Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 30

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 30

–**–**–

 

وہ پھول سیٹ کر کے شاپر سے کچھ اور نکالنے لگی-
اور تیمور نہیں آیا؟
اسے آنا تھا کیا؟اس کا دل ڈوب کے ابھرا-
ہاں میں اسے روز ساتھ ہی لاتی ہوں پتا نہیں شاید لان میں بیٹھا ہو ابھی آجائے گا- وہ کہہ کر خود ہی شرمندہ ہوئی-
محمل نے پھر سے چہرے پہ بازو رکھ لیا-وہ اب یوں ہی ساری دنیا سے چھپ جانا چاہتی تھی-
فرشتے روز صبح آتی تھی -پھر دوپہر میں چلی جاتی اور گھنٹے بھر بعد تیمور کو ساتھ لے آتی-وہ باہر ہی پھرتا رہتا اندر نہ آتا ، پھر عصر کے وقت فرشتے چلی جا تی غالبا اسے مسجد جانا ہوتا تھا،رات کو وہ پھر ایک چکر لگا لیتی-چھٹی کے دن وہ تیمور کو صبح ہی ساتھ لے آتی اور باقی دنوں میں اس کے اسکول کے باعث دوپہر کو لاتی،ہاں رات کو تیمور اس کے ساتھ نہیں آتا تھا-اور ہمایوں، وہ تو بس ایک دفعہ آیا تھا- پھر اس کے بعد ہمیشہ وہ شاید بزی ہوگا، والا جواب فرشتے خوب شرمندہ ہو کر دیتی-
وہ دن میں تین تین چکر لگاتی، گویا گھن چکر بنی رہتی-محمل کا ہر چھوٹا بڑا کام کرتی اور نہیں تو اس کے ساتھ بیٹھی تسلی اور پیار بھری باتیں کرتی رہتی-اب بھی وہ جانے کیا چیز الٹ پلٹ کر رہی تھیں- مگر وہ یونہی بے زار سی منہ پہ بازو رکھے لیٹی رہی-محمل کو کھٹ کھٹ کی آواز یں آرہی تھیں مگر وہ ویسے ہی لیٹی رہی-اور پھر آہستہ سے وہ مترنم آواز پورے کمرے میں گونجنے لگی تھی-
سب تعریف اس اللہ کی ، وہ ذات جس نے اپنے بندے پہ کتاب اتاری اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں بنایا-
اس نے جھٹکے سے بازو ہٹایا-
فرشتے ٹیپ ریکارڈر بند کرکے ہاتھ میں پکڑے کیسٹ کور بند کر رہی تھی-محمل کی طرف اس کی پشت تھی-درست کرنے والی (کتاب ) تاکہ وہ اپنے پاس موجود سخت عذاب سے ڈرائے،اور خوش خبری دے ان مومنوں کو جو اچھا کام کرتے ہیں کہ بے شک ان کے لیے اچھا اجر ہے-
وہ یہ آواز لاکھوں میں پہچان سکتی تھی قاری مشاری کی سورہ الکہف-
وہ رہنے والے ہیں اس میں ہمیشہ اور ڈرائے ان لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے-
لفظ بوند بوند اس کی سماعت میں اتر رہے تھے- آج جمعہ تھا اور وہ ہمیشہ جمعے کو سورہ کہف پڑھا کرتی تھی- نہ ان کے پاس اس کا کوئی علم ہے نہ ہی ان کے اباؤ اجداد کے پاس ہے- ان کے منہ سے یہ بہت بڑی بات نکلی ہے وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے- کھٹ سے فرشتے نے اسٹاپ کا بٹن دبایا تو آواز رک گئی اس نے تڑپ کر فرشتے کو دیکھا-
لگائیں نا بند کیوں کر دی؟
اوہ تم جاگ رہی تھیں-وہ چونک کر پلٹی-میں سمجھی تم سو گئی ہو ،میں نے سوچا تمہیں تنگ نہ کروں-
کوئ قاری مشاری کی سورہ کہف سے بھی تنگ ہوسکتا ہے بھلا؟ اس میں تو میری جان مقید ہے فرشتے! آپ کو یاد ہے جب جمعے کو کلاس میں سورہ کہف شروع ہوئی تھی تو الحمد للہ الزی پہ ہی میرے آنسو گرنے لگتے تھے-
تمہارے آنسو اب بھی گر رہے ہیں محمل! وہ آہستہ سے اس کے قریب آبیٹھی اور اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے-
محمل کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا تھا-
” میں جانتی ہوں تم تیمور اور ہمایوں کی وجہ سے اپ سیٹ ہو- بھول جاؤ ان کی نا قدریاں محمل!وہ نا سمجھ ہیں،ان کی وجہ سے اپنا چین سکون برباد نہ کرو،وہ وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ جائیں گے،مگر ایک بات تمہیں ذہن میں بٹھا لنی چاہیئے ، کہ تمہاری زندگی ان پہ انحصار نہیں کرتی،تم ان کے بغیر مر نہیں جاؤ گی،ان کے بغیر جینا سیکھو محمل۔ خود کو اسٹرانگ کرو اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اس نے تیزی سے بات کاٹی،مگر ابھی آپ سورہ کہف لگائیں نا پلیز مجھے سننا ہے- فرشتے ذرا سی حیران ہوئی، پھر گہری سانس لے کراٹھ کھڑی ہوئی-
اٹھ کھڑی ہوئی-اچھا ٹھیک ہے میں لگاتی ہوں-
اور میرا قرآن ؟
ہاں -وہ میں کل ڈھونڈ کے لے آؤں گی،ابھی تم یہ سنو۔میں تیمور کو ڈھونڈتی ہوں-اس نے پلے کا بٹن دبایا اور خود باہر نکل گئی-
“بس شاید تم ان کے پیچھے خود کو ہلاک کرنے والے ہو،اگر وہ اس کلام کے ساتھ ایمان نہ لائے،بہت افسوس کے ساتھ،بے شک جو بھی زمین پہ ہے،ہم ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں سے کون سب سے اچھے کام کرتا ہے-اور بے شک ہم اس کو بنجر صاف میدان بنانے والے ہیں-
اس نے آنکھیں موند لیں-آنسو آہستہ آہستہ اس کے تکیے کو بھگونے لگے تھے-
سورہ کہف کے ساتھ اسے وہ تمام مناظر یاد آنے لگے تھے جو کبھی اس کی زندگی کا حصہ تھے-
سنگ مر مر کی چمکتی راہداریاں،روشنیوں سے گھرا ہال،جو اونچے اونچے ستونوں پہ کھڑا تھا-مسجد کے برآمدے کے سامنے ہری گھاس سے بھرا لان،وہ پنک اسکار ف میں لپٹے بہت سے جھکے سر،جو تیزی سے نوٹس لینے میں مصروف ہوتے،لائبریری کی اونچی گلاس ونڈوز جن سے فیصل مسجد دکھائی دیتی تھی- وہ کالونی کی سڑک پہ چرختوں کی باڑ، یادوں کا ایک طویل سلسلہ تھا جو امڈ کر اس کے ذہن میں آیا تھا-ڈاکٹرز صحیح کہتے تھے وہ ذہنی طور پر بالکل ٹھیک تھی-
سورہ کہف ختم ہوئی تو کیسٹ رک گئی-اس نے بے بسی سے ٹیپ کو دیکھا-وہ اس سے خاصے فاصلے پر تھا،وہ اٹھ کر اس کو ری پلے بھی نہیں کر سکتی تھی-کیسی بے بسی تھی کیسی لاچاری تھی-
اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے-ہر راہ بند ہوتی دکھائی دینے لگی-ہر دروازے کے سامنے اندھیرا چھانے لگا-اسے لگا وہ اب ہمیشہ کسی اندھیرے بند کہف میں مقید رہے گی-
تیمور اور ہمایوں سے دور ۔۔۔۔ بہت دور۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح وہ سو کر خاصی دیر سے اٹھی،رات بھر سو نہ سکی تو فجر کے قریب ہی آنکھ لگی تھی-
سسٹر میرین بیڈ ٹیبل پہ دوائیں رکھ رہی تھی،اسے جاگتے دیکھ کر مسکرائی-
گڈ مارننگ مسز ہمایوں،ہاؤ آر یو؟
فائن-وہ جبرا مسکرائی،کس کا نام اس کے نام کے ساتھ جڑتا تھا،وہ جو خود ہی اس سے دور بھاگنے لگا تھا-
آپ کی سسٹر صبح آئی تھیں،آپ سو رہی ھیں،وہ یہ بک دے کر گئی ہیں-اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی کتاب کی طرف اشارہ کیا-
فرشتے آئی تھی؟وہ چونکی،پھر اس کی اشارہ کردہ کتاب کی طرف دیکھا تو ٹھہر سی گئی-
سیاہ سادہ جلد والی دبیز کتاب،اس کا سانس رک گیا،دل جیسے دھڑکنا بھول گیا-
مصحف قرآنی-وہ زیر لب بڑبڑائی-
یہ آپ کا قرآن ہے میڈم؟سسٹر میرین نے اسے متوجہ پاکر احتیاط سے قرآن اٹھا کر اس کے سامنے کیا-اس نے بے قراری سے اسے تھاما اور سینے سے لگا لیا-
” یو لو یور ہولی بک ٹو مچ، رائٹ؟ وہ مسکرا کر کہتی اسے بیٹھنے میں مدد دینے لگی-
آف کورس سسٹر! وہ بہت خوش تھی-
پھر وہ بیٹھ گئی تو سسٹر میرین نے اس کے پیچھے تکیے سیٹ کردیئے-
پھر سسٹر جانے کب وہاں سے گئی-اسے پتہ بھی نہیں چلا،وہ بس اپنے قرآن میں گم تھی-
اس نے دھیرے سے پہلا صحفہ کھولا تو عربی عبارات سے مزین اوراق سامنے آۓ-اس کا دل ایک دم رعب سے بھر گیا-ہاتھ ذرا سے کپکپائے،لب لرزے ،آنکھوں کے گوشے بھیگتے چلے گئے-
اوہ خدا وہ کتنی نوازی گئی تھی-اسے اللہ نے اپنے کلام کو تھامنے کا موقع دے دیا تھا-وہ اس کی سن لیتا تھا اور مخاطب بھی کرتا تھا-برسوں کا یہ ساتھ بھلا کیسے ٹوٹ سکتا تھا؟
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے-
وہ اسے بھولا نہیں تھا،اس نے اسے یاد رکھا تھا-
محمل ابراہیم اپنے رب تعالی کو یاد تھی-کیا اسے واقعی اب کچھ اور چاہیئے؟
اس نے شروع کے چند صفحے پلٹے-سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کدھر سے پڑھنا شروع کرے-پھر اس نے آغآز میں رکھے ایک بک مارک سے کھولا تھا-دوسرے سیپارے کے اوائل سے-برسوں پرانا بک مارک نا جانے کب اس نے رکھا تھا؟
اس نے دھڑکتے دل سے پڑھنا شروع کیا-
بس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا،اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری مت کرنا-
آنسو اس کی رخساروں سے پھسل کر گردن پہ لڑھک رہے تھے، وہ کہنا چاہتی تھی میں نے آپ کو خوشی میں یاد رکھا،آپ مجھے غم میں مت بھولیے گا،مگر لب کھل نہ پائے-
اس نے آگے پڑھا –
اے ایمان والو تم صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو،بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-ساتھ ہی حاشئیے میں پین کے ساتھ چھوٹا چھوٹا کچھ لکھا ہوا تھا- اس نے قرآن قریب کر کے پڑھنا چاہا-وہ اس کے اپنے لکھے تفسیر نوٹس سے-
مصیبت میں صبر اور نماز وہ دو کنجیاں ہیں جو آپ کو اللہ تعالی کا ساتھ دلواتی ہیں-ان کے بغیر یہ ساتھ نہیں ملتا-اس لیے کوئی مصیبت آئے تو نماز میں زیادہ توجہ اور لگن ہونا چاہیئے- مصیبت میں خاموشی کے ساتھ اللہ کی رضا پر راضی ہوکر جو کچھ موجود ہے اس پر شکر کرنا اور آگے اچھے کی امید رکھنا صحیح معنی میں صبر ہے-
یہ سب اس نے لکھا تھا؟وہ اپنے لکھے پہ حیرت زدہ سی رہ گئی-کلاس میں آگے بیٹھنا ٹیچر کی ہر ایک بات نوٹ کرنا،وہ سب اسے کتنا فائدہ دے گا اس نے تو کبھی تصور بھی نہ کیا تھا-
اس نے قدرے آگے پڑھا-
اور البتہ ہم تمہیں کچھ چیزوں کے ساتھ ضرور آزمائیں گے-(یعنی)خوف سے اور بھوک سے جانوں اور مالوں کے نقصان سے۔۔۔۔۔ اور خوشخبری دے دو ان کو جو صبر کرنے والے ہیں،ان ہی لوگوں پہ ان کہ رب کی طرف سے عنائیتیں اور رحمت ہے اور یہ ہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں-
اس نے ساتھ حاشیے میں لکھے اپنے الفاظ پڑھے-
صابرین کا مصیبت میں بس انا للہ و انا الیہ راجعون کہہ دینا کافی نہیں ہے،، بلکہ یہ الفاظ ان دو عقائد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن پہ جمے بغیر کوئی صبر نہیں کر سکتا-انا للہ ( بے شک ہم اللہ کے لیے ہے)عقیدہ تو حید ہے اور وانا الیہ راجعون (بے شک ہم اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے)عقیدہ اخرت پہ ایمان ہے کہ ہر دکھ اور ہر مصیبت ایک دن ختم ہوجائے گی اور اگر کچھ ساتھ رہے گا تو صرف آپ کے صبر کا اجر۔۔۔۔۔۔
اس نے اگلی آیت پڑھی-بے شک صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں تو جو کوئی حج کا ارادہ کرے- صبر کے فورا بعد صفا مروہ اور حج کا ذکر؟وہ ذرا حیرا ہوئی۔پھر اپنے ہاتھ کے لکھے نوٹس پڑھے-
صفا اور مروہ دراصل ایک عورت کے صبر کی نشانی ہیں،جب آپ کو بے قصور کسی تپتے صحرا میں چھوڑ دیا جائےاور آپ اس توکل ہر کہ اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا صبر کریں تو پھر زم زم کے میٹھے چشمے پھوٹتے ہیں-
اس کے بے قرار دل کو جیسے ڈھیروں ٹھنڈک مل گئی تھی-آنسوؤں کو قرار مل گیا تھا اندر باہر سکون سا اتر گیا-اور اس کے بعد جیسے گہری خاموشی سی چھاگئی-
سارے ماتم دم توڑ گئے تھے-اسے صبر آہی گیا تھا-
اب رونے کا پہر تمام ہوا تھا-کتاب اللہ اس کے پاس تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی تھی، دین کا علم اسے عطا کیا گیا تھا-اب کسی شکوے کی گنجائش باقی نہ رہی تھی دور جاہلیت سے نکلنے والے انسان کی زندگی میں مکہ کی سختیاں ،مدینے کی ہجرت،بدر کی جیت اور احد کی شکست آتی ہے-طائف کے پتھر بھی اتے ہیں اور اسری اور معراج کی بلندیاں بھی-مگر آخر میں ایک فتح مکہ بھی ضرور آتا ہے اور اس دور میں کسی کا مکی دور بعد میں آتا ہے اور مدنی دور پہلے آجاتا ہے-
وہ ایک سال جو اس نے ہمایوں کے ساتھ اپنے گھر میں گزارا، ایک پرسکون من چاہی ریاست میں،وہ دور ختم ہوچکا تھا-اس کا مکہ اب شروع ہوا تھا-طائف کے پتھر اب لگنے لگے تھے-مگر وہ جانتی تھی کہ وہ کمزوروں کا رب اگر ساتھ ہے تو اسے بھی کسی عتبہ اور شیبہ کے باغ میں پناہ مل جائے گی-اسے بھی انگور کے خوشے مل جائیں گے-اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طائف کی دعا یاد آئی اور اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے-تب ہی دروازہ کھول کر سسٹر اندر داخل ہوئی-اسے جاگتا دیکھ کر ذرا سا مسکرائی اور اگے بڑھی-
کیسا فیل کر رہی ہیں اپ؟وہ اس کے ساتھ لگی ڈرپ کو چیک کرنے لگی تھی- ہوں- جیسے کسی خیال سے جاگی – فائن الحمد للہ
آپ کو بہت ٹائم بعد ہوش آیا ہے-ڈاکٹرز ہوپ کھو چکے تھے-
معلوم نہیں-وہ قدرے بے بسی سے مسکرائی-میں نے تو وقت کا تعین بھی کھودیا تھا-
مایوسی کی باتیں مت کریں میم! خداوند آپ کی مدد کرے گا-
وہ ذرا سی چونکی یہ انگور کے خوشے لے کر ہمیشہ نینوا کے عداس کیوں آتے ہیں-اس نے بے اختیار سوچا تھا-
ہاں” مجھے یقین ہے وہ میری مدد کرے گا،وہ کھل کر مسکرا دی-شاید پہلی دفعہ وہ یوں مسکرائی تھی-تمہارا اس کی مدد پہ کتنا ایمان ہے سسٹر؟
بہت ذیادہ، میم!کرائسٹ مدد مانگنے والوں کو خالی نہیں لوٹاتا-
ہوں-وہ نرمی سے مسکراتی اس کا پر یقین چہرہ دیکھے گئی- تم جانتی ہو عیسیٰ علیہ السلام کےبارے میں یہ قرآن کیا کہتا ہے؟
نلکی کو تھامے سسٹر میرین کے ہاتھ لمحے بھر کو تھمے- اس نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا،اس کی سیاہ آنکھوں میں حیرت بھرا سوال ابھرا تھا-
محمل نے ایک ثانیے کو اس کی آنکھوں میں دیکھا،پھر آہستہ سے بولی-
ہینڈسم ،اے ویری ہینڈ سم مین ہی واز مسیح ، عیسی بن مریم-
رئیلی؟سسٹر میرین کی آنکھوں میں دیپ سے جل اٹھے-
آف کورس ہماری کتاب میں لکھا ہے کہ وہ بے حد ہینڈسم تھے،بہت وجیہہ صرف بیان نہیں اس کے پاس رائٹنگ پاور بھی تھی-قلم کی طاقت، وہ بہت اچھا لکھتے تھے، اور جانتی ہو وہ اپنے اس ٹیلنٹس اور مریکلز کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟
کیا؟وہ دم بخود بنا پلک جھپکے سن رہی تھی-وہ کہتے تھے، یہ مجھے میرے رب نے سکھایا ہے-وہ سانس لینے کو رکی،پھر جیسے یاد کر کے بتانے لگی-جب سے مجھے یہ پتا چلا میں اپنی کوئی بھی تعریف سن کر عیسی علیہ السلام کو کوڈ کرتی تھی،کوئی میری تعریف کرتا تو میں کہتی یہ مجھے میرے رب نے سکھایا ہے-
بیوٹی فل! سسٹر میرین بے خود سی کہہ اٹھی پھر آہستہ سے چیزیں سمیٹنے لگی-
مسر ہمایون آپ پہلی مسلم ہو جس نے بتایا ہے کہ آپ کی ہولی بک یسوع مسیح کے بارے میں کیا کہتی ہے-ورنہ مسلم ہمیشہ بہت سختی سے کہتے ہیں تمہارا عقیدہ غلط ہے-
السلام علیکم فرشتے نے جھانکا، تم اٹھ گئیں؟
ہاں کب کی-وہ چونکی پھر سنبھل گئی-فرشتے اندر چلی آئی- عبایا اور سیاہ حجاب کو چہرے کے گرد لپیٹے ہمیشہ کی طرح تازہ اور خوبصورت –
آپ نے شادی نہیں کی فرشتے! محمل نے کہا ، اور پھر اس نے دیکھا کہ فرشتے کی سیاہ آنکھوں میں سایہ سا لہرایا ہے-
شادی میں کیا رکھا ہے محمل؟وہ پھیکا سا مسکرائی –
سنت سمجھ کے کر لیں-
وہ سر جھکائے چادر پہ انگلی سے نادیدہ لکیریں کھینچنے لگی-
پھر آپ شادی کر لیں گی نا؟
جب تک تم ٹھیک نہیں ہوتیں، میں شادی نہیں کروں گی-
اور اگر میں کبھی ٹھیک نہ ہوئی تو؟
تو میرے لیے تم، ہمایوں اور تیمور بہت ہو، مجھے کسی اور کی ضرورت نہیں ہے،چلو تمہاری فزیو تھراپسٹ آنے والی ہوگی-اس سے بنا کر رکھو،اب اس کو بھگانا نہیں ہے، گھر شفٹ ہو کر بھی روز اس کی شکل دیکھنا ہوگی نا-فرشتے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی-
اور وہ ایک خیال اسے اطمینان بخش گیا-
گھر ،، اس کا گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ہفتے وہ واپس چلے جائے گی-
اس نے طمانیت سے سوچا تھا-سسٹر میرین فائل ہاتھ میں پکڑے پین سے اس میں کچھ اندراج کر رہی تھی-
محمل تکیوں کے سہارے ٹیک لگائے خاموش گم صم سی بیٹھی تھی-اس کے بھورے سیدھے بال شانوں پہ پھسلتے کمر پر گر رہے تھے-یہ بال کبھی بے حد گھنے اور سلکی ہوا کرتے تھے- مگر طویل بیماری نے انہیں بے حد پتلا اور پھول کی پتیوں جیسا کردیا تھا-
میڈم! لکھتے لکھتے ایک دم سسٹر نے سر اٹھایا-اسکے چہرے پہ یکایک ڈھیروں تفکر امڈ آیا تھا-
ہوں- وہ چونکی- آج کل وہ پکارنے جانے پہ یوںہی چونک اٹھتی تھی-
کافی دن ہوگئے ، وہ نہیں آئے-
کون؟
وہ کوئی صاحب ہیں کافی عرصے سے آپ کو دیکھتے آرہے ہیں- کافی بڑی عمر کے ہیں، اتنی لمبی داڑھی بھی ہے- بہت کائنڈ اور جینٹل سے ہیں-
کب سے آرہے ہیں؟
میں تین سال سے ادھر ہو ں،جب سے انہیں آتا دیکھتی ہوں عموما فرائی ڈے کو اتے ہیں، بس ادھر سے جھانک کر – اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور مجھ سے آپ کا حال پوچھ کر چلے جاتے ہیں، کبھی آپ کے پاس رکے نہیں-
کیا میرے کوئی رشتہ دار ہیں؟سوال کرنے کے ساتھ ہی اس کے ذہن کے پردے پہ بہت سے چہرے ابھرے – آغآ ہاؤس کے خوش حال و مطمئن چہرے ، ایک کسک سی دل میں اٹھی – کیا ان کو وہ یاد ہوگی؟کیا کبھی اپنے عیش و آرام سے فرصت پا کر انہوں نے اس کے لیے چند لمحے نکالے ہوں گے؟
نہیں ، وہ کہتے تھے کہ وہ آپ کے رشتے دار نہیں ہیں ۔ بس یوں ہی جاننے والے ہیں-
فرشتے اور میرے ہزبینڈ جانتے تھے وہ؟ ان کے ہوتے ہوئے وہ کبھی نہیں آئے،ہمیشہ ان کی غیر موجودگی میں اتے ہیں-مگر اب کافی دن ہوگئے نہیں آئے-
کوئی نام اتا پتا؟
کبھی بتایا نہیں- سسٹر اب دوبارہ فائل پہ جھکی اندراج کرنے لگی- وہ مایوس سی ہوگئی- جانے کون تھا،
کیوں آتا تھا-
رات میں فرشتے آئی تو اس نے یونہی پوچھ لیا-
مجھے ادھ کون کون دیکھنے آتا تھا فرشتے
ہم سب- وہ اس کے بھورے بالوں میں برش کر رہی تھی-
آغا جان لوگ کبھی نہیں آئے؟
پتا نہیں-دونوں ہاتھوں میں بال پکڑ کر اس نے اوپر کیے اور پونی باندھی،پھر سیدھی لمبی پونی ٹیل کو احتیاط سے آہستی آہستہ اوپر سے نیچے برش کرنے لگی-
کوئی تو آیا ہوگا-
میں ان لوگوں کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی محمل-پلیز مجھے دکھ مت دو- اس کے انداز میں منت بھرا احتجاج تھا،پھر محمل کچھ نہ پوچھ سکی- سر جھکائے بال بنواتی رہی –
یہ دیکھو -فرشتے نے پاکٹ مرر اس کے چہرے کے سامنے کیا- اس نے جھکا سر اٹھایا، آئینے میں اپنا عکس دکھائی دیا تو لمحے بھر کو وہ بہچان ہی نا پائی-
بے حد کمزور چہرہ ، اندر کے نیچے گہرے جامنی حلقے ، یژمردہ ، بیمار ، روکھا پھیکا سا چہرہ ، اوپر اونچی پونی ٹیل ، جو کبھی اسی تروتازہ محمل ابراہیم پہ بہت اچھی لگا کرتی تھی- اس بیمار لا غر محمل پہ بہت بری لگ رہی تھی-
رہنے دیں ، مجھے یہ بال نہیں بنانے- اس نے نے ہاتھ سے پونی پکڑ کر کھینچی- بال شکنجے سے نکل کر شانوں پہ بکھر گئے اور پونی اس کے ہاتھ میں اگئی-
کیوں کھول دئیے؟فرشتے کو تاسف ہوا-
میں ایسے بال نہیں بنانا چاہتی ، پلیز مجھے دکھ مت دیں- نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس کے الفاظ لوٹا گئی-
فرشتے چپ سی ہوگئی اور پھر کمرے سے نکل گئی- شاید وہ جانتی تھی کہ اس وقت محمل کو تنہا چھوڑ دینا ہی بہتر ہوگا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہمایوؔں کا گھر ۔۔۔۔۔۔۔ محمل کا گھر ۔۔۔۔۔ ہمایوں اور محمل کا گھر-
وہ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھو ڑ کر گئی تھی-خوب صورتی سے آراستہ، کونا کونا چمکتا ہوا، فانوس کی روشنیاں، جگر جگر کرتی بتیاں، قیمتی پردے، یہ ہی سب پہلے بھی اس کے گھر میں تھا ،اب بھی تھا، مگر رنگ بدل گئے تھے-
لاؤنج کے صوفے، پردے یہاں تک کہ گملے بھی بدل گئے تھے-چیزیں رکھی گو اسی ترتیب میں تھیں-جیسے ہمایوں تھا- اپنی جگہ پہ ویسے ہی موجود مگر پھر بھی بدل چکا تھا-
کیسا لگا تمہیں اپنا گھر؟ اس کی وہیل چیئر پیچھے سے دھکیلتی فرشتے خوش دلی سے پوچھ رہی تھی-
وہ گم صم خالی خالی آنکھوں سے درو دیوار کو دیکھ رہی تھی-سات سال پہلے وہ اس کا گھر تھا-اب شاید وہ صرف ہمایوں کا تھا-
ڈاکٹرز نے اس کا مزید اسپتال میں رہنا بے فائدہ کہہ کر اسے گھر شفٹ کر دیا تھا-اس کی بیماری وہیں تھی-دایاں ہاتھ ٹھیک بایاں بازو اور ہاتھ سست اور نچلا دھڑ مکمل طور پر مفلوج ،وہ کہتے تھے کہ اچانک – بھی ٹھیک ہو سکتی ہے اور ساری عمر بھی اس طرح رہ سکتی ہے-بس آپ دعا کریں،اب وہ کیا کہتی ، آپ کو لگتا ہے کہ ہم دعا نہیں کرتے؟ مگر ایسی باتیں کہی کہاں جاتی ہیں-
فرشتے اسے لاؤنج کے ساتھ بنے کمرے کی طرف لے گئی- اس وہ اس کے مطابق سیٹ کروا دیا تھا-
مگر میرا کمرہ تو اوپر تھا فرشتے-
محمل ۔۔۔۔۔۔ سیڑھیاں چڑھنا اس وہیل چئیر کے ساتھ-اس نے بات ادھوری چھوڑ دی-اس نے سمجھ کر سر ہلا دیا-
اور ہمایوں کا سامان؟ کچھ دیر چیزوں کا جائزہ لیتے ہوئے وہ پوچھ بیٹھی-ان کا سامان کدھر ہے؟ ہمایوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اس سے کہا تھا- مگر ۔۔۔۔۔۔ آئی تھنک وہ اپنے کمرے میں زیادہ کمفر ٹیبل ہے-
تو وہ یہاں نہیں آئیں گے؟محمل ششدر رہ گئی-
کوئی بات نہیں محمل! وہ اسی گھر میں رہتا ہے،کسی بھی وقت آ جا سکتا ہے-فرشتے خواہ مخواہ شرمندہ ہورہی تھی-
نہیں فرشتے! تم ان سے کہہ دو مجھے یوں اکیلا نہ کریں-
اس نے بے اختیار فرشتے کے ہاتھ پکڑ لیے-اس کے ہوش میں آنے کے بعد وہ صرف ایک بار اس سے ملنے آیا تھا، پھر کبھی نہیں ایا-
محمل، پلیز میرے لیے تم دونوں بہت عزیز ہو، وہ کزن ہے اور تم بہن ،اس لیے میں نہیں چاہتی کہ میری کسی بات میں تم ہرٹ ہو-پلیز مجھے اچھا نہیں لگتا میں تم دونوں کے پرسنلز میں دخل دوں، مجھے اس کا کوئی حق نہیں ہے-اس نے بہت نرمی سے اسے سمجھایا-وہ اس کے ہاتھ تھامے گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھی تھی- محمل لا جواب سی ہوگئی-
اور تیمور؟اس کا کمرہ کدھر ہے؟بے اختیار اسے یاد ایا-
لاؤنج کے اس طرف والا کمرہ-
ہمایوں اسے اپنے ساتھ نہیں سلاتے؟وہ اتنا چھوٹا ہے، وہ اکیلا کیسے سو سکتا ہے؟اس کا دل تڑپ کر رہ گیا-
جن بچوں سے ان کے ماں باپ دونوں چھن جائیں،وہ عادی ہو جاتے ہیں محمل!اگر وہ مجھے پسند کرتا ہوتا تو میں اسے ساتھ سلاتی مگر ۔۔۔۔ وہ مجھے پسند نہیں کرتا-
کیوں؟وہ بنا سوچے بول اٹھی-جوابا فرشتے اداسی سے مسکرائی-
وہ تو تمہیں بھی پسند نہیں کرتا کیا اس میں تمہارا قصور ہے؟
محمل کا سر آہستہ سے نفی میں ہل گیا-
سو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے،اگر وہ مجھے پسند نہیں کرتا-تم بیٹھو، میں کچھ کھانے کے لیے لاتی ہوں-اب تم نارمل فوڈ لے سکتی ہو- میں نے ڈاکٹر سے بات کر لی تھی- وہ جانے کے لیے کھڑی ہوی تو محمل بے اختیار کہہ اٹھی-
آپ بہت اچھی ہیں فرشتے!میں کبھی آپ کی اس کئیر کا بدلہ نہیں دے سکتی-
میں نے بدلہ کب مانگا ہے؟وہ نرمی سے اس کا گال تھپتھپا کر باہر نکل گئی۔

 

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 1

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: