Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 35

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 35

–**–**–

 

اس کا بیٹا، اس کا خون ، اس کے جسم کا ٹکڑا ، کیا وہ اس کا حمیم اس کا (جان نثار دوست)بن سکتا تھا؟ کیا واقعی ؟
کیا وہ ایسی قسمت والی ہے؟کیا ایسا ممکن ہے؟
وہ ایک نئی آگہی کے احساس کی ساتھ حیرت میں گھری بیٹھی تھی-
تیمور اب روٹی کے چھوتے چھوٹے ٹکڑے کرکے سامنے گھاس پہ ڈال رہا تھا، بلی لپک کر آگے گئی اور گھاس پہ منہ مارنے لگی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بلقیس کرسی پہ چڑھی اوپر بنے کیبنٹ کو کھولے کھڑی تھی،جبکہ وہ سامنے وہیل چئیر پہ بیٹھی ، گردن اوپر اٹھائے اسے ہدایات دے رہی تھی- اس کے اور ہمایوں کے ٹوٹے تعلق کی بات ابھی ملزموؔں تک نہیں پہنچی تھی-
بلیو کلر کا ویلوٹ کور کا البم ہوگا، سائیڈ پہ دیکھو-
یہ والا بی بی؟اس نے البم نکال کے وہی سے لہرایا-
یہ مہرون ہے بلقیس ، میں بلیو کہہ رہی ہوں، نیلا آسمانی رنگ-وہ اس البم کی تلاش میں اسٹڈی کے کئی دراز اور شیلف چھنوا چکی تھی-اب اوپر والے کیبنٹ کی باری ائی تھی-
ایک منٹ جی- شاید اسے کچھ نظر آیا تھا، کچھ دیر اندر سر گھسائے ہاتھ مارتی رہی ، پھر کہیں پیچھے سے کھینچ کے البم نکالا-
یہ ہی ہے ، لاؤ مجھے دو- اس نے سکون کی گہری سانس اندر کو کھینچتھا-
ہ لیں جی-بلقیس نے ننگے پاؤں زمین پہ رکھے،اور البم اس کو پکڑا کے چپل اڑسنے لگی-میں ذرا ہانڈی دیکھ لوں-
ہاں جاؤ-اسنے البم دونوں ہاتھوں میں لیا ، اس پہ جمی گرد جھاڑی اور پہلا صفحہ کھولا-
یہ آغا ہاؤس میں کھینچی گئی ملی جلی تصاویر کا البم تھا-جب وہ اپنی شادی کے سال بعد آغآ ہاؤس گئ تھی تو واپسی میں اپنی کچھ دوسری چیزوں کے ساتھ اسے بھی لے ائی تھی-اس میں ذیادہ تصاویر اس کی اپنی تھیں-کہیں وہ تیرہ سال کی تھی تو کہیں انیس سال کی-کچھ تصاویر خاندان میں ہونے والی شادیوں کی بھی تھیں، وہ محو سی اس کو دیکھتی صفحے پلٹنے لگی-
معلوم نہیں یہ سب لوگ اب کدھر ہونگے-سوائے آرزو کے ، کسی کا کچھ پتا نہیں تھا اور آرزو سے ان کا پتا وہ کرنا نہیں چاہتی تھی-ویسے بھی اس روز کے بعد آرزو ادھر نہیں ائی تھی-یاں ہر شام ہمایوں کہیں باہر کسی دوست کے ساتھ اس وقت شام کی چائے پیتے ہیں، اور دوستی کا ایک نظارہ تو وہ اس روز مرکز کے ریسٹورنٹ میں دیکھ ہی چکی تھی-سو اب مزید کریدنے کی حاجت نہیں رہی تھی-
اور رہے یہ لوگ تو ان کی تصویریں دیکھتے ہوئے وہ ہمیشہ کی طرح یہی سوچ رہی تھی کہ ان کا کیا بنا؟کیا وہ ابھی تک بے مہار گھوم رہے ہیں یا اللہ نے ان کی رسی کھینچی؟ظلم اور والدین کی نافرمانی دو ایسے گناہ ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی لازمی ملتی ہے، تو کیا ان کو سزا ملی؟کیا ان کو احساس ہوا؟اور سب سے بڑھ کر کیا اس شخص کو سزا ملی جو اس وقت اس کے سامنے تصویر میں مسکرا رہا تھا؟
آغا فواد کریم، آغآ جان کا ولی عہد، جس نے اس کو بکاؤ مال بنایا، بلیک میل کر کے تمام جائیداد انے نام لکھوائی اور پھر اس کی گردن پہ پستول رکھ کے فرشتے کو دھمکایا، گھر سے نکلوایا اور بعد میں جانے وہ ہمایوں کو آکر کیا کہہ گیا تھا کہ ہمایوں اس کی شکل دیکھنے کا روادار نہیں تھا-
ہانڈی نہیں لگی تھی ، شکر مالک کا-بلقیس تیزی سے اندر داخل ہوئی، اس نے خیالات سے چونک کر سر اٹھایا-
ہائے کتنے سوہنے فوٹو ہیں، یہ آپ کے گھر والوں کے ہیں جی؟وہ کھلے البم کو اشتیاق سے دیکھ کر اس کے کندھے کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور سر جھکائے دیکھنے لگی-
ہاں میرے رشتے دار ہیں-اس نے صفحہ پلتا- اگلے صفحے پہ آرسو اور فواد، تائی اماں کے ساتھ کھڑے تھے-یہ خاندان کی کسی شادی کا فوٹو تھا-
یہ تو وہ ہیں! بلقیس گویا حیرت زدہ رہ گئی-
تب اسے یاد ایا بلقیس نے ہی تو اسے فواد کے آنے کا بتایا تھا، شاید وہ اسے پہچان گئی تھی-
یہ اپ کے رشتے دار ہیں جی؟یہ تو ادھر اتی رہتی ہیں ، کمال ہے مجھے تو پتا ہی نہیں تھا-
کون؟ یہ لڑکی؟اسے حیرت ہوئی ، وہ تو سمجھی تھی بلقیس فواد کی بات کر رہی ہے-
ہاں جی! یہ آرزو بی بی! اس نے آرزو کے چہرے پہ انگلی رکھی-
ہاں یہ میری کزن ہے اور یہ ساتھ فواد ہے جو ہمایوں کے پاس آیا تھا-
آیا ہوگا جی- وہ ابھی تک اشتیاق سے آرزو کے کپڑے دیکھ رہی تھی-اس کے انداز میں ذرا سی لاپرواہی تھی-یک دم محمل کو کچھ کھٹکا- اسے لگا وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہے-
بلقیس، یہ وہی بندہ ہے جو اس روز ہمایوں کے پاس آیا تھا، جب ہمایوں نے فرشتے کو ڈانتا تھا؟اس نے البم ذرا اس کے قریب کیا- تمہیں یاد ہے تم نے مجھے بتایا تھا؟
نا جی، یہ تو کبھی نہیں آیا-
یہ۔۔۔۔۔ یہ کبھی نہیں آیا؟اسے جھٹکا لگا تھا-تو پھر وہ کون تھا؟
پتا نہیں جی کوئی اپ کا رشتے دار تھا-آپ کے چچا تایا کسی کا بیٹا تھا-
میرے چچا کا بیٹا؟ ایک منٹ، یہ ۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھو- وہ جلدی جلدی البم کےصفھے پیچھے کو پلٹنے لگی- پھر حسن کی تصویر پہ رکی-
یہ تھا؟
نہیں جی ، یہ تو بڑا بابو لوگ ہے بی بی، وہ تو عمر میں کم تھا-
کیا مطلب کم تھا؟وہ الجھی-بلقیس متذبذب سی کھڑی تھی، جیسے اپنی بات سہی نا پہنچا پا رہی ہو-
اچھا یہ تو نہیں تھا؟اس نے ساتھ لگی وسیم کی تصویر کی طرف اشرہ کیا-بلقیس پہلے نا جی میں سر ہلانے لگی، پھر ئک دم رک گئی، اور چہرہ جھکا کر غور سے تصویر کو دیکھا-کافی دیر وہ تصویر کو بغور دیکھے گئی-
ہاں ی یہ والا تھا، یہ ہی تھا-
تو کیا وسیم؟ وہ ابھی حیران بھی نہ ہو پائی تھی کہ بلقیس نے معیز کی شکل پہ انگلی رکھی جو تصویر میں وسیم کے ساتھ کھڑا تھا-یہ سدرہ کی منگنی کی تصویر تھی-
معیز؟ وہ معیز تھا؟ معیز آیا تھا؟وہ ششدر رہ گئی-
یہ ہی تھا بی بی، مجھے اچھی طرح یاد ہے، ابھی ذرا بچہ لگ رہا ہے مگر شاید یہ پرانی تصویر ہے جی جب ادھر ایا تھا تو اس سے بڑا تھا، مسیں بھیگ رہی تھی قد بھی اونچا لمبا تھا، میں آپ کو کہہ رہی تھی نا کہ عمر میں کم تھا-
اور وہ ایسی دم بخود بیٹھی تھی کہ کچھ کہہ ہی نا سکی-تصویر میں معیز بارہ سال کا تھا، اب بیس کا ہوگا اور جب وہ ادھر ایا تھا تو یقینا سترہ برس کا ہوگا-مگر وہ کیوں آیا؟وہ کیوں ہمایوں سے لڑا؟وہ دونوں کیوں بلند آواز میں جھگڑتے رہے؟
بہت سے سوال تھے جن کے جواب اسے معلوم نا تھے-بلقیس سے پوچھنا بے کار تھا-اس سے پہلے جب اس کے کزن کا ذکر کیا تھا تو ایسے تعظیم سے ان اور وہ آئے- جیسے الفاظ استعمال کیے تھے کہ وہ بالکل غلط سمجھ بیٹھی- مگر خیر، بلقیس کا قصور نہیں تھا اور پتا نہیں کس کا قسور تھا-
اس نے بے دلی سے البم بند کیا اور میز پہ رکھ دیا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
چمکیلی صبح برآمدے میں پھسل رہی تھی-بلقیس پائپ لگائے سفید سنگ مر مر کا چمکتا برآمدہ دھو رہی تھی-
وہ صبح ناستے کا وقت تھا-ہمایوں کو اس کے کمرے میں ناشتہ دے کر بلقیس اب یہاں مصروف تھی-تیمور کدھر تھا، اسے کچھ پتا نہیں تھا، وہ آج اپنی فجر کی تلاوت نہ کر سکی تھی اب ادھر وہیل چئیر پہ بیٹھ کر وہی کرنا چاہ رہی تھی، مگر بار بار دھیان بٹ جاتا تھا-
بلقیس پائپ اٹھائے برآمدے سے نیچے اتر گئی-
اب ڈرائیو وے پہ پانی ڈال رہی تھی-برآمد ےکے فرش پہ کہیں کہیں پانی چمک رہا تھا-
دقعتا دروازہ کھلا تو وہ چونک کر دیکھنے لگی-
ہمایوں عجلت بھرے مصروف نداز میں کف بند کرتا باہر آرہا تھا-اس نے محمل کو ادھر بیٹھے دیکھا کہ نہیں، اس کے بے نیاز انداز سے یہ پتا لگانا مشکل تھا-وہ سیدھا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا-
بلقیس نے جھاڑو اٹھائ اور بھاگ کر پائپ ڈرائیو وے سے ہٹایا- چوکیدار جو گھاس کاتٹرہا تھا پھرتی سے اگے بڑھا اور گیٹ کے دونوں پٹ کھول دیے-
وہ گاڑی میں بیٹھا ، زور سے گاری کا دروازہ بند کیا اور پیچھے دیکھتا ہوا گاری نکال کر لے گیا-
گیٹ کے دونوں پٹ کھلے رہ گئے-چوکیدار نے ابھی انہیں بند نہیں کیا تھا، وہ واپس درانتی اٹھائے گھاس کی طرف آگیا تھا-
بلقیس پھر سے پانی کا فوارہ سفید بجری کے ڈرائیو وے پہ ڈالنے لگی- وہ سر جھٹک کر اپنی آیات کی طرف متوجہ ہوئی-
مگر پھر پڑھتے پڑھتے نگاہ پھسلی، پہلے ناخنوں کے کناروں کو دیکھا، پھر ہاتھوں کو ، پھران سے ہوتی ہوئی پیروں پہ جا ٹکی اور پھر سے پائپ کے پانی کی طرف بھٹک گئی-
کھلے گیٹ کے اس پار سامنے والوں کا گیٹ بھی کھلا نظر ارہا تھا-وہ بے دھیانی میں کسی سوچ میں گم ادھر دیکھے گئی-سامنے والوں کے گیٹ کے پاس ایک لڑکی کھڑی تھی، اس کے کندھے پہ پیارا سا پھولے پھولے گالوں والا بچہ تھا-ساتھ ہی گاری کا دروازہ کھولے ایک گڈ لکنگ سا آدمی مسکرا کر انہیں کچھ کہہ رہا تھا- لڑکی ہنس رہی تھی، پھر وہ آدمی جو غالبا اس کا شوہر تھا، گاری میں بیٹھ گیا اور لڑکی بچے کا ہاتھ پکڑ کر بائے بائے کے انداز میں گاری کی طرف ہلانے لگی-بچہ قلقاریاں مار رہا تھا-آدمی نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا اور گاری اسٹارٹ کرنے لگا-
ایک مکمل اور خوبصورت فیملی-
وہ چپ چاپ ان تینوں کو دیکھے گئی، یہان تک کہ گاڑی فراٹے بھرتی سڑک پہ اگے نکل گئ اور لڑکی بچے کو کندھے سے لگائے گیٹ بند کرنے لگی-
اس نے ہولے سے سر جھٹکا اور اپنی خاموش بالکل خاموش نظریں واپس قرآن پہ جھکا دیں اور پڑھا آگے کیا لکھا ہوا تھا-
اس کی طرف مت دیکھا کرو جو ہم نے دوسرے جوڑوں کو عطا کیا ہے-
محمل نے بے اختیار تھنڈی سانس لے کر سر اتھایا -پھر ادھر ادھر گردن گھمائی، بلقیس اپنے کام میں مگن تھی اور چوکیدار اپنے کام میں،وہاں کسی نے اس کی وہ ایک لمحے کی نظر نہیں پکڑی تھی۔۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔ مگر-
اس نے ذرا سی گردن اتھا کر اوپرآسمان کو دیکھا-
مگر کوئی تھا جو اس کی لمحے بھر کی بھی بھٹکی نگاہ پکڑ لیتا تھا اور کسی دوسرے کو بتاتا بھی نہیں تھا-خاموشی سے اسے تنبیہہ کر دیتا تھا-سمجھا دیتا تھا،بہت احسان تھے اس کے اس پر ،وہ تو شکر بھی ادا نہیں کر سکتی تھی-
بلقیس! آج کون سا دن ہے؟ایک دم اسے خیال ایا تو اسے پکارا-
جمعہ ہے جی-وہ اب پائپ بند کر کے اسے سمیٹ رہی تھی-
اوہ اچھا-اسے یاد ایا، آج سورہ کہف پڑھنی تھی-جانے وہ کیسے بھول گئی، خود کو سرزنش کرتی قرآن کے صفحے پلٹنے لگی-
چوکیدار گیٹ بند کر کے اپنے کواٹر میں چلا گیا تھا اور بلقیس اندر، وہ برآمدے میں تنہا رہ گئی تھی، پہلے قران سے پڑھنے کا سوچا، مگر سورہ کہف یاد تھی ہی، سو قران میز پہ رکھا اور سر کرسی کی پشت پہ ٹکا کر آنکھیں موند لیں-
کبھی کبھی اس کو لگتا اس کی زندگی مصحف قرانی کے گرد ہی گھومنے لگی ہے-اس کا کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا جس میں اس کا کردار نہ ہو-ہر لمحے ہر وقت وہ قرآن کو اپنے ساتھ رکھتی تھی-اب اس کے بغیر اس کا گزارہ بھی نہیں تھا-
آنکھیں موند کے وہ بسم اللہ پڑھ کر سورۃ کہف پڑھنے لگی-
اس ٹھندی صبح میں ہر طرف خاموشی اور میٹھی چاشنی چھاگئی تھی-وہ آنکھیں موندے اپنی تلاوت کر رہی تھی-
” ام حسبت ان اصحب الکہف۔۔۔۔۔۔۔
والرقیم۔۔۔
ابھی اس نے نویں آیت آصحب الکہف تک ہی پرھی تھی کہ کسی نے اگلا لفظ ” والرقیم” پڑھ دیا -اس کے ہلتے لب رک گئے-بہت حیرت سے چونکتے ہوئے اس نے آنکھیں کھولیں-
سامنے کھلے دروازے میں تیمور کھڑا تھا-
اپنے نائٹ سوت میں ملبوس، کچی نیند سے خمار آلود آنکھیں لیے وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا-
وہ سانس روکے اسے دیکھے گئی-
چند لمحوں کے لیے سارے میں سناٹا چھا گیا- وہ دونوں بنا پتلیوں کو حرکت دیے ایک دوسرے کی انکھوں میں دیکھ رہے تھے۔

 

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 38

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: