Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 41

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 41

–**–**–

 

اس کے اوپر چاند کو تکتی آنکھوں سے قطرے گر رہے تھے-
کبھی تم نے میری چاندی کی وہ انگوٹھی دیکھی ہے محمل؟تم نے کبھی نہیں پوچھا کہ وہ مجھے کس نے دی تھی- جانتی ہو، وہ مجھے میری خالہ نے دی تھی – وہ انہوں نے اپنی بہو کے لیے رکھی تھی، اور اپنی وفات سے قبل وہ بیمار تھیں،انہوں نے مجھے وہ پہنا دی- میری امی ان کا مطلب سمجھتی تھیں، مگر خاموش رہیں- وہ وقت آنے پہ ہمایوں سے بات کرنا چہاتی تھیں ، مگر وقت نہیں آیا- آہی نہ سکا- امی فوت ہوئیں تو میں چپ چاپ مسجد چلی گئی- میں برسوں انتظار کرتی رہی کہ ہمایوں کبھی تو اس انگوٹھی کے بارے میں پوچھے گا، مگر اس نے نہیں پوچھا- پھر میں نے صبر کر لیا، مگر انتظار تو مجھے تھا نا-میں نے بچپن سے اپنے نام کے ساتھ اس کا نام سنا تھا مجھے اس پہ اپنا ہی حق لگتا تھا-اور جب ایک روز ہمایوں نے مجھے کہا کہ مجھے شادی کے بارے میں سوچنا چاہیئے ، تو میں نے اس کو خالہ کی خواہش کے بارے میں بتانے کا سوچا-
اس رات میں بہت دیر تک مسجد کی چھت پہ بیٹھی رہی تھی، اور جب میں فیصلہ نہ کر پائی تو دعائے نور پڑھنے لگی -تمہیں پتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کا ایک حصہ سجدے میں پڑھا کرتے تھے؟ اور یہ دعا قرآن سمجھنے میں مدد دیتی ہے میں جب بھی فیصلہ نہ کر پاتی اس دعا کو پڑھتی- اس رات بھی میں پڑھ کر ہٹی ہی تھی کہ تم ہماری چھت پہ آئیں، اور پھر تم ہماری زندگی میں بھی آگئیں-
میں نے آج تک تمہارے لیے جو بھی کیا ہے وہ اللہ کے لیے کیا ہے-مجھے یاد بھی نہیں کہ میں نے کیا کیا تھا، پھر جب میں نے ہمایوں کو تمہارے لیے مسکراتے دیکھا اور اس کے لیے تمہاری آنکھوں کو چمکتے دیکھا تو میں نے سوچا کہ تمہیں آگاہ کر دوں، اور تمہیں یاد ہے جب تم اسپتال میں ہمایوں کو دیکھنے آئی تھیں، تو میں تمہیں بتانے ہی والی تھی- مگر تم نے نہیں سنا ، تب میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں پیچھے ہٹ جاؤں گی-قربانی دے دوں گی- تب میرا جینا، اور میرا مرنا۔ اور میری نماز اور میری قربانی صرف اللہ کے لیے تھی- میں نے ہر چیز بہت خلوس دل دے کی تھی -خود تمہاری شادی کروائی اور اپنے تئیں میں مطمئن تھی لیکن-
جب تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا اور میں پاکستان واپس آئی تو مجھے پہلی دفعہ لگا شاید تم زندہ نہ رہ سکو، اور ہمایوں میرا نصیب۔۔۔۔ اور اس سے آگے سوچنے سےبھی میں ڈرنے لگی تھی-سو واپس چلی گئی- مگر ہمایوں جب بھی کال کرتا اور تمہاری مایوس کن حالت کی خبر دیتا تو مجھے لگتا کہ یہی تقدیر ہے-شاید تم ہمیں چھوڑ جاؤ، تب ہمایوں میرے پاس واپس آجائے، مجھے لگا میری قربانی قبول ہوگئی ہے-اس کا انعام مجھے دیا جانے لگا ہے-مجھے بھول گیا کہ وہ قربانی تو اللہ کے لیے تھی، اللہ کو پانے کے لیے تھی، دنیا کے لیے یا ہمایوں کے لیے تو نہ تھی-مگر تمہاری طرف سے ہم اتنے مایوس ہو گئے تھے کہ آہستہ آہستہ مجھے سب بھولتا گیا- میں ہر نماز میں ، ہر روز تلاوت کے بعد ہمایوں کو خدا سے مانگنے لگی – میں آہستہ آہستہ زمین کی طرف جھکنے لگی تو میرے ساتھ شیطان لگ گیا-
اس کی اٹھی لمبی گردن پہ آنکھوں سے نکلتے آنسو پھسل رہے تھے- اس کی نگاہیں ابھی بھی اوپر چاند پہ ٹکی تھیں- شاید وہ ابھی محمل کو نہیں دیکھنا چاہتی تھی-
جب میں دوبارہ واپس آئی تو اپنی زمین کی طرف جھکی ہوئی آئی ، اس امید پر تمہاری خدمت کرنے لگی کہ شاید یہی دیکھ کر ہمایوں کا دل میری طرف کھنچ جائے- میری اس انتھک خدمت میں ریا شامل ہوگئی- مجھے اس وقت سےڈر نہیں لگا جب میں حشر کے روز اپنے اعمال نامے پہ ان بڑی بڑی نیکیوں پہ کاٹا لگے دیکھوں گی کہ یہ تو ریا کے باعث ضائع ہو گئیں، قبول ہی نہیں کی گئیں- مجھے ڈر نہیں لگا- میں ریا کاری کرتی گئی مگر یقین کرو، قرآن مجھ سے نہیں چھوٹا- میں تب بھی روز اسے پڑھتی تھی مگر میرا جینا مرنا نماز اور قربانی ہمایون کے لیے ہو گئی-
یکدم بادل زور سے گرجے اور اگلے ہی لمحے بارش کے ٹپ ٹپ قطرے گرنے لگے مگر وہ دونوں بے خبر بیٹھی تھیں- پھر ایک دن معیز چلا آیا، اسے آرزو نے بھیجا تھا- وہ ان گزرے سالوں میں کئی دفعہ ہمایوں سے رابطے
کی کوشش کر چکی تھی مگر جب اس نے توجہ نہ دی تو اس نے معیز کو بھیجا تھا–اس کے پاس تصویریں تھیں اور وہ کاغذ -ہمایوں نے مجھ سے پوچھا تو کاغذ کی بابت میں نے سچ بولا، مگر جب اس نے تصویریں میرے سامنے پھینکیں تو میں خاموش ہوگئی- مجھے یقین تھا کہ وہ جعلی ہیں، مگر ٹیکنیکلی – میں نہیں جانتی تھی کہ وہ سچ ہیں یا نہیں-
میرے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا مگر میرا دل ۔۔۔۔ بار بار کوئی میرے اندر وہ آیت دہرا رہا تھا کہ
کیوں نہیں تم نے کہا کہ یہ کھلم کھلا بہتان ہے-
وہ آیت بھی ایک ایسی محترم ہستی کے لیے نازل ہوئی تھی جس کے اوپر لگائے گئے بہتان کی حقیقت سے مومن بے خبر تھے، پھر بھی اللہ نے ان کو سرزنش کی کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کردار کی کتنی سچی ہے ، تم نے اس کی حمایت نہیں کی؟
میں ہمایوں کے سامنے سر جھکائے کھڑی تھی-وہ میرے اوپر چلا رہا تھااور میرے اندر مسلسل کوئی میرے اندر کہہ رہا تھا کہ کہو ہذا افک مبین”( یہ بہتان ہے کھلم کھلا) میں نے سر اٹھایا ، ایک نطر ہمایوں کو دیکھا،وہ ہمایوں جس سے میں محبت کرتی تھی اور پھر میں نے کہہ دیا کہ میں اس بارے میں لا علم ہوں-
تب ایک دم میرے اندر باہر خاموشی چھا گئی-وہ آواز آنا بند ہو گئی-تب ہمایوں نے معلوم نہیں کہاں سے وہ ٹیپ نکالی اور مجھے سنوائی-اس میں کسی انگوٹھی کا تذکرہ تھا -اس نے معیز کی بات دہرائی کہ کیا اس روز فواد تمہیں پرپوز کرنے کا جھانسہ دے کر باہر لے کر گیا تھا؟تب پھر سے کسی نے میرے اندر کہا –
اللہ خیانت کار کی چال کی راہنمائی نہیں کرتا- مگر اب وہ آواز کمزور پڑ چکی تھی-مجھے امانت کے سارے سبق بھول گئے-میں نے اسے وہ بتا دیا جو تم نے مجھے بتایا تھا- تب وہ مجھ پہ بہت چیخا- اس نے کہا کہ میں نے اپنی بہن کو بچانے کے لیے اس کے سر تھوپ دیا ہے-اس نے بہت مشکل سے دل بڑا کر کے اس بات کو نظر انداز کیا تھا کہ تم کس طرح پہلی دفعہ اس کے گھر لائی گئی تھی-مگر یہ بات کہ فواد کا اور تمہارا کوئی افیر تھا-اس کے لیے ناقابل برداشت تھی-میرے ایک فقرے نے ہر چیز پر تصدیق کی مہر لگا دی -وہ مجھ پہ کبھی ایسے نہیں برسا تھا-جیسے اس رات برسا تھا، میں ساری رات روتی رہی – نا معلوم غم کس بات کا زیادہ تھا- خیانت کا یا ہمایوں کے رویے کا-میں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا-مگر ہمایوں نے اگلی صبح مجھ سے ایکسیکوز کر لیا- میں چپ چاپ سنتی رہی -تب آخری دفعہ میرے دل سے آواز ائی کہ اس کو بتا دو کہ تم نے جھوٹ بولا تھا-
مگر میں چپ رہی -میں خواہشات کی پیروی میں چلنا شروع کر دیا-اور میں بھٹک گئی – وہ کراچی چلا گیا اور میں کئی دن تک تمہیں دیکھنے اسپتال نہ جا سکی-جس دن میں نے خیانت کی،اس دن سے آج کے دن تک تین ساڑھے تین سال ہونے کو آئے ہیں،میں قرآن نہیں کھول پائی-ہاں نمازیں میری آج بھی ویسی ہی لمبی ہیں، میں سجدوں میں گر کر ہمایوں کو اب بھی مانگتی ہوں، مگر قرآن پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملا-ْ
بارش تڑا تڑ برس رہی تھی-فرشتے کے بھورے بال بھیگ چکے تھے-موٹی موٹی لٹیں ، چہرے ک اطراف میں چپک گئی تھی-وہ ابھی تک اوپر چاند کو دیکھ رہی تھی-
وہ کراچی سے آیا تو بدل گیا تھا-پھر ایک روز اس نے مجھے پرپوز کیا-اچانک بالکل اچانک سے اور مجھے لگا میری ساری قربانیاں مستجاب ہو گئی ہیں-پھر مڑ کر پیچھے دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا-وہ تم سے بہت بد ظن ہو چکا تھا- مگر میں نے اسے مجبور کیا کہ ،کہ وہ تمہارا علاج کروانا نہ چھوڑے –
موسلا دھار بارش میں بار بار بجلی چمکتی تو پل بھر میں سارا لان روشن ہو جاتا-
فوادنے کئی دفعہ فون کر کے تمہارا پوچھنا چاہا، میں نے اسے کبھی کچھ نہیں بتایا، بس اس کی بات سن کر کچھ کہے بنا ہی فون بند کر دیتی-وہ بہت بدل گیا ہے-مجھے لگتا تھا کہ اگر اسے اس سارے کھیل کا علم ہو گیا تو وہ ہمایوں پاس آ کر اسے سب بتادے گا-
مشکل ہی تھا کہ ہمایوں اس کا یقین کرے مگر اس ڈر سے میں نے اسے کبھی کچھ پتا نہیں لگنے دیا-
مجھے ہمایوں نہیں چاہیئے فرشتے! وہ روتے ہوئے بولی تھی، مجھے اپنی بہن چاہیئے!
مجھے بھی ہمایوں نہیں چاہیئے – مجھے بھی اپنی بہن ہی چاہیئے! اس نے بھیگی آنکھوں کا رخ پہلی دفعہ محمل کے چہرے کی طرف کیا-محمل نے اس کے گھٹنوں پہ رکھے ہاتھ پکڑ لیے- ان میں آج چاندی کی وہ انگوٹھی نہیں تھی-
بارش زور سے ان دونوں پہ برس رہی تھی
میں نے فواد کو فون کردیا ہے وہ پہنچنے والا ہوگا – وہ خاصا سمجھدار بندہ ہے ایسے ثبوت لائے گا کہ ہمایوں اس کو جھٹلا نہیں سکے گا -وہ ابھی آ کر ہمایوں کو سب کچھ بتا دے گا-ابھی کل دوپہر میں خاصا وقت ہے-تمہاری عدت ختم نہیں ہوئی – میں جانتی ہوں کہ وہ حقیقت جان کر رہ نہیں پائے گا-اور تمہیں واپس اپنائے گا- آؤ- اندر چلتے ہیں-فرشتے نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکالے ، اٹھی اور پھر وہیل چئیر کی پشت تھام لی-
بس مجھ پر ایک احسان کرنا – ہمایوں کو مت بتانا کہ میں خیانت کی-میں اس کی نظروں سے گرنا نہیں چاہتی-بظاہر میں نے جھوٹ نہیں بولا مگر مجھے تمہارا راز نہیں کھولنا چاہیئے تھا-میں اس سے کہہ دوں گی کہ مجھے غلط فہمی ہوئی تھی، میں فواد کے سامنے تمہاری تائید کرونگی،مگر تم – تم میری عزت رکھ لینا-وہ جانتا ہے- کہ فرشتے جھوت نہیں بولتی ، خیانت نہیں کرتی -اس نے ان تصویروں پہ نہیں مجھ پہ یقین کر کے تمہیں طلاق دی تھی- تم میری عزت رکھ لینا-
وہ اسکی وہیل چئیر دھکیلتی آہستہ آہستہ بے خود سی کہہ رہی تھی- محمل نے سر جھکا لیا- وہ فرشتے کو نہیں بتا سکی کہ آج وہ پھر زمین کی طرف جھک رہی ہے مگر اسے پتہ نہیں ہے-
تم ہمایوں کو واپس لے لو محمل- وہ تمہارا ہے، اسے تمہارا ہی رہنا چاہیئے- وہ اسے اس کے کمرے میں چھوڑ کر پلٹ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کمرے میں اسی طرح نیم اندھیرا تھا- کھڑکی کے پردے ہٹے تھے- ٹیبل لیمپ ابھی تک جل رہا تھا-وہ خود کو گھسیٹتی آگے بڑھی اور لیمپ کا بٹن بجھایا-ایک دم کمرے میں اندھیرا پھیل گیا-بس کھڑکی کے پار بارش کے قطرے گرتے دکھائی دے رہے تھے-
وہ وہیں کھڑکی کے سامنے بیٹھی بارش کو دیکھے گئی-
انسان جس سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، اللہ اسے اسی کے ہاتھوں سے توڑتا ہے، انسان کو اس ٹوٹے ہوئے برتن کی طرح ہونا چاہیئے جس سے لوگوں کی محبت ائے اور باہر نکل جائے-
اللہ نے اسے انہی لوگوں کے کے ہاتھوں توڑا تھا جن سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتی تھی- ہمایوں فرشتے اور تیمور!
تب ہی گاڑی کا ہارن سنائی دیا- وہ خاموشی سے دیکھتی رہی –
وہ گاڑی باربار ہارن بجا رہی تھی- تب اس نے برستی بارش میں ہمایوں کو گیٹ کی جانب جاتے دیکھا-اس نے گیٹ کھولا تو گاڑی زن سے اندر داخل ہوئی- ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر وہ تیزی سے باہر نکلا تھا، وہ فواد ہی تھا ، وہ پہچان گئی تھی-
وہ ویسا ہی تھا ، بس آنکھوں پہ فریم لیس گلاسز تھے اور بالوں کا کٹ زیادہ چھوٹا تھا-
کیا ہمایوں اس کی بات سن لے گا؟ کبھی بھی نہیں!
تب ہی فواد نے لپک کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور کسی کو بازو سے کھینچ کر باہر نکالا- محمل دھک سے رہ گئی- وہ معیز تھا-
پتلا لمبا نوجوان،
فواد اس کو پکڑ کر ہمایوں کے سامنے لایا جو قدرے چونکا ہوا کھڑا تھا-
برستی بارش کا شور بہت تیز تھا- ان کی باتوں کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی-وہ تینوں بارش میں بھیگتے کھڑے تھے-فواد زور زور سے کچھ کہہ رہا تھا- ہمایوں سینے پہ ہاتھ باندھے خاموشی سے صرف سن رہا تھا- اس کی محمل کی طرف پشت تھی- وہ اس کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ سکتی تھی-
اور تب اس نے معیز کو ہاتھ جوڑے دیکھا- شاید اس کے چہرے پہ بارش کے قطرے تھے ، یا شاید وہ رو رہا تھا- روتے ہوئئے وہ کچھ کہتے ہوئے وہ ہمایوں سے معافی مانگ رہا تھا-اور تب اس نے فرشتے کو باہر آتے دیکھا- وہ بھی کچھ کہہ رہی تھی-
محمل نے ہاتھ بڑھا کر پردہ برابر کردیا- وہ اس منظر کو اب مزید نہیں دیکھنا چاہتی تھی-
کتنی ہی دیر بعد اس نے فرشتے کی اواز سنی، وہ فواد اور معیز کو ادھر لا رہی تھی-
اس کے کمرے کا دروازہ کھلا، محمل کی اس کی طرف پشت تھی-
محمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فواد کی بھرائی ہوئی آواز اسے سنائی دی-
معیز نے ہمایوں کو سب کچھ بتا دیا ہے-اگر مجھے پہلے پتا ہوتا تو۔۔۔ محمل ہمیں معاف کردو- ہم نے تمہارے ساتھ بڑی زیادتی کی-
آپا! ہمیں معاف کردو ! وہ معیز تھا وہ رو رہا تھا-
اماں اور آرزو آپا نے مجھے یہ سب کرنے کو کہا تھا- آپا! اماں بیمار ہیں- وہ اب پہلے جیسی نہیں ہیں- وہ سارا دن چیختی چلاتی ہیں- آپا۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں – وہ کہہ رہا تھا اور کوئی دھیمے سے اس کے اندر بولا تھا-
پس تم یتیم کے ساتھ سختی نہ کرنا-

 

Read More:  Aik Qissa Gul e Gulab Ka Novel by Syeda Gul Bano – Last Episode 10

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: