Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 39

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 39

–**–**–

 

محمل کا دماغ بھک سے اڑ گیا-وہ شل سی بیٹھی رہ گئی-
آئی تھاٹ آپکو پتا ہے، میں نے آپ کہ کہا تو تھا کہ ڈیڈی اس چڑیل سے شادی کر رہے ہیں-
اور تیمور فرشتے کو بھی چڑیل کہتا تھا، وہ کیوں بھول گئی؟اس کا دماغ بری طرح چکرانے لگا تھا-
نہیں تیمور وہ میری بہن ہے- اس کی زبان لڑ کھڑائی-
وہ اسی لیے تو ادھر ہمارے ساتھ رہتی ہے، تا کہ جب آپ چلی جائیں تو وہ ڈیڈی سے شادی کر لے-
تیمور وہ میری بہن ہے- اس کی آواز ٹوٹن لگی تھی-
آپ نے نہیں دیکھا، جب وہ ڈیڈی کے ساتھ شام کو باہر جاتی ہے؟ایک دفعہ وہ مجھے بھی لے گئے تھے، وہ سمجھتے ہیں میں بچہ ہوں، مجھے کچھ پتہ نہیں چلتا-
مگر تیمور! وہ تو میری بہن ہے-وہ بکھری، شکست خوردہ سی گھٹی گھٹی آواز میں چلائی تھی- اسے لگ رہا تھا ، کوئی دھیرے دھیرے اس کی جان نکال رہا ہے-
تیمور کیا کہہ رہا تھا اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا-
” مجھے اسی لیے وہ اچھی نہیں لگتی ، وچ نمبر ون، اس کی وجہ سے ڈیڈی آپ کو سیپریٹ کر رہے ہیں-آپ نے نہیں دیکھا، شام کو ڈیڈی کے ساتھ جب وہ ریسٹورنٹ جاتی ہے؟
نہیں، تم غلط کہہ رہے ہو، شام کو تو وہ مسجد جاتی ہے، وہ ادھر پڑھاتی ہے-
اسے یاد آیا شام کو فرشتے مسجد جاتی تھی- یقینا تیمور کو غلط فہمی ہوئی ہوگی، اس نے غلط سمجھا ہوگا-
مسجد؟اس نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں-
یہ ساتھ والی مسجد ماما؟ آپ کدھر رہتی ہیں؟فرشتے تو کبھی مسجد نہیں گئی-
وہ ۔۔۔۔۔ وہ ادھر قرآن پڑھاتی ہے، تمہیں نہیں پتا تیمور وہ ۔۔۔۔۔۔
وہ تو کبھی قرآن نہیں پڑھتی، میں نے آپ کو بتایا تھا-
نہیں وہ مجھ سے اور تم سے زیادہ قرآن پڑھتی ہے-اس نے ۔۔۔۔ اس نے ہی تو مجھے قرآن سکھایا تھا- تم غلط کہہ رہے ہو، وہ ایسے نہیں کر سکتی- وہ نفی میں سر ہلاتے ، اسے جھٹلا رہی تھی-
آپ نے کبھی اس کو قرآن پڑھتے دیکھا؟
وہ۔۔۔۔۔۔ وہ جو فرشتے کے دفاع میں تیمور کو کچھ کہنے لگی تھی ایک دم رک گئی-
اس نے اسپتال سے آ کے کبھی فرشتے کو مسجد جاتے نہیں دیکھاتھا-ہاں نمازیں وہ ساری پڑھتی تھی-
کم آن ماما، آپ بلقیس بوا سے پوچھ لیں، وہ مسجد نہیں جاتی، کیا آپ کو اس نے خود کہا کہ وہ مسجد جاتی ہے؟اور تیمور کے سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا-
اسپتال کی وجہ سے صبح کی کلاسز لینا ممکن نہیں تھا- فرشتے نے تو اس کے استفسار پہ مبہم سا جواب دیا تھا- باقی سب اس نے خود فرض کر لیا تھا-
تو کیا تیمور سچ کہہ رہا تھا؟نہیں ہرگز نہیں، فرشتے اس کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی تھی-وہ تو اس کی بہت پیاری ، بہت خیال رکھنے والی بہن تھی، وہ بھلا کیسے –
وہ مسجد نہیں جاتی ،وہ ڈیڈی کے ساتھ جاتی ہے، پہلے ڈیڈی گاڑی پہ نکلتے ہیں، پھر وہ باہر نکلتی ہے، اور کالونی کے اینڈ پہ ڈیڈی اس کو پک کر لیتے ہیں، تا کہ بلقیس بوا کو پتا نہ چلے -میں نے ٹیرس سے بہت دفعہ دیکھا ہے، صبح بھی وہ ڈیڈی کے ساتھ ہی گئی تھی-
وہ پتھر بنی سن رہی تھی-
جب آپ اسپتال میں تھیں تب بھی وہ یوں ہی کرتے تھے- پر میں کوئی چھوٹا بے بی تو نہیں ہوں، مجھے سب سمجھ آتا ہے-
یہ سب کب ہوا کیسے ہوا؟وہ متحیر ، بے یقین سی سکتے کے عالم میں بیٹھھی تھی- تیمور آگے بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا، مگر وہ نہیں سن رہی تھی، تمام آوازیں بند ہوگئیں تھی-سب چہرے مٹ گئے تھے- ہر طرف اندھیرا تھا- سناٹا تھا-
ماما! آپ ٹھیک ہو؟ تیمور نے پریشانی سے اس کا ہاتھ ہلایا- وہ ذرا سا چونکی- آنکھوں کے آگے جیسے دھند سی چھا رہی تھی-
مجھے۔۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو بیٹا- اس نے بے اختیار چکراتا ہوا سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا-
ابھی۔۔۔۔ ابھی جاؤ یہاں سے پلیز-
چند لمحے وہ اداسی سے اسے دیکھتا رہا، پھر جھک کر گھاس پہ بیٹھی موٹی سفید بلی اٹھائی اور واپس پلٹ گیا-
کیا یہی واحد وجہ ہے؟
کیا تمہیں بالکل امید نہیں ہے کہ وہ رجوع کرے گا؟
کیا تم خود کو اتنا اسٹرونگ فیل کرتی ہو کہ حالات کا مقابلہ کر لوگی؟اس کے ذہن میں فرشتے کی باتیں گونج رہیں تھی-
ہر شام ہمایوں گھر سے چلا جاتا- کسی دوست کے پاس، ہر شام فرشتے بھی گھر سے چلی جاتی -اس نے کبھی نہیں بتایا کہ وہ کدھر جاتی ہے-اس نے کبھی نہیں بتایا کہ محمل کی عدت ختم ہونے کے بعد وہ کدھر جائے گی؟اور وہ ابھی تک ادھر کیوں رہ رہی تھی؟کیا صرف محمل کی کئیر کے لیے؟وہ کئیر تو کوئی نرس بھی کر سکتی تھی-پھر وہ کیوں ان کے گھر میں تھی؟
اس نے کبھی فرشتے کو قرآن پڑھتے نہیں دیکھا تھا- جس روز وہ مسجد گئی تھی- فرشتے ادھر نہیں تھی-وہ شام تک وہی رہی ، مگر وہ ادھر نہیں آئی- وہ غلط فہمی کا شکار رہی اور فرشتے نے اس کئ غلط فہمی نہیں دور کی-
اور آرزو؟اس کا کیا قصہ تھا؟وہ گواہ تھی کہ ہمایوں اس سے شادی کر رہا تھا-اس نے خود آرزو سے یہی کہا تھا مگر جب محمل نے پوچھا تھا تب اس نے کیا کہا تھا، یہ بتانا ضروری نہیں ہے-اس نے کبھی نہیں کہا کہ وہ آرزو سے شادی کررہا ہے-فرشتے نے کبھی اس کے اور آرزو کے غیر واضح تعلق پہ فکر مندی ظاہر نہیں کی- وہ سب کسی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ تھا- وہ دونوں جانتے تھے اور ایک اسی کو بے خبر رکھا تھا- وہ تم سے بہتر ہے- یہ ہی کہا تھا ہمایوں نے، اور یقینا فرشتے کی بات کر رہا تھا-
لیکن وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے؟وہ اس کے گھر میں خیانت کیسے کر سکتی ہے؟وہ تو قرآن کی طالبہ تھی، وہ تو سچی تھی امانت دار تھی- پھر وہ کیوں بدل گئی؟وہ جو لمحوں کی امانت کا خیال رکھتی تھی رشتوں میں خیانت کیسے کر گئی؟
سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا- دل ڈوبا جا رہا تھا- آج اسے لگا تھا کہ سب دھوکے باز نکلے تھے، سب خود غرض نکلے تھے-ہر شخص اپنی زمین کی طرف جھکا تھا- اس کا کوئی نہیں تھا،کوئی بھی نہیں، وہ کتنی ہی دیر ہاتھوں میں سر گرائے بیٹھی رہی-
بہت سے لمحے سرکے ، تو اسے یاد ایا کہ جہاں سب بدل گئے تھے ، وہاں کوئی نہیں بدلا تھا-جہاں سب نے دھوکا دیا ، وہاں کسی نے اس کا خیال بھی رکھا تھا-جہاں سب چھوڑ گئے – وہاں کسی نے سہارا بھی دیا تھا-
اوہ !اس نے آہستہ سے سر اٹھایا اور پھر دھیرے سے وہیل چئیر کے پہیوں کو اندر کی جانب موڑا-
اس کے کمرے میں شیلف کے اوپر اس کا سفید کور والا مصحف پڑا تھا، اس نے سرعت سے اسے اٹھایا اس وقت اسے اس کی بے حد ضرورت تھی-
مصحف کے نیچے اس کا پرانا رجسٹر رکھا تھا-اس نے قرآن اتھایا تو رجسٹر پھسل کر نیچے گر گیا- محمل نے ہاتھ میں قرآن پکڑے ، جھک کر رجسٹر اٹھایا- وہ درمیان سے کھل گیا تھا- اسے بند کر کے رکھتے ہوئے ٹھہر سی گئی، کھلے صفحے پہ سورہ بقرہ کی اس آیت کی تفسیر لکھی تھی جس پہ وہ ہمیشی الجھتی تھی- حطتہ اور حنطتہ- یہ صفحہ بہت دفعہ کھولنے کے باعث اب رجسٹر کھولتے ہی یہ کھل جاتا تھا-
کھلا ہوا رجسٹر اس کے دائیں ہاتھ میں تھا، اور قرآن بائیں ہاتھ میں، دونوں اس کے بالکل سامنے تھے-رجسٹر کی سطر حنطتہ کا مطلب ہوتا ہے گن – کے اگے صفحہ ختم تھا-وہ بے اختیار اس سطر کو قرآن کے سفید کور کے قریب لائی جہاں مٹا مٹا سا “م” لکھا تھا-
اس نے گن اور م کو ملایا- دونوں کے درمیان ایک ننھا سا نقطی تھا-اس نے نقطوں کو جوڑا، ادھورا لفظ مکمل ہوگیا-
گندم-
وہ ننھے نقطے دال کے دو حصے تھے-
اسے یاد آیا وہ غلطی سے قرآن پہ رجسٹر رکھ کر لکھ رہی تھی- صفحی ختم ہوا تا لا شعوری طور پہ اس نے لفظ قرآن کے کور پہ مکمل کردیا-اسی وقت اسے کلاس انچارج سے ڈانٹ پڑی تو یہ بات ذہن سے محو ہو گئی – وہ کبھی جان ہی نہ پائی کہ یہ مٹا مٹا سا م اس ادھورے لفظ کی تکمیل تھا-
آج برسوں بعد وہ قصہ مکمل ہوگیا تھا-اس کے ذہن میں ایک روشنی کا کوندا سا لپکاتھا اور ساری گتھیاں سلجھ گئی تھیں-
بنی اسرائیل کو شہر کے دروازے میں داخل ہونے سے قبل بخشش مانگنے کا حکم ملا تھا-مگر وہ گندم مانگتے رہے-بخشش نہیں مانگی-یہ بنی اسرائیل کی ریت تھی اور یہ ہی ریت خود اس نے بھی دہرائی تھی-
ہم زمانہ جاہلیت سے دور اسلام میں آکر ایک ہی دفعہ توبہ کرتے ہیں، مگر بار بار کی توبہ بھول جاتے ہیں، ہم ایک کھائی سے بچ کر سمجھتے ہیں زندگی میں پھر کبھی کھائی نہیں آئے گی اور اگر آئی تو بھی ہم بچ جائیں گے-ہم ہمیشہ نعمتوں کو اپنی نیکیوں کو کا انعام سمجھتے ہیں اور مصیبتوں کو گناہ کی سزا۔۔۔۔۔۔ اس دنیا میں جزا بہت کم ملتی ہے اور اس میں بھی امتحان ہوتا ہے، نعمت شکر کا امتحان ہوتی ہے اور مصیبت صبر کا اور زندگی کے کسی نئے امتحان میں داخل ہوتے ہی منہ سے پہلا کلمہ حطتہ کا نکلنا چاہیئے- مگر ہم وہاں بھی گندم مانگتے رہتے ہیں-
اللہ اسے زندگی کے ایک مختلف فیز میں لایا تو اسے بخشش مانگنی چاہیئے تھی-مگر وہ ہمایوں اور تیمور کو مانگتی رہی – حنطتہ حنطتہ کہنے لگ گئی-گندم مانگنا برا نہیں تھا-مگر پہلے بخشش مانگنا تھی، وہ پہلا زینہ چڑھے بغیر دوسرے کو پھلانگنا چاہتی تھی اور ایسے پار کب لگا جاتا ہے؟
اسے نہیں معلوم وہ کتنی دیر تک میز پہ سر رکھے زارو قطار روتی رہی ، آج اسے اپنے سارے گناہ پھر سے یاد ارہے تھے-آج وہ پھر سے توبہ کر رہی تھی- وہ توبہ جو بار بار کرنا ہم نیک ہونے کے بعد بھول جاتے ہیں-
زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جب آپ سے خود قرآن نہیں پڑھا جاتا- اس وقت اپ کسی اور سے قرآن سننا چاہتے ہیں-آپ کا دل کرتا ہے کہ کوئی آپ کے سامنے کتاب اللہ پڑھتا جائے اور آپ روتے جائیں-بعض دفعہ آپ خوش ہونے کے لیے اس کے پاس جاتے ہیں اور بعض دفعہ صرف رونے کے لیے-
اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ خوب روئے- قرآن سنتی جائے اور روتی جائے- تلاوت کی کیسٹوں کا ڈبہ قریب ہی رکھا تھا- ٹیپ ریکارڈ بھی ساتھ تھا-اس نے بنا دیکھے آخر سے ایک کیسٹ نکالی اور بنا دیکھے ہی ڈال دی- ابھی نہ معافی جاننا چاہتی تھی، نہ ہی فہم پہ غور و فکر کرنا چاہتی تھی-ابھی وہ صرف سننا چاہتی تھی –
اس نے پلے کا بٹن دبایا اور میز پہ رکھ دیا- آنسو اس کی آنکھون سے ٹپک کر میز کے شیشے پر گر رہے تھے- قاری صہیب احمد کی مدھم ، پر سوز آواز دھیرے سے کمرے میں گونجنے لگی تھی- والضحی ۔۔۔۔۔۔ قسم ہے دن کی-
وہ خاموشی سے سنتی رہی-اسے اپنی زندگی کے روشن دن یاد آرہے تھے ، جب وہ اس گھر کی ملکہ تھی-
اور قسم ہے رات کی جب جب وہ چھا جائے-
اسکو وہ سناٹے بھری رات یاد آئی جب ہمایوں نے اسے طلاق دی تھی، وہ رات جب وہ یہیں بیٹھی چھت کو دیکھتی رہی تھی-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: