Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 32

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 32

–**–**–

 

پھر اگلے دن رشید نے بتایا کہ صاحب اپنا ٹرانسفر کراچی کروارہے ہیں، پھر صاحب چلے گئے اور فرشتے بی بی رک گئیں-
وہ دم سادھے ساری تفصیلات سن رہی تھی- اس کے پیچھے کیا، کیا ہوتا رہا ، اسے خبر ہی نہیں ہو سکی- کیا فواد نے ہمایوں کو اس کے خلاف بہکایا تھا؟ اور فرشتے کو اس نے ایسی کیا بات کہی کہ وہ روئی؟وہ تو بہت مضبوط لڑکی تھی- یوں کبھی نہیں روتی تھی- اس نے تو اس کی انکھوں میں کبھی آنسو نہیں دیکھے تھے، اوہ خدایا اس نے سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا-
وہ کیا کرے؟ کس سے پوچھے؟ فرشتے تو کبھی نہ بتاتی- ہمایوں سے امید بھی نہ تھی اور تیمور تو اس کا دیکھنے کا روادار نہ تھا پھر؟کیا کرے؟صبر اور نماز کا سہارا- اس کے دل سے آواز اٹھی تھی-
بلقیس کو کوئی جاننے والی مل گئی تو وہ اس سے باتیں بگھارنے ذرا فاصلے پر کھڑی ہوگئی-
محمل نے قرآن اٹھالی، وہ قرآن لیے گھر سے نہ نکلتی تھی اسے آہستہ سے کھولا- کل جہاں سے تلاوت چھوڑی تھی ان آیت پر نشان لگا تھا-وہ بہت غور سے دھیان سے آگے پڑھنے لگی-
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر ظآہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں (مائدہ 10)
لمحے بھر کو اس کا دماغ چکرا کر رہ گیا- مگر فورا خود کو سرزنش کی-
یہ کوئ فال نکالنے کی کتاب تو نہیں ہے، اسی لیے اس نے مجھے ایسے سوال کرنے سے منع کیا ہے، میں بھی خواہ مخواہ ۔۔۔۔ وہ سر جھٹک کر آہستہ سے آگے تلاوت کرنے لگی –
اگلی ایات دوسری چیزوں کے متعلق تھیں-اس کی سوچوں پہ بالکل خاموش ، لب ــــــ سے کسی اور طرف توجہ مبذول کرواتیں- اس کے الجھے دماغ کو سکون آنے لگا – جو بھی ہوا کبھی نہ کبھی کھل ہی جائے گا، اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہ تھی-
وہ زیر لب ترنم سے تلاوت کرنے لگی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کے دو بج چکے تھے اور ہمایوں ابھی تک گھر نہیں آیا تھا- وہ مضطرب سی لاؤنج میں بیٹھی تھی-بار بار دیوار ہی آویزاں گھڑی کو دیکھتی اور پھر دروازے کوگھڑی کی سوئیاں آگے بڑھتی جا رہی تھین-مگر درازہ ہنوز ساکت و جامد تھا- باہر بھی خاموشی تھی-
اس کے دل میں وسوسے سے آنے لگے تھے-نا جانے وہ ٹھیک بھی ہیں یا نہیں، کیا پتہ اس کی گاڑی خراب ہوگئی ہو، کیا پتا کسی مشکل میں پھنس گئے ہوں-اس نے بے اختیار اس کے لیے دعا کی تھی-
دفعتا گاڑی کا ہارن سنائی دیا اور پھر گیٹ کھلنے کی آواز آئی، وہ مڑکر دروازے کو پیاسی نگاہوں سے دیکھنے لگی-قدموں کی آواز اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھاری چر چراہٹ کے ساتھ دروازہ کھلا، کیپ اور اسٹک ہاتھ میں لیے وہ تھکا تھکا سا یونیفارم میں چلا آرہا تھا-اندر داخل ہو کر اس نے مڑ کر دروازہ بند کیا اور پھر چند قدم اگے آیا- دفعتا اسے بیٹھا دیکھ کر ہمایوں کے قدم تھمے- چہرے پہ حیرت بھری ناگواری ابھر آئی-
تم ادھر کیوں بیٹھی ہو؟
السلام علیکم، آپ کا ویٹ کر رہی تھی- آپ نے بہت دیر لگا دی – وہ اہستہ سے بولی تھی-
میں دیر سے آؤں یا جلدی آؤں خدا کے لیے میرے انتظار میں ادھر مت بیٹھا کرو-
اس نے بہت تحمل سے اس کا بے زار لہجہ سنا،پھر دھیرے سے بولی- میں پریشان ہوگئی تھی کہ خیریت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مر نہیں گیا تھا میں سو کام ہوتے ہیں، اگر آئیندہ مجھے تم یہاں بیٹھی ملیں تو میں گھر ہی نہیں آیا کروں گا- خدا کے لیےمیرا پیچھا چھوڑ دو محمل! وہ جھڑک کر کہتا تیزی سے اوپر سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا-
اس نے بڑے صبرو ضبط سے آنسو پی لیے ، یہاں تک کہ وہ اپنے دروازے کے پیچھے گم ہوگیا- تب اس نے گود میں دھرے ہاتھ اٹھائے اور اپنی وہیل چئیر کو کمرے کی طرف موڑنے لگی-
کبھی تو اسے احساس ہوگا کہ یہ وہی محمل ہے جو کبھی اس کی من چاہی بیوی تھی اور جب وہ یہ محسوس کرے گا تو لوٹ آئے گا- اسے یقین تھا اور یہ ہی یقین اس نے دل میں اٹھتے درد کو دلایا تھا-
وہ تارکول کی سڑک پر آج پھر بلقیس کے ساتھ وہیل چئیر پر جا رہی تھی-باہر کا موسم اس کی طبیعت پہ بہت اچھا اثر ڈالتا تھا-یہ الگ بات تھی کہ اس کی معزوری میں رتی بھر بھی فرق نہ آیا تھا-
بلقیس ادھر ادھر کی باتیں کرتی اس کی وہیل چئیر دھکیل رہی تھی-وہ آج بھی اسے نہیں سن رہی تھی،بس خاموش مگر پرسکون نگاہوں سے دور افق کو دیکھ رہی تھی- آہستہ آہستہ یہ ٹھہراؤ اس کی شخصیت کا حصہ بنتا جا رہا تھا-
بلقیس تمہں میرے تایا کے گھر کا پتا ہے؟ایک دم ہی وہ کسی خیال کے تحت چونکی اور پھر پوچھ لیا-
” نہ بی بی ! میں تو ادھر کبھی نہیں گئی-
اچھا۔۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے راستہ یاد ہے، تم مجھے ادھر لے چلو گی؟
پیدل؟
ہاں زیادہ دور نہیں ہے، جتنا فاصلہ یہاں سے مرکز تک ہے اتنا ہی ہے میں پیدل بھی آجایا کرتی تھی-
اسے بے اختیار وہ شام یاد ائی جب وسیم سے اپنے رشتے کی بات سن کر روتی ہوئی پیدل ہی مدرسے کے سامنے سڑک پہ اگئی تھی-اور اس نے ہمایوں سے کہا تھا کہ وہ بیچ راہ میں چھوڑ دینے والوں میں سے نہیں ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” چلیں پھر ٹھیک ہے۔ آپ راستہ بتائیں-بلقیس کی آواز پر وہ یادوں کے ہجوم سے باہر نکلی اور راستہ بتانے لگی- چھوٹی سڑک سے ایک راستہ پل سے ہوتا ہوا ان کے سیکٹر میں جا اترتا تھا، جس سے وہ بیس منٹ میں ادھر پہنچ سکتی تھیں-
آج وہ بیس منٹ پوری صدی لگ رہے تھے- وہ اس راستے پہ جاتے ہی دور کہیں کھو گئی تھی- نا جانے وہ سب کیسے ہونگے؟اتنے ہی عیش و ارام سے رہ رہے ہونگے؟ جتنے پہلے تھے؟کیا ان میں سے کسی نے اس کو یاد کیا ہوگا؟کبھی وہ اسپتال بھی آئے ہونگے کہ نہیں؟اور نہ جانے فواد نے جا کر ہمایوں سے کیا کہا تھا جس پہ فرشتے روتی رہی؟بہت یاد کرنے پر بھی ایسی کوئی بات ذہن میں نہیں آئی جو وہ ہمایوں سے یوں کہہ سکتا تھا یا شاید اس کی سوچنے کی صلاحیت اب سست ہوتی جا رہی تھی-
“یہ آپ کا گھر ہے جی؟ بڑا سوہنا ہے-
بلقیس کہہ رہی تھی اور وہ چونک کر اس اونچے عالیشان محل نما گھر کو دیکھنے لگی اس کا پینٹ ، کھڑکیوں کے شیشے اور بیرونی گیٹ بدل گیا تھا- وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگیا تھا-
یہ وہ گھر تھا جہاں اس نے اپنی زندگی کے اکیس سال گزارے تھے اور اسی سے وہ ایک رات نکالی گئی تھی- بظآہر رخصتی کی آڑ میں اسے اس گھر سے بے دخل کر دیا گیا تھا-
بیل بجاؤ بلقیس!
بلقیس آگے برھی اور گھنٹی بجائی-چند لمحوں بعد قدموں کی چاپ سنائی دی، جیسے کوئی دوڑتا ہوا گیٹ کھولنے آرہا ہو-اس کے دل کی دھڑکن ٹھہر سی گئی-وہ اتنے سالوں بعد کسے دیکھنے جا رہی تھی؟ فواد حسن آغآ جان؟
دروازہ آہستہ سے کھلا اور کسی نے سر باہر نکال کر دیکھا-
جی کس سے ملنا ہے؟وہ حلیے اور لہجے سے ملازم لگتا تھا-
بلقیس نے جوابا محمل کو دیکھا تو وہ ہمت مجتمع کر کے بولی-
آغآ کریم گھر پہ ہیں؟
ملازم کے چہرے پہ ہلکی سی الجھن ابھری-
کون آغا کریم؟
آغا۔۔۔۔۔۔ آغاکریم جو اس گھر کے مالک ہیں، جن کا یہ گھر ہے – اور ۔۔۔۔۔۔ یہ ہاؤس نمبر ٹو تھرٹی ہے نا؟
آہو جی یہ ٹو تھرٹی ہے، مگر یہ تو چوہدری نذیر صاحب کی کوٹھی ہے-ادھر تو کوئی آغاکریم نہیں رہتے-
بی بی کہیں ہم غلط گھر میں تو نہیں آگئے؟بلقیس نے ہولے سے کہا تو اس نے سختی سے نفی میں سر ہلایا- نہیں یہی گھر ہے، آغا کریم سات سال پہلے ادھر ہی رہتے تھے-
سات سال تو بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے میڈم جی جانے اب وہ کدھر گئے-
اچھا آپ ٹھہرو، میں بیگم صاحبہ سے پوچھ کر آتا ہوں-وہ انہیں وہیں چھوڑ کر اندر چلا گیا -چند لمحوں بعد اس کی واپسی ایک نوجوان کے ساتھ ہوئی-
جی فرمائیے؟وہ بیس اکیس برس کا مہذب اور شائستہ سا نوجوان تھا-
وہ ۔ ادھر آغا کریم اور ان کی فیملی رہتی تھی- وہ لوگ کدھر گئے؟
میم! ہم دو سال سے ادھر رہ رہے ہیں، دو سال پہلے ایک شیخ عامر سے ہم نے یہ گھر خریدا تھا- ہو سکتا ہے ان کو آغآ کریم نے یہ بیچا ہو، مگر میں ان کے بارے میں قطعی لاعلم ہوں-
آغا جان نے یہ گھر بیچ دیا؟مگر کیوں؟وہ شاکڈ سی رہ گئی-
معلوم نہیں میم کیا آپ کے لیے کچھ کر سکتا ہوں؟
اس کا سر نفی میں دائیں سے بائیں ہلا- لڑکا معذرت کر کے واپس چلا گیا اور وہ پریشان سی بیٹھی رہ گئی-
بی بی! ہمسایوں سے پوچھتے ہیں-اور اس کے منع کرنے سے قبل بلقیس ساتھ والے گھر کی گھنٹی بجا چکی تھی- اس گھر میں کون رہتا تھا؟خاصا جانا پہچانا سا گھر تھا ، مگر یاد نہیں آرہا تھا-
بمشکل ایک منٹ بعد ہی گیٹ کھل گیا -محمل نے گردن اٹھا کر دیکھا-
ادھر کھلے گیٹ کے اس پار بریگیڈئیر فرقان کھڑے تھے-
شلوار قمیض میں ملبوس، چہرے پر نفاست سے تراشیدہ دارھی اور بھر پور مسکراہٹ لیے وہ اسے دیکھ رہے تھے- انہیں دیکھ کے اسے بہت کچھ یاد انے لگا-
السلام علیکم لٹل گرل! میں کافی دیر سے آپ کو ٹیرس سے دیکھ رہا تھا- آئیے اندر آجائیں-انہوں نے گیٹ پورا کھول دیا اور ایک طرف کو ہت گئے-
بلقیس اس کی وہیل چئیر دھکیلتی اندر روش پے لے آئی-
ادھر آجائے- وہ لان میں گھاس پہ رکھی لان چئیرز کو جوڑنے لگے، یوں کے وہیل چیئر کی جگہ بن جائے-
کیسی ہیں اپ؟وہ اس کی سامنے والی کرسی پہ بیٹھے اور بہت ہی شائستگی سے پوچھنے لگے ان کا مخصوص لب و لہجہ اسی طرح بھاری تھا، البتہ سختی کی جگہ نرمی نے لے لی تھی-
ٹھیک ہوں الحمد اللہ- وہ ذرا سا مسکرائ اور سر جھکا لیا، پھر کچھ سوچ سوچ کر اسی جھکے سر کے ساتھ کہنے لگی- میرا کچھ سال پہلے ایکسیڈنت ہوگیا تھا، تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” میں جانتا ہوں، میں آپ کو دیکھنے اسپتال اتا تھا-
اس نے ہولے سے سر اٹھایا- سنہری آنکھوں میں حیرت اتر آئی تھی-
اچھا؟اور پھر اسے یاد آگیا-ہاں مجھے نرس نے بتایا تھا – تو وہ اپ تھے؟
جی ہاں- وہ دھیمے سے مسکرائے- آپ کی امانت نے میری زندگی بدل دی بیٹا-
وہ بنا پلک جھپکے انہیں دیکھ رہی تھی-
میں نے دو سال وہ پمفلٹ نہیں کھولے،پھر زندگی میں ایک موڑ ایسا آیا کہ ہر جگہ اندھیرا دکھنے لگا تو نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے ان کو کھول لیا-میرا خیال تھا اس میں کسی تنظیم کا لٹریچر ہوگا یا کسی سیاسی پارٹی کا منشور، مگر ان میں تو صرف قرآن کی آیات تھیں اور ان کا سادہ ترجمہ-میں پڑھتا چلا گیا اور پھر سب بدل گیا، سب ٹھیک ہوگیا-
مختصر الفاظ میں انہوں نے ساری بات سمیت دی-وہ چپ چاپ انہیں سنتی چلی گئی-
آپ کچھ عرصہ پہلے گھر شفٹ ہوگئی تھیں، مجھے پتا چلا تھا- اب طبیعت کیسی ہے آپ کی؟
ایم فائن-پھر لمحے بھر کے توقف کے بعد بولی- آغآ جان وغیرہ کدھر گئے؟انہوں نے گھر کیوں بیچ دیا؟
جن دنوں وہ گئے تھے میں ملک سے باہر تھا،بس ملازم سے ہی تھوڑا بہت سنا تھا کہ شاید تینوں بھائیوں نے جائیداد کا بٹوارہ کیا ہے اور گھر بیچ کے رقم تقسیم کر کے الگ الگ جگہوں پہ شفٹ ہوگئے ہیں-آپ کے ایکسیڈنٹ کا بھی میرے ملازم نے ہی بتایا تھا-
کب کی بات ہے یہ کب بیچا انہوں نے گھر؟
آپ کے ایکسیڈنٹ کے تقریبا سال ڈیڑھ بعد-
اوہ! اس کے لب سکڑے اور پھر اس نے ایک گہری سانس لی-کوئی اندازہ ہے آپ کو کہ وہ کہاں گئے؟
اب میں ان سے کدھر ملوں؟
اونہوں قطعی نہیں-انہوں نے معذرت خواہانہ انداز میں نفی میں سر ہلایا-ہمارے کبھی اتنے تعلقات تھے ہی نہیں، ہاں آغا اسد کے بارے میں ، میں نے ایک دوست سے سنا تھا-وہ کلب میں آغا اسد کے ساتھ ہوتا تھا-
ان کے الفاظ پہ وہ چونکی، دل زور سے دھڑکا-
کیا؟ کیا سنا تھا؟
یہ ہی کہ ان کو کینسر ہوگیا تھا، اور پھر ان کی ڈیتھ ہوگئی- آپ کو نہیں پتا چلا؟
وہ سانس روکے ہکا بکا سی رہ گئی-
آئی ایم ویری سوری محمل-انہیں افسوس ہوا- کب؟ کب ہوا یہ؟چند لمحے بعد اس کے لب پھرپھرائے-آنکھیں پتھرا سی گئیں تھیں-
غالبا پانچ سال قبل، ان کے گھر بیچنے کے چھ سات ماہ بعد-
اور ،، ان کے بچے؟معاذ اور معیز تو بہت چھوٹے تھے-
معلوم نہیں یتیم بچے تو پھر مجبورا رشتے داروں کے تسلط میں ہی رہتے ہیں-اللہ ان پر رحم کرے-
اور وہ لفظ یتیم بچے محمل کے دل میں کھب گیا-
بہت پہلے پڑھی گئی ایک آیت ذہن میں گونجی-ان لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے کمزور یتیم بچے چھوڑ جاتے- (نساء9)
یتیم بچے؟اسد چچا کے بچے یتیم ہوگے؟آرزو معاذ معیز- وہ ابھی تک بے یقین تھی-
اور پھر کب وہ بریگیڈئیر فرقان کو خدا حافظ کہہ کر بلقیس کے ہمراہ باہر آئی اسے کچھ پتہ نہ چلا-دل و دماغ بس ایک ہی نقطے پر منجمد ہوگئے تھے-اسد چچا کے بچے یتیم ہوگئے-
بے اختیار ہی اسے لاؤنج کا وہ منظر یاد اگیا-
صوفے پہ گری محمل اور اس کو تھپڑوں اور جوتوں سے مارتے اسد چچا اور غفران چا-
غفران چچا نہ جانے کہاں گئے؟ اور آغآ جان۔۔۔۔۔۔۔ سب کدھر چلے گئے؟وہ ان لوگوں کو کدھر ڈھونڈے؟
مگر وہ ان لوگوں کو کیوں ڈھوندنا چاہتی ہے؟اس نے خود سے پوچھا، کیا وہ یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ان لوگوں کو ان کے کیے کی سزا ملی یا نہیں کہ آخر یہ قانون فطرت ہے-یا وہ ان خون کے رشتوں کی محبت میں انہیں یاد کر رہی تھی-؟
شاید خون کی محبت غالب آگئی تھی یا شاید اپنے سب سے قریبی رشتوں شوہر اور بیٹے کے ٹھکرائے جانے کے بعد اسے کسی رشتے کی ضرورت تھی، ہاں شاید یہی بات تھی-
وہ انہیں سوچوں میں الجھتی گھر واپس آئی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سارے میں فجر اتری تھی جب وہ وہیل چیئر کو خود گھسیٹتی کھینچتی لان میں لائی– شبنم کے قطرے گھاس پر بکھرے تھے-دور کہیں پرندوں کی حمد کی آواز سنائی دے رہی تھی-مختلف بولیاں،مگر ایک ہی بات انسانوں کی سمجھ میں نہ ائے، وہ اور بات ہے-
تب ہی وہ آہستہ آہستہ وہیل چئیر خود ہی چلاتی دیوار کے ساتھ آگے بڑھنے لگی-دیوار کے اس پار مدرسے کی عمارت تھی-صبح کے وقت مدرسے کے صحن میں ناظرہ کی کلاس ہوتی تھی-
وہاں بچے بلند آواز میں قرآن پڑھا کرتے تھے-ان کی تجوید کی ہلکی ہلکی آواز ان کے لان مین بھی سنائی دیتی تھی-
وہ آواز آج بھی آ رہی تھی-وہ وہیں دیوار کے ساتھ وہیل چئیر روکے کان لگا کر سننے لگی-
وہ سب مل کر بلند آواز میں پڑھ رہے تھے-ترجمہ”اور داخل ہو جاؤ دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے، اور کہو حتطۃ-ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے اور عنقریب ہم احسان کرنے والوں کو زیادہ دیں گے-
آج اس نے بہت عرصے بعد یہ دعا سنی تھی-
بےاختیار وہ گود میں رکھے قرآن کے صفحے پلٹنے لگی-
وہ بنی اسرائیل کے ہیکل میں داخل ہونے کا قصہ تھا- سورۃ البقر کی 58 آیت، جب انہوں نے حطتہ کے بجائے حنطتہ کہا تھا- محمل کو کبھی یہ قصہ سمجھ میں نہیں ایا تھا- اب بھی وہ الجھ سی گئی اور صفحہ نکالا-
اس میں اس نے کوئی خاص نوٹس نہیں لکھے تھے-
شاید پرانے رجسٹر میں ہوں جو الگ سے تھے-اس نے اپنی وہیل چئیر کا رخ موڑا اور اندر لے گئی – اسٹڈی میں ایک جگہ اس نے اپنے پرانے نوٹس رکھے تھے-وہ انہیں کو ڈھونڈنے اسٹڈی میں ائی- دروازہ ادھ کھلا تھا وہ اندر آگئی-
ہمایوں اس کی طرف پشت کیے ریک میں سے کوئی بک نکال رہا تھا- آہٹ پہ پلٹا- ایک نظر اسے دیکھا اور پھر واپس کام میں لگ گیا – اجنبیت ، سرد مہری ، بے حسی ، مگر ذیادہ دل جلائے بغیر وہ مطلوبہ حصے کی طرف بڑھ گئی-
اس کے نوٹس وہیں رکھے تھے- گرد کی ایک تہ ان پر جمی ہوئی تھی، جیسے ان گزرے برسوں میں بس واجبی سی صفائی کی جاتی رہی ہو-ظاہر ہے فرشتے کیا کیا دیکھے، اسے کسی دن اسٹڈی کی صفائی کروانا چاہیئے- وہ سوچتی ہوئی مطلوبہ رجسٹر ڈھونڈنے لگی-
بغیر کسی دقت کے اسے وہ رجسٹر سامنے ہی مل گیا – اس پر ہلکی ہلکی سی گرد کی تہ جمی تھی-محمل نے وہ ترچھا کر کے چہرے کے سامنے کیا اور پھونک ماری، گرد اڑ کر دور بکھر گئی-
میں تمہیں چھوڑنا چاہتا ہوں- ہمایوں بغیر کسی تمہید کے کھڑے کھڑے کتاب کے صفحے الٹ پلٹ کرتے بولا تھا-
لمحے بھر کو محمل کو لگا وہ دھول متی ار کر ہر طرف چھانے لگی ہے-اس نے بمشکل رخ موڑ کر اسے دیکھا- وہ بے نیاز سا کتاب کے ورق پلٹ رہا تھا-
میرا مطلب مکمل علیحدگی سے ہے- میں اب یہ رشتہ مزید نہیں نبھانا چاہتا-سو مجھے اپنے پیروں کی زنجیر کھولنے دو-سنی ہم دونوں کا بیٹا ہے اور سات سال کا ہو چکا ہے- اس کی کسٹڈی اسے خود ڈیسائیڈ کرنے دینا-
دھول شاید اس کی آنکھوں میں بھی پر گئی تھی-وہ سرخ پڑنے لگی تھیں- وہ لب کچلتی اس کی بات سن رہی تھی-
اگر سنی تمہارے ساتھ رہنا چاہے تو میں اسے مجبور نہیں کروں گا کہ وہ میرے ساتھ رہے اگر وہ میرے ساتھ رہنا چاہے تو تم اسے مجبور نہیں کرنا، جو بھی فیصلہ کرو مجھے بتا دینا، لیکن میں فیصلہ کر چکا ہوں،اس نے کتاب ریک میں رکھی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا-
وہ شدید صدمے کے زیر اثر پتھر بنی وہیں بیٹھی رہ گئی-
کیا ہمایوں اس طرح اسے اپنی زندگی سے دور کر سکتا ہے؟
اگر کرتا ہےا تو کرنے دو میں مر نہیں جاؤں گی اس کے بغیر- ایک دم اس نے سر جھٹکا-
آنکھ آنسو بہاتی ہے-
اور دل غمگین ہوتا ہے- مگر ۔۔۔۔۔
ہم زبان سے وہی کہیں گے جس پہ ہمارا رب راضی ہو-
بے اختیار ہی مدھم آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تھی-اس کے دل کو جیسے قرار سا آگیا-
اس نے رجسٹر کھولا نوٹس میں اس واقعے کے متعلق بس اتنا لکھا تھا کہ ہیکل میں داخلے سے قبل جب بنی اسرائیل کو کہا گیا کہ سواریوں پہ جھکتے ہوئے عاجزی سے حطتہ یعنی بخشش کہتے ہوئے داخل ہو ، تو تمسخر اڑاتے ہوئے زبانیں مروڑ کر حنطتہ حنطتہ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوئے- آگے لکھا تھا-
حنطتہ کا مطلب ہوتا ہے گن- اس سے ؟آگے صفحہ ختم تھا-
اس نے ذہن سے تمام سوچوں کو جھتک کے ان الفاظ پہ غور کیا اور پھر نئے سرے سے الجھ گئی- وہ واقعہ اسے بہت عجیب سا لگ رہا تھا- بنی اسرائیل جتنی جینئیس اور عقل مند قوم نے ایسا کیوں کیا؟انہوں نے گن کس چیز کو کہا؟جب ان کو سیدھے طریقے سے بتایا گیا تھا کہ وہ بخشش مانگیں تو انہوں نے گن گن کیوں کہا؟ ایک طرف وہ اتنے ذہین تھے کہ حطتہ سے ملتا جلتا لفظ ڈھونڈ لائے، اور پھر دوسری طرف اس لفظ کو کہنے کا مطلب ہی نہیں بنتا تھا-آخر کیوں انہوں نے صحیح لفظ نہ بولا ؟حنطتہ کیوں کہا؟
وہ سمجھ نہ پائی اور پھر قرآن بند کر کے رکھ دیا- دل اتنا خالی تھا کہ تفسیر کھول کر تفصیل پڑھنے کو بھی نہیں چاہا- کانوں میں ابھی تک ہمایوں کے الفاظ گونج رہے تھے-
ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکلا اور رخسار پہ پھسلتا گیا-
تو جس حال میں رکھے میرے مالک میں تجھ سے راضی ہوں-اور نہایت بے دردی سے اس نے ہتھیلی کی پشت سے آنسو رگڑ ڈالا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تیمور توس کے چھوٹے چھوٹے لقمے لے رہا تھا- ڈائننگ ٹیبل پہ اس کے علاوہ اور کوئی نہ تھا-
وہ اپنی وہیل چئیر گھسیٹتی دائننگ ہال میں داخل ہوئی وہ آہت پہ چونکا-لقمہ توڑتے چھوٹے چھوٹے ہاتھ رکے اور سر اٹھایا-محمل کو اتے دیکھ کر اس کے ماتھے پہ بل پڑ گیا-اس نے توس کا بچا ٹکڑا زور سے واپس پلیٹ میں پھینکا اور کرسی پیچھے کو دھکیلی-
بیٹھو تیمور مجھے تم سے بات کرنا ہے-
آئی ڈونت وانت ٹو ٹاک یو- (میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا) وہ کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا تھا-
مگر مجھے کرنا ہے، اور یہ تمہارے ڈیڈ کا میسج ہے میرا نہیں-
واٹ؟وہ لمحے بھر کو رکا، ماتھے پہ بل اور بھنویں تنی ہوئی-
شاید میں اس گھر سے چلی جاؤں، شاید اب ہم ساتھ نہ رہیں، میں اور تمہارے ڈیڑی-
آئی ڈونت کئیر!
” تیمور تم کس کے ساتھ رہنا چاہو گے؟میرے ساتھ یا ڈیڈی کے ساتھ؟وہ جانتی تھی کہ تیمور کا جوام کم از کم اس کے حق میں نہیں ہوگا، پھر بھی پوچھ لیا-
کسی کے ساتھ بھی نہیں-اس نے بے زاری سے شانے اچکائے تھے-
مگر بیٹا اپ کو کسی کے ساتھ تو رہنا ہی ہوگا-
میں اپ کا نوکر ہوں جو کسی کے ساتھ رہوں؟
جسٹ لیو می آلون- وہ ایک دم زور سے چیخا تھا اور پھر کرسی کو ٹھوکر مارتا اندر چلا گیا-
وہ تاسف سے اسے دور جاتے دیکھتی رہی- یہ تلخ لہجہ ، یہ بد مزاجی، یہ اندر بھرا زہر۔۔۔۔۔ یہ کس نے تیمور کے اندر ڈالا-
اور اس سے پہلے کہ وہ اس کے باپ کو مورد الزام ٹھہراتی ایک منظر سا اس کی نگاہوں کے سامنے بننے لگا-
جینز کرتے میں ملبوس ، اونچی پونی تیل والی ایک لڑکی چہرے ہی ڈھیروں بے زاری سجائے چلا رہی تھی-
” میں اپ کے باپ کی نوکر ہوں جو یہ کروں؟
اس کے مخاطب بہت سے چہرے تھے، کبھی تائی مہتاب ، کبھی مسرت، کبھی کزنز تو کبھی کوئی چچا-
اسے وہ منہ پھٹ بد تمیز اور تلخ لڑکی یاد ائی اور اس کا رواں رواں کانپ اٹھا-
ہاں۔۔۔۔ جو اپنے بڑوں کے ساتھ جیسا کرتے ہے اس کے چھوٹے بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کرتے ہیں-کوئی اس کے اندر بولا تھا-
راستہ ایک ہی ہے، اس پہ انسان ایک وقت تک چلتا ہے، اور پھر آکر واپس اپنے قدموں کے نشانوں پہ لوٹتا ہے جو ببول اگا کر جاتے ہیں ان کو لہولہان کرنے والے کانٹے ہی ملتے ہیں اور جنہوں نے پھول بکھیرے ہوںان کا انتظار گلستان کر رہے ہوتے ہیں-
محمل! کسی نے پکارا تو وہ خیالوں سے جاگی اور پھر سختی سے اپنی انکھیں رگریں-
کیا میں نے ٹھیک سنا؟فرشتے جیسے بے یقین سی اس کے سامنے آئی-
کیا؟اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے سر اٹھایا-
محمل! تم اور ہمایوں۔۔۔۔۔۔ تم الگ ہو رہے ہو؟ وہ متحیر سی کہتی اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور دونوں ہاتھ اس کی گود میں دھرے ہاتھوں پہ رکھے-
ہاں ۔۔ شاید-“
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر تم نے ایسا فیصلہ کیوں کیا؟وہ مضطرب سی اس کی آنکھوں میں دیکھتی جواب تلاش کر رہی تھی-
میں نے نہیں کیا ۔۔۔ ہمایوں نے کیا ہے-
کیا اس نے خود تمہیں ایسا کہا ہے؟
ہاں۔

 

Read More:  Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 4

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: