسی لیے ہوا ہے فرشتے کہ میں دعائیں پڑھے بغیر گھر سے نکلی تھی، ہے نا- وہ نرمی سے اس کے بال سلجھا رہی تھی، جب وہ بھیگی آنکھوں اور رندھے گلے سے کہنے لگی- فرشتے نے گہری سانس لی کہا کچھ نہیں-
نہ تھا کہ اس کو اللہ سے کام آتا کچھ بھی مگر حاجت تھی یعقوب علیہ السلام کے دل میں تو اس نے اسے پورا کیا-بہت دھیرے سے اس کے دل میں کسی نے سرگوشی کی تھی-وہ یکلخت شونک سی گئی- نہ تھا کہ اس کو اللہ سے کام آتا کچھ بھی مگر ایک حاجت تھی یعقوب علیہ السلام کے دل میں تو اس نے اسے پورا کیا-
اس نے سننے کی کوشش کی-کوئی اس کے اندر مسلسل یہ الفاط دہرا رہا تھا-دھیمی مدھر آواز، ترنم اور پر سوز سے پر- اس کا دل دھڑکنا بھول گیا-وہ ایک دم سناٹے میں آگئی-
یہ الفاظ یہ بات یہ سب بہت جانا پہچانا تھا- شاید یہ ایک آیت تھی-
ہاں یہ آیت تھی، سورہ یوسف ، تیرہواں سپارہ، جب یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو غالبا نظر بد سے بچاؤ کے لیے احتیاطا شہر کے مختلف دروازوں سے داخل ہونے کی تاکید کی تھی تو اس پہ اللہ نے جیسے تبصرہ کیا تھا کہ ان بھائیوں کو اگر اللہ کی مرضی اور منشاء ہوتی تو پھر اللہ کے فیصلے سے کوئی بھی بچا نہ پاتا، مگر وہ احتیاط تو یعقوب علیہ السلام کے دل کی ایک حاجت تھی، تو یعقوب علیہ السلام نے اسے پورا کیا-
ایک خاموش لمحے میں اس پر کچھ آشکار ہوا تھا-یہ جو ہو تھا اسے ایسا ہی ہونا تھا، وہ جو کرلیتی ،یہ اللہ کی مرضی تھی،یہ اس کی تقدیر تھی شاید اس کی دعاؤں نے اسے کسی بڑے نقصان سے بچا لیا ہو، مگر کیا اس سے بھی کوئی بڑا نقصان ہو سکتا تھا؟کوما معزوری، بے زار شوہر، بدکتا بچہ- اب کیا رہ گیا تھا زندگی میں-
کتنا کم تم شکر ادا کرتے ہو!
کسی نےپھر اسے ذرا خفگی سے مخاطب کیا تھا-وہ پھر سے چونکی اور قدرے مضطرب ہوئی- یہ کون اسے بار بار اندر ہی اندر مخاطب کرتا تھا؟یہ کون تھا؟
فرشتے پلیز مجھے کچھ دیر کے لیے، پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو-وہ بہت بے بسی سے بولی تو فرشتے کا اس کے بالوں میں برش کرتا ہاتھ رک گیا-پھر اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلا دیا-
اوکے – اس نے برش سائیڈ پہ رکھا اور اٹھ کر باہر نکل گئی-
ہم نے بسایا تم کو زمین میں اور ہم نے تمہارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے، کتنا کم تم شکر ادا کرتے ہو- (سورہ اعراف)
کوئی اس کے اندر ہی اندر اسے جھنجھوڑ رہا تھا، پکار رہا تھا-اس کے اندر باہر اتنا شور تھا کہ وہ سن نہ پا رہی تھی-سمجھ نا پا رہی تھی-فرشتے گئی تو اس نے آنکھیں موندلیں-
اب اس کے ہر سو اندھیرا اتر آیا، خاموشی اور تنہائی ، اسے غور سے سننا چاہا، چند ملی جلی اوازیں بار بار گونج رہی تھیں-
ہم تم میں سے ہر ایک کو آزمائیں گے، شر کے ساتھ اور خیر کے ساتھ-
کہہ دو بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو رب ہے تمام جہانوں کا-
اس کے ذہن میں جیسے جھماکا سا ہوا، ایک دم اندر باہر روشنی بکھرتی چلی گئی،اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں-
میرا قرآن ۔۔۔۔۔ میرا کلام پاک، میرا مصحف۔۔۔۔۔۔۔
وہ کبھی قرآن کے بغیر گھر سے نہیں نکلتی تھی- اس روز بھی وہ اس کے ہاتھ میں تھا-بلکہ بیگ میں رکھا تھا-جب ایکسیڈنٹ کے بعد ادھر لائی گئی ہوگی یقینا وہ بھی ساتھ لایا گیا ہوگا،پھر اسے ادھر ہونا چاہیئے-
مگر سات سال اسے یاد آیا،وہ سات سال درمیاں میں آگئے تھے-ان کے پیچھے تو ہر شئے گویا دھول میں گم ہوگئی تھی اوہ خدایا وہ کیا کرے-
اس نے تھک کر آنکھیں موند لیں- یہ ایسی عجیب سی بات تھی، جس پہ اسے یقین ہی نہیں اتا تھا- وہ جتنا سوچتی اور الجھ جاتی-
تب ہی دروازہ ہولے سے کھلا، اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں-
تیمور دروازے میں ایسادہ تھا،جینز شرٹ پہنے اس کے بھورے بال ماتھے پہ کٹ کر گر رہے تھے-
اس کی ناک بالکل ہمایوں کی طرح تھی،کھڑی مغرور ناک اور آنکھیں محمل کی سی سنہری چمکتے کانچ جیسی-
اور ماتھے کے وہ بل ،وہ نہ جانے کس جیسے تھے!
تیمور- اس کو دیکھ کر محمل کی آنکھیں جگمگا اٹھی تھیں-وہ اس کا بیٹا تھا اس کا تیمور تھا-
ادھر آؤ بیٹا-
وئیر از مائی ڈیڈ؟ (میرے ڈیڈ کہاں ہیں) وہ اسی تنفر سے چبھتے ہوئے انداز میں بولا تھا- منہ پھٹ، اکھڑ، بد تمیز ، اگر وہ اس کی ماں نہ ہوتی تو یہ تین الفاظ اس کے ذہن میں اس کے متعلق فورا ابھرتے-
وہ ابھی آئے تھے پھر چلے گئے-تم ماما سے نہیں ملو گے؟اس نے ممتا سے مجبور اپنے بازو پھیلائے-
نہیں- اس نے باہر نکل کے زور سے دروازہ بند کردیا-
وہ سن ہوکر رہ گئی-بازوآہستی سے پہلو میں آن گرے-
یہ سات سال کا بچہ ۔۔۔۔ اس کے دل میں اتنی نفرت، اتنی کڑواہٹ کیسے آگئی؟کیا قصور تھا اس کا کہ وہ اس طرح سے اس سے متنفر تھا؟اور صرف اس سے نہیں بلکہ فرشتے سے بھی-
بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے- اور پھر کب وہ روتی سو گئی ، اسے پتا بھی نہیں چلا-
٭٭٭٭٭٭
فریو تھراپستٹ اسے ایکسرسائز کرانے کی ناکام کوشش کرانے کی ناکام کوشش کر کے جا چکی تھی- وہ اسی طرح دنیا سے بے زار آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹی تھی-یہ دایاں بازو تو بالکل ٹھیک کام کرتا تھا-بایاں البتہ ذرا سا ڈھیلا تھا،مگر امید تھی کہ وہ بھی جلد ہی ٹھیک ہوجائے گا-ٹانگوں کے متعلق کچھ کہنے سے ڈاکٹرز ابھی قاصر تھے-کبھی وہ کہتے کہ فریو تھراپی سے آہستہ آہستہ وہ ٹھیک ہوجائے گی اور بعض اوقات ان سب کا انحصار وہ وہ اس کی خود کی قوت ارادی پہ گردانتے-وہ قوت ارادی جس کو استعمال کرنے کی سعی وہ ابھی نہیں کر رہی تھی-
ایک دم پھولوں کی خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی تو اس نے دھیرے سے بازو ہٹایا اور آنکھیں کھولیں-
فرشتے بڑا سا سرخ گلابوں کا بوکے لیے اندر داخل ہوئی تھی-اس کے سیاہ اسکارف میں مقید دمکتے چہرے پہ وہی ٹھنڈی ٹھندی مسکراہٹ تھی-
السلام علیکم مائی سسٹر!کیسی ہو ؟ اور یہ فزیو تھراپسٹ کو کیوں تم نے بھگا دیا؟ وہ کانچ کے گلدان میں گلدستہ لگاتے ہوئے بولی تھی-
مجھے کسی فزیو کی ضرورت نہیں ہے- میں ٹھیک ہوں،یہ لوگ مجھے گھر کیوں نہیں جانے دے رہے؟
میں نے ڈاکٹرز سے بات کی ہے وہ کہتے کہ تمہیں عنقریب گھر شفٹ کر دیں گے–
شاید ایک ہفتے تک تم مینٹلی بالکل ٹھیک ہو اور تمہیں مزید اسپتال میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے-
وہ پھول سیٹ کر کے شاپر سے کچھ اور نکالنے لگی-
اور تیمور نہیں آیا؟
اسے آنا تھا کیا؟اس کا دل ڈوب کے ابھرا-

 

Read More:  Dastan Kwaja Bukhara By Habib ur Rahman – Episode 1

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: