Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 33

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 33

–**–**–

 

کیا اس نے خود تمہیں ایسا کہا ہے؟
ہاں۔۔۔۔۔۔۔
تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے مان لیا؟وہ بے یقین تھی-
میرے پاس چوائس بچی ہے کیا؟
فرشتے ٹکر ٹکر اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی-
فرشتے! میرے اختیار میں نہ کل کچھ تھا ، نہ آج ہے-ہمایوں نے فیصلہ سنانا تھا سنا دیا-اگر وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تو کیا میں اسے مجبور کروں؟ نہیں-اس نے سختی سے نفی میں سر ہلایا-اگر وہ علیحدگی ہی چاہتا ہے تو ٹھیک ہے-میں مصالحت کی آخری کوشش ضرور کروں گی، مگر اس سے بھیک نہیں مانگوں گی-
پھر ۔۔۔ پھر کیا کرو گی کدھر جاؤ گی؟
فرشتے! میں ہمایوں کی محتاج نہیں ہوں-اللہ کی دنیا بہت بڑی ہے-میں اپنے بیٹے کو لے کر کہیں بھی چلی جاؤں گی-
تم اس کے بغیر رہ لو گی؟
کیا وہ میرے بغیر نہیں رہ رہا؟ وہ پھیکا سا مسکرائی-
مگر کیا تم خوش رہو گی؟
اگر اللہ نے میرے مقدر میں خوشیاں لکھی ہیں تو وہ مجھے مل ہی جائیں گی،بھلے ہمایوں میرے ساتھ ہو یا نا ہو-
فرشتے تاسف سے اسے دیکھتی رہی-
آئی ایم ویری سوری محمل اگر تم کہو تو میں اس کا فیصلہ بدلنے کو۔۔۔۔۔۔
نہیں – اس نے تیزی سے اس کی بات کاٹی-آپ اس معاملے میں نہیں بولیے گا-
مگر ایک بار مصالحت کی ایک کوشش تو-
پلیز فرشتے مجھے بھکاری مت بنائیں!اس نے کچھ ایسی بے بسی سے کہا کہ فرشتے لب کاٹتی رہ گئی- مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟کیا اس نے تمہیں وجہ بتائی ہے؟
کیا میں نہیں جانتی؟ ہونہہ ! اس نے تلخی سے سر جھٹکا- وہ ایک معذور عورت کے ساتھ کب تک رہے،کب تک میری خدمت کرے، وہ میری بیماری سے اکتا گیا ہے،میں جانتی ہوں-
کیا یہی واحد وجہ ہے؟
اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے؟
وللہ اعلم ۔ خیر جو بھی کرنا سوچ سمجھ کر کرنا، اگر تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اس پہ اپنے دل کو بھی راضی کر لینا-لو یو سسٹر!اس نے اپنے ہاتھ محمل کے ہاتھوں سے ہٹائے اور ہولے سے اس کا گال تھپتھپاتی کھڑی ہوگئی-
بس یہ یاد رکھنا میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں اور جب تک تم ٹھیک نہیں ہو جاتیں، میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی- اوکے-
محمل نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب سے ہمایوں نے علیحدگی کی بات کی تھی فرشتے کے سامنے وہ لاکھ خود کو صابر شاکر ظاہر کرتی مگر اندر سے وہ مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی-اس کی یاد داشت میں ہمایوں کے ساتھ بیتا ایک ہی سال تھا- باقی کے ماہ و سال ذہن کے پردے پہ اترے بغیر ہی سرک گئے تھے-
اور وہ ایک سال جو اس نے اس گھر میں محبتوں اور چاہتوں کے بیچ گزارا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ دونوں گھنٹوں باتیں کرتے تھے-وہ کیندل لائٹ ڈنرز، وہ لانگ ڈرائیوز، وہ روز ہمایوں کے لیے تیار ہونا، وہ ٹیرس پہ جا کر رات کو باتیں کرنا وہ ایک ساتھ کی گئی شاپنگز۔۔۔۔۔۔ ہر شے اس کی یاد داشت سے فلم کی طرح گزرتی تھی اور ہر یاد اس کے دل پہ مزیڈ آنسو گرا جاتی تھی- اور اگر تیمور بھی اس کے ساتھ نا رہا، تب وہ کیا کرے گی؟ کدھر جائے گی؟اگر ہمایوں نے اسے گھر سے نکال دیا، تو وہ کہاں رہے گی؟ کیا اپنے چچاؤں کے پاس؟ کیا وہ اسے رکھیں گے؟فرشتے کے ساتھ؟ مگر فرشتے تو خود تنہا تھی-ہمایوں کے گھر میں مہمان تھی -پھر وہ کیا کرے گی؟
یوں لگتا تھا چلچلاتی دھوپ میں اسے لا کھڑا کر دیا گیا ہے-نہ چھت نہ سائبان،مستقبل کا خوف کسی بھیانک آسیب کی طرح اس کے دل کے ساتھ چمٹ گیا تھا-
بار بار یہ سوال ذہن میں اٹھتے اور وہ بمشکل اس کو جھٹلا پاتی-
اور پھر آخر کب تک وہ ان کو یوں جھٹکے گی؟کبھی نہ کبھی تو اسے ان کا جواب چاہیئے ہو گا اور جس کتاب سے جواب مل جایا کرتے تھے، اس کے صفحے بار بار ایک ہی ایت سے کھل جاتے تھے-کبھی ایک جگہ سے کھل جاتے تو کبھی دوسری جگہ سے اور یہی صفحہ سامنے آجاتا-
اور داخل ہو جاؤ دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے اور کہو حطۃ-
مگر ہیکل سلیمانی کا دروازہ کہاں تھا؟وہ تو بن سواری کے شہر سے باہر نکال دی جا رہی تھی-اندر کیسے جاتی؟
وہ سہ پہر بہت زرد سی اتری تھی- بلقیس نے اسے بیڈ سے وہیل چئیر پہ بٹھایا اور باہر لے آئی-
تیمور لاؤنج میں صوفے پہ کتابیں پھیلائے بیٹھا تھا-اسے آتا دیکھ کر ایک خاموش نگاہ اس پہ ڈالی۔ اور پھر نگاہیں کتاب پہ جما لی-وہ پیاسی نگاہوں سے اسے تکتی رہی، یہاں تک کہ بلقیس وہیل چئیر لاؤنج کے داخلی دروازے تک لے آئی-
دروازے کی چوکھٹ پہ لگے بیل بوٹوں اور نقش و نگار کے درمیان اسے صوفے پہ بیٹھے تیمور کا چہرہ نظرآیا، جو بہت غور سے اسے باہر جاتے دیکھ رہا تھابلقیس وہیل چئیر لان میں لے آئی تازہ ہوا کا جھونکا چہرے سے ٹکرایا تو بال پیچھے کو اڑنے لگے- اسنے آنکھیں موند کے لمحے بھر کو موسم کی تازگی اپنے اندر اتارنا چاہی-تب ہی دیوار کے اس پار سے مدھم مدھم سی بھنبھناہٹ سماعت میں اتری-
اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے-
اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں-اسے گھر آئے ہوئے مہینہ ہونے کو آیا تھا مگر وہ کبھی مسجد نہیں گئی تھی-نہ جانے کیوں؟
بلقیس مجھے مسجد لے چلو-ایک دم سے اس کا دل مچل گیا تھا-
بلقیس نے فرمانبرداری سے سر ہلا کر وہیل چئیر کا رخ موڑ دیا-
فرشتے کدھر ہے؟اس نے سوچا کہ اسے بھی ساتھ لے لے-
وہ کھانا کھا کر سو گئی تھیں-
چلو ٹھیک ہے-وہ جانتی تھی فرشتے تھکی ہوئی ہوگی- صبح بھی وہ فزیو تھراپست کے ساتھ محمل کی ایکسرسائزز اور پھر مساج کرنے میں لگی رہی تھی-پھر سبزی لانا اور گھر کی نگرانی-وہ شام کو مسجد جائے گی ہی، پھر ابھی اسے کیوں تھکائے سو اس نے فرشتے کو بلانے کا ارادہ ترک کردیا-
مسجد کا ہرا بھرا گھاس سے مزین لان ویسا ہی خوبصورت تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئی تھی-سفید ستونوں پہ کھڑی عالیشان اونچی عمارت ، چمکتے سنگ مر مر کے برآمدے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کونوں میں رکھے سبز لہلہاتے گملے شور مچاتی دنیا سے دور ، ہنگامے سے پاک ، ٹہرا ہو ، کونا کونا سکون میں ڈوبا ہوا ماحول-
مسجد کے اندر کوئی اور ہی دنیا تھی-ٹھنڈی تازگی بھری، باوقار سی دنیا-اس کے درو دیوار سے سکون ٹپکٹا تھا-
وہ جیسے بچوں کی طرح کھل اتھی تھی-آنکھوں میں چمک اگئی اور بے اختیار گردن ادھر ادھر گھماتی وہ ہر شے دیکھ لینا چاہتی تھی-بلقیس آہستہ آہستہ وہیل چئیر اگے بڑھا رہی تھی-
برآمدے میں سنگ مر مر کی چمکتی سیڑھیاں تھیں-ان پہ مسلسل لڑکیاں اوپر نیچے آ جا رہی تھیں-سفید یونیفارم کے اوپر لائٹ گرین اسکارف پہنے، وہ مسکراتی ہوئی خوش باش لڑکیاں ، ہاتھوں میں قرآن اورکتابیں پکڑے ہر کسی کو مسکرا کر سلام کرتیں، آس پاس نظر آرہی تھیں-
وعلیکم السلام ۔ وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔ وہ مسکرا کر ہر کسی کے سلام کا جواب دے رہی تھی-وہ وہاں کسی کو نہیں جانتی تھی اور کوئی اسے نہیں جانتا تھا پھر بھی سلام کرنا اور سلام میں پہل کرنے کا حرص رکھے ہر کوئی پاس سے گزرتے ہوئے سلام کرتا تھا-اسکا پور پور خوشی میں ڈوب رہا تھا- یہ ماحول یہ درو دیوار -یہ تو اس کی ذات کا حصہ تھے-وہ کیسے اتنا عرصہ ان سے کٹی رہی؟
وہ نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے وہیل چئیر پہ بیٹھی مسلسل سب کے سلام کا جواب دے رہی تھی- نہ کسی نے رک کر ترس کھا کر پوچھا کی اسے کیا ہوا ہے -نہ کسی نے ترحم بھری نگاہ ڈالی- نہ کوئی تجسس نہ کرید -وہ کونے میں وہیل چئیر پہ بیٹھی ساری چہل پہل دیکھ رہی تھی-
پھر کتنے ہی دیر وہ ایسے ہی بیٹھی رہی یہاں تک کہ بلقیس نے مرکز تک جانے کی اجازت مانگی-
رات صاحب کے کوئی سرکاری مہمان آنے ہیں اور فرشتے بی بی نے مجھے گوشت بنوانے کو کہا تھا، میں بھول ہی گئی- آپ بیٹھو میں لے اتی ہوں-
نہیں میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی، آج دل کر رہا ہے دنیا کو پھر سے دیکھنے کا-
ایک الوہی سی چمک نے محمل کے چہرے کا احاطہ کر رکھا تھا-وہ اس ماحول میں آ کے جیسے بہت خوش تھی اور اس خوشی کو اپنے اندر سمیٹ کر اب وہ دنیا کا مقابلہ کرنے کو تیار تھی-
آج اسے بازار جانے سے ڈر نہیں لگ رہا تھا-
بلقیس عادتا چھوٹی موتی ادھر ادھر کی باتیں کرتی اس کی وہیل چئیر چلاتی مرکز تک لے آئی-مرکز وہاں سے بہت قریب پڑتا تھا-وہ گوشت بنوانے دکان میں چلی گئی جبکہ محمل باہر بیٹھی رہی-
گاڑیاں بہت تیزی سے گزر رہی تھیں، لوگ بہت اونچا بول رہے تھے- موٹر سائیکلیں بہت شور مچا رہی تھیں-روشنیاں بہت تیز تھیں-
ذرا سی دیر میں ہی سارا سکون ہوا ہو گیا-اس کا دل گھبرانے لگا-
جلدی کرو بلقیس!وہ لفافے تھامےے دکان سے باہر آئی تو محمل سخت اکتا چکی تھی-
بس بی بی! ئی سامنے والے پلازہ میں ہوٹل ہے ، ےیمور بابا کے لیے پزا لے لوں-ورنہ بابا کھانا نہیں کھائے گا-بس بی بی پانچ منٹ-
وہ تیزی سے وہیل چئیر دھکیلتی کہہ رہی تھی-محمل نے بے زاری اور بے چینی سے سڑک کو دیکھا-وہ فراٹے بھرتی گاڑیاں اسے بہت بری لگ رہی تھیں- ایسے ہی کسی گاڑی نے اسے ٹکر ماری تھی-
بلقیس ایک فاسٹ فوڈ کے سامنے اسے کھڑا کر کے اندر چلی گئی، اور وہ اس ریسٹورنٹ کی گلاس والز کو تکتے اس گاڑی کو یاد کرنے لگی جس نے اسے ٹکر ماری تھی-نا جانے وہ کون تھا یا تھی؟پکڑا بھی گیا یا نہیں؟
کیا ہمایوں نے اس پہ مقدمہ کیا ہوگا؟اسے جیل بھیجا ہوگا؟مگر یوں مقدمہ کرنے سے اس کا نقصان پورا تو نہیں ہو سکتا تھا –
خیر جانے دو میں نے معاف کیا سب کو-
اس نے سر جھٹکا اور پھر بے چین اور منتظر نگاہوں سے ریسٹورنٹ کی گلاس وال کو دیکھنے لگی-بلقیس جانے کہاں گم ہوگئی تھی-
وہ یونہی بے زار سی نگاہیں ادھر ادھر گھماتی رہی اور دفعتا بری طرح ٹھٹکی-ریسٹورنٹ کی گلاس وال کے اس طرف کا منظر بالکل واضح تھا-
کونے وال میز پہ بیٹھا مسکراتے ہوئے والٹ کھولتا ہمایوں ہی تھا-وہ یک ٹک اس کی مسکراہٹ کو دیکھے گئی-کیا اسے مسکرانا یاد تھا؟کیا اسے مسکرانا آتا تھا؟
اور تب اس کی نظر ہمایوں کے مقابل بیٹھی لڑکی پر پھسلی-شولڈر کٹ بال ، سلیو لیس شرٹ ، دوپٹہ ندارد کمان کی طرح پتلی آئی بروز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے کچھ کہہ رہی تھی ، اور ہمایوں سر جھٹک کر مسلسل مسکرائے جا رہا تھا-
اس لڑکی کو وہ اچھی طرح پہچانتی تھی-وہ آرزو تھی-وہ واقعی آرزو ہی تھی-
ہمایوں اب والٹ سے چند نوٹ نکالتے ہوئے کچھ کہہ رہا تھا جبکہ وہ ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی- دونوں کے درمیان بے تکلفی واضح اور عیاں تھی-
تو یہ بات تھی ہمایوں داؤد ! تمہیں آرزو ہی ملی تھی؟اس نے غم سے لب کاٹتے ہوئے سر جھٹکا تھا-
فرشتے ٹھیک کہتی تھی-یقینا وجہ کوئی اور تھی-اس کی معذوری کا توبہانہ تھا-اصل وجہ تو وہ پتلی کمان سی ابرو والی شاطر لڑکی تھی جو اس کے شوہر کے ساتھ سر عام لنچ کر رہی تھی-
اس نے کہا تھا وہ ہمایوں کو اس سے چھین لے گی اس نے ٹھیک کہا تھا-
محمل نے کرب سے سوچا-
مغرب کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں، جب بلقیس اس کی وہیل چئیر دھکیلتی گھر کے گیٹ میں داخل ہوئی-
اس کے سامنے ایک ہی منظر تھا کونے کی ٹیبل پہ بیٹھے ،ہنستے مسکراتے دو نفوس، ایک جانا پہچانا سا فرد اور ایک جانی پہچانی سی عورت-
وہ اجڑی اجڑی سی صورت لیے گم صم سی وہیل چئیر پہ بیٹھی تھی-بلقیس کب اسے کمرے میں لائی اسے کچھ علم نہیں تھا-
کسی نے اس کا شانہ ہلایا تو وہ چونکی، اور پھر گردن اٹھا کر سامنے دیکھا-
فرشتے حیران سی اس کے سامنے کھڑی تھی-زرد شلوار قمیض میں ملبوس، دوپٹہ شانوں پہ پھیلائے اس نے گیلے بھورے بال سمیٹ کر دائیں شانے پہ ڈال رکھے تھے-شاید ابھی وہ نہا کر آئی تھی-
کدھر گم ہو محمل؟ کب سے تمہیں بلا رہی ہوں- وہ پنجوں کے بل اس کے سامنے کارپٹ پہ بیٹھی اور اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے- دائیں شانے پہ پڑے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک کر اس کا دامن بگھو رہے تھے-
آپ ؟ٹھیک کہتی تھں فرشتے- وہ جیسے ہار گئی تھی-فرشتے کو لگا وہ رو رہی ہے، مگر اس کے آنسو باہر نہیں اندر گر رہے تھے-
میں نے آج خود ان دونوں کو دیکھا ہے-
کن دونوں کو؟وہ بری طرح چونکی-
ہمایوں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آرزو کو-
آرزو اسد انکل کی بیٹی آرزو؟
ہاں وہی-کیا اسد چچا کی ڈیتھ ہوگئی ہے؟
تم نے انہیں کدھر دیکھا؟وہ اس کا سوال نظر انداز کر گئی تھی-
مرکز کے ایک ریسٹو رنٹ میں- وہ دونوں لنچ کر رہے تھے یا شاید ہائی ٹی- فرشتے!ہمایوں ہنس رہے تھے ، میں تو سمجھی تھی وہ ہنسنا بھول گئے ہیں-
مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ پتا نہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ متذبذب تھی کچھ کہتے کہتے رک گئی-
مجھے پتا ہے وہ آرزو کی وجہ سے میرے ساتھ یوں کر رہے ہیں-اس نے کہا تھا وہ ہمایوں کو مجھ سے چھین لے گی-اور اس نے یہ کر دکھایا- کیا وہ کبھی اس گھر میں آئی ہے؟
ہاں وہ اکثر آتی رہتی ہے، مگر تمہارے گھر شفٹ ہو جانے کے بعد وہ کبھی نہیں ائی-
واقعی ؟ اسے حیرت بھی ہوئی اور غصہ بھی آیا- آخر وہ کس حیثیت سے آئی تھی اس گھر؟
آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں؟ اندر کیوں آنے دیا؟
یہ میرا گھر نہیں ہے محمل! مجھے اس کا حق نہیں ہے-
محمل چپ سی ہوگئی-اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: