Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 36

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 36

–**–**–

 

چند لمحوں کے لیے سارے میں سناٹا چھا گیا- وہ دونوں بنا پتلیوں کو حرکت دیے ایک دوسرے کی انکھوں میں دیکھ رہے تھے-
اور پھر اسی طرح تیمور کی بھوری آنکھوں کو نگاہوں میں لیے اس نے ہولے سے لب کھولے اور پھر سے وہ ایت دہرائی-
ام حسبت ان اصحب الکہف- وہ دانستہ رکی تو تیمور کے ننھے سرخ ہونٹ حرکت کیے-
والرقیم-
“کانومن ایتنا عجبا ” اس نے اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے آیت مکمل کی-
تیمور اسی طرح ساکت سا مجسمہ بنے کھڑا تھا جیسے برآمدے اور لان میں مبہوت ہوئی خلق کا حصہ ہو-
ادھر اؤ- وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھتے ہوئے بولی- وہ کسی معمول کی طرح آہستہ سے چھوتے چھوتے قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا-
اس نے اس کے ہاتھ تھامنے کو دونون ہاتھ بڑھائے اور کسی سحر زدہ شخص کی طرح تیمور نے اپنے چھوتے چھوتے ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیے-
تمہیں کیسے پتا چلا اصحب الکہف کے بعد والرقیم اتا ہے؟
وہ خاموش کھڑا رہا جیسے اسے خود بھی نا معلوم ہو-
” تمہیں سورہ کہف اتی ہے؟نرمی سے اس کے ہاتھ تھامے محمل نے پوچھا تو-
اس نے آہستہ سے سر نفی میں ہلایا-
پھر تمہیں کیسے پتا چلا؟
it……. it just slipped (میرے منہ سے نکل گیا)وہ اٹک اٹک کر بول رہا تھا- آنکھیں ابھی تک محمل کے چہرے پہ جمی تھیں-
اسے یاد تھا کہ تیمور کی پریگننسی میں وہ ہر جمعہ کو یوں ہی بیٹھ کر انکھیں موند ے بلند آواز میں سورۃ کہف پڑھا کرتی تھی، تاکہ وہ جنم لینے سے قبل ہی قرآن کا عادی ہو اور شاید وہ واقعی عادی ہوگیا تھا ، اور شاید سات سال بعد اس نے یہ آواز سنی تھی-
تمہیں اور سورتیں آتی ہیں؟
اس نے پھر نفی میں سر ہلایا-وہ اپنے ہاتھ ابھی تک محمل کے ہاتھ میں دیے کھڑا تھا-
تمہیں قرآن پڑھنا اتا ہے؟
اس نے اثبات میں گردن کو جنبش دی-
مسجد جاتے ہو یا کہیں اور سے سیکھا ہے؟
گھر پہ قاری صاحب لگوائے تھے ڈیڈی نے-
کتنی دفعہ قران ختم کیا ہے؟
ٹو ٹائمز-
” کیا قاری صاحب کا قران بھی یونہی سنا کرتے تھے جیسے میرا سنتے ہو؟
نہیں- وہ بالکل اچھا نہیں بولتے تھے-
اور میں ؟
آپ ۔۔۔۔ آپ اچھا بولتی ہو- وہ اب بھی اٹک اٹک کر بول رہا تھا-
اور فرشتے کا اچھا لگتا ہے؟
she never reads” ( وہ کبھی نہیں پڑھتیں)
وہ recite (تلاوت کو) read (پڑھنا) کہہ رہا تھا۔ مگر وہ وقت اس کی غلطی نکالنے کا نہیں تھا، نہ ہی یہ بتانے کا کہ وہ کونسا پڑھتی ہوگی، وہ لمحے تو بہت خاس تھے، ان کو ضائع نہیں کرنا تھا-
تم ایسا پڑھ سکتے ہو؟
نو! اس نے نفی میں گردن ہلائی-
پڑھنا چاہتے ہو؟
وہ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا –
محمل نے آہستہ سے اس کے ہاتھ چھوڑے-
چلو کل صبح پھر پڑھیں گے- اور سر وہیل چئیر کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں-اس نے سوچا کہ اسے کھلا چھوڑ دے-اگر وہ اس کا ہوا تو واپس اجائے گا، نہ ہوا تو نہ آئے گا-
کافی دیر بعد اس نے انکھیں کھولی تو تیمور ادھر نہیں تھا- فرش کا پانی سوکھ چکا تھا- چڑیاں اڑ گئی تھیں-سرخ کیڑے اپنے بلوں میں جا چکے تھے- چیونٹیاں بکھر گئی تھیں، سفید بلی بھی واپس چلی گئی تھی-
اور اللہ کی طرف بلانے والی بات سے اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے بھلا-
اس نے بے اختیار سوچا تھا- دشمن کو دوست بنانے کا احسن طریقہ تو اسی ایت میں دے رکھا تھا، اس کی سمجھ میں ذرا دیر سے آیا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلی صبح وہ لان میں پہلے سے موجود تھی-لان میں لاؤنج کی کھڑکی کھلتی تھی اور اس کے سامنے تیمور کا کمرہ تھا -آواز کا راستہ صاف اور کھلا تھا-
پچھلا پورا دن اس نے دانستہ تیمور کا سامنا نہیں کیا-وہ بھی کمرے سے باہر نہیں نکلا- اس کی غالبا چھٹیاں تھیں، سو آج کل گھر پہ ہی ہوتا تھا- وہ جانتی تھی کل قرآن سنا کر تیمور کو اس نے ذہنی طور پر ڈسٹرب کر دیا ہے-اگر واقعی وہ قران کی چاہ رکھتا ہے تو اس کے اندر مزید سننے کی خواہش ضرور بھڑکے گی اور وہ خود ہی چل کر ائے گا- اس نے نو ماہ اسے قرآن سنایا تھا- وہ سات سالوں میں اسے کیسے بھول سکتا تھا؟
بلقیس نے اسے لان میں ہی ٹیپ ریکارڈر سیٹ کر کے دے دیا تھا- اسے معلوم نہ تھا کہ تیمور ابھی جاگ رہا ہے یا سو رہا ہے، پھر بھی اس نے پلے کا بٹن دبایا اور انچی اواز کر دی-
قاری المشاری کی سورہ کہف چلنے لگی تھی-گو کہ قاری حضرات اور بھی بہت اچھے تھے-
مگر جو بات قاری مشاری کے دھیمے ، پر سوز انداز میں تھی، وہ اسے دنیا میں کہیں نہیں لی تھی-اور سورۃ کہف تو شروع ہوتی اور اس کے آنسو بہنے لگتے تھے-
پہلا رکوع ابھی ختم ہی نہیں ہوا تھا کہ برآمدے کا دروازہ کھلا اور تیمور بھاگتا ہوا بڑامدے کی سیڑھیاں اتر کر گھاس پہ ایا- پھر اسے بیٹھے دیکھ کر اس کے قدم سست پڑ گئے-
وہ کہنیوں تک آستین فولڈر کیے ہوئے تھا-جن کے کنارے اور اس کے بازو گیلے تھے-پاؤں بھی دھلے لگ رہے تھے-شاید وضو کر کے آیا تھا-
اس نے مسکرا کر سر خم کر کے اسے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا-وہ سر جھکائے آہستہ آہستہ چلتا ہوا قریب ایا اور سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گیا-
دونوں خاموشی سے سر جھکائے بیٹھے وہ مدھر ، مترنم سی اواز سنتے رہے جو غار والوں اور کتے والوں کا قصہ بیان کر رہی تھی- ان چند نوجوانوں کا قصہ جو کہیں چلے گئے تھے-اور دو باغوں کے مالک کا قصہ جسے اپنے مال اور اولاد پہ بہت غرور تھا-اور موسی علیہ السلام کا قصہ جو اللہ کہ ایک بندے سے ملنے اس جگہ کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں مچھلی نے سمندر میں راستہ بنایا تھا-اور اس گردش کرنے والے آدمی کا قصہ جو سفر کرتا ہوا مشرق سے مغرب جا پہنچا تھا-
وہ چار قصے تھے جو قرآن کے درمیاں مں رکھ دیے گئے تھے-جب وہ ختم ہوئے تو تیمور نے سر اٹھایا- محمل اب اسٹاپ کا بٹن دبا رہی تھی-
تمہیں پتا ہے یہ کس کی آواز ہے؟
تیمورنے نفی میں سر ہلایا-
یہ قاری مشاری تھے-تمہیں پتا ہے وہ کون ہیں؟
اس نے پھر گردن دائیں سے بائیں ہلائی-
پہلے وہ سنگر تھے- پھر انہوں نے قرآن پڑھا تو گلوکاری چھوڑ دی اور قاری بن گئے-اان کے گیارہ مختلف ٹون میں قرآن مجید موجود ہیں۔ مگر مجھے یہ والی ٹون سب سے زیادہ پسند ہے، تمہیں پسند ائی؟
جی!وہ بے ساختہ کہہ اٹھا- کون کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی چیختا چلاتا بدتمیزی کرتا بچہ تھا ، جو اب جاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا-
چند لمحے وہ خاموشی سے اپنے بیتے کو دیکھتی رہی- (آخر تھا تو وہ بچہ ہی، کتنا ناراض رہ سکتا تھا بھلا؟)اور پھر آہستہ سے بولی-
مجھ سے ابھی تک خفا ہو؟
تیمور نے آنکھیں اٹھا کر خاموشی سے اسے دیکھا، منہ سے کچھ نہ بولا-
کیوں خفا تھے مجھ سے؟
وہ چپ رہا بالکل چپ-
تمہیں میں بری لگتی ہوں؟تمہارا دل کرتا ہے تم مجھے قتل کردو؟
نو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیور! وہ گھبرا کر کہہ اٹھا، پھر ایک دم چپ ہو کر لب کاتنے لگا-
تم پہلے تو ایسے نہیں تھے-تم اسپتال میرے لیے پھول لے کے اتے تھے، مجھ سے اتنی باتیں کرتے تھے، تمہیں بھول گیا ہے؟
اس کی بھوری انکھوں میں استعجاب پھیل گیا-
آپ کو سنائی دیتا تھا سب؟ زندگی میں پہلی دفعہ اس نے محمل سے یوں بات کی، وہ اندر سے تڑپ کر رہ گئی-
تمہیں لگتا تھا کہ میں اپنے تیمور کی باتیں نہیں سنوں گی؟کیا ایسا ہو سکتا ہے؟اس نے الٹا سوال پوچھا-تردید نہیں کی، نہ جھوٹ بولنا چاہتی تھی، نہ ہی اسے مایوس کرنا چاہتی تھی-
آپ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ پھر اس رات بولتی کیوں نہیں تھی جب ڈیڈی نے مجھے مارا تھا؟ آپ کو سب سنتا تھا تو آپ بولتی کیوں نہیں تھیں؟اس کی آوازبلند ہونے لگی تھی غصے سے نہیں دکھ سے –
میں بول نہیں سکتی تھی ، بیمار تھی- اور۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔ ڈیڈی نے تمہیں مارا کیوں تھا؟
وہ تڑپ کر رہ گئی مگر بظاہر خود کو کمپوزڈ رکھا-
وہ اس چریل (چڑیل ) سے شادی کر رہے تھے- میں نے ان سے بہت لڑائی کی تھی-
اس کی موٹی موٹی بھوری آنکھیں ڈبڈبا گئیں- وہ کہتے تھے وہ اس بچ سے شادی کر لیں گے- وہ آپ کو ڈائیورس کر دیں گے- میں ان سے بہت لڑا تھا- اور ایک دم وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا-
“تیمور ! وہ متحیر رہ گئی-اس نے کبھی اسے روتے نہیں دیکھا تھا-محمل نے بے اختیار بازو بڑھا کر اس کے ہاتھ تھامے-
میرے پاس آؤ-اسے ہاتھوں سے تھام کر کھڑا کیا اور خود سے قریب کیا-
ڈیڈی نے کیوں مارا تمہیں؟
میں نے کہا تھا کہ میں ان کو اور اس وچ کو گھر میں نہیں رہنے دوں گا–انہوں نے کہا کہ تمہاری ماں ایک بری عورت ہے-میں نے ان پہ بہت شاؤٹ کیا،تو انہوں نے مجھے ادھر تھپڑ مارا-اس نے ہاتھ اہنے آنسوؤں سے بھیگے گال پہ رکھا- محمل نے بے اختیار اس کا گال چوما- وہ بیٹھی تھی، اور وہ اس کے ساتھ کھڑا رو رہا تھا-
تم میرے پاس ائے تھے؟
ہاں ، میں اتنی دیر آپ کے پاس روتا رہا تھا-بٹ یو ور سلیپنگ-آپ نے مجھے جواب نہیں دیا،آپ نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا، آپ بولتی نہیں تھی،آپ نے مجھے پیار بھی نہیں کیا-
اور تم مجھ سے ناراض ہو گئے؟وہ ہچکیوں کے درمیان آنسو پونچھ رہا تھا-
میں تب بیمار تھی بول نہیں سکتی تھی، لیکن اب میں تمہارے پاس ہوں نا، اب تو تم ناراض نہیں ہو ؟
ہتھیلی کی پشت سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلایا -اس نے بے اختیار اسے گلے سے لگا لیا-
ایک دم ہی اس کے ادھورے وجود میں ٹھنڈک اتر آئی-اسے لگا وہ مکمل ہوگئی ہے، اب اسے کسی ہمایوں داؤد نامی شخص کی ضرورت نہیں تھی-اسے اس کا تیمور واپس مل گیا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ دن بہت خوبصور ت دن تھا – جب وہ دونوں خوب رو چکے تو مل بیٹھ کر خوب باتیں کیں،کبھی لان میں ، کبھی ڈائننگ ٹیبل پہ ، کبھی لاؤنج میں اور پھر تیمور کے کمرے میں-
اس سے بات کر کے محمل کو پتہ چلا تھا کہ اس کا یہ رویہ اس رات کا رد عمل تھا جو اس نے ہمایوں سے تھپڑ کھانے کے بعد محمل کو پکارتے گزاری تھی-شاید وہ ساری رات روتا رہا تھا،مگر اس کی ماں نے جواب نہیں دیا تھا تو وہ بدظن ہو گیا تھا-مگر بچہ تھا آخر کتنی دیر ناراض رہ سکتا تھا-بالآخر اپنے اندر کا سارا لاوا نکال کر اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور یہ بد گمانی کی عادت تو اس نے اپنے ماں اور باپ دونوں سے ورثے میں ملی تھی-اس کا قصور نہیں تھا –
اس کی باتوں سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ آرزو اور ہمایوں کے تعلق کے بارے میں بھی جانتا تھا-مگر محمل دانستہ اس موضوع کو نہیں چھیڑتی تھی- محمل کو اب احساس ہوا تھا کہ ےیمور غیر معمولی ذہن اور سمجھدار لڑکا تھا-وہ ایک ایک چیز کے بارے میں خبر رکھتا تھا-اسے معلوم تھا کہ کب ہمایوں نے اسے طلاق دی ، کب جھڑکا، کب اس پہ چلایا اور دوسری ہو شئے جو ان دونوں کے درمیان تھی، وہ ظاہر کرتا تھا کہ اسے اس سے نفرت ہے،مگر اس کے باوجود وہ اس کے ہر پل کی خبر رکھتا تھا-
اگر ڈیڈی نے آپ کی ڈائیورس واپس نا لی تو آپ یہاں سے چلی جائیں گی؟وہ دونوں تیمور کے کمرے میں بیٹھے تھے،جب اس نے بے حد اداسی سے کہا-
جانا تو ہے-
مگر ابھی ٹو اینڈ ہاف منتھ آپ ادھر ہی ہیں نا؟
آپ کی ڈائیورس کے تھری منتھس بعد تک اپ نے یہیں رہنا ہے نا؟
وہ اپنی باتوں سے اسے حیران کر دیتا تھا-اس کی عمر اتنی نہیں تھی ، مگر وہ ہر بات سمجھتا تھا-
ہاں۔۔۔۔۔۔
ابھی تو ہاف منتھ ہوا ہے،ابھی تو ٹائم ہے،کیا پتا ڈیڈی – ڈائیورس واپس لے لیں-
اس نے سوچا کہ اسے سمجھائے کہ پہلی طلاق واپس نہیں ہوتی ، بلکہ اس میں رجوع ہو سکتا ہے، مگر اس کے ننھے دماغ کو خواہ مخواہ کہاں الجھاتی ، سو بات بدل دی-
مجھے اپنی بکس دکھاؤ-
آپ ٹاپک مت چینج کریں، میں آپ کو ساری بکس دکھا چکا ہوں-
اوہ میرا مطلب تھا کاپیز دکھاؤ-
محمل۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل- اس سے پہلے کہ تیمور جواب دیتا ، اس نے فرشتے کی آواز سنی جو باہر اسے پکار رہی تھی-اس کی وہیل چئیر دروازے سے ذرا دور تھی- سو اس نے تیمور کو اشارہ کیا-
بیٹا! دروازہ کھولو-
پلیز نو! اس نے برا سا منہ بنایا اور وہیں بیڈ پہ بیٹھا رہا-
محمل – فرشتے کی آواز میں پریشانی تھی-
تیمور پلیز دروازہ کھولو خالہ بلا رہی ہیں-وہ چاہتی تو فرشتے کو آواز دے لیتی ، مگر ابھی تیمور کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی-
شی از ناٹ مائی خالہ- وہ منہ ہی منہ میں بدبداتا اٹھا ، دروازہ آدھا کھول کر سر باہر نکالا اور غصے سے بولا-
واٹس رانگ ود یو؟
اوہ سوری سنی میں محمل کو ڈھوند رہی تھی-
فرشتے کی خجل سی آواز آئی-
شی از ود می، پلیز ڈونٹ ڈسٹرب از-
اس نے زور سے دروازہ بند کیا- پھر واپس مڑا تو محمل قدرے خفا سی اس کو دیکھ رہی تھی-
وہ میری بہن ہے، تم اسے مجھ سے بات بھی نہیں کرنے دو گے یٹا؟
آپ کیوں اس وچ نمبر ٹو کو پسند کرتی ہیں؟ میرا تو دل کرتا ہے اسے کہوں اپنا بروم اسٹک اٹھائے اور یہاں سے چلی جائے-بگڑ کر کہتے ہوئے اس نے پلٹ کر دروازہ کھولا-
آجاؤ – فرشتے کا چہرہ دکھائی دیا تو محمل نے مسکرا کر کہا-
وہ حیران سی دروازے میں کھڑی تھی-
تم اور سنی ۔۔۔۔۔۔ اوہ گاڈ ۔۔۔۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا ؟وہ حیرت زدہ بھی تھی اور خوش بھی-
بس اللہ کا شکر ہے!اس نے مسکراہٹ دبا کر کندھے اچکائے، جیسے خود بھی اس خوش گوار واقعے پہ لا جواب ہوگئی ہو-
آئی ایم سو ہیپی محمل!فرط جذبات سے محمل کی انکھیں ڈبڈبا گئیں-اور اس سے پہلے کہ محمل جوابا کچھ کہہ پاتی تیمور زور سے بولا ــــــــــ نو یو آر ناٹ، آپ جھوٹ بولتی ہو، مجھے سب پتا ہے-فرشتے کا چہرہ ماند پڑ گیا-
سنی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
یو کین گو ناؤ، جسٹ گو اوے! وہ ایک دم زور سے چلایا- فرشتے لب کاٹتی ایک دم پلٹی اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی-
تیمور بھی غصے میں مٹھیاں بھینچ رہا تھا-وہ گئی تو اس نے زور سے دروازہ بند کیا اور قریب رکھا کاغذ پھاڑ ڈالا- پھر اس کے ٹکڑے دروازے پہ دے مارے-
محمل بغور اس کا رویہ دیکھ رہی تھی-وہ واپس آکر بیڈ پہ بیٹھا تو اس نے اس کی رف کاپی اٹھائی ، تین صفحے نکال کر اسے پکڑاتی جا رہی تھی اور وہ وحشیانہ انداز میں اسے پھاڑتا جا رہا تھا-یہاں تک کہ وہ تھک گیا اور سر ہاتھوں پہ گرا دیا –
محمل نے اس کی کاپی بند کر کے بیڈ پہ ڈال دی –
اٹھو پانی پیو اور مجھے بھی پلاؤ-
اس کے اندر کا لاوا باہر اچکا تھا- سو خاموشی سے اٹھا اور باہر چلا گیا- چند لمحوں بعد واپس ایا تو اس کے ہاتھ میں پانی سے بھرا شیشے کا گلاس تھا-محمل نے گلاس تھاما، پانی پیا اور پھر گلاس واپس اس کی طرف بڑھا یا-
اس کو بھی دیوار پہ مارو اور توڑ دو-
تیمور لب کاٹتے اسے دیکھتا رہا ، گلاس لینے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا-
اسے توڑنا چاہتے ہو؟
نو- اب وہ ٹھنڈا پڑ چکا تھا –
چلو لان میں چلتے ہیں، میں تمہیں ایک سٹوری بھی سناؤں گی-
اس کی بات پہ وہ مسکرا دیا ، اور گلاس اس سے لے کر دروازہ کھولا ، پھر ایک طرف ہٹ کر اسے راستہ دیا – وہ آسودگی سے مسکراتی وہیل چئیر کے پہیوں کو دونوں ہاتھوں سے گھماتی آگے بڑھنے لگی-
وہ دونوں لاؤنج میں بیٹھے تھے- محمل کے ہاتھوں میں قرآن کے قصوں کی کتاب تھی اور وہ موسی علیہ السلام کا قصہ تیمور کو سنا رہی تھی-ان گزرے کچھ دنوں میں اس نے آہستہ آہستہ بہت سے قصے تیمور کو سنا ڈالے تھے-وہ چاہتی تھی کہ تیمور میں قرآن کا شوق پیدا ہو جائے-
اور پھر موسی علیہ السلام کی ماں کا دل خالی ہو گیا-
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ لا شعوری طور پر رک گئی-
جانتی تھی اس وقت کون ایا ہوگا- بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی تھی-اس نے سر نہیں اٹھایا-
آگے بتائیں نا ماما!تیمور چند لمحو ں کے انتظار کے بعد بے چین ہو گیا، اسی پل ہمایوں اندر داخل ہوا ،بے ساختہ ہی محمل نے سر اٹھا لیا-
وہ تھکا تھکا سا سرخ آنکھیں لیے ، آستین کہنیوں تک فولڈ یے چلا آرہا تھا-ان دونوں کو یوں اکٹھا بیٹھے دیکھ کر ایک دم ٹھٹک کر رکا- آنکھون میں واضح حیرت اور الجھن ابھری-وہ پچھلے دنوں کافی دیر سے گھر ارہا تھا اور سوئے اتفاق وہ ان کی اس دوستی کے بارے میں کچھ جان سکا نہ ہی دیکھ سکا-
محمل نے نگاہیں کتاب پر جھکا لیں اور آگے پڑھنے لگی-
اسی لمحے فون کی گھنٹی بجی-تیمور صوفے سے اٹھا اور لپک کر فون ریسیور اٹھایا-
ہیلو؟ کچھ دیر تک وہ دوسری طرف سنتا رہا، پھر سر ہلایا، جی وہ ہیں ، ایک منٹ!
وہ ریسیور ہاتھ میں پکڑے محمل کی طرف گھوما-اسی پل ہمایوں کے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز ائی-
ماما! آپ کا فون ہے-
کون ہے؟وہ ذرا حیران ہوئی-اس کے لیے بھلا کہاں فون آتے تھے-
وہ کہہ رہے ہیں ان کا نام آغا فواد ہے-تیمور نے ریسیور اس کی طرف بڑھایا- تار لمبی تھی ریسیور اس تک پہنچ ہی گیا-
آغافواد؟ وہ بے یقینی سے بڑ بڑائی، پھر ریسیور تھاما-کتنی ہی دیر وہ سن سی اسے کان کے ساتھ لگائے بیٹھی رہی-
ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو” اور پھر بمشکل لفظ ہونٹوں سے نکل ہی پایا تھا کہ کسی نے سختی سے ریسیور اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا- محمل نے بری طرح چونک کر پیچھے دیکھا-
میرے گھر میں یہ سب نہیں ہوگا، یہاں سے جا کر جو بھی کرنا ہو کر لینا-ریسیور ہاتھ میں لیے ہوئے درشتی سے کہتا ہوا وہ محمل کے ساتھ آغآ فواد کو بھی سنا چکا تھا-
وہ ششدر سی بیٹھی رہ گئی-ہمایوں نے ایک شعلہ بار نگاہ اس پہ ڈالی اور ریسیور کھٹاک سے کریڈل پہ ڈال دیا-پھر جیسے آیا تھا اسی طرح تیز تیز سیڑھیاں چڑھتا گیا-
تیمور خاموشی سے مگر بغور سب دیکھ رہا تھا، ہمایوں واپس ہو لیا تو وہ آہستہ سے محمل کی طرف بڑھا-
ماما! اس نے ہولے سے محمل کا ہاتھ چھوا،پھر ہلایا-
وہ اسی طرح شل سی بیٹھی تھی-
” ایک بار پہلے بھی ان کا فون آیا تھا اپ کے لیے، ڈیڈی نے تب ان کو کہا تھا یہاں کوئی محمل نہیں رہتی، ماما! ڈیڈی ان کے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں؟وہ تو آپ کے کزن ہیں نا؟
وہ ابھی تک سن تھی، پہلی بار ہمایوں نے اتنی زہریلی بات کی تھی-یہ اتنا سارا زہر اس کے اندر کس نے بھر دیا تھا؟
اچھا چھوڑیں نا، مجھے اسٹوری اگے سنائیں-وہ اس کے ساتھ صوفے پہ بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ ہلا کر اسے متوجہ کیا- محمل نے سر جھٹک کر کتاب اٹھا لی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ لان میں بیٹھی تھی اور تیمور پانی کا پائپ اٹھائے گھاس پہ پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا-قطرے موتیوں کی طرح سبز گھاس پہ گر رہے تھے-جب اسے زندگی میں گھپ اندھیرا نظر آنے لگا تھا ،وہیں پہ فجر کی پہلی کرن چمکی تھی-ہمایوں کی بے وفائی کا غم اب اتنا شدید نہیں رہا تھا جتنا اس سے قبل تھا-تیمور کی محبت مرہم کا کام کر رہی تھی-
شام اتر رہی تھی جب اس نے گیٹ پر آہٹ سنی تو گردن موڑ کے دیکھا، فرشتے نے باہر سے ہاتھ اندر کر کے گیٹ کا ہک کھولا تھا اور اب وہ دروازہ کھول کے داخل ہوئی تھی-اس کے ہاتھ میں ہینڈ بیگ تھا اور وہ اپنے مخصوص سیاہ عبایا اور اسکارف میں ملبوس تھی- جس میں اس کا چہرہ دمک رہا تھا- وہ غآلبا مسجد سے آرہی تھی-اس وقت وہ ادھر پڑھانے جاتی تھی-
السلام علیکم، جلدی آگئیں؟اسے آتے دیکھ کر محمل نے مسکرا کر مخاطب کیا-
ہاں بس ذرا تھک گئی تھی-وہ تھکان سے مسکراتی اس کی طرف چلی ائی-
کھانا کھا لیں، آپ نے دوپہر میں بھی نہیں کھایا تھا-
ہاں کھاتی ہوں- اس نے تھکے تھکے انداز میں کہہ کر انگلی سے کنپٹی سہلائی-اس کی مخروطی انگلی میں چاندی کی وہی انگوٹھی تھی جو وہ اکثر دیککھتی تھی-جانے کیوں وہ محمل کو قدرے پریشان لگ رہی تھی-
خیریت فرشتے؟مجھے آپ ٹینس لگ رہی ہیں-
نہیں تو- وہ پھیکا سا مسکرائی-تب ہی فاصلے پہ کھڑے تیمور نے پائپ پھینکا اور ان کی طرف آیا –
وہ ٹینس بھی ہیں تو آپ کیوں کئیر کرتی ہیں؟جسٹ لیو ہر الون! وہ بہت غصے اور بد تمیزی سے بولا تھا- محمل نے فرشتے کی مسکراہٹ کو واضح ماند پڑتے دیکھا، اس کا دل دکھا-
تیمور بیٹا ! وہ تمہاری خالہ ہیں ایسے بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جسٹ گو! چلی جاؤ آپ یہاں سے -وہ پیر پٹخ کر چیخا -بالکل ہمایوں کا پرتو-
سوری سنی! وہ شکستگی سے اٹھی، بیگ ہاتھ میں لیا اور تیز تیز قدموں سے لان کی روش پار کر گئی-
اور جہاں میری ماما ہوں وہاں مت ایا کرو-وہ اس کے پیچھے چلایا تھا- محمل نے تاسف سے برآمدے میں دیکھا، جہاں فرشتے دروازہ بند کر کے غائب ہو گئی تھی-
تیمور ابھی تک لب بھینچے دروازے کو دیکھ رہا تھا-
اف۔۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکا ۔۔۔۔۔۔ کیسے سمجھاؤں اسے کہ تمہارے بڑے تمہارے دشمن نہیں ہیں- وہ سر جھٹک کر رہ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ کچن میں اپنی وہیل چئیر پہ بیٹھی تھی-گود میں ٹوکری تھی جس میں مٹر رکھے تھے-تیمور بلقیس کے ساتھ مرکز تک گیا تھا-وہ مٹر چھیلتے ہوئے لا شعوری طور پر اس کا انتظار کر رہی تھی-
کچن کا دروازہ نیم وا تھا-وہ ویسے بھی اس سمت میں بیٹھی تھی کہ لاؤنج میں نظر نا آسکتی تھی- تب ہی اسے بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز ائی اور ساتھ قدموں کی چاپ بھی پھر قریب اتی آوازیں ۔۔۔۔ مٹر چھیلتے اس کے ہاتھ ٹھہر گئے۔۔۔۔۔۔
ایسا کب تک چلے گا ہمایوں؟وہ آرزو تھی اور تنک کر کہہ رہی تھی-
کیا؟
انجان مت بنو-ہم کب شادی کر رہے ہیں؟ان کی آواز قریب آرہی تھیں-وہ دم سادھے بیٹھی رہ گئی-مٹر کے دانے ہاتھ سے پھسل گئے-
کر لیں گے- اتنی جلدی بھی کیا ہے-
کیا مطلب جلدی؟اتنا عرصہ ہو گیا ہے تمہیں اسے طلاق دیئے ہوئے-
اس کی عدت ختم ہو لینے دو-
اور کب ختم ہوگی وہ؟
ایک دو ہفتے رہتے ہیں- وہ رسان سے کہہ رہا تھا- وہ دونوں وہیں لاؤنج کے وسط میں کھڑے باتیں کر رہے تھے-
کیا اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے ہم شادی نہیں کر سکتے؟
نہیں ! اس کا انداز اتنا سرد مہر اور قطعی تھا کہ پل بھر کو آرزو بھی چپ رہ گئی-
مگر ہمایوں۔۔۔۔۔۔ ! اس نے کہنا چاہا-
کہا نا نہیں! وہ اب سختی سے بولا تھا- اگر تمہیں منظور نہیں ہے تو بے شک شادی نہ کرو- جاؤ چلی جاؤ- وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا-
نہیں ، ہمایوں ، سنو ، رکو- وہ بوکھلائی ہوئی سی اس کے پیچھے لپکی-
سیڑھیاں چڑھنے کی اواز مدھم ہو گئیں۔۔۔۔ وہ دونوں اب اس سے دور جا چکے تھے-
ماما!کتنی ہی دیر بعد تیمور نے اسے پکارا تو اس نے چونک کر سر اٹھایا -وہ اس کے سامنے کھڑا تھا-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: