Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 37

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 37

–**–**–

 

ماما!کتنی ہی دیر بعد تیمور نے اسے پکارا تو اس نے چونک کر سر اٹھایا -وہ اس کے سامنے کھڑا تھا- تم کب آئے؟ وہ سنبھلی-
ماما! وہ آہستہ سے اس کے قریب آیا – آپ رو رہی ہیں؟ اس نے اپنے ننھے ننھے ہاتھ اس کے چہرے پہ گرتے آنسوؤں پہ رکھے- وہ حیران رہ گئی- پتا نہیں کب یہ آنسو پھسل پڑے تھے-
آپ نہ رویا کریں- وہ اب آہستہ سے اس کے آنسو صاف کر رہا تھا – محمل بھگی آنکھوں سے مسکرائی اور اس کے ہاتھ تھام لیے-
میں تو نہیں رو رہی-
آپ رو رہی ہیں- میں بچہ تھوڑی ہوں- وہ اس کی غلط بیانی پر خفا ہوا –
اچھا اب تو نہیں رو رہی – اور شاپ سے کیا لائے ہو؟
چپس! اس نے چپس کا پیکٹ سامنے کیا- اور میں اتنی دیر سے گیا ہوا ہوں پر آپ نے ابھی تک مٹر نہیں چھیلے یو آر ٹو سلو ماما! اس نے مٹر کی ٹوکری اس کی گود سے اٹھائی اور کاؤنٹر پر رکھ دی –
آئیں باہر چلتے ہیں-
رہنے دو تیمور میرا دل نہیں کر رہا –
بلقیس بوا! اس کی سنے بغیر بلقیس کو پکارنے لگا ماما کو باہر لے اؤ-
اور وہ اپنی نا قدری کا غم اندر ہی اندر دباتی رہ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بڑے عرصے سے لائبریری کی صفائی نہیں ہوئی تھی- وہ کتنے دنوں سے سوچ رہی تھی کہ کسی دن کروالے ، آج ہمت کر ہی لی-
بلقیس کو تو کہنے کی دیر تھی- وہ فورا لگ گئی- وہ دروازے کی چوکھٹ پہ وہیل چئیر پہ بیٹھی ہدایات دے رہی تھی-
یہ والی بکس اندر رکھ دو ، اس طرف والی سامنے کر دو- میز سے یہ سب ہٹا لو اور اس والے شیلف میں رکھ دو-
جھاڑ پونجھ سے گرد آڑ رہی تھی- سالوں سے کسی نے کتابوں کو صاف نہیں کیا تھا-
بیبی ان کو تو کیڑا لگ گیا ہے-وہ پریشان سی کچھ کتابوں کے کنارے دکھا رہی تھی- تاریخ کی پرانی کتابیں-
ان کو الگ کر دو- اور وہ دراز خالی کرو،یہ اس میں رکھ دیں گے-
اچھا جی! بلقیس اب اسٹڈی ٹیبل کی درازوں سے کتابیں نکال رہی تھی-
ان کو اس آخری شیلف پہ نا سیٹ کردوں؟ اس نے دراز سے نکلنے والی کتابوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا-
ہاں کردو- اسے بھلا کیا اعتراض تھا- بلقیس پھرتی اور انہماک سے کتابیں صاف کر کے اوپر لگانے لگی –
ڈھیر ذرا ہلکا ہوا تو اسے اس کتابوں کے بیچ ایک بھولا ہوا خاکی لفافہ رکھا نظر آیا-
یہ لفافہ اٹھا کر دو- شاید ہمایوں کے کام کا ہو-
کتابیں سیٹ کرتی بلقیس رکی اور خاکی لفافہ اٹھا کر اسے تھمایا-
لفافہ وزنی نہیں تھا ، مگر بھولا ہوا تھا- اس نے الٹ پلٹ کر دیکھا-
کوئی نام پتہ نہیں لکھا تھا- اوپر اکھڑی ہوئی سی ٹیپ لگی تھی جیسے کھول کر پھر لگا دی گئی ہو-
پتا نہیں کس کا ہے- بنا کسی تجسس کے ٹیپ اتاری اور لفافہ گود میں الٹ دیا – ایک عدالتی کاغذ اور ساتھ ایک سفید خط کا کور گود میں گرا- اس نے زرد عدالتی کاغذ اٹھایا-
اس کی تہیں کھولیں اور چہرے کے سامنے کیا-
اسٹمپ پیپر کی تحریر کے نیچے بہت واضح دستخط تھے-
محمل ابراہیم-
فرشتے ابراہیم-
وہ بری طرح سے چونکی اور تیزی سے اوپر تحریر پہ نگاہیں دوڑائیں-
یہ وہی کاغذ تھا جو فواد نے اس سے اور فرشتے سے سائن کروایا تھا- وسیم سے نکاح نہ کروانے کی شرط پہ، اس کی گردن پستول رکھ کر-
مگر یہ ادھر ہمایوں کی لائبریری میں کیا کر رہے ہیں؟وہ تو اس معاملے سے قطعی لا علم تھا-یہ موضوع کبھی زیر بحث ایا ہی نہیں، بس ایک دفعہ آغآ جان کے گھر سے واپسی پہ ہمایوں نے اسے اپنا حصہ لینے کے لیے کہا تھا مگر وہ ٹال گئی تھی-اگر وہ روہ راست پوچھتا تو وہ بتا دیتی -پھر فرشتے نے بھی نہیں بتایا کہ یہ کاغذ اس کے ہاتھ کیسے لگا اور کیا وہ اس کی وجہ سے اس سے بدظن تھا؟مگر یہ اتنی بڑی وجہ تو نہیں تھی-اور یہ کاغذ ہمایوں کے ہاتھ لگا بھی کیسے یہ تو اس کے پاس تھا-
اس نے دوسرا سفید لفافہ اٹھایا- وہ بے دردی سے چاک کیا گیا تھا اس نے اس کے کھلے منہ میں جھانکا اندر کچھ فوٹو گراف تھے شاید-
محمل نے لفافہ گود میں الٹ دیا- چند تصویریں اس کے گھٹنے پر پھسلتی فرش پہ جا گریں اس نے ہاتھ جھکا کر تصویروں کو اٹھایا اور سیدھا کیا-
وہ فواد اور محمل کی تصاویر تھیں-فواد۔۔۔۔۔۔۔ اور محمل ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساکت سی ان تصویروں کو دیکھ رہی تھی-ان میں وہ کچھ تھا جو کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا تھا- گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا فواد اور اس کے کندھے پہ سر رکھے محمل۔۔۔۔۔ ریسٹورنٹ میں ڈنر کرتا فواد اور محمل۔۔۔۔۔ ایک ساتھ کسی شادی میں رقص کرتے ۔۔ قابل اعتراض تصاویر۔۔قابل اعتراض مناظر۔۔ وہ سب جو کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔
اس نے پھر سے تصویر کو الٹ پلٹ کر دیکھا-
اس کا لباس اور چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر تصویر میں ذرا الگ تھا-کوئی بچہ بھی بتا سکتا تھا کہ وہ کوئی فوٹؤ شاپ یا ایسی ہی کسی ٹرک کا کمال ہے-پہلی نظر میں واقع پتا نہیں چلتا تھا-مگر بغور دیکھنے سے سب ظاہر ہو جاتا تھا کہ وہ سب نقلی ہے ہمایوں خود ایک پولیس آفیسر تھا، وہ ان بچوں والی باتوں میں نہیں آسکتا تھا-اور کس نے لا کر دیں اس کو یہ تصاویر؟
کیا معیز جو ایک دفعہ آیا تھا، اسی لیے آیا تھا؟اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا-
پزل کے سارے ٹکڑے ایک ساتھ جڑنے لگے-
آرزو نے کہا تھا کہ وہ ہمایوں کو اس سے چھین لے گی- محمل کو سجا سنورا اور ہنستا بستا دیکھ کر شاید شدید حسد کی آگ میں جلنے لگی تھی-اس سے اس کی خوشیاں برداشت نہیں ہو رہی تھیں، پھر اسد چچا کی ناگہانی موت کے بعد یقینا وہ لوگ مالی کرائسز کا شکار ہوئے ہونگے-ایسے میں محمل کی طویل بے ہوشی نے آرزو کو امید دلائی ہوگی-اور شاید یہ سب ایک سوچا سمجھا پلان تھا-
یہ جعلی تصاوہر بنا کر، محمل اور فرشتے کا دستخط شدہ کاغذ ہمایوں کو دکھا کر اس نے ہمایوں کو بھڑکایا ہوگا- مگر کیا ہمایوں چھوٹا بچہ تھا جو ان کی باتوں میں آجاتا؟کیا ایک منجھا ہوا پولیس آفیسر اس قسم کے بچکانہ کھیل کا شکار بن سکتا تھا؟کیا بس اتنی سی باتوں پہ ہمایوں اتنا بدظن ہو گیا تھا؟اپنی بیوی سے دوری اور آرزو سے بڑھتا ہوا التفات۔۔۔۔۔۔۔۔ پزل کا کوئی ٹکڑا اپنی جگہ سے غائب تھا-پوری تصویر نہیں بن رہی تھی-
اس نے بے اختیار ہو کر سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا-دماغ چکرا کر رہ گیا تھا-
بی بی تسی ٹھیک ہو؟بلقیس نے اس کا شانہ ہلایا تو وہ چونکی-
ہاں مجھے باہر لے جاؤ-اس نے جلدی سے تصویریں لفافے میں ڈالیں،مبادا بلقیس انہیں دیکھ نہ لے-
پزل کا کوئی ٹکڑا واقعی غائب تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، جب بیرونی گیٹ پہ ہارن کی آواز سنائی دی- وہ جو دانستہ لاؤنج میں بیٹھی تھی، فورا الرٹ ہوگئی-
ہمایوں کی گاڑی زن سے اندر داخل ہونے کی آواز آئی- پھر لاک کی کھٹ کھٹ، وہ سر جھکائے بیٹھی تمام آوازیں سنتی گئی، یہاں تک کہ دروازے کے اس طرف بھاری بوٹوں کی چاپ قریب آگئی -اس نے بے چینی سے سر اٹھایا-
وہ اندر داخل ہو رہا تھا،یونیفارم میں ملبوس ، کیپ ہاتھ میں لیے ، وہ چند قدم چل کر قریب آیا، اسے وہاں بیتھا دیکھ کر لنحے بھر ککو رکا-
السلام علیکم۔مجھے آپ سے بات کرنی ہے-اس نے آہستہ سے کہا-
بولو-وہ اکھڑے تیوروں سے سامنے اکھڑا ہوا- آپ بیٹھ جائیں-
میں ٹھیک ہوں بولو-
محمل نے گہری سانس لی اور الفاظ ذہن میں مجتمع کیے-
مجھے صرف ایک بات کا جواب چاہیئے ہمایوں!بس ایک بار مجھے بتا دیں کہ میرے ساتھ اپ ایسا کیوں کر رہے ہیں-آنسوؤں کا گولا اس کئ حلق میں پھنسنے لگا تھا-
کیا کر رہا ہوں؟
آپ کو لگتا ہے آپ کچھ نہیں کر رہے؟
علیحدگی چاہتا ہوں ، یہ کیا کوئی جرم ہے؟وہ سنجیدہ اور بے نیاز تھا-
مگر۔۔۔۔۔۔ آپ اتنے بدل کیوں گئے ہیں؟آپ پہلے تو ایسے نہیں تھے-نہ چاہتے ہوئے بھی وہ شکوہ کر بیٹھی-
پہلے میں کاٹھ کا الو تھا،جس کی انکھ پہ پٹی بندھی تھی-ہوش اب ایا ہے، دیر ہوگئی ، مگر خیر-
ہو سکتا ہے کسی نے اب آپ کی آنکھوں پہ پٹی باندھ دی ہو-آپ مجھے صفائی کا ایک موقع تو دیں-
اس نے سوچا تھا وہ اس کی منت نہیں کرے گی ، مگر اب وہ کر رہی تھی،یہ وہ شخص تھا جس سے اسے بے حد محبت تھی،وہ اسے نہیں چھوڑنا چاہتی تھی-
صفائی کا موقع ان کو دیا جاتا ہے جن پر شک ہو-مگر جن پر یقین ہو، ان پہ صرف حد جاری ہوتی ہے-وہ بہت چبا چبا کر بولا تھا-
یہ آپ کی اپنی بنائی گئی حدود ہیں ایس پ صاحب!لوگوں کو ان کے اوپر نہ پرکھیں-کھوٹے کھرے کو الگ کرنے کا پیمانہ دل میں ہوتا ہے،ہاتھوں میں نہیں،کہیں آپ کو پچھتانا نہ پڑ جائے-
کھوٹے کھرے کی پہچان مجھے بری دیر سے ہوئی ہے محمل بی بی!جلدی ہوتی تو اتنا نقصان نہ اٹھاتا-
ان تین ماہ میں پہلی دفعہ اس نے محمل کا نام لیا تھا-وہ اداسی سے مسکرا دی-
“اگر میں کھوٹی ہوں تو جس کے پیچھے مجھے چھوڑ رہے ہیں ، اس کے کھرے پن کو بھی ماپ لیجئے گا-کہیں پھر دھوکا نہ ہوجائے-
وہ تم سے بہتر ہے-چند لمحے خاموش رہ کر وہ سرد لہجے میں بولا اور ایک گہری چبھتی ہوئی نگاہ اس پہ ڈال کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا-
وہ نم آنکھوں کے ساتھ اسے زینے چڑھتے دیکھتی رہی- آج ہمایوں نے اپنی بے وفائی پہ مہر لگادی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے برش لیے مغموم ، گم صم سی بیتھی تھی، جب فرشتے نے کھلے دروازے سے اندر جھانکا-
میری چھوٹی بہن کیا کر رہی ہے؟اس نے چو کھٹ سے ٹیک لگا کے مسکراتے ہوئے پوچھا-
کچھ خاص نہیں- محمل نے مسکرا کے گردن موڑی-اس کے کھلے بال شانوں پہ گرے تھے-
تو کچھ خاص کرتے ہیں-وہ اندر چلی آئی-فیروزی شلوار قمیض پہ سلیقے سے دوپٹہ لیے ہوئے وہ ہمیشہ کی طرح بہت ترو تازہ لگ رہی تھی-
تمہارے بال ہی بنا دوں لاؤ-اس نے رسان سے کہتے ہوئے برش محمل کے ہاتھ سے لےا لیا اور اس کے کھلے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیتا –
بس اب تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گی- وہ اب پیار سے اس کے بالوں میں اوپر سے نیچے برش کر رہی تھی-وہ محمل کی وہیل چئیر کے پیچھے کھڑی تھی،محمل کو ائینے میں اس کا عکس دکھائی دے رہا تھا-
تم نے اگے کا کیا سوچا؟

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: