Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 38

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 38

–**–**–

 

تم نے اگے کا کیا سوچا؟
پتا نہیں ، جب عدت ختم ہو جائے گی تو چلی جاؤں گی- وہ بے زار سی ہوئی-
لیکن کدھر؟فرشتے نے اس کے بالوں کو سلجھا کر سمیٹ کر اونچا کیا-
اللہ کی دنیا بہ وسیع ہے ، پہلے اغا جان کو ڈھونڈوں گی، اگر وہ نہ ملے تو مسجد چلی جاؤں گی-مجھے امید ہے کہ مجھے ہاسٹل میں رہنے دیا جائے گا-
ہوں-اس نے اونچی سی پونی باندھی، پھر ان بالوں کو دوبارہ سے ذرا سا برش کیا-
اور آپ نے کیا سوچا؟میرے بعد تو آپ کو بھی جانا ہگا-
میں شاید ورکنگ ویمن ہاسٹل چلی جاؤں, پتا نہیں ابھی کچھ ڈیسائیڈ نہیں کیا، خیر چھوڑو، آج میں نے چائینیز بنایا ہے، تمہیں منچورین پسند ہے نا؟اب فٹا فٹ چلو کھانا کھاتے ہیں-اس نے محمل کی وہیل چئیر پیچھے سے تھام کر اس کا رخ موڑا-
اب وہ کیا بتاتی کہ عرصہ ہوا ذائقے محسوس کرنا چھوڑ دیئے ہیں، اسی لیے چپ رہی-ہمایوں کی طرف سے دل اتنا دکھا ہوا تھا کہ ایسے میں فرشتے کا دھیان بٹانا اچھا لگا-
ڈائننگ ٹیبل پہ کھانا لگا ہوا تھا-گرم گرم چاولوں کی خوشبو سارے میں پھیلی ہوئی تھی-
تیمور کدھر ہے؟وہ پوچھتے پوچھتے رک گئی- پھر تھک کر بولی – میں کیا کروں جو وہ آپ کو نا پسند کرنا چھوڑ دے؟
یہ چاول کھاؤ بہت اچھے بنے ہیں- فرشتے نے مسکرا کر ڈش اس کے سامنے رکھی ، اس کا ضبط بھی کمال کا تھا-
تیمور کی ساری بد لحاظیوں پہ میں آپ سے معافی مانگتی ہوں-نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ بھیگ گیا-اونہوں، جانے دو ، میں مائنڈ نہیں کرتی ، خالہ بھی ماں جیسی ہی ہوتی ہے-
محمل بھیگی آنکھوں سے ہنس دی-
فرشتے نے رک کر اسے دیکھا- کیوں؟کیا نہیں ہوتی؟
میرے بھانجے نہیں ہیں، ورنہ ضرور اپنی رائے دیتی۔لیکن چونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے تو آف کورس ، ٹھیک ہے-
کیا؟فرشتے الجھی-
یہ ہی کہ خالہ ماں جیسی ہوتی ہے-یہ ایک حدیث ہے نا-
اوہ اچھا؟مجھے بھول گیا تھا- فرشتے سر جھٹک کر مسکرا دی اور چاول اپنی پلیٹ میں نکالنے لگی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اپنی دانست میں ” ہمایوں کے گھر میں” اسکا آخری دن تھا-کل دوپہر اس کی عدت کو تین قمری ماہ مکمل ہوجانے تھے اور تب وہ شرعی طور پر ہمایون کی بیوی نہ رہتی اور پھر اس گھر میں رہنے کا جواز بھی ختم ہو جاتا-
آج وہ صبح اترتے ہی لان میں آبیٹھی تھی- چڑیاں اپنی مخصوص بولی میں کچھ گنگنا رہی تھیں- گھاس شبنم سے گیلی تھی- سیاہ بادلوں کی ٹکڑیاں آسمان پہ جابجا بکھری تھیں-امید تھی کہ اج رات بارش ضرور ہو گی-
شاید اس کی اس گھر میں آخری بارش-
فرشتے صبح جلدی ہی کسی کام سے باہر گئی تھی-ہمایوں رات دیر سے گھر آیا تھا اور صبح سویرے نکل گیا تھا- تیمور اندر سو رہاتھا-بلقیس اپنے کواٹر میں تھی-سو وہ لان میں تنہا اور مغموم بیٹھی چڑیوں کے اداس گیت سن رہی تھی-آنسو قطرہ قطرہ اس کی کانچ سی بھوری آنکھوں سے ٹوٹ کر گر رہے تھے-
اس گھر کے ساتھ اس کی بہت سی یادیں وابستہ تھیں-زندگی کا ایک بے حد حسین اور پھر ایک بے حد تلخ دور اس نے اس گھر میں گزارا تھا-یہاں اسی ڈرائیو وے پہ وہ پہلی بار سیاہ ساڑھی میں اتری تھی، اس رات جب اس کی مشکلات کا آغاز ہوا تھا-پھر ادھر ہی وہ سرخ کامدار جوڑے میں دلہن بنا کر لائی گئی تھی- کبھی وہ ادھر ملکہ کی حیثیت سے بھی رہی تھی، مگر خوشی کے دن جلدی گزر جاتے ہیں، اس کے بھی گزر گئے تھے-ایک سیاہ تاریک نیند کا سفر تھا اور وہ بہت نیچے لا کر پھینک دی گئی تھی-
ماما- تیمور نیند بھری آنکھیں لیے اس کا شانہ جھنجھوڑ رہا تھا- اس نے چونک کر اسے دیکھا، پھر مسکرا دی-
ہاں بیٹا! اس نے بے اختیار پیار سے اس کا گال چھوا-
کیوں رو رہی ہیں اتنی دیر سے ؟کب سے دیکھ رہی ہوں-وہ معصومیت بھری فکر مندی لیے اس کے ساتھ ابیٹھا- وہ نائٹ سوت میں ملبوس تھا-غالبا ابھی جاگا تھا-
نہیں کچھ نہیں- محمل نے جلدی سے آنکھیں رگڑیں-
آپ بہت روتی ہیں ماما- ہر وقت روتی رہتی ہیں- وہ خفا تھا-
مجھے لگتا ہے آپ دنیا کے سارے لوگوں سے زیادہ روتی ہونگی-
نہیں تو اور تمہیں پتا ہے کہ دنیا کے سارے لوگوں سے زیادہ آنسو کس نے بہائے تھے؟
کس نے؟ وہ حیرت اشتیاق سے اس کے قریب ہوا-
ہمایرے باپ آدم علیہ السلام نے جب ان سے اس درخت کو چھونے کی غلطی ہوئی تھی- وہ نرمی سے اس کے بھورے بالوں کی سہلاتی بتا رہی تھی، اسے تیمور کو اپنی وجہ سے پریشان نہیں کرنا تھا، اسکا ذہن بٹانے میں وہ کسی حد تک کامیاب ہوگئی تھی-
اچھا! وہ حیران ہوا-اور ان کے بعد؟
ان کے بعد داؤد علیہ السلام نے، جب اس سے ایک فیصلے میں ذرا سی کمی رہ گئی تھی-
اور ان کے بعد؟
ان کے بعد اس نے گہری سانس لی- پتا نہیں بیٹا ! یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے- آپ بھی بہت روتی ہو مما ، مگر آپ کو پتا ہے آپ جیسی مدر کسی کی نہیں ہیں- میرے کسی فرینڈ کی بھی نہیں، کوئی ٹیچر بھی نہیں-
میرے جیسی کیسی ؟ اسے حیرت ہوئی-
آپ جیسے nobel اور Honourable- آپ کو پتا ہے میرے لیے پوری دنیا میں سب سے زیادہ آنریبل اور نوبل ہیں-
جبکہ میں ایسی نہیں ہوں- تمہیں پتا ہے نوبل کون تھے؟
محمل نے ایک گہری سانس لی-
یوسف علیہ السلام جو پیغمبر کے بیٹے ، پیغمبر کے پوتے اور پیغمبر کے پڑ پوتے تھے”
وہ کیوں ماما؟
وہ کیوں؟ اس نے زیر لب سوال کو دہرایا- بے اختیار آنکھوں میں اداسی چھاگئی – کیونکہ شاید وہ بہت صبر کرنے والے تھے اور الفاظ لبوں پہ توٹ گئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہے-ہر بات سمجھانے والی نہیں ہوتی-
بتائیں نا ماما- وہ بے چین ہوا- میں جب بھی آپ سے حضرت یوسف کی سٹوری سنتا ہوں آپ یوں ہی اداس ہو جاتی ہیں-
پھر کبھی بتاؤں گی، تمہارے اسکول کب کھل رہا ہے؟ اس نے بات پلٹی-
منڈے کو-
اور تمہارا ہوم ورک ڈن ہے؟
یہ باتیں چھوڑیں ، مجھے پتا ہے آپ اپ سیٹ ہیں – کل آپ اور ڈیڈی ہمیشہ کے لیے الگ ہوجائیں گے،ہے نا؟وہ ہتھیلیوں پہ چہرہ گرائے ، اداسی سے بولا-
ہاں! ہو تو جائیں گے، تم میرے ساتھ چلو گے یا ڈیڈی کے پاس رہو گے؟اس نے خود کو بے پرواہ ظاہر کرنا چاہا-
میں آپ کے ساتھ جاؤں گا، اس چریل (چڑیل) کے ساتھ نہیں رہوں گا-مجھے پتا ہے ڈیڈی فورا شادی کر لیں گے-اسے شاید آرزو بہت بری لگتی تھی-وہ محمل کو اس پر ترجیح دے رہا تھا-اسے یاد آیا ہمایوں نے کہا تھا وہ اس سے بہتر ہے-
وہ مجھ سے بہتر ہے تیمور؟وہ ہمایوں کی اس زہریلی بات کو یاد کر کے پھر سے دکھی ہو گئی-
کون؟تیمور کی سفید بلی بھاگتی ہوئی اس کے قدموں میں آ بیٹھی تھی-وہ جھک کر اسے اٹھانے لگا-
آرزو- بہت دفعہ سوچا تھا کہ بچے سے یہ معاملہ ڈسکس نہیں کرے گی، مگر رہ نہیں سکی-
آرزو آنٹی ؟تیمور بلی کو بازوؤں میں اٹھا کر سیدھا ہوا -وہ جو اپ کی کزن ہیں جو ادھر آتی ہیں؟
ہاں وہی-
وہ آپ سے اچھی تو نہیں ، بالکل نہیں-وہ سوچ کر نفی میں سر ہلانے لگا-
پھر تمہارے ڈیڈ کیوں اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟کیا تم اسے ماں کے روپ میں قبول کرسکو گےے؟کتنا خود کو سمجھایا تھا کہ بچے کو درمیان میں انوالو نہیں کرے گی، مگر ہمایوں کی اس روز کی بات کہیں اندر چبھ رہی تھی، لیکن پھر کہہ کر خود ہی پچھتائی-
چھوڑو جانے دو یہ بلی ادھر دکھاؤ-
مگر تیمور الجھا الجھا سا اسے دیکھ رہا تھا-بلی ابھی تک اس کے بازوؤں میں تھی-
ڈیڈی آرزو آنٹی سے شادی کر رہے ہیں؟اس کی آواز میں بے پناہ حیرت تھی-
تمہیں نہیں پتا؟
آپ کو یہ کس نے کہا ہے؟وہ کنفیوزد بھی تھا اور حیرت زدہ بھی-
تمہارے ڈیڈی نے بتایا تھا اور ابھی تم خود کہہ رہے تھے کہ وہ اس سے شادی کر لیں گے-
تیمور اسی طرح الجھی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا-موٹی بلی اس کے ننھے ننھے ہاتھوں سے پھسلنے کو بے اب کسمسا رہی تھی-
آرزو آنٹی سے ؟ نہیں ماما،ڈیڈی تو ان سے شادی نہیں کر رہے-
مگر تم نے-مگر تیمور کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی-
وہ تو فرشتے سے شادی کر رہے ہیں- آپ کو نہیں پتا؟
تیمور!وہ درشتی سے چلائی تھی-تم ایسی بات سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟
بلی سہم کر تیمور بازوؤں سے نیچے کودی-
آپ کو نہیں پتا ماما؟وہ اس سے بھی زیادہ حیران تھا-
تم نے ایسی بات کی بھی کیسے؟مائی گاڈ، وہ میری بہن ہے ، تم نے اتنی غلط بات کیوں کی اس کے بارے میں؟غصہ اس کے اندر سے ابلا تھا-وہ گمان بھی نہیں کر سکتی تھی تیمور ایسے کہہ سکتا ہے-
ماما آپ بے شک ڈیڈی سے پوچھ لیں، فرشتے سے پوچھ لیں،وہ دونوں شادی کر رہے ہیں-
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ تم اس لڑکی کے بارے میں ایسی باتیں کر رہے ہو جو میری بہن ہے؟
جی ماما! اسی لیے تو ڈیڈی نے آپ کو ڈائیورس دی ہے،بی کاز شی از یور سسٹر اور مسلم ایک ٹائم پہ دو سسٹرز سے شادی نہیں کر سکتے-
محمل کا دماغ بھک سے اڑ گیا-وہ شل سی بیٹھی رہ گئی-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: