Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 3

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 3

–**–**–

 

شام کو اس نے بہت محنت سے چاکلیٹ سوفلے بنایا اور جب وہ خوب ٹھنڈا ہو گیا تو ٹرے میں سجا کر اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگی ابھی دوسری سیڑھی پر ہی تھی کہ آرزو نیچے آتی دکھائی دی-
یہ کس کے لیے ہے؟وہ ماتھے پہ بل ڈالے لمحہ بھر کو رکی فادی کے لئے ہے؟
جی انہوں نے کل کہا تو تھا میرے پاس ٹائم کہاں تھا’آج بھی کسی کو یاد نہ آیا تو بنا ہی دیا- اس نے بے نیازی سے شانے جھٹکے- وہ دوسری سیڑھی پر ٹرے اٹھائے منتظر تھی کہ آرزو نیچے اترے تو وہ اوپر جائے-
اور ڈنر کی تیاری کر لی تم نے؟ آرزو زینے سے اتر کر اس کے سامنے آکھڑی ہوئی-
اماں بنا رہی ہیں-
قورمہ بنا لیا ہے؟ممی نے کہا بھی تھا- تم نے چیک کیا؟
آپ سیدھے سیدھے کہہ دیں کہ میں چلی جاؤں اور آپ یہ ٹرے فواد بھائی کو دے کر اپنے نمبر بنا لیں تو لیں پکڑیں- اس نے ٹرے زور سے اسے تھمائی-
مجھے اور بھی کام کرنے ہیں اور کھٹ کھٹ سیڑھیاں اتر کر کچن کطرف چلی گئی-
بد تمیز- وہ بڑبڑائی-
مگر محمل جانتی تھی اس کی بلند آواز فواد سن چکا ہوگا اور اب آرزو جو چاہے کر لے، وہ جانتا تھا کہ کام کس نے کیا ہے اور نمبر کون بنانا چاہ رہا تھا-
اور پھر یہی ہوا-
رات کھانے کھانے میں جب مسرت نے چاکلیٹ سوفلے لا کر رکھا تو فواد نے سب سے پہلے ڈالا
یہ تم نے بنایا ہے محمل؟
جی- وہ سادگی سے بولی-
آرزو نے ناگواری سے پہلو بدلا-
بہت ٹیسٹی ہے،تم ہی روز میٹھا کیوں نہیں بناتی؟
اتنی فارغ نہیں ہوں میں سو کام ہوتے ہین مجھے ایگزامز ہو رہے ہیں میرا دل کرے گا تو بنا دیا کروں گی ورنہ سب جانتے ہیں محمل سے یہ جی حضوریاں نہیں ہوتیں- اماں ایک پھلکا مجھے بھی دیں- وہ مصروف سی اماں کے ہاتھ سے پھلکا لینے لگی، جیسے اسے فواد کے تاثرات کی پروا ہی نہین تھی-
وہ تائیدا” سر ہلا کر سوفلے کھانے لگا مگر بار بار نگاہ بھٹک کر اس کے مومی چہرے پر جا ٹکتی تھی- سوفلے کو اس نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا-
وہ کچن میں کھڑی سنک کے سامنے دوپہر کے برتن دھو رہی تھی جب سامنے بڑی سی کھڑکی کے پار آسمان پہ سرمئی بادل اکٹھے ہونے لگے-وہ ابھی تک اسفنج پلیٹ میں مارتے ہوئے اس سیاہ فام لڑکی کے معلق سوچ رہی تھی،جس سے وہ گزشتہ کچھ دنوں سے احتراز برت رہی تھی- عین بس کے تائم پر اسٹپ پر جاتی اور بینچ پر بیٹھنے کی بجائے ذرا فاصلے پر کھڑی ہو جاتی ،نہ تو دانستی اس لڑکی کو دیکھتی نہ اس کے قریب جاتی، معلوم نہیں کیوں اسے اس لڑکی سے اور اس کی کتاب سے خوف محسوس ہونے لگا تھا-
بادل ذرا گرجے تو وہ چونکی- نیلگوں سنہری شام پہ ذرا سی دیر میں چھایا ہو گئی تھی-بجلی چمکی اور یکایک موٹی موٹی بوندیں گرنے لگیں-
محمل نے جلدی جلدی آخری برتن دھو کر ریک میں سجائے،ہاتھ دھوئے اور باہر لان کی طرف بھاگی-بارش دیکھ کر اس کا دل یونہی مچل جایا کرتا تھا-
محمل جاؤ مسرت سے کہو بلکہ۔۔۔۔۔ تائی مہتاب جو برآمدے میں کرسی پر بیٹھی لڑکیوں سے گپ شپ میں مصروف تھیں اسے آتے دیکھ کر حکم صادر کرتے کرتے رکیں، اس کے چہرے پر بارش میں کھیلنے کا شوق رقم تھا – تائی نے لمحہ بھر کو سوچا اور حکم میں ترمیم کر دی- بلکہ جاؤ پکوڑے بنا ک لاؤ ساتھ میں دھنیے کی چٹنی بھی ہو اور معاذ کے لئے آلو کی چپس فرائی کر لو-
اس کے چہرے پر پھیلا اشتیاق پھیکا پر گیا-اس نے قدرے بے بسی سے ان کو دیکھا-
مگر تائی ابھی کیسے؟وہ بارش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد میں کرونگی وہ منمنائی-
ہاں تو بارش کے لیے ہی تو کہہ رہی ہوں- جاؤ شاباش جلدی کرو -اور ندا یہ سوٹ پھر تمہیں کتنے کا پڑا تھا؟وہ ندا کے دوپٹے کو انگلیوں میں مسل کر ستائسی انداز میں پوچھ رہی تھیں-
صرف ڈیرھ ہزار کا تائی! میں کل ہی آپ کو بھی لے چلتی ہوں ، وہاں بہت اچھے پرنٹس آئے ہوے تھے-آپ کا کمپلیکشن تو ویسے بھی فئیر ہے،آپ پر تو ہر رنگ ہی کھل جاتا ہے-
وہ آپس میں مصروف ہوگئی تھیں- محمل پیر پٹختی اندر آئی-
آلو چھیل کر کاتے- بیسن گھول کر رکھا تو تب تائی مہتاب کی آواز آئی مکس پکوڑے بنانا فواد کو پیاز والے پکوڑے بہت پسند ہیں-
بھاڑ میں گئی اس کی پسند- اس نے زور سے چھری سلیب پر پٹخی- آلو قتلوں میں کاٹے تھے اب پھر ان کو چھوٹا کرنا پڑے گا-مرچیں پیاز بھی کاٹنے پڑیں گے-
شدت بے بسی سے اس کی آنکھوں مین آنسو آگئے تھے- تب ہی فواد ما ں کو پکارتا ہوا کچن کے کھلے دروازے پہ ٹھتک کر رکا-
کھلی جینز پر لمبا کرتا اور گلے میں مفلر کی طرح دوپٹی لپیٹے،بھوری اونچی پونی باندھے وہ سر جھکائے کھڑی کتنگ بورڈ پر ٹھک ٹھک پیار کات رہی تھی- آنسو گالوں پر چمک رہے تھے-
محمل!
وہ بے چین سا قریب آیا- کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو؟
میری مرضی آپ لوگون کو کیا؟آپ لوگوں کو تو اپنے کھانے سے غرض ہوتی ہے- فواد کے دل میں جگہ بنانے کے سارے ارادے بھلا کر وہ تڑخ کر بولی-
پھر بھی کسی نے کچھ کہا ہے؟
یہاں کہتا کوئی نہیں ہے سب حکم صادر کرتے ہیں- اس نے چھری والے ہاتھ کی پشت سے گال صاف کیا- اور مجھ سے ابھی کوئی بات نہ کریں، میں بہت غصے میں ہوں یا تو چھری مار دوں گی یا پکوڑوں مین زہر ملا دوں گی-
اچھا- وہ پتہ نہیں کیوں ھنس دیا تھا-
وہ رک کر اسے دیکھنے لگی-
آپ کیوں ہنسے؟
کچھ نہیں -خیر بناؤ پکوڑے اور مکس والے بنانا-وہ اپنی پسند بتا کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا-
اس کے آنسو پھر سے بہنے لگے-جانے کس بھول پن میں وہ یہ سوچ بیٹھی تھی- اگر وہ اس کی مٹھی میں آگیا تو ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے نفی میں سر جھٹکا- وہ سب ایک جیسے تھے بے حس خود غرض مطلبی-
اور جب تک پکوڑے بنے بارش ھلکی ہو چکی تھی-وہ سب لڑکے لڑکیاں برآمدے میں بعٹھے دقو منٹ میں ہی پکوڑے چٹ کر گئے تھے-
اور اب حسن سب کو لانگ ڈرئیو پے لے جانے کا پرگرام بنا رہا تھا-
تم لوگ بھی کیا یاد کرو گے،کس سخی سے پالا پرا تھا- وہ ٹنگ پہ ٹانگ دھرے بیٹھا فرضی کالر جھاڑ کر کہی رہا تھا-
حسن فضہ چاچی کا بیٹا اور ندا سامیہ کا بھائی تھا- شکل میں ندا سے مشابہہ تھا،بڑی بڑی پر کشش آنکھیں اور سانولی رنگت-البتہ عادتوں میں وہ کافی مختلف تھا- اس نے فضہ کی میٹھی زبان تو مستعار لی تھی-مگر کڑوا دل نہیں کیا تھا-وہ گھر کا واحد فرد تھا جو دل کا بھی اچھا تھا نرم گو صاف دل اور ہینڈسم-
ابھی بھی وہ آفس سے آیا تھا – اور کوٹ کرسی کے پیچھے ٹکائے آستین فولڈر کیے بیٹھا تھا وہ تھکن کے باوجود سب کو آؤٹنگ پہ لے جانے کی دعوت دے رہا تھا-
کون کون چلے گا؟سامیہ بلند آواز میں پوچھنے لگی تو محمل بھی دل میں مچلتی خواہش کے باعث قریب آگئی-
میں بھی چلوں گی-
سب نے رک کر اسے دیکھا تھا-
کندھے پر پرس لٹکائے بالوں کو سٹئل سے بینٹ میں جکڑتی آرزو نے، جو اندر سے باہر آرہی تھی قدرے نا گواری سے اسے دیکھا – ان کو بھی یہ شوق ستانے لگے ہیں؟ اور پھر سب ہی ساتھ ساتھ بہلنے لگے-
تمہاری جگہ نہیں بنے گی-
ہم پاپا کی ہائی ایس لے کر جا رہے ہیں-سب کی سیٹیں پوری ہیں-
تم باہر جا کر کیا کرو گی؟سدرہ تمسخرانہ انداز میں ہنسی-
مہتاب تائی کی فوٹو کاپی-
بیٹا جان آپ کے تو ایگزامز ہو رہے تھے-فضہ چچی بہت فکر مندی اور پیار سے اسے دیکھ رہی تھیں-خوب دل لگا کر پڑھو-آپ نے بہت اچھے مارکس لینے ہیں-جا و شاباش سارے کورس کو کم از کم دو بار ریوائز کرو-ابھی شروع کرو گی تو رات تک پورا ہوگا-
ناں تم نے باہر جا کر کیا کرنا ہے؟ رات کا کھانا کون بنئے گا؟ ماں الگ ڈرامے کر کے بستر پر پڑی ہے-کوئی پوچھنے والا ہے ان کو بس مفت کی روٹی توڑے جاتے ہیں-
فواد نے لمھے بھر کو کچھ کہنا چاہا،پھر خاموش رہا،اور حسن جو خاموشی سے ساری کاروائی دیکھ رہا تھا بول اٹھا-
کوئی محمل سے بھی تو پوچھے وہ کیا چاہتی ہے؟
ہاں اب ہم اس سے پوچھتے رہیں-تائی بگڑ کر بولیں -حسن لمھہ بھر کو بالکل چپ ہوگیا- مگر فضہ نے بیٹے کے جھاڑے جانے کو واضع برا مانا-
جاو تم اندر جاو- بس اتنا ہی کہہ سکیں-تائی مہتاب سے مقابلہ ان کے بس کی بات نہ تھی-
وہ پیر پٹخ کر بھاگ کر کچن میں آئی اور سنک میں سر جھکا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی-
کافی دیر بعد روتے روتے سر اٹھایا-تو کھڑکی کے پار ڈرائیو وے پر ہائی ایس باہر نکلتی نظر آئی-
اس میں ایک دو لوگوں کی جگہ تو وا ضح بن جاتی تھی-
بے اختیار اس کا دل چاہا ک رات کے کھانے میں زہر ملا دے-اور کاش کہ وہ ایسا کر سکتی-
٭٭٭٭٭٭٭
ساری رات وہ وقفے وقفے سے آنسو بہاتی رہی تھی-
ٹھیک سے سو بھی نہیں سکی تھی-صبح اٹھی تو سر بھاری بھاری سا ہو رہا تھا- بمشکل ہی ایک سوکھا توس اور چائے کی پیالی حلق سے اتاری اور باہر نکل گئی-
اسٹاپ پہ معمول کی ٹھنڈی صبح اتری تھی- بینچ پہ وہ سیاہ فام لڑکی ویسے ہی خاموشی سے سیدھ کی جانب دیکھ رہی تھی-گود میں سیاہ جلد والی کتاب رکھی تھی-اور اس کے سیاہ ہاتھ کے کناروں پہ مضبوطی سے جمے تھے-
آج وہ قدرے تھکی تھکی اور غمزدہ تھی، سو جا کر بینچ پر بیٹھ ہی گئی- دس منٹ ہی کاٹنے تھے تو اتنا کیا احتراز برتنا- سیاہ فام لڑکی نے ذرا سی گردن اس کی جانب موڑ لی-
رات کو ٹھیک سے سوئی نئیں؟
بس ایسے ہی- وہ دوسری جانب دیکھنے لگی-
سامنے سڑک خالی تھی،دوسری طرف اکادکا لوگ بس کے منتظر سے ٹہل رہے تھے-
لوگوں کی ستائی ہوئی ہو؟
اس نے چونک کر اسے دیکھا-
آپ کیسے کہہ سکتی ہیں؟محتاط انداز میں پوچھا-
تمہارے چہرے پر لکھا ہے،تمہارا دل غمگین اور دل بوجھل ہے-تم تکلیف میں ہو اور لوگوں کی باتیں تم برداشت نہیں ہوتیں- ہے نا؟
معلوم نہیں -اس نے بظاہر لاپرواہی سے شانے اچکائے-البتہ اندر دل زور سے دھڑکا تھا-
اور تم مستقبل کے لئے خوف زدہ اور ماضی کے بارے میں غمگین ہو شاید،،،
شاید- اب کے وہ واضح چونکی تھی- بے اختیار ہی لبوں سے پھسلا تھا-
تم اپنا مستقبل اور تمام پریشانیوں کا حل جاننا چاہتی ہو- کچھ ایسا ہو جس سے یہ تمہیں تنگ کرنے والے لوگ تمہارے آگے پیچھے پھرنے لگیں، تمہارا محبوب تمہارے قدموں میں آ گرے مال و دولت تم پہ نچھاور ہو جائے، تم سب کو اپنی مٹھی میں کرکے دنیا پہ راج کرو کیا تم یہں نہیں چاہتی؟
ہاں- محمل نے بے بسی سے اسے دیکھا- اس کا دل موم کی طرح پگھل رہا تھا-وہ سیاہ فام لڑکی اس کی ہر دکھتی رگ ہا ھ میں لے رہی تھی- میں یہی چاہتی ہوں-
اور اگر میں تمہیں کچھ ایسا دوں تو؟
کیا یہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتاب؟
اس نے جھجھکتے ہوئے پوچھا-اسے لگ رہا تھا وہ زیادہ دیر تک resist نہ کر پائے گی-
ہاں اگر تم یہ لو گی تو سب تمہاری مٹھی میں آجائے گا سب کچھ-
محمل متذبذب سی لب کچلنے لگی-اس لڑکی کی باتیں بہت بر فریب پر کشش تھیں-اسے لگا وہ جلد ہی پھسل جائے گی-بہک جائے گی-
کیا یہ سب اتنا آسان ہے؟
شاید نہیں-
تمہیں اس کتاب کے عمل میں بہت مشکل لگے گی-مگر ایک دفعہ سیکھ جاؤ گی تو سب آسان ہو جائے گا-زندگی سہل ہو جائے گی-اور پھر جن کے لیے تم روتی ہو-وہ تمہارے لئے روئیں گے-وہ تمہارے پیچھے آئیں گے-
بس کا تیز ہارن اسے ماحول میں واپس لایا- وہ چونکی اور بیگ کا اسٹرپ کندھے پہ ڈالے اٹھ کھڑی ہوئی دس منٹ ختم ہو چکے تھے-
میری بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی بس کی جانب بڑھی –
دل ابھی تک زور زور سے دھک دھک کر رہا تھا-
محبوب قدموں میں-لوگ مٹھی میں دولت نچھاور اور دنیا پر راج—-
کیا یہ سب ممکن تھا؟وہ اسکے کہے گئے الفاظ پر سارا راستہ غور کرتی رہی تھی-لیکن پھر بار بار خود کو جھڑک دیتی-
یہ کالے علم سفلی علم جادو ٹونے،چلے وغیرہ برے کام تھے-اسے ان میں نہیں پڑنا چاہیئے-اسے ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیئے-
کالج ک دروازے پر اترتے ہوئے اس نے فیصلہ کر لیا تھا ک وہ آئندہ اس سیاہ فام لڑکی کے قریب بھی نہیں جائے گی- بینچ پر بیٹھے گی نہ ہی اس سے بات کرے گی-اسے ڈر تھا اگر اس نے ایک بار پھر اس کی بات سن لی تو شاید وہ اسے قبول کر کے کسی ایسے گم نام رستے پر نکل پڑے جہاں سے واپسی کا سفر نا ممکن ہو-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس دن سدرہ کے رشتے کے لیئے کچھ لوگ آرہے تھے-یہ خبر مسرت نے اسے تب دی جب گھر بھر کی صفائیاں اور لڑکیوں کجی پھرتیاں دیکھ کر ماں کی طرف آئی تھی-
ورنی پہلے جب بھی سپہر میں لاؤنج کا دروازاہ آہستہ کھول کر آتی تو گھر میں سناٹا اور ویرانی چھائی ہوتی اور آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لمبی سی سامیہ بانس کے جھاڑو سے چھت کے جھالے صاف کر رہی تھی-سدرہ ڈرائنگ روم کی ڈیکوریشن کو از سر نو تر تیب دے رہی تھی-ندا ماں کے سر پہ کھڑی لان کی صفائی میں مشغول تھی-تو مہرین مہتاب تائی سے سر ہلاتی کچھ ہایت سن رہی تھی-
ایک آرزو ہی تھی جو ٹیرم پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی کانوں میں واک مین لگائے کسی میگزین کے ورق الٹ رہی تھی-بے پرواہ بے نیاز اور مغرور شکر کہ خوبصورت نہ تھی- ورنہ شاید وہ آسمان سے نیچے نہ اترتی-
رشتہ سدرہ کا ہے اور یہ خود غرض خاندان سارا کا سارا لگا ہوا ہے- مطلب؟
اونہہ آہستہ بولو-مسرت نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا-پھر آہستہ سے بتانے لگی-دراصل بھابھی بیگم کا محض اندازہ ہے کہ رشتہ سدرہ کا ہی ہو گا-نعمان بھائی کی بیگم نے خصوصا کسی کا نام نہیں لیا-سو فضہ کو شاید کوئی امید ہو-
نعمان بھائی کون؟
تمہارے ابا کے دور کے رشتہ دار ہیں ان کا بیٹا فرقان ایرونائیکل انجینئر ہے- بہت اچھا گھرانا ہے اور ایک بیٹی ہے شادی شدہ آسٹریلیا میں رہتی ہے- بیگم نعمان نے کسی کے ذریعے کہلوایا ہے-
اور یہ ساری لڑکیاں اس امید پر لگی ہوئی ہیں کہ شاید ان کا رشتہ ہو جائے- واٹ ربش! وہ تمسخرانہ ہنس کر کمرے کی طرف چل دی-
شام میں مسرت نے اسے کچن میں مدد کے لیے بلوا لیا تھا-
اچار گوشت،بریانی سیخ کباب فائیڈ مچھلی اور کیا کچھ کریں گی آپ؟وہ برتنوں کے ڈھکن اٹھا اٹھا کر جھانکتے ہوئے پوچھ رہی تھی- یہ سب تو تیار ہیں تم دو میٹھی اور اشین سلاد بنا دو-اور چائے کے ساتھ سنکس بھی-
چائے بھی اور کھانا بھی؟وہ کمر پر ہاتھ رکھے حیرت سے بولی-اتنا سب کچھ کس لئے ؟کیا اتنا کال تھا سدرہ باجی کے رشتوں کے لئے؟
اونہہ آہستہ بولو-
میں کسی سے ڈرتی تھوڑی ہوں-ابھی جا کر منہ پر بھی بول سکتی ہوں-
اور تمہارے اس کہنے پر باتیں مجھے سننی پڑتی ہے محمل! وہ تھکن سے آزردہ سی بولیں-تو وہ خاموش سی ہو گئی-پھر دوپٹے کی گرہ کس کر کام میں جت گئی-
چائے کی ٹرالی اس نے بہت اہتمام اور محنت سے سجائی تھی-اس وقت بھی وہ پنجوں کے بل بیٹھی ٹرالی کے نچلے حصے میں پلیٹیں سیٹ کر رہی تھی-جب تائی مہتاب کچن میں کچھ کہتی ہوئی داخل ہوئیں-سدرہ ان کے پیچھے تھی-
سب تیار ہے؟

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: