Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 31

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 31

–**–**–

 

دن پژمردگی سے گزرنے لگے-وہ سارا دن کمرے میں پڑی رہتی، یا فرشتے کے زبردستی مجبور کرنے پہ باہر لان میں آتی اور وہاں بھی گم صم ہی رہتی، فرشتے ہی کوئی نہ کوئی بات کرکے ذہن بٹارہی ہوتی اور یہ باتیں عموما فرشتے اس سے نہیں کرتی تھی- بلکہ اس کی وہیل چئیر دھکیلتے ہوئے کبھی کیاری میں گوڈی کرتے مالی سے مخاطب ہوتی، تو کبھی برآمدے کا فرش دھوتی ملازمہ سے ۔ فرشتے اب اتنا نہیں بولتی تھی،جتنا پہلے بولتی تھی-اس کا انداز پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوگیا تھا-اور یہ وقت کا اثر تھا، وہ اثر جو نہ چاہتے ہوئے بھی وقت ہر انسان پہ چھوڑے ہی جاتا ہے-
فرشتے نے گھر کو اچھی سے سنبھالا ہوا تھا-گو کہ ہر کام کے لیے جزوقتی ملازمائیں رکھی ہوئیں تھیں- مگر تمام انتظام اس کے ہاتھ میں تھا- اس کے باوجود وہ نہ کسی پہ حکم چلاتی تھی نہ اس گھر کی پرائیوسی میں دخل دیتی تھی-محمل ملازموں سے بات کرنے کے علاوہ زیادہ کلام بھی نہ کرتی تھی،وہ بھی شدید ضرورتا اور تیمور تو ویسے بھی ہر شے سے چڑا ہوا لڑکا تھا-سو وہ اسے مخاطب نہیں کرتی تھی-کبھی جو کر لیتی تو تیمور اس بدتمیزی سے پیش اتا کہ الامان-
محمل نے نوٹ کیا تھا کہ تھوڑی بدتمیزی کر کے تیمور چیخنے چلانے پہ آجاتا تھا اور اگر مزید کچھ کہا جائے تو چیزیں اٹھا کرتوڑ پھوڑ کرنے سے بھی گریز نہ کرتا تھا-فرشتے بہت محتاط طریقے سے اس گھر میں رہ رہی تھی،جیسے اس کے ذہن میں تھا اسے جلد ہی یہاں سے چلے جانا ہے- ملازمہ بلقیس نے اسے بتایا تھا کہ فرشتے اپنے پیسوں سے ماہانہ راشن کی چیزیں لے آتی ہے،خصوصا چکن اور گوشت وہ ہمیشہ خود ہی خریدتی تھی-جب ہمایوں کو پتا چلا اور اس نے فرشتے کو روکنا چاہا تو فرشتے نے صاف کہہ دیا کہ اگر اس نے اسے روکا تو وہ واپس اسکاٹ لینڈ چلی جائے گی-نتیجتا ہمایوں خاموش ہوگیا-صاف ظآہر تھا وہ ان پر بوجھ بننا نہیں چاہتی تھی اور شاید اس کے ذہن میں ہو کہ کہیں کوئی اسے مفت خورا نہ سمجھ لے-اپنی عزت نفس اور وقار لو اس نے ہمیشہ قائم رکھا تھا،محمل خود کو اس کا زیر بار سمجھنے لگی،
ہمایوں سے اس کی ملاقات نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی-وہ کبھی دوپہر میں گھر آتا تو کبھی رات کو-کھانا وہ اپنے کمرے میں کھاتا-اور پھر وہی رہتا اکثر بہت رات گئے گھر واپس اتا -وہ انتظار میں لاؤنج میں وہیل چئیر پہ لاؤنج میں بیٹھی ہوتی-وہ آتا سرسی سا حال پوچھتا اوپر سیڑھیاں چڑھ جاتا اور وہ اس کی پشت کو نم آنکھوں سے دیکھتی رہ جاتی –
تیمور دوپہر میں اسکول سے آتا تھا-وہ کھانا ڈائنگ ٹیبل پر اکیلے کھاتا تھا-اگر محمل کو ادھر بیٹھے دیکھتا تو فورا واپس چلا جاتا نتیجتا بلقیس اسے اس کے کمرے میں کھانا دے آتی – وہ جنک فوڈ کھاتا تھا- برگر پنیر کے ڈبوں سے فریزر اور فرنچ فرائیز کے لیے آلوؤں سے سبزی والی ٹوکری بھری رہتی -کھانے پینے کا وہ بہت شوقین تھا- اسکول سے لائے چپس کے پیکٹس اور چاکلیٹس عموما کھاتا نظر آتا -شام کو ٹی وی لاؤنج میں کارٹون لگائے بیٹھا رہتا – اگر محمل کو آتا دیکھتا تو اٹھ کر چلا جاتا- وہ جان ہی نہ پا رہی تھی کہ وہ اتنا ناراض کس بات پہ ہے؟ آخر اس نے کیا ہی کیا ہے؟
اس گھر کے تینوں مکیں اجنبیوں کی طرح رہ رہے تھے، اور اب وہ چوتھی اجنبی ان کی اجنبیت بٹانے اگئی تھی-
فرشتے شام میں مدرسے جاتی تھی-وہ غالبا اب شام میں کلاسز لے رہی تھی-محمل نے ایک بار پوچھا تو وہ اداسی سے مسکرا دی تھی-
صبح کی کلاسز لینا اسپتال کی وجہ سے ممکن نہ تھا-مختصرا بتا کر وہ حجاب صحیح کرتی باہر نکل گئی تھی-
وہ محمل کا بہت خیال رکھتی تھی-اس کی دوا ، مساج ، مفلوج اعضاء کی ایکسر سائز، فریوتھراپسٹ کے ساتھ اس پہ محنت کرنا،پھر غذآ کا خیال ، وہ انتھک لگی رہتی، بلا کسی اجر کی تمنا کیے یا احسان جتائے-
اس شام بھی فرشتے مدرسے گئی ہوئی تھی-جب سیاہ بادل آسمان پر چھانے لگے-ہمایوں تو کبھی بھی شام میں گھر نہیں ہوتا تھا-تیمور جانے کہاں تھا-وہ اپنے کمرے سے باہر کا منطر دیکھ رہی تھی-
دیکھتے ہی دیکھتے دن میں رات کا سماں بندھ گیا،بادل زور سے گرجنے لگے-موٹی موٹی بوندیں ٹپ ٹپ گرنے لگیں،بجل کڑکتی تو ایک لمحے کو خوف ناک سی روشنی بکھر جاتی-
اسے بارش سے پہلے کبھی نہیں ڈر لگا تھا-مگر آج لگ رہا تھا، ہمایوں نہیں تھا، فرشتے بھی نہیں تھی ، اسے لگا وہ اکیلی ہے، تنہا ہے-
بجل بار بار کڑک رہی تھی- ساتھ ہی اس کی دھڑکن بھی تیز ہورہی تھی-بے اختیار اسے پسینہ آنے لگا تھا،کیا کرے کسے بلائے؟
وہ تیزی سے دونوں ہاتھو ں سے وہیل چئیر چلاتی لاؤنج میں آئی-فون ایک طرف تپائی پہ دھرا تھا-اس کے ساتھ ہی ایک چٹ بھی تھی جس پر ہمایوں اور فرشتے کا نمبر لکھے تھے-وہ غالبا تیمور کے لیے لکھے گئے تھے-اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے رسیور اٹھایا اور رفرشتے کا نمبر ڈائل کیا، پھر رسیور کان کے ساتھ لگایا-
گھنٹی جا رہی تھی، مگر وہ اٹھا نہ رہی تھی- غالبا کلاس میں تھی-اس نے مایوسی سے فون رکھ دیا،اس کی نگاہ دوبارہ چٹ پر پڑی-
کچھ سوچ کر اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ رسیور دوبارہ اٹھایا- نمبر ڈائل کرتے ہوئے اس کی انگلیاں لرز رہی تھیں-
تیسری گھنٹی پر ہمایوں نے ہیلو کہا تھا-
ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیوں -وہ بمشکل بول پائی تھی- کون؟
میں محمل-
دوسری جانب ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا-
ہاں بولو- مصروف ، سرد مہر سی آواز ابھری-
آپ ۔۔۔۔ آپ کدھر ہیں؟
پرابلم کیا ہے؟قدرے بے زاری-
وہ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ باہر اسٹورم(طوفان) آرہا ہے- مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز آپ گھر آجائیں-اس کا گلا رندھ گیا آنکھیں ڈبڈبا گئیں-
اوہو- میں میٹنگ میں بیٹھا ہوں-ابھی کہاں سے آجاؤں-
مجھے نہیں پتہ پلیز اجائیں جیسے بھی ہو-باہر طوفان کا شور بڑھ رہا تھا، ساتھ ہی اس کے آنسوؤں میں شدت آگئی تھی-
میں نہیں آسکتا، فرشتے یا کسی ملازمہ کو بلالو- وہ جھلایا تھا-
فرشتے گھر پہ نہیں ہے، آپ آجائیں ہمایوں پلیز-
کیا بکواس ہے؟ اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم معذوری کا ڈرامہ رچا کہ میری ہمدردی حاصل کر سکتی ہو تو اس خیال کو دل سے نکال دو اور مجھے میری زندگی جینے دو ، خدا کے لیے اب پیچھا چھوڑ دو میرا -اور ٹھک سے فون بند ہوگیا-
وہ سکتے کے عالم میں ریسیور ہاتھ میں لیے سن سی بیٹھی رہ گئی-کتنے لمحے گزرے ، کتنے بادل گرجے کتنی بجلی چمکی ، کتنے قطرے برسے ، وہ ہر شے سے غافل ، بنا پلک جھپکے شل سی بیٹھئ تھی-لب ادھ کھلے آنکھیں پھتی پھٹی اور ہاتھ میں پکڑا رسیور کان سے لگائے۔۔۔۔۔۔ وہ کوئی مجسمہ تھا جو ٹیلی فون اسٹینڈ کے ساتھ اس وہیل چیئر پہ بے حس و حرکت پڑا تھا-
پھر کتنی ہی دیر بعد رسیور اس کے ہاتھ سے پھسلا اور نیچے لڑھک گیا-اس کے زمین سے ٹکرانے کی آواز پہ بے اختیار اس نے پلکیں جھپکیں اور آن کی آن میں اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں-
اس کی ہچکی بندھ گئی تھی، اور پورا وجود لرز رہا تھا، وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی-
ہمایوں نے اسے وہ سب کہا تھا؟اتنے غصے اور بے زاری سے، جیسے وہ اس سے اکتا چکا تھا- ہاں وہ مرد تھا-وجیہہ ، شان دار سا مرد، کب تک ایک کومے میں بے ہوش پڑی نیم مردہ بیوی کی پٹی سے لگا رہتا؟اس کو اب محمل کی ضرورت نہ تھی-شاید وہ اب اس سے شادی کرنے پہ پچھتا رہا تھا-اپنی وقتی جزباتیت پہ پچھتا رہا تھا-
دفعتا آہٹ پہ اس نے آنکھیں کھولیں-
تیمور سامنے صوفے کے اس طرف کھڑا اسے دیکھ رہا تھا-چبھتی خاموش نگاہیں جن میں عجیب سا تنفر تھا-
“تیمور!” اس کی زخمی مامتا بلبلائی- ادھر میرے پاس آؤ بیٹا! اس نے دونوں ہاتھ پھیلائے-شاید وہ اس کے گلے سے لگ جائے،شاید کہ ہمایون کے روئیے کی تپش کچھ کم پڑ جائے-
آئی ہیٹ یو- وہ تڑخ کر بولا اور اسے دیکھتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹا -ہمایوں کے الفاظ کیا کم تھے جو اوپر سے اس سات سالہ لڑکے کا انداز، اس کی روح تک چھلنی ہوگئی-
میں نے کیا کیا ہے تیمور؟تم ایسے کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ؟کیوں ناراض ہو مجھ سے؟
یو لیفٹ می وین آئی نیڈ یو-(آپ نے مجھے اس وقت چھوڑا جب مجھے آپ کی ضرورت تھی-)
وہ زور سے چیخا تھا-آئی ہیٹ یو فار ایوری تھنگ –
اور مڑ کر بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا- لمحے بھر بعد اس نے تیمور کے کمرے کا دروازہ زور سے بند ہوتے سنا-
کیا تمہیں چھوڑنے میں میرا اپنا اختیار تھا تیمور؟ تم اتنی سی بات پہ مجھ سے ناراض نہیں ہو سکتے-شاید تمہارے باپ نے تمہیں مجھ سے بد ظن کیا ہے-وہ دکھی دل سے سوچتی واپس کمرے تک ائی تھی-اس کے ripple بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ سیاہ کور والا قرآن رکھا تھا-اس نے آہستہ آہستہ سے اٹھایا اور دونوں ہاتھوں میں تھامے اپنے سامنے کیا-
سیاہ کور پہ مدھم سا مٹا مٹا سا “م ” لکھا تھا-جانے اس نے کیوں اور کب ادھر لکھا تھا؟وہ کوشش کے باوجود نا یاد کر پائی،پھر سر جھٹک کر اسے وہاں سے کھولا جہاں سے فجر کے بعد تلاوت چھوڑی تھی-اس نے وہ آیت دیکھی جہاں ایک بار مارک لگا تھا،پھر تعوذ تسمیہ پڑھا اور اگلی آیت سے پڑھنا شروع کیا-
” ہم جانتے ہیں کہ تمہیں ان کی بات غمگین کرتی ہے-
اس نے بے یقینی سے اس آیت کو دیکھا-
ہم جانتے ہیں کہ تمہیں ان کی بات غمگین کرتی ہے،پس بے شک وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے،بلکہ وہ ظالم تو اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں-اس نے پھر سے پڑھا اور پھر سے دم بخود سی ہو کر ایک ایک حرف کو انگلی سے چھونے لگی-کیا وہ واقعی ادھر لکھا تھا؟
اوہ اللہ تعا لی-اس ک آنسو پھر سے گرنے لگے تھے-آپ کو۔۔۔۔ آپ کو ہمیشہ سے پتا چل جا تا ہے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کبھی بھی آپ سے کچھ نہیں چھپا سکتی-وہ بری طرح رو دی تھی-اب کی بار یہ دکھ کے آنسو نہ تھے،بلکہ خوشی کے تھے،سکون کے تھے رضا کے تھے- اگر آپ مجھ سے یونہی بات کرتے رہیں تو آپ مجھے جس حال میں بھی رکھیں میں راضی ! میں راضی! میں راضی!” اس نے چہرہ اٹھایا اور ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کیے-
اب اسے رونا نہیں تھا-اب اسے صبر کرنا تھا، طائف کے پتھر دراصل اب لگنے شروع ہوئے تھے- صبر اور شکر ۔۔۔۔۔ اس نے ان دو سہاروں کو بالآخر تھام ہی لیا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام بہت سہانی سی اتری تھی- کالونی کی صاف سڑک کے اطراف سبز درختوں کے تازہ پتوں کی مہک ، ٹھنڈی ہوا سے بکھر گئی تھی-
بلقیس اس کی وہیل چئیر دھکیلتی سڑک کے کنارے آگے بڑھ رہی تھی- وہ ساتھ ساتھ چھوٹی موٹی ادھر ادھر کی باتیں بھی کر رہی تھی-مگر محمل کا دھیان کہیں اور تھا-وہ گم صم سی دور افق کو دیکھ رہی تھی-جہاں پرندوں کے غول اڑ رہے تھے-اس روز کے طوفان کے بعد موسم بہت ٹھنڈا ہوگیا تھا اور اس ٹھندی ہوا میں باہر نکلنا بہت اچھا لگ رہا تھا-
بلقیس اس کی وہیل چئیر دھکیلتی دور پارک تک لے آئی تھی-اس سے آگے ان کے سیکٹر کا مرکز تھا،وہاں بوتیکس، شاپس اور ریسٹورنٹ کی چہل پہل ہوتی تھی اور ایسی جگہوں پہ جاتے ہوئے اس کا دل گھبراتا تھا، سو اس نے بلقیس کو آگے جانے سے منع کردیا-
بس یہیں پارک تک ٹھیک ہے، اسی میں چلتے ہیں-
بلقیس سر ہلا کر وہیل چئیر اندر لے جانے لگی –
” جب آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا نا محمل بی بی تو صاحب بہت روئے تھے-میں نے خود انہیں روتے دیکھا تھا-بہت دھچکا لگا تھا ان کو-
کون ؟ ہمایوں ؟ وہ چونکی تھی-
ہاں جی! انہوں نے چھٹی لے لی تھی، کئی ماہ تو وہ اسپتال میں آپ کے ساتھ ہی رہے تھے-تیمور بابا کو تو بھلا ہی دیا تھا، میں نے بڑا کیا ہے جی تیمور با با کو-بڑا پیارا بچہ تھا ہمارا بابا،جب چار سال کا تھا تو آپ کے لیے پھول لے کے جاتا تھا، اور وہاں اسپتال میں آپ کے سرہانے بیٹھ کر گھنٹوں بولا کرتا تھا-
پھر اب کیا ہوا ہے اسے بلقیس؟ اس نے دکھ سے پوچھا تھا-بلقیس آہستہ آہستہ پارک کی پتھریلی روش پر وہیل چئیر چلا رہی تھی-دور گھاس پر بچے کھیل رہے تھے-ایک طرف ایک بچہ ماں کی انگلی پکڑے رو رہا تھا-اسے ہر بچے میں اپنا تیمور نظر آرہا تھا-
تیمور بابا ایسا نہیں تھا بی بی!وہ تو بہت پیار کرنے والا بچہ تھا،مگر پھر اب دو ایک سالوں میں بہت چڑ چڑا ہوگیا ہے-صاحب بھی تو اسے توجہ نہیں دیتے، پہلے تو چھوٹا تھا پر اب بہت سمجھدار ہوگیا ہے، ساری باتیں سمجھتا ہے،اسی لیے سب سے ناراض رہتا ہے-
اور تمہارے صاحب؟وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
پتا نہیں بی بی!وہ شروع میں آپ کا بہت خیال رکھتے تھے، پھر آپ کے حادثے کے چھٹے برس ان کی پوسٹنگ کراچی ہوگئی تھی-وہ سوا سال ادھر رہے-وہاں سے واپس آئے تو بہت بدل گئے تھے جی-اب تو ڈیڑھ سال ہوگیا ہے جی ان کو واپس آئے ہوئے، مگر اب تو آپ کا یا تیمور بابا کا حال تک بھی نہیں پوچھتے-
کراچی میں ایسا کیا ہوا جو بدل گئے؟وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی-
معلوم نہیں بی بی ، مگر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحے بھر کو ہچکچائی-
ان کے کراچی جانے کے کوئی دو ہفتے پہلے مجھے یاد ہے، ادھر آپ کے گھر آپ کا کوئی رشتے دار آئے تھے، ان سے بہت بہت لڑائی ہوئی تھی صاحب کی-
کون ؟ کون آیا تھا؟اس نے وحشت زدہ سی ہو کر گردن گھمائی- بلقیس کے چہرے پر تذبذب کے اثار تھے-
اصل میں بی بی! آپ کے رشتے دار کبھی آئے ہی نہیں، تو وہ جو بس ایک ہی دفعہ آئے تو مجھے یاد رہ گیا، آپ کے تایا کے بیٹے تھے-
کون؟فو۔۔۔۔ فواد ؟ اس کا دل زور سے دھڑکا تھا-نام وام تو نہیں معلوم ، مگر صاحب نے ان سے بہت لڑائی کی تھی-دونوں بہت دیر تک اونچا اونچا لڑتے رہے تھے-
مگر کیا ہوا تھا؟جھگڑا کیوں ہوا ان کا؟وہ مضطرب اور بے چین سی ہوگئی تھی-
میں کچن میں تھی بی بی!کچھ سمجھ میں تو نہیں ایا کہ وہ کیوں لڑ رہے تھے، مگر شاید کوئی کچہری وغیرہ کا معاملہ تھا اور دونوں آپ کا نام بار بار لیتے تھے، پھر صاحب نے فرشتے بی بی کو بھی ادھر بلوا لیا-وہ پتا نہیں کچھ بولیں یا نہیں، ان کی اواز ہی نہیں آئی مجھے، پھر وہ آپ کے تایا زاد چلے گئے اور صاحب دیر تک فرشتے بی بی پر چلاتے رہے، میں کھانے کا پوچھنے گئی تو دیکھا فرشتے بی بی رو رہی تھیں اور اپنا سامان پیک کر رہی تھیں، میرے پوچھنے پہ انہوں نے بتایا کہ وہ جا رہی ہیں، میں نے پوچھا کہ کدھر تو بولیں ، پتا نہیں اور روتی جا رہی تھیں، پھر اگلے دن رشید نے بتایا کہ صاحب اپنا ٹرانسفر کراچی کروارہے ہیں، پھر صاحب چلے گئے اور فرشتے بی بی رک گئیں-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: