Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 40

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 40

–**–**–

 

اسکو وہ سناٹے بھری رات یاد آئی جب ہمایوں نے اسے طلاق دی تھی، وہ رات جب وہ یہیں بیٹھی چھت کو دیکھتی رہی تھی-
تمہارے رب نے تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا اور نہ ہی ناراض ہے- ( الضحی ، 3)
اس کے آنسو روانی سے گرنے لگے تھے- یہ کون تھا جو اس کی ہر سوچ پڑھ لیتا تھا؟ یہ کون تھا؟
یقینا تمہارے لیے انجام آغاز میں بہتر ہوگا-
(الضحی 4)
اس نے سختی سے آنکھیں میچ لیں- کیا واقعی اب بھی اس سارے کا انجام اچھا بھی ہو سکتا تھا؟
تمہارا رب بہت جلد تمہیں وہ دے گا جس سے تم خوش ہو جاؤ گے- (الضحی 5)
ذرا چونک کر بہت آہستہ سے محمل نے سراٹھایا –
اللہ کو اس کی اتنی فکر تھی کہ وہ اس کے اداس دل کو تسلی دینے کے لیے یہ سب اسے بتا رہا تھا؟کیا واقعی اس نے اسے چھوڑا نہین تھا؟
کیا اس نے تمہیں یتیم پا کر ٹھکانا نہیں دیا؟
(الضحی 6)
وہ اپنی جگہ سن سی رہ گئی – یہ ۔۔۔۔۔۔ یہ سب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا واضح ،اتنا صاف ، یہ سب اس کے لیے اترا تھا؟کیا وہ اس قابل تھی؟
کیا اس نے تمہیں راہ گم پا کر ہدایت نہیں دی؟
(الضحی 7)
وہ ساکت سی سنے جا رہی تھی، ہاں یہی تو ہوا تھا-
اور تمہیں نادار پا کر غنی نہیں کردیا ؟(الضحی 8)
اس کے آنسو گرنا رک گئے تھے- کپکپاتے لب ٹھہر گئے تھے-
پس تم بھی یتیم سے سختی نہ کرنا، اور سائل کو مت ڈانٹنا- اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتے رہنا-
(الضحی 9)
سورۃ الضحی ختم ہو چکی تھی- اس کی زندگی کی ساری کہانی گیارہ آیتوں میں سمیٹ کر اسے سنا دی گئی تھی- وہ سورہ جیسے ابھی ابھی اسمانوں سے اتری تھی، اس کے لیے صرف اس کے لیے-
اس نے تھک کر سر کرسی کی پشت سے ٹکا لیا، اورآنکھیں موند لیں-وہ کچھ دیر ہر سوچ سے بے نیاز سونا چاہتی تھی-پھر اٹھ کر اسے فرشتے سے ملنا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بادل زور سے گرجے تھے-
محمل نے ایک نظر کھڑکی سے باہر پھسلتی شام پہ دالی اور دوسری بند دروازے پہ-اس کی دوسری طرف اسے قدموں کی چاپ کی آواز سنائی دے رہی تھی- ابھی چند منٹ قبل اس نے فرشتے کو گیٹ سے اندر داخل ہوتے دیکھا تھا-اس کے آنے کے کچھ دیر بعد ہمایوں کی گاڑی اندر داخل ہوئی تھی-البتہ وہ پانچ منٹ بعد ہی کچھ کاغذات اٹھا کر واپس چلا گیا تھا-اس کی گاری ابھی ابھی نکلی تھی-
وہ کھڑکی کے اس طرف چوکیدار کو گیٹ بند کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی، جب دروازہ ہولے سے بجا-
محمل؟فرشتے نے اپنے مخصوص نرم انداز میں پکارا،پھرہولے سے دروازہ کھولا- اب وہ کثرت سے سلام نہیں کرتی تھی-محمل نے گردن موڑ کر دیکھا-وہ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی تھی- دراز قد کانچ سی سنہری آنکھوں والی لڑکی، جو کھلتے گلابی رنگ کے لباس میں، سر پہ دوپٹہ لیے کھڑی تھی- وہ کون تھی-اسے لگا وہ اسے نہیں جانتی-
کیسی ہو؟نرم سی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے وہ اندر داخل ہوئی-
بلقیس بتا رہی تھی تم میرا پوچھ رہی تھی- وہ آگے بڑھ کر عادتا شیلف پہ پڑی کتابیں ، رجسٹر اور ٹیپ وغیرہ سلیقے سے جوڑنے لگی تھی- اس کے بھورے بال کھلے تھے اور اس نے انہی پہ دوپٹہ لے رکھا تھا، ایسے کہ چند لٹیں باہر گر رہی تھیں-گلابی دوپٹے کے ہالے میں اس کا چہرہ دمک رہا تھا-
جی-مجھے پتا نہیں کی آپ کدھر ہیں- محمل نے بغور اس کو دیکھا، جو اس کے سامنے سر جھکائے کتابیں سیٹ کر رہی تھی-
اسے ابھی بھی تیمور کی بات پر مکمل یقین نہیں تھا-فرشتے ایسا نہیں کر سکتی تھی، کبھی بھی نہیں، یقینا تیمور کو سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی-
میں ایک دوست کے ساتھ تھی کچھ شاپنگ کرنا تھی- بے حد رسانیت سے بتا کر اس نے رجسٹر ایک دوسرے کے اوپر رکھے- نہ اس نے جھوت بولا نہ سچ بتایا- اس کا یقین ڈگمگانے لگا-
آپ نے آگے کا کیا سوچا ہے فرشتے؟ میرے جانے کے بعد آپ کیا کریں گی؟
ابھی پلان کروں گی دیکھو کیا ہوتا ہے-وہ اب گلدان میں رکھے سوکھے پھول احتیاط سے نکال رہی تھی- اس کے جواب مبہم تھے۔۔۔۔ نہ سچ نہ جھوٹ-
اور تم سارا دن کیا کرتی رہیں؟اس نے چڑمڑائے سوکھے پھول ڈست بن میں ڈالے – کچھ خاص نہیں-
دونوں خاموش ہوگئیں، اپنی اپنی سوچوں میں گم- اب اس کے پاس حقیقت جاننے کا ایک ہی راستہ تھا اور اس نے استعمال کرنے کا ارادہ کیا-
فرشتے، وہ جسم کس کی کرسی پہ ڈالاگیا تھا؟
کون سا جسم ؟فرشتے نے پلٹ کر اسے دیکھا- پلٹنے سے اس کا دوپٹہ سرکنے سے بھورے بال جھلکنے لگے تھے-
قرآن میں ایک جگہ ایک جسم کا ذکر ہے جو کسی کی کرسی پہ ڈالا گیا تھا- آپ کو یاد ہے وہ کس کا جسم تھا؟اس کا انداز یوں تھا جیسے بھول گئی ہو-
فرشتے نے الجھ کر چند لمحے سوچا، پھر نفی میں سر ہلادیا- نہیں مجھے نہیں یاد آرہا-
اور محمل کو سارے جواب مل گئے تھے- فرشتے قرآن بھول گئی تھی- اگر وہ اسے پڑھتی رہتی تو اسے یاد رہتا ، لیکن وہ اسے پڑھنا چھوڑ چکی تھی اور قرآن تو چند دن کے لیے بھی چھوڑ دیا جائے تو وہ فورا ذہنوں سے مکمل طور پہ محو ہو جاتا ہے-یہ کتاب اللہ کی سنت تھی اور کبھی یہ تبدیل نہیں ہوگی-
اس نے گہری سانس لی-
وہ سلیمان علیہ السلام کی کرسی تھی جس پہ ایک جسم ڈال دیا گیا تھا-
اوہ اچھا- فرشتے نے میز پہ گرے پانی کے قطرے ٹشو سے صاف کیے-
کیوں کیا آپ نے ایسے فرشتے؟ وہ بہت دکھ سے بولی تھی، اب وقت آگیا تھا کہ چوہے بلی کا کھیل بند کردے-
کیاَفرشتے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا-اس کے چہرے پر صرف استفسار تھا-
وہ جو اس گھر میں ہوتا رہا میں وہ سب جاننا چاہتی ہوں؟
مثلا؟اس نے ابرو اٹھائی ، اس کے چہرے پہ وہ ہی نرم سا تاثر تھا- سب کچھ!
سب کچھ؟ کس بارے میں میری اور ہمایوں کی شادی کے بارے میں؟اس کے انداز میں ندامت تھی، نہ پکرے جانے کا خوف، وہ بہت آرام سے پپوچھ رہی تھی-
سب کچھ! اس نے آہستہ سے دہرایا-
جب ہمایوں کراچی سے آیا تو اس نے مجھے پرپوز کیا-وہ تمہارے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تھا، مگر طلاق سے قبل وہ مجھ سے شادی نہیں کر سکتا تھا- سو ہم نے ڈیسائیڈ کیا جب تم ہوش میں آؤ گی وہ تمہیں ڈائیورس دے گا اور ہم شادی کر لیں گے-
وہ جیسے موسم کی کوئی خبر سنا رہی تھی-
وہ کہتا تھا علماء سے فتوی لے لیتے ہیں، مگر میرا دل نہیں مانا ، میں نے سوچا کہ کچھ وقت اور انتظار کر لیتے ہیں – اور پھر تم ہوش میں آگئیں- سو اس نے ڈائیورس پیپرز سائن کر دیے- مجھے پرپوز کرنے سے قبل ہی وہ تمہیں ڈائیورس دینے کا فیصلہ کر چکا تھا، اگر یہ ضروری نہ ہوتا وہ تب بھی ایسے ہی کرتا، کیونکہ وہ یہ شادی رکھنے کو راضی نہیں تھا-
وہ بہت سکون اور اطمینان سے میز سے ٹیک لگائے کھڑی اس کے بارے میں ان کہے سوالات کے جوابات دے رہی تھی-
میں نے اس کا پرپوزل اس لیے قبول کرلیا کیونکہ طلاق کے بعد اسے بھی کسی نہ کسی سے شادی کرنا ہی تھی، اور مجھے بھی اور چونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جانتے اور سمجھتے تھے، سو اس کے پرپوزل میرے لیے بہترین چوائس تھا- میں اس کو تمہارے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے لیے مجبور بہیں کر سکتی تھی، نہ ہی وہ کسی کی مانتا ہے-سو شرعی لحاظ سے میرے پاس پرپوزل قبول کرنے کا حق تھا سو میں نے وہ استعمال کیا-
اس کے پاس دلائل تھے، توجیہات تھیں، ٹھوس اور وزنی شرعی سہارے تھے-محمل خاموشی سے اس کی ساری باتیں سنتی رہی ، وہ ذرا دیر کو چپ ہوئی تو اس نے لب کھولے-
اور جب ہمایوں نے آپ سے میرے اور فواد کے تعلق کی نوعیت اور ان تصاویر کے بارے میں پوچھا تھا تب آپ نے کیا کہا تھا؟اس نے اندھیرے میں تیر چلایا تھا-
وہ ہی جو سچ تھا- وہ اب بھی پرسکون تھی- اس کو معیز نے کچھ تصاویر اور ایگری منٹ لا کر دکھایا تھا جو ہم نے فواد سے طے کیا تھا-میں سمجھتی تھی کہ تم نے اس کے بارے میں ہمایوں کو بتا دیا ہو گا، میں نے اس کے غصے کے ڈر سے خود نہیں بتایا تھا- مگر تم نے بھی نہیں بتایا تو اس کا غصہ کرنا لازمی تھا – اس نے مجھے بلایا ، پھر وہ مجھ پر چیخا ، چلایا،میں چپ کر کے سنتی رہی، اس نے پوچھا کہ یہ ایگری منٹ سچا ہے یا جھوٹا- میں نے سچ بولا- وہ غصے میں چلاتا رہا ، اسے دکھ تھا کہ ہم دونوں نے اس پہ ٹرسٹ نہیں کیا- پھر اس نے وہ تصویریں مجھے دکھائیں اور پوچھا کہ وہ سچ ہے یا جھوٹَ میں نے سچ ہی بولا-
کیا بولا؟ محمل نے تیزی سے اس کی بات کاٹی-یہی کہ مجھے معلوم نہیں اور مجھے واقعی معلوم نہیں تھا-
اور وہ اسے دیکھتی رہ گئی،یہ فرشتے کا سچ تھا؟
پھر اس نے پوچھا معیز اسے جو باتیں بتا کر گیا وہ سچ ہیں یا جھوٹ؟وہ اسے یہ بتا کر گیا تھا کہ تمہارا اور فواد کا افیر تھا اس رات فواد نے تمہیں پرپوز کرنا تھا ، کوئی رنگ بھی دی تھی غالبا اور پھر اس نے تمہیں بہانے سے ہمایوں کے گھر بھیج دیا -اس رنگ کا ذکر فواد کی اس فون کال میں بھی تھا جو ہمایوں نے ٹیپ کی تھی-
یہ بات اس نے پہلے اگنور کردی تھی، پھر ظاہر ہے معیز نے یاد دلایا تو وہ الجھ گیا-اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے سچ بولا-
اب کی بار وہ خاموش رہی- اس نے نہیں پوچھا کہ فرشتے کا سچ کیا تھا- وہ جان گئی تھی کہ وہ کیا کہنے جا رہی ہے-
میں نے اسے کہہ دیا کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی ، نہ ہی تم نے کبھی مجھے اس معاملے میں راز دار بنایا ہے-اس نے اس رات کے متعلق پوچھا تو میں نے سچ سچ بتا دیا کہ فواد تمہیں پرپوز کرنے کے بہانے ڈنر پہ لے جا رہا تھا- تم نے مجھے یہی بتایا تھا سو میں نے یہی بتا دیا –
وہ چپ چاپ یک لخت سامنے کھڑی مطمئن سی لڑکی کو دیکھتی رہی -جس کے چہرے پر ملال تک نہ تھا-وہ اس کا ایک راز تک نہ سنبھال سکی تھی-
وہ سچ کیسے ہو سکتا ہے، جس میں کسی امانت کا خون شامل ہو؟وہ تو اسے جانتی تھی، وہ اس کی بہن تھی،کیا وہ اسکی پردہ پوشی نہیں کر سکتی تھی؟فواد نے کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ اسے پرپوز کرنے جا رہا ہے-یہ سب تو اس نے خود اخذ کیا تھا-اس سے ایک غلطی ہوئی تھی- وہ سمجھی کہ وقت کی دھول نے اس کی غلطی کو دبا دیا ہوگا، مگر لڑکیوں کی کچی عمر کی نادانیاں اتنی آسانی سے کہاں دبتی ہیں-
اس ٹیپ میں کسی رنگ کابھی ذکر تھا-ہمایوں نے اسے بار بار سنا، وہ مجھ پر غصہ ہوتا رہا کہ میں نے اسے بے خبر کیوں رکھا،پھر اس نے اپنا ٹرانسفر کراچی کروالیا-
وہ اب کھڑکی سے باہر لان میں دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی-
وہاں کراچی میں اسے آرزو ملی-اس کے فادر کی ڈیتھ کے بعد کریم چچا اور غفران چچا نے اس کا حصہ بھی دبا لیا تھا-سو اس نے سوچا کہ ایک تیر سے دو شکار کرتے ہیں-اس نے فواد سے تمہارا اور میرا سائن کردہ کاغذ لیا اور معیز کے ہاتھوں ہمایوں کوبھجوادیا- فواد آرزو کو پسند کرنے لگا تھا، وہ اب اس سے شادی کرنا چاہتا تھا، وہ اسے اپنانے کے لیے تڑپ رہا تھا- مگر آرزو کو ہمایوں بہتر لگا، سو اس نے چاہا کہ ہمایوں تمہارا حصہ قانونی طور پر آغآ کریم سے واپس لے ، اس کا حصہ لینے میں بھی مدد کرے تو تمہارے حصے پہ بھی وہ قابض ہو سکے جو ہمایوں کی ملکیت میں ہوگا، اور نیچرلی ، تمہارے بارے میں وہ پر یقین تھی کہ تم کبھی نہیں اٹھو گی-
بادل ایک دفعہ پھر زور سے گرجے، دور کہیں بجلی چمکی تھی،شام کی نیلاہٹ سارے میں بھر رہی تھی-
وہ ابھی تک خاموشی سے فرشتے کو سن رہی تھی-
مگر ہمایوں کو فواد سے ضد ہو گئی تھی-صرف اس لیے کہ فواد آرزو کو پسند کرتا تھا- اس نے آرزو کو اپنے قریب آنے دیا- فواد ہمایوں کی منتیں کرتا رہا کہ وہ آرزو کو چھوڑ دے ، مگر ہمایوں اس سے اپنے سارے بدلے چکانا چاہتا تھا-وہ کہتا تھا کہ فواد نے اس کی محبت کو اس سے چھینا ہے، وہ بھی اس کی محبت کو ویسے ہی چھینے گا- وہ آرزو سے کبھی بھی شادی نہیں کر رہا تھا، مگر اس نے آرزو کو دھوکے میں رکھا ابھی مجھے ڈراپ کر کے وہ آرزو کے پاس ہی گیا ہے، اس کو بتانے کہ جیسے وہ اس کو استعمال کر رہی تھی ، ویسے ہی وہ بھی اس کو استعمال کر رہا تھا-وہ شدت پسند لڑکی ہے جانے غصے میں کیا کر ڈالے- مگر جو بھی ہو وہ آج اسے آئینہ دکھا کر ہی واپس آئے گا-
کھڑکی کے بند شیشے پہ کسی چڑیا نے زور سے چونچ ماری، پھر چکرا کر پیچھے کو گری ، بادل وقفے وقفے سے گرج رہے تھے-
شاید تم یہ سمجھو کہ میں نے تمہارے ساتھ برا کیا ہے یا یہ کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا-لیکن تم یہ سوچو میں پھر اور کیا کرتی؟میں ہمایوں سے بہت محبت کرتی تھی اور کرتی ہوں-مگر جب مجھے لگا تم دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہو تو میں درمیان سے نکل گئی،لیکن اب وہ تمہیں نہیں چاہتا، اور مجھے بھی کسی نا کسی شادی تو کرنا تھی-مجھے بتاؤ میں نے کیا غلط کیا؟
میرے دین نے مجھے پرپوزل سلیکٹ کرنے کا اختیار دیا تھا- سو میں نے اسے استعمال کیا-تم کسی بھی مفتی سے پوچھ لو، اگر کوئی عورت شوہر کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہی ہو تو شوہر دوسری شادی کر سکتا ہے،اور اس میں کسی کی حق تلفی کی کوئی بات نہیں ہے-نہ ہی قطع رحمی کا عنصر شامل ہے، یاد کرو سورۃ نساء میں ہم نے کیا پڑھا تھا؟کہ اگر کوئی ایک حقوق ادا نہ کر سکے تو پھر اپنے حقوق چھوڑ دے، الگ ہو جائے کہ اللہ دونوں کے لیے وسعت پیدا کر دے گا-
اپنے مطلب کی آیات اسے آج بھی یاد تھیں-
آئی ہوپ کہ اب تمہاری کنفیوژن اور اعتراضات دور ہوگئے ہونگے-میں نے سات سال تمہاری خدمت کی،حالانکہ یہ میرا فرض نہیں تھا،مگر اس لیے کہ تم کبھی یہ نہ سمجھو کہ میں تم سے پیار نہیں کرتی ہوں-تم نے ایک بار مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ضرورت پڑنے پر تم میرے لیے اپنا حق چھوڑ دوگی،فواد نے تمہاری گردن پہ پستول رکھا تھا، تمہیں بچانے کے لیے میں نے اپنا حق چھوڑ دیا تھا-یہ باتیں میں نے آج کے دن کے لیے سنبھال کر رکھی تھیں، تا کہ آج میں تم سے تمہارے وعدے کی وفا مانگ سکوں-
وہ خاموش ہو گئی- اب محمل کے بولنے کی منتظر تھی-
محمل چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہی ، پھر آہستہ سے لب کھولے –
” آپ نے کہہ لیا جو آپ نے کہنا تها؟”
“ہاں-“
” کیا اب آپ میری سنییں گی؟” اس کا لہجہ سپاٹ تها-
” ہاں-“
” تو پهر سنیئے’ اعوذبااللہ من الشیطن الرجیم-” اس نے تعوذ پڑها توفرشتے نے ذرا الجھ کر اسے دیکها- مگر وہ رکی نہین تهی، بہت دهیمے مگر مضبوط لہجے میں اسے کچھ سنانے لگی تهی- وہ عربی جو ان دونوں کو سمجھ میں آتی تهی-
” اور اسی طرح ہم کهول کهول کر آیات بیان کرتے ہیں’ شاید کہ وہ پلٹ آئیں-…..شاید کہ وہ پلٹ آئیں-“
فرشتے کی آنکهوں میں الجها سا تاثر ابهرا- محمل بنا پلک جهپکے اس کی انکهوں میں دیکهتے ہوئے پڑهتی جا رہی تهی-
” ان لوگوں کو اس شخص کی خبر پڑھ کے سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیات دی تهیں- جس کو ہم نے اپنی” آیات” دی تهیں- پهر وہ ان سےنکل بهاگا تو اس کے پیچهے شیطان لگ گیا تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا-“.
فرشتے کی بهوری آنکهوں میں بےچینی ابهری تهی- ” محمل! میری بات سنو-“
مگر وہ نہیں سن رہی تهی- پتلیوں کو حرکت دیے بنا نگاہیں اس پہ مرکوز کیے کہتی جا رہی تهی-
” تو وہ گمراہوں میں سے ہو گیا-” اس کی آواز بلند ہو رہی تهی- ” اور اگر ہم چاہتے تو اسے انہی آیات کے ساتھ بلندی عطا کرتے’ لیکن وہ زمین کی طرف جهک گیا-“
” محمل چپ کرو-” وہ زیر لب بڑبڑائی تهی’ مگر محمل کی آواز اونچی ہو رہی تهی-
” لیکن وہ زمین کی طرف جهک گیا اور اس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی- تو اس کی مثال اس کتے جیسی ہے – تو اس کی مثال کتے جیسی ہے-“
” اگر تم اس پہ حملہ کرو تو وہ زبان باہر نکالتا ہے’ یا تم اس کو چهوڑ دو ‘ تو بهی وہ زبان باہر نکالتا ہے-“
‘ خاموش ہو جاؤ! خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ-” اس نے تڑپ کر محمل کے منہ پر ہاتھ رکهنا چاہا’ اس کا دوپٹہ کندهوں سے پهسل گیا تها’ کهلے بال شانوں پی آگرے تهے-
محمل نے سختی سے اس کا ہاتھ جهٹکا- اسی میکانکی انداز میں اسے دیکهتی پڑهتی جا رہی تهی-
” جسے اللہ ہدایت بخشے ‘ پس وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بهٹکا دے ‘ بس وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں-“
اس کے ہاتھ بے دم ہو کر اپنی گود میں آ گرے تهے- وہ پهٹی پهٹی نگاہوں سے اسے دیکهتی ‘ گهٹنوں کے بل اس کے قدموں میں گری تهی-
” بےشک ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جنوں میں سے اور بہت سےانسانوں میں سے پیدا کیے ہیں- ان کے لیے دل ہیں- وہ ان سے کچھ بهی نہیں سمجهتے اور ان کے لیے آنکهیں ہیں ‘ وہ ان سے کچھ بهی نہیں دیکهتے- اور ان کے لیے کان ہیں- وہ ان سے کچھ بهی نہیں سنتے- یہی لوگ مویشیوں کی طرح ہیں’ بلکہ یہ تو زیادہ بهٹکے ہوئے ہیں- یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں’ جو غافل ہیں-” وہ کسی معمول کی طرح بار بار وہی لفظ دہرا رہی تهی-
فرشتے سفید چہرہ لیے بےدم سی بیٹهی تهی-اس کے لب ہولے ہولے کپکپارہے تهے- محمل نے آہستہ سے پلک جهپکی تو دو آنسو ٹوٹ کر اس کی آنکهوں سے گرے-
” اور اسی طرح ہم کهول کهول کر اپنی آیات بیان کرتے ہیں ‘ شاید کہ وہ پلٹ آئیں!”
اس نے وہیل چئیر کے پہیوں کو دونوں اطراف سے تهاما اور اس کا رخ کهڑکی کی طرف موڑا وہ آہستہ آہستہ وہیل چئیر کو کهڑکی کی طرف بڑهانے لگی-
فرشتے پیچهے بیٹهی رہ گئی تهی-محمل نے پلٹ کر اسے نہیں دیکها- وہ ابهی پلٹنا نہیں چاہتی تهی-
” اور اسی طرح ہم کهول کهول کر آیات بیان کرتے ہیں ‘ شاید کہ وہ پلٹ آئیں!” وہ کهڑکی کے پار دیکهتے ہوئے زیرلب بڑبڑائی تهی-
فرشتے سے مزید کچھ نہیں سنا گیا- وہ تیزی سے آٹهی اور منہ پر ہاتھ رکهتے ہوئے تیزی سے بهاگتی ہوئی باہر نکل گئی-
محمل اسی طرح نم آنکهوں سے باہر چمکتی بجلی کو دیکهتی رہی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ تب بھی کھڑکی کے سامنے بیٹھی تھی جب ہمایوں کی گاڑی اندر آئی – اور تب بھی ، جب رات ہر سو چھا گئی- اس کی اس گھر میں آخری رات۔۔۔ اور وہ اسے سکون سے گزارنا چاہتی تھی-تب اس نے بلقیس کو بلوایا جس نے اسے بستر میں لیٹنے میں مدد دی- پھر وہ آنکھوں پہ ہاتھ رکھے کب گہری نیند میں چلی گئی اسے پتا ہی نہیں چلا-
اس کے زہن میں اندھیرا تھا، گھپ اندھیرا جب اس نے وہ آواز سنی- تاریکی کو چیرتی ، مدھر آواز آپنی جانب کھینچتی آواز-
محمل نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولیں-
کمرے میں نائٹ بلب جل رہا تھا- کھڑکی کے اگے پردے ہٹے تھے- وہ رات کے وقت شیشے کے پٹ کھول کر رکھتی تھی تا کہ جالی سے ہوا اندر ائے- وہیں باہر سے کوئی آواز اندر ارہی تھی
اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پہ ہاتھ مارا، اور بٹن دبایا- ٹیبل لیمپ فورا جل اٹھا- روشنی سامنے دیوار گیر گھڑی پہ پڑی – رات کا ایک بج رہا تھا- وہ مدھم سی دکھ بھری آواز ابھی تک آرہی تھی-
اس نے رک کر سننا چاہا- لفظ کچھ کچھ سنائی دینے لگے تھے-
اللھم جعل فی قلبی نورا
(اے اللہ میرے دل میں نور ڈال دے)
محمل نے بے اختیار سائیڈ ٹیبل پہ رکھی بیل پہ ہاتھ مارا-
وفی بصری نورا
(اور میری بصیرت میں نور ہو)
بلقیس تیزی سے دروازہ کھول کر اندر آئی تھی-
محمل کی وجہ سے وہ کچن میں ہی سوتی تھی-
جی بی بی؟
مجھے بٹھا دو ،بلقیس ! اس نے بھرائی ہوئی آواز میں وہیل چئیر کی طرف اشارہ کیا- بلقیس سر ہلا کر آگے بڑھی، تب ہی کھڑکی کے اس پار سے آواز ائی-
وفی سمعی نورا
(اور میری سماعت میں نور ہو)
بلقیس چونک کر کھڑکی کو دیکھنے لگی ، پھر سر جھٹک کر اس کی طرف ائی-
وعن یمنی نورا وعن یساری نورا
(اور میرے دائیں جانب اور بائیں جانب نور ہو)
بہت احتیاط سے بلقیس نے اسے وہیل چئیر پہ بٹھا دیا-
اب تم جاو- اس نے اشارہ کیا – بلقیس سر ہلاتی متذبذب سی واپس پلٹی –
وفوقی نورا وتحتی نورا
(اور میرے اوپر اور نیچے نور ہو)
مدھم چاندنی کی چاشنی میں ڈوبی آواز ہر شے پہ چھا رہی تھی- محمل نے وہیل چئیر کا رخ باہر کی جانب موڑا-
وامامی نورا وخلفی نورا ( اور میرے آگے پیچھے نور ہو) آواز میں اب آنسو گرنے لگے تھے – وہ وہیل چئیر کو بمشکل گھسیٹتی باہر لائی-
واجعل لی نورا)
( اور میرے لیے نور بنا دے)
چاندنی میں ڈوبا برآمدہ سنسان پڑا تھا- وہ مترنم ، غم زدہ آواز لان سے آرہی تھی-
وفی لسانی نورا وعصبی نورا ( اور میری زبان اور اعصاب میں نور ہو )
اس نے سوز میں پڑھتے ذرا سی ہچکی لی-
محمل آہستہ آہستہ برآمدے کی آرام دہ ڈھلان سے نیچے وہیل چئیر کو اتارنے لگی – یہ ڈھلان فرشتے نے ہی اس کے لیے بنوائی تھی-
ولحمی نورا ودمی نورا
(اور میرے گوشت اور لہو میں نور ہو )
لان کے آخری سرے پہ دیوار سے ٹیک لگائے ایک لڑکی بیٹھی تھی -اس کا سر نڈھال سا دیوار کے ساتھ ٹکا تھا- آنکھیں بند تھیں جب سے قطرہ قطرہ آنسو ٹوٹ کر رخسار پہ گر رہے تھے- لمبے بھورے بال شانوں پہ گرے تھے-
وشعری نورا وبشری نورا ( اور میرے بال و کھال میں نور ہو )
محمل وہیل چئیر کو گھاس پہ آگے بڑھانے لگی گھاس کے تنکے پہیوں کے نیچے چرمڑانے لگے تھے-
میرے نفس میں نور ہو اور میرے لیے نور کو بڑھا دے )
وہ اسی طرح آنسو بہاتی بند آنکھوں سے بے خبر سی پڑھتی جا رہی تھی-
محمل وہیل چئیر اس کے بالکل سامنے لے ائی-
اللھم اعطنی نورا
(اے اللہ ، مجھے نور عطا کردے!)
چاندنی میں اس کے آنسو موتیوں کی طرح چمک رہے تھے-
فرشتے! اس نے ہولے سے پکارا-
فرشتے کی آنکھوں میں جنبش ہوئی- اس نے پلکیں جدا کیں اور محمل کو دیکھا- وہ شاید بہت روئی تھی- اس کی آنکھیں متورم ، سرخ تھیں-
کیوں رو رہی ہیں؟اس کے اپنے آنسو گرنے لگے تھے- یہ وہ لڑکی تھی جس نے اسے قرآن سنایا تھا، قرآن پڑھایا تھا- اس کی جان ان لوگوں سے چھڑائی تھی سات سال اس کی خدمت کی تھی- بہت احسان تھے اس کے محمل پہ- اور آج اس نے اسے رلا دیا!
مجھے رونا ہی تو چاہیے ، وہ سر اٹھا کر چاند کو دیکھنے لگی، میں نے بہت زیادتی کی ہے محمل، بہت زیادتی-
وہ خاموشی سے اس کو سنے گئی – شاید ابھی فرشتے نے بہت کچھ کہنا تھا وہ سب جو وہ پہلے نہیں کہہ سکی- میں نے سات سال توجیہات جوڑیں، دلیلیں اکٹھی کیں اور تم نے سات آیتوں میں انہیں ریت کا ڈھیر بنا دیا – میں نے خود کو بہت سمجھایا تھا – بہت یقین دلایا تھا کہ یہی صحیح ہے مگر آج میرا یقین ٹوٹ گیا ہے محمل میں خود غرض ہو گئی تھی ، کتے کی طرح خود غرض ، جو ہڈی ڈالنے پر بھی زبان نکالتا ہے-
اس کے اوپر چاند کو تکتی آنکھوں سے قطرے گر رہے تھے۔

 

Read More:  Dulhan Novel By Awais Chohan – Episode 3

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: