Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 34

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 34

–**–**–

 

یہ میرا گھر نہیں ہے محمل! مجھے اس کا حق نہیں ہے-
محمل چپ سی ہوگئی-اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا-
ہمایوں کے کچھ گیسٹ آنے ہیں چائے پہ- ابھی پہنچنے والے ہونگے، میں ذرا کچن دیکھ لوں-وہ اس کے ہاتھوں سے ہاتھ نکال کے کھڑی ہوگئی-گیلے بال شانے سے پھسل کر کمر پہ جا گرے-
آپ۔۔۔۔۔ آپ بہت اچھی ہیں فرشتے- وہ کہے بغیر نہ رہ سکی-
وہ تو مجھے پتا ہے- وہ نرمی سے مسکرائی اور زرد دوپٹے کا پلو سر پہ ڈالا، پھر اچھی طرح چہرے کے گرد حصار بنا کر دایاں پلو کندھے پہ ڈال لیا- یوں کہ بال اور کان چھپ گئے-
تم آرام کرو-وہ باہر نکل گئی اور محمل وہیں اداس ویران سی بیٹھی رہ گئی
باہر سے چہل پہل کی مدھم سی آوازیں ارہی تھیں-کافی دیر بعد اس نے کھڑکی سے ہمایوں کی گاڑی کو آتے دیکھا تھا-اس کے ہمراہ دو تین معزز اشخاص بھی تھے،ہمایوں اسی لباس میں تھا جس میں وہ شام کو آرزو کے ساتھ ریسٹو رنٹ میں تھا-گویا وہ واقعی وہی تھا، یہ اس کا واہمہ نہیں تھا-
وہ حسرت و یاس سے کھڑکی سے لگی ان کو اندر جاتے دیکھتی رہی-اس کے کمرے میں اندھیرا اتر آیا تھا- باہر روشنی تھی-باہر والے اسے نہیں دیکھ سکتے تھے، اور وہ باہر والا ” تو شاید اب کبھی بھی اسے نہ دیکھ سکے-اس کے پاس اب بہتر انتخاب تھا،
جوان اسٹائلش، زندگی سے بھرپور عورت،بے شک وہ محمل کی طرح خوبصورت نہ تھی ، مگر اس کی تراش خراش کی گئی شکل اب محمل سئ حسین لگتی تھی-
کیا کبھی حالات بدلیں گے ، کیا کبھی ہمایوں لوٹے گا ؟ کیا کبھی اس کی معذوری ختم ہوگی؟کیا کبھی تیمور اس کے پاس آئے گا؟کیا یہ گھر اس کا رہ سکے گا؟کیا وہ دربدر کردی جائے گی؟کیا وہ بے سہارا چھوڑ دی جائے گی؟
اندر کا خوف اور بے بسی آنسوؤں کی صورت میں آنکھوں سے نکل کر چہرے پہ لڑھکنے لگی- مستقبل ایک بھیانک سیاہ پردے کی مانند ہر طرف چھاتا دکھائی دے رہا تھا، اس نے کرب سے آنکھیں میچ لیں-
اللہ اس چیز سے بڑا ہے، جس سے میں ڈرتی اور خوف کھاتی ہوں-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا وہ ایک کلمہ وہ زیر لب بار بار دہرا رہی تھی-یہاں تک کے اندر کا کرب قدرے کم ہوا اور ذرا سکون آیا تو اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے-
اگر ان لوگوں نے مجھے چھوڑ ہی دینا ہے نکال ہی دینا ہے تو مجھے کسی بے قدرے کے حوالے مت کرنا، میرے مالک کوئی امید کا سرا دکھا دے، کوئی روشنی دکھا دے- وہ بنا لب ہلائے دعا کے لیے اتھے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی-آنکھوں سے آنسو اسی طرح بہہ رہے تھے-
پھر جب بہت رو چکی، تو چہرہ پونچھا اور سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اپنا سفید کور والا قرآن اتھایا، اس کے فرنٹ کور پہ مٹا مٹا سا “م ” اسی طرح لکھاتھا-
اسے یاد نہیں تھا اس نے آخری بار تلاوت کدھر چھوڑی تھی، پتا نہیں نشان کہیں لگایا تھا یا نہیں- بس جہاں سے صفحہ کھلا اس نے پڑھنا شروع کر دیا-
لا شعوری طور پر وہ اللہ تعالی سے رہنمائی چاہتی تھی-
” اور کس کی بات اس شخص کی بات سے زیادہ اچھی ہو سکتی ہت،جو اللہ کی طرف بلائے اور اچھے عمل کرے اور کہے ، بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں-
اس نے اگلی ایت پڑھی-
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی سو ( برائی کو ) اس طریقے سے دور کرو جو بہترین ہو پھر دفعتا وہ شخص جس کے اور تمہارے دریان عداوت ہے ،یوں ہو جائے گا گویا کہ تمہارا حمیم ( گہرا جاں نثار دوست) ہو-
اس نے اچنبھے سے ان آیات کو دیکھا، کیا اب بھی کوئی امید تھی کہ وہ شخص اس کا حمیم ( گہرا جان نثار دوست) بن سکتا ہے؟اب تو کچھ باقی نہیں رہا تھا، سب ختم ہوگیا تھا- اس نے اس آیت کو دوبارہ پڑھا-
بہت ہی عجب ماجرا تھا- آج وہ اپنے شوہر کو کسی دوسری عورت کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے دیکھ آئی تھی، اپنے اس شوہر کو جو برملا اس سے علیحدگی کا کہہ چکا تھا-اس کا اپنا بچہ اس سے بکتا تھا-اس سے نفرت کرتا تھا- اس کی بے انتہا پر امید رہنے والی بہن بھی آج خاموش تھی، آج اس نے بھی امید نہیں دلائی تھی کہ ہمایوں کا رویہ سب کے سامنے تھا-
اس نے پھر پڑھا-
پھر دفعتا وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے ، یوں ہو جائے گا گویا تمہارا حمیم ہو ، اور اس (خوبی ) کو ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں حاصل کر سکتا جو بہت صبر کرتے ہیں اور اس ( خوبی ) کو ان کے علاوہ کوئی نہیں حاصل کر سکتا جو بڑی قسمت والے ہوتے ہیں-
میں اتنی صبر کرنے والی اور قسمت والی کہاں ہوں اللہ تعالی؟اس نے پاس سے سوچا تھا-کیا واقعی کبھی بھی ان عداوتوں کو پگھلا نہیں سکے گی؟کیا اسے مایوس ہو جانا چاہیئے؟
باہر سے چہل پہل کی اوازیں بدستور ارہی تھیں-محمل کے کمرے کے سامنے ہی ڈرائنگ ہال اور ڈائننگ روم تھا-
اس نے قرآن بند کر کے شیلف پہ رکھا، اور وہیل چئیر کو گھسیٹتی ہوئی کھڑکی کے پاس لے آئی- قد آور کھڑکی کے شفاف شیشوں کے اس پار ڈوبتی شام کا منظر نمایاں تھا- دور اوپر کہیں آدھا چاند بادلوں سے جھانک رہا تھا-یہاں تک کہ شام ڈوب گئی اور چاندنی سے کھڑکی کے شیشے روشن ہوگئے-وہ اسی طرح اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں بیٹھی ، گردن اٹھائے چاند کو دیکھ رہی تھی-
“ادفع بالتی احسن –
(دور کرو اسے اس طریقے سے جو بہترین ہو-)
جو بہترین ہو-
جو بہترین ہو-
ایک آواز بار بار اس کی سماعت میں گونج رہی تھی-وہ چپ چاپ چاند کو دیکھتی کچھ سوچے گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس نے دیوار پہ آویزاں گھڑی پہ نگاہ دوڑائی-ایک بجنے میں ابھی چند منٹ تھے اور ہمایوں ڈیڑھ بجے تک گھر آجاتا تھا-
وہ وہیل چئیر گھسیٹتی سنگھار میز کے سامنے لے آئی اور قد آور آئینے میں اپنا عکس دیکھا- وہیل چئیر پہ بیٹھی ایک کمزور سی لڑکی جس کے گھٹنوں پہ چادر پڑی تھی اور گیلے بال شانوں پہ بکھرے تھے-چہرے کی سپید رنگت میں زردی کھنڈی تھی اوور بھوری آنکھوں تلئ حلقے تھے-
اس نے ہئیر برش اٹھایا اور آہستہ آہستہ بالوں میں اوپر سے نیچے کنگھی کرنے لگی-گیلے بالوں سے موتیوں کی طرح ٹپکتے قظرے اس کی سرخ قمیض کو بھگو رہے تھے-یہ خوبصورت جوڑا فرشتے نے اس کے لیے بنوایا تھا، اور آج بہت شوق سے اس نے پہنا تھا-
بال سلجھ گئے تو اس چہرے پہ ہلکا سا فاؤنڈیشن لگایا ، پھر گلابی سا بلش آن بکھیرا ، آنکھوں میں گہرا کاجل اور اوپر لائٹ پنک آئی شیڈو پھر پنک اور ریڈ لپ آسٹک ملا کر لبوں پہ لگائی ، یوں کہ اوور بھی نہ لگے اور بہت پھیکی بھی نہیں-بال ذرا ذرا سوکھنے لگے تھے-اس نے ان کو برش سے سمیٹا ، پھر دونوں ہاتھوں میں پکڑے اونچا کیا، اور پونی میں باندھا، یوں کہ اونچی پونی ٹیل اس کی گردن پہ جھولنے لگی-
محمل کی یادگار پونی ٹیل-
وہ اسے دیکھ کر اداسی سے مسکرادی–پھر ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھا جیولری باکس کھولا اور لٹکتے سرخ یاقوت کا سونے کا سیٹ نکالا- کانوں میں آویزے پہنے، اور گردن میں نازک سا نیکلس ، اب اپنا عکس دیکھا تو خوشگوار سی حیرت ہوئی-وہ واقعی بہت اچھی لگ رہی تھی-ترو تازہ اور خوبصورت-
جیولری باکس کے ساتھ ہی اس کی کانچ کی سرخ چوڑیاں پڑی ہوئی تھیں-وہ ایک ایک چوڑی اٹھا کر کلائی میں ڈالتی گئی-یہاں تک کہ دونوں کلائیاں بھر گئیں اور جب اس نے سرخ بڑے سے یاقوت کی انگوٹھی اٹھائی تو اسے پہنتے ہوئے چوڑیاں بار بار کھنک اٹھتیں-
ڈیڑھ بجنے والا تھا، اس نے ایک نظر گھڑی کو دیکھا اور پھر پرفیوم اسپرے کر کے خود کو باہر نکال لائی-
ہمایوں ابھی تک نہیں ایا تھا-وہ بے چین سی لاؤنج میں بیٹھی تھی-کبھی آویزے درست کرتی کبھی چوڑیاں ٹھیک کرتی اور بار بار دروازے کو دیکھتی-
دو بجنے والے تھے جب اس نے گاڑی کی آواز سنی- ایک دم اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا-
یہ ہی طریقہ اسے بہترین لگا تھا سو اس نے اسی کو اپنایا تھا-
قدموں کی آواز اسے قریب ہوتی سنائی دی- وہ خواہ مخواہ گود میں دھرے ہاتھوں کو دیکھنے لگی- وہ نروس ہو رہی تھی اور یہ وہ جانتی تھی-
دروازہ کھلا اور اسے ہمایوں کے بھاری بوٹوں کی چاپ سنائی دی-مگر نہیں ، ساتھ میں نازک ہیل کی تک ٹک بھی تھی-
اس نے حیرت سے سر اٹھایا اور اگلے ہی پل زور کا جھٹکا لگا-
ہمایوں اور آرزو آگے پیچھے اندر داخل ہوئے-
وہ یونیفارم میں ملبوس تھا، ہاتھ میں ایک خاکی لفافہ تھا اور وہ آرزو سے بغیر کچھ سنے چلا آرہا تھا- وہ اس کے ہم قدم مسرور سی چل رہی تھی-وائٹ ٹراؤزر پہ پنک گھٹنوں تک اتی شرٹ ، اور دوپٹہ نا پید ، کمان پتلی ابروز اور تیکھی نگاہیں-
اسے سامنے بیٹھے ، گردن اٹھائے خود کو دیکھتے ، ان دونوں کے قدم ذرا سست پڑ گئے-
چند لمحے وہ شدید صدمے کی حالت میں رہی تھی-مگر پھر سنبھل گئی –
بظآہر سکون سے ان دونوں کو آتے دیکھا اور اسی سکون سے سلام کیا-
السلام علیکم!
وعلیکم السلام – ہمایوں نے جواب دے کر ایک نظر آرزو کو دیکھا جو سینے پہ بازو باندھے تیکھی نگاہوں سے محمل کو دیکھ رہی تھی-اس کی نگاہوں میں واضح استہزا تھا-
میں اپ کا انتظار کر رہی تھی ہمایوں!مجھے آپ سے بات کرنی ہے-وہ آرزو کو یکسر نظر انداز کیے سپاٹ لہجے میں ہمایوں سے مخاطب تھی-
مجھے بھی تم سے بات کرنی ہے- وہ سنجیدگی سے کہتا اس کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھا ، خاکی لفافہ ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا-
ٹھیک ہے آپ بتائیں-
وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے، اور آرزو اسی طرح سینے پہ بازو لپیٹے اکھڑی اکھڑی سی کھڑی تھی- چند لمحے خاموشی حائل رہی -ہمایون ہاتھ میں پکے خاکی لفافے کو دیکھتا رہا ، جیسے کچھ کہنے کے لیے الفاظ تلاش کر رہا ہو- اس نے سر اٹھایا اور ان ہی سنجیدہ نگاہوں سے محمل کا چہرہ دیکھا-
میں شادی کر رہا ہوں-
ایک لمحے کو سکوت چھا گیا، مگر نہ آسمان گرا نہ زمین پھٹی نہ ہی کوئی طوفان ایا- اس نے بہت صبر سے اس کی بات سنی اور پھر سوالیہ ابرو اٹھائے- تو؟
تو یہ کہ ہم دونوں کو الگ ہو جانا چاہیئے- یہ لو-
اس نے خاکی لفافہ محمل کی طرف بڑھایا، جسے اس نے دایاں ہاتھ بڑھا کر تھاما-دونوں لمحے بھر کو رکے، دونوں اسی وقت خاکی لفافہ تھام رکھا تھا-مگر وہ بس ایک لمحے کا فسوں تھا- پھر ہمایوں نے ہاتھ کھینچ لیا اور محمل نے سفاکی سے لفافہ چاک کیا-
کیا ہے اس میں ہمایوں صاحب؟ کیا میرا طلاق نامہ ہے؟اندر سے تہ شدہ کاغذ نکالتے ہوئے ہوئے وہ بہت آرام سے بولی تھی-وہ خاموش رہا- محمل نے کاغذ کی تہیں کھولیں-
وہ واقعی طلاق نامہ تھا-ہمایوں کے دستخط ، محمل کا نام-
نہ اس کے ہاتھ سے کاغذ پھسلا نہ وہ چکرا کر گری- بس ایک نظر میں پورا صفحہ پڑھ ڈالا اور پھر گردن اٹھائی-لمحوں میں ہی اس نے سارے فیصلے کر لیے تھے-
اس پہلی طلاق کا شکریہ ہمایوں داؤد ! جس عالم نے آپ کو یہ بتایا کہ تین طلاقیں اکٹھی دینا ایک قبیح عمل ہے- سو طلاق ایک ہی دینا بہتر ہے، تو اس نے یقینا یہ بھی بتایا ہوگا کہ اب عدت کے تین ماہ میں اسی گھر میں گزاروں گی، کیا نہیں بتایا؟
مجھے معلوم ہے ، تم تین ماہ ادھر ہی رہ سکتی ہو، اس کے بعد میں شادی کر لوں گا- وہ کھڑا ہو گیا- محمل نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا جس کے بے وفا چہرے پہ کوئی پچھتاوا کوئی ملال نہ تھا-
پوچھ سکتی ہوں آپ دوسری شادی کس سے کر رہے ہو؟
ہمایوں نے ایک نظر سامنے کھڑی آرزو کو دیکھا اور پھر شانے جھٹکے-
یہ بتانا ضروری نہیں ہے-میں ذرا چینج کر کے آتا ہوں-آخری فقرہ آرزو سے کہہ کر وہ تیزی سے سیڑھیاں چرھتا گیا-
وہ چند لمحے اسے اوپر جاتے دیکھتی رہی – زندگی میں پہلی بار اسے ہمایوں داؤد سے نفرت محسوس ہوئی تھی، شدید نفرت-
آپ تو اپاہج ہو کر بھی خوب بنی سنوری رہتی ہو-آرزو کی طنزیہ آواز پہ اس نے چہرہ اس کی جانب موڑا-
اگر شکل اچھی ہو تو معذوری میں بھی اچھی ہی لگتی ہے۔ آرزو بی بی ورنہ لوگ تو گھنٹوں کی تراش خراش کے بعد بھی خوبصورت نہین لگتے-
چچ چچ- رسی جل گئی ، بل نہیں گئے-وہ اس کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ گئی- دائیں ٹانگ بائیں ٹانگ پہ چڑھائی اور بڑے استحقاق سے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا ہمایوں کا مو بائل اٹھایا جو اس نے بیٹھتے ہوئے ادھر رکھا تھا-
وہ خاموش رہی-
میں نے تم سے کہا تھا نا محمل! مجھے اس سے پیار ہوگیا ہے، لو ایٹ فرسٹ سائیٹ، میں اسے حاصل کر ہی لوں گی-
اور میں نے بھی تب کہا تھا آرزو! کہ تم خدا نہیں ہو جو ہر چیز تمہاری مرضی سے ہو -آج وہ تمہارے لیے مجھے چھوڑ رہا ہے، کل کو کسی اور کے لیے تمہیں بھی چھوڑ دے گا ، تب میں تمہاری آہیں سننے ضرور آؤں گی-
آرزو بے اختیار محفوظ سی ہنس پڑی-
اس کا انداز محمل کے اندر آگ لگا گیا، مگر اس نے آگ چہرے پہ نہ آنے دی – وہ بہت کمال ضبط کا وقت تھا-
تمہارے پاس ایسا کچھ نہیں ہے جس سے میں جیلس ہوں-رہا ہمایوں تو تم شوق سے اسے لے لو، مجھے کھنکتی مٹی کے اس پیلے کا کیا کرنا جس میں وفا نہ ہو-
تمہاری اکڑ ابھی تک نہیں گئی محمل-
اور میری یہ اکڑ جائے گی بھی نہیں، تمہیں کیا لگتا ہے، محمل ہمایوں کے بغیر مر جائے گی؟ ہونہہ- اس نے تلخی سے سر جھٹکا- میں سات سال کوما میں پڑی رہی ، تب میرے پاس ہمایون نہیں تھا، میں تب بھی نہیں مری تو اب اس کے بغیر کیوں مروں گی؟خیر اگر تم نے بیٹھنا ہے تو بیٹھو، کھانے پینے آئی ہو تو سامنے کچن ہے، ویسے بھی دوسروں کا مال کھانے کی تمہاری خاندانی عادت ہے اور ہمایوں کی خیرات کرنے کی- جو کھانا ہو کھا لینا ٹیک کئیر-
اس نے دانستہ اسلام علیکم کہنے سے احتراز برتا- کم از کم اس وقت وہ آرزو پہ سلامتی نہیں بھیج سکتی تھی، اور وہیلل چئیر کا رخ اپنے کمرے کی طرف موڑ دیا-
تہ شدہ زرد کاغذ ادھ کھلا اس کی گود میں رکھا تھا-
اسے آرزو کے بڑ بڑانے ، اٹھنے اور سیڑھیاں چڑھنے کی آواز سنائی دی تھی-اس کا گھر تاش کے پتوں کی طرح بکھر چکا تھا-اب کچھ باقی نہیں رہا تھا-
کمرے میں اکر اس نے دروازہ بند کردیا- لاک نہیں لگایا، اب کس کو ادھر انا تھا بھلا؟ سب کچھ بکھر گیا تھا-
وہ وہیل چئیر کے پہیوں کو دونوں ہاتھوں سے گھسیٹتی سنگھار میز کے سامنے لائی -کمرے کی بتی بجی تھی کھڑکی ک آگے پردہ گرا تھا، کہیں درزوں سے زرد سی روشنی جھانک رہی تھی، جس سے کمرے میں نیم اندھیرا سا تھا-
وہ اس نیم تاریک ماحول میں اپنا عکس آئینے میں دیکھے گئی-
ہر شئے اجڑ گئی تھی ، سب ختم ہوگیا تھا- راکھ کا ڈھیر لگا تھا اور اس میں کوئی چنگاری نہیں بچی تھی-
اپنے عکس کو دیکھتے اس کا دل چاہا، وہ کانوں سے آویزے نوچ پھینکے ، نازک سا ہار اتار کر دیوار پہ مارے ، چوڑیاں توڑ دے – زور زور سے چلائے- دھاریں مار مار کر روئے-
اس نے ہاتھ آویزوں کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ دفعتا نیم تاریک کمرے میں ایک مدھم سی آواز ابھری-
آنکھ آنسو بہاتی ہے-
اور دل غمگین ہے-
مگر زبان سے وہی کہیں گے جس پہ ہمارا رب راضی ہو-
آویزے کو پکڑے اس کا ہاتھ بے دم سا گر گیا-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا صبر، صدمے کی پہلی چوٹ پہ ہوتا ہے-اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا ، کہ جو شخص گریبان چاک اور رخساروں پہ طمانچے مارے اور جاہلیت کی طرح بین ( نوحہ) کرے- وہ ہم میں سے نہیں ہے-
اس نے سر وہیل چئیر کی پشت پہ ٹکا دیا اور آنکھیں موندلیں-قطرہ قطرہ آنسو بند آنکھوں سے ٹپکنے لگے-وہ بے آواز روتی رہی بلکتی رہی- اندھیرے کمرے میں بیٹھی ایک معذور ، کمزور لڑکی جو بے آواز روتے ہوئے بس ایک ہی لفظ دہرائے جا رہی تھی-
یارب المستفعفین۔۔۔۔۔ اے کمزوروں کے ر۔۔۔۔۔ اے کمزوروں کے رب-
دوپہر دم توڑ گئی شام ڈوب گئی اور ہر سو رات چھانے لگی-جانے رات کا کون سا پہر تھا جب کسی نے دروازے پہ دستک دی اور پھر چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ وہ کھلتا چلا گیا-
اس نے گردن موڑ کر نہیں دیکھا-اسے اب کوئی خوش فہمی نہ تھی کہ ہمایوں کبھی اس کے پاس آئے گا-
قدموں کی چاپ سنائی دی اور ایک ہیولا سا اس کے سامنے آکھڑا ہوا-
محمل! وہ فرشتے کی آواز تھی-
وہ چپ چاپ آنکھیں چھت پہ جمائے بیٹھی رہی-
محمل کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہو؟
چند لمحے کی خاموشی کے بعد اس کی متفکر سی آواز ابھری-
محمل تم ٹھیک ہو؟
اس نے دھیرے سے چہرہ اٹھایا اور متورم آنکھوں سے اندھیرے میں کھری فرشتے کو دیکھا- اس نے سیاہ جوڑا پہن رکھا تھا سیاہ دوپٹے کے ہالے میں مقید اس کا چہرہ دمک رہا تھا-
محمل!
ہمایوں نے مجھے طلاق دے دی ہے- وہ دھیرے سے بولی تو آواز میں آنسوؤں کی نمی تھی-
کتنے ہی پل ماحول پہ سکتہ چھایا رہا –
کب؟
آج دوپہر میں، میں عدت اس گھر میں پوری کروں گی، پھر اس کے بعد میں چلی جاؤں گی اور وہ شادی کر لے گا- اس نے رخ فرشتے سے موڑ لیا تھا تا کہ وہ اس کا چہرہ نہ دیکھ سکے-
آئی ایم ویری سوری محمل- وہ ماسف کھڑی تھی- تم عدت کے بعد کہاں جاؤ گی-
کیا تم خود کو اتنا اسٹرونگ فیل کرتی ہو کہ حالات کا مقابلہ کرلو گی؟
ہاں میں کر لوں گی، آپ جائیں ، مجھے اکیلا چھوڑ دیں پلیز-
فرشتے نے سمجھ کر سر ہلایا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی دروازے کی طرف بڑھ گئی-دروازے کے بند ہونے کی آواز پہ اس نے چہرہ موڑا-
کمرہ پھر سے سنسان ہو چکا تھا وہ جا چکی تھی-
وہ رات بہت عجیب تھی- محمل نے اتنی ویران رات کبھی نہیں گزاری تھی- تب بھی نہین جب وہ مسجد کی دیوار پھلانگ رہی تھی-تب بھی نہیں جب اسے اس کی جائیداد اور گھر سے محروم کر کے نکال دیا گیا تھا-تب بھی نہیں جب اس کی ماں مری تھی، اور تب بھی نہیں جب وہ سات سال بعد کومے سے جاگی تھی-ایسی رات پہلے کبھی نہیں آئی تھی-
وہ وہیل چئیر کی پشت سے سر ٹکائے چھت کو دیکھ رہی تھی-پردوں سے چھن چھن کر اندر آتی چاندنی میں پردے یوں چمک رہے تھے جیسے چاندی کے ورق ہوں-
زندگی ایک دم گویا ختم سی ہوگئی تھی- ہر طرف اندھیرا تھا- اس کے پاس آگے چلنے کو کوئی امید نہ تھی-ہمایوں اس کا نہیں رہا تھا، تیمور اس کا نہیں رہا تھا، نہ کسی رشتے دار کا آسرا تھا اور رہی فرشتے تو وہ اس کے جانے کے بعد مسجد شفٹ ہو جاتی، وہ کب تک فرشتے کو اپنی وجہ سے پابند رکھتی؟
رات یونہی خاموشی سے بیتتی گئی-وہ اسی طرح برف کا مجسمہ بنی وہیل چئیر پہ بیٹھی رہی-پردوں کی چمک ختم ہوگئی تھی اور کمرے میں مہیب گھپ اندھیرا چھا گیا-
اسے اس اندھیرے سے خوف آنے لگا ، وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اندھیرے میں دیکھنے کی سعی کرنے لگی ، اور تب ہی کھڑکی کے کناروں میں صبح کاذب کی نیلاہٹ ابھرنے لگی-
دور کہیں فجر کی آذانیں بلند ہو رہی تھیں-
اس کے برف بنے وجود میں پہلی بار جنبش ہوئی-
اس نے اپنے سن ہوتے ہوئے ہاتھ اٹھائے اور پہیوں کو آگے کی طرف گھسیٹا – شیلف پہ ایک طرف وضو کے پانی کابرتن رکھا تھا-
محمل نے وضو کیا اور نماز پڑھی- پھر جب دعا کے لیے ہاتھ اتھائے تو کوئی دعا ذہن میں ہی نہ آئی، بس ایک وہی لفظ-
اے کمزوروں کے رب ! لبوں پہ اترا- اس نے کئی بار اسے دہرایا، آنکھوں سے ٹپ ٹپ انسو گرنے لگے تو اس نے آمیں کہہ کر چہرے پہ ہاتھ پھیر لیے-
کمرے میں ہلکی ہلکی نیلاہٹ اترنے لگ تھی – وہ وہیل چئیر کو شیلف کے قریب لائی ، جہاں ٹیپ ریکارڈر اور ساتھ کیسٹون کا ڈبہ رکھا تھا-اس نے بنا دیکھے ایک کیسٹ لگا لی اور ٹیپ میں ڈال کر پلے کا بٹن دبا یا- کہیں درمیان سے تلاوت شروع ہوگئی تھی-
اور کس کی بات اس شخص کی بات سے زیادہ اچھی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے؟
وہ حیرت سے چونکی، یہ آیت تو پرسوں اس نے پڑھی تھی، پھر یہی کیوں لگ گئی؟
“اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتیں-
وہ حیران سی سن رہی تھی-اللہ اسے یہ آیت پھر سے کیوں سنوا رہا تھا؟یہ آیات تو گزر چکی تھیں، پھر دوبارہ کیوں؟
برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو بہترین ہو؟
قاری صاحب کی آواز پڑھتے ہوئے بھرا گئی تھی-
وہ الجھ سی گئی-اللہ اسے پھر سے کیوں وہی بات بتا رہا تھا؟وہ شخص تو اب سارے تعلق کاٹ چکا تھا، اب تو کوئی امید نہیں رہی تھی۔ پھر کیوں اسے برائی کو بہترین طریقے سے دور کرنے کو کہا جا رہا تھا؟
وہ میرا حمیم میرا جان نثار نہیں بن سکتا اللہ تعالی! اس نے مجھے طلاق دے دی ہے، وہ مجھے تین ماہ بعد گھر سے نکال دے گا-اب تو درمیان کا کوئی راستہ نہیں رہ گیا،پھر آپ کیوں مجھے عداوت کو دور کرنے کا کہہ رہے ہیں؟وہ ایک دم رو پڑی تھی-
پردوں کے دوسری جانب روشنی جھانکنے لگی تھی-اس نے ہاتھ بڑھا کر پردے ہؔٹا دیئے-
باہر لان میں صبح اتر ائی تھی۔ گہری سیاہ رات کے بعد اترتی صبح-
برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو بہترین ہو-
گھاس پہ تیمور بیٹھا تھا-نیکر شرٹ میں ملبوس سوئی سوئی آنکھیں لیے وہ گھاس پہ بیٹھی بلی کی کمر پہ پیار سے ہاتھ پھیر رہا تھا-شاید اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جو وہ بلی کو کھلانے لایا تھا-
پھر دفعتا وہ شخص۔۔۔۔۔
پھر دفعتا وہ شخص-
پھر دفعتا وہ شخص-
قاری صاحب کی آواز اور اس کی سوچیں آپس میں گڈ مد ہو رہی تھیں-
تیمور اب بلی کے منہ میں روٹی کا ٹکڑا ڈالنے کی کو شش کر رہا تھا-
وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے-
وہ الفاظ کمرے کی دیواروں کے ساتھ ٹکرا رہے تھے-
وہ بنا پلک جھپکے تیمور کو دیکھ رہی تھی-اس اترتی نیلی صبح میں اس پہ اچانک سے آشکار ہوا تھا-وہ شخص ہمایوؔں نہیں تھا، نہیں تھا، نہیں تھا-
وہ شخص تیمور تھا-
اس کا بیٹا، اس کا خون ، اس کے جسم کا ٹکڑا ، کیا وہ اس کا حمیم اس کا (جان نثار دوست)بن سکتا تھا؟ کیا واقعی
کیا وہ ایسی قسمت والی ہے؟کیا ایسا ممکن ہے؟
وہ ایک نئی آگہی کے احساس کی ساتھ حیرت میں گھری بیٹھی تھی-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: