Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 5

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 5

–**–**–

 

سیاہ فام لڑکی ذرا سا مسکرائی-
تو تم میرا انتظار کر رہی تھی-
نہیں ہرگز نہیں- وہ دو قدم پیچھے ہٹی-مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے-
تم شاید بلند آواز میں اپنے دل کی بات کو جھٹلا رہی ہو-اگر ایسا ہے تو مت کرو-اپنے دل کی سنو وہ تمہیں کچھ کہہ رہا ہے-
“مجھے ڈکٹیٹ مت کرو-میں اپنا اچھا برا خوب سمجھتی ھوں-تم میرے ساتھ امید افزا بات کر کے اپنی کتاب بیچنا چاہتی ہو-میں خوب سمجھتی ہوں تمہارا مقصد-مگر یاد رکھنا میں تم سے یہ کتاب ہرگز نہیں خریدوں گی-
“نہ ہی میں تمہیں یہ بیچ رہی ہوں-لیکن ایک دن ایسا ضرور آئے گا تم خود مجھ سے یہ کتاب مانگنے آؤ گی-اور تب میں تمہیں فورا تھما دوں گی-ابھی تم سفر کے آغاز میں ہو اور جب تھکو گی تو اس کتاب کے پیچھے آؤ گی- مجھے تمہاری کسی بات کا برا نہیں لگامجھے بس تمہارے تھکنے کا انتظار ہے-جاؤ تمہاری بس آگئی-
اس وقت تو وہ غصے سے پلٹ گئی مگر پھر سارا دن یہ سوچتی رہی-کہ اس کو اس سیاہ فام لڑکی کو دیکھ کر اتنا غصہ کیوں آیا تھا-وہ کیا لگتی تھی اس کی-اس نے کیا بگاڑا تھا اس کا-اور اسے غصہ کس بات کا تھا-یوں انجانے لوگوں کے ساتھ اس طرح سلوک تو محمل کبھی نہ کرتی تھی پھر اب کیوں؟
ندامت اور شرمندگی کے احساس نے اسے سارا دن جکڑے رکھا-وہ کچن کے سارے کام بے دلی سے نپٹا رہی تھی- پڑھائی بھی ٹھیک سے نا کر سکی، پیپرز ہورہے تھے-اب بھی اس کے پاس پڑھنے کو بہت کچھ تھا-مگر سارا دن احساس جرم اسے اندر سے کچوکے لگاتا رہااور رات کو جب اچانک رضیہ پھپھو کی آمد کا شور اٹھا’ تو وہ بہت بے دلی کے ساتھ ڈرائنگ روم میں آئی،
فائقہ آج کل سارا دن میرے ساتھ کچن میں لگی رہتی ہے-میں تو منع کرتی ہوں مگر مجال ہے یہ مجھے کسی کام کو ہاتھ لگانے دے-آج بھی پڈنگ بنائی تھی-کہہ رہی تھی سارے ماموں شوق سے کھاتے ہیں-انہیں دے آؤں میں نے کہا خودی دے آؤ-ماموں میں تو جان ہے میری بچی کیاور سب ٹھیک ہے گھر میں؟فواد کہاں ہے نظر نہیں آرہا-مہتاب تائی کے ہمراہ اندر آتی رضیہ پھپھو نے بات کے اختتام پر ادھر ادھر نظر دوڑاتے سرسری سے انداز میں پوچھا- فواد تہ نا نظر ایا مگر محمل پر نظر پڑی تو چہرے پر ناگواری کے تاثرات چھا گئے-شاید اس بات پر کہ ان کی آخری بات پر وہ استہزائیہ مسکرائی تھی-
لڑکی کوئی کام کاج بھی ہے کہ نہیں تجھے-جب دیکھو بھاگتی پھرتی ہے ادھر ادھر-میری بھابھی کا جگرہ ہے جو مفت خوروں کو ٹکا رکھا ہے گھر میں ورنہ میں ہوتی تو۔۔۔۔۔۔۔ ہونہہ-انہیں اس کی مسکراہٹ تپا گئی تھی-جیسے چوری پکری گئی ہو-سو بگڑ کر کہتی بڑے صوفے پر بیٹھ گئی-
فائقہ بھی ٹرے پکڑے جس میں دو ڈونگے تھے چلی آرہی تھی-فیشن کے مطابق شورٹ شرٹ کے نیچئ ٹراؤزر اور لمبے بال کھلے تھے-جن میں چوٹی کے بل صاف نظر آرہے تھے-وہ سدرہ کی طرح خوب میک اپ کرتی تھی-اور اسطرح شاید ذرا قابل قبول لگ جاتی- اگر وہ گہرے مسکارے اور آئی میک اپ کے اوپر وہ سیاہ فریم والا چشمہ نہ لگاتی تو-
یہ کہاں رکھوں ممانی جان؟وہ رک کر مدھم آواز میں پوچھ رہی تھی-ورنہ یہی فائقہ تھی جو کچھ عرصہ پہلے بے ہنگم شور کیا کرتی تھی-کچن میں رکھ دو بلکہ محمل تم لے جاؤ-لائیے-محمل آگے بڑھی تو فائقہ نے قدرے تذبذب سے ماں کو دیکھا-
دے دیں فایقہ باجی-فواد بھائی تو ویسے بھی ابھی آفس سے نہیں آئے-پھپھو پوچھ رہی تھی ابھی ان کا-وہ بے نیازی سے کہہ کر ٹرے لے کر کچن میں رکھ آئی-
فواد ابھی تک نہیں آیا؟پھپھو نے بے چینی سے گھڑی دیکھی-پھر فائقہ کو آنکھ سے اشارہ کیا-وہ فورا مہتاب تائی کے بلکل مقابل صوفے پر مؤدب ہو کر بیٹھ گئی-
ہاں کچھ کام تھا شاید-اور تم تھیک ہو؟تائی ریموٹ اٹھا کر چینل بدل رہی تھی-انداز میں عجب شان بے نیازی تھی–جن کے فواد جیسے بیٹے ہوں ان پر بیٹیوں کی مائیں یونہی مکھیوں کی طرح بھنبھنایا کرتی ہیں-وہ رضیہ پھپھو کے اطوار خوب سمجھتی تھی-
یہ پڈنگ فائقہ باجی نے بنائی ہے پھپھو؟وہ واپس آ کر سامنے صوفے میں ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی-وہی کرتا جینز گلے میں مفلر کی طرح لپیٹا دوپٹہ-پونی ٹیل یہ اس کا مخصوص انداز تھا-
ہاں تو اور نہیں تو کیا؟
اچھا آپ تو اس روز اپنی مائی سلیمہ سے پڈنگ بنا رہی تھی-وہ جب میں آپ کے گھر گئی تھی-آپ تو کہہ رہی تھی نہ آپکو نہ ہی فائقہ باجی کو پڈنگ بنانا آتی ہے-فائقہ باجی اس نے چہرہ فائقہ باجی کی طرف موڑا ابھی ریسینٹلی سیکھا ہے اپ نے؟
ہاں ہاں میرے ساتھ اج کل سب کچھ سیکھ رہی ہے-بیٹھ کر مفت روٹیاں نہیں تورتی-پھپھو چمک کر بولی-تائی مہتاب ریموٹ پکڑے چینل بدل رہی تھی-چہرے پر البتہ واضح بے زاری چھائی تھی-
اور آپ نے کس سے سیکھی اپنی مائی سے؟
زیادہ زبان نہیں چلنے لگی تیری محمل؟یہ تو میری بھابھی کا حوصلہ ہے کہ تمہیں برداشت کرتی ہیں-ان کی جگہ میں ہوتی تو دو دن میں گھر سے باہر نکال دیتی-ان کی جگہ آپکیسے ہو سکتی تھی پھپھو-دوسروں کے پیسے پر عیش کرنا ایک آرٹ ہوتا ہے-اور یہ ہر کسی کو نہیں آتا نا!
شٹ اپ محمل -تائی نے غصے سے ریموٹ رکھا-زیادہ بک بک کی تو ٹانگیں تور کر رکھ دوں گی-ارے ہم نہ رکھتے تو کدھر جاتی تم ہاں؟
انگلینڈ- وہ ارام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے جھلا رہی تھی-کیا مطلب وہ سب چونکے-
میں نے اسکالر شپ کے لئیے اپلائی کر دیا ہے-اور بہت جلد میں تو اماں کو لے کر انگلینڈ چلی جاؤں گی-سو آپ ابھی سے ملازم ڈھونڈنا شروع کر دیں-آپ بیٹھیں میں ذرا کچن دیکھ لوں-وہ اٹھ کر کچن کی طرف چلی آئی،جانتی تھی کہ ان کے سروں پر بم پھوڑ کر ائی ہے-مگر اس وقت ان سب کو ستانے کا دل کر رہا تھا-
کھانے پر ہی اس کی پیشی ہوگئی-تم نے کونسے اسکالر شپ کے لیئے اپلائی کیا ہے؟مہتاب بتا رہی تھی کیا بات ہے-آغا جان نے جیسے ایک دم یاد آنے پر کھانے سے ہاتھ روک کر پوچھا-
اسکالر شپ؟آرزو نے آبرو اچکائی-ندا اور سامیہ باتیں کرتی ٹھٹھک گئیں- فضی چاچی نے حیرت سے گلاس رکھا- اور فواد لقمہ منہ میں لئیے بری طرح چونکا تھا-
باقی سب بھی ایک دم رک کر اسے دیکھنے لگے- جو اطمینان سے بازو بڑھا کر رائتے کا ڈونگا اٹھا رہی تھی-
جی اغا جان بڑٹش ہائی کمیشن سے کچھ اسکالرشپس اناؤنس ہوئی ہیں-ماسٹرزکے لئیے میں نے اپلائی کر دیا-اب وہ بڑا چمچ رائتہ چاولوں پر ڈال رہی تھی-امید ہے جلدی ہی مل جائے گی-پھر میں انگلینڈ چلی جاؤں گی-سوچ رہی ہوں وہی ساتھ ساتھ جاب وغیرہ بھی کر لوں-آخر خرچے بھی تو پورے کرنے ہوتے ہیں نا! چمچہ چاولوں میں ہلاتے رائتہ مکس کرتےاس نے لا پروائی سے اطلاع دی اور اسے لگا تھا ابھی گھر بھر میں طوفان کھڑا ہو جائے گا-مگر۔۔۔
ہوں ضرور اپلائی کرو-آغا جان پھر سے کھانے کی طرف متوجہ ہو چکے تھے-اب کے حیران ہونے کی باری محمل کی تھی-اس نے لمحے بھر کو ٹھٹھک کر آغا جان کو دیکھا اور سنبھل کر بولی!
تھینک یو آغا جان!
اس کے الفاظ پر جہاں مسرت اطمینان سے کھانا کھانے لگی تھی -وہی ٹیبل پر موجود بہت سے لوگوں کی خاموش معنی خیز نگاہوں کے تبادلے ہوئے تھے-
وہ سر جھکائے چاول کھاتی رہی-امید تو نہ تھی کہ وہ کوئی ڈراما کھڑا نہ کریں گے-مگر وجہ بھی فورا سمجھ میں آگئی-وہ باہر چلی جائے تو ان سے جائیداد میں سے حصہ مانگنے کون کھڑا ہوگا؟ان کے لیئے تو اچھا ہی تھا کہ وہ چلی جائے-
ایسے تو نہیں چھوڑوں گی میں یہاں سے چلی بھی گئی توایک دن ضرور واپس آؤں گی-اور اپنا حصہ طلب کروں گی-اور تم سب کو ہر اس عدالت میں گھسیٹوں گی جہاں جانے سے تم لوگ ڈرتے ہو-اس نے دل ہی دل میں تہیہ کیا تھا-اور پھر جب پانی کا جگ اٹھانے کو سر اٹھایا تو یک دم چونکی-
بے توجہی سے کھانا کھاتا فواد اسے ہی دیکھ رہا تھا-اسے سر اٹھاتا دیکھ کر فورا اپنی پلیٹ پر جھک گیا-اور بعد میں کتنا ہی پھپھو نے میری فائقہ نے پڈنگ بنائی کہہ کر روکنا چاہا پر وہ رکا نہیں اور کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا-
مجھے کام ہے چلتا ہوں-
ہاں بیٹا تم کام کرو-مہتاب نے بھی فورا اس کی تائید کی تھی-ادھر پھپھو ہائیں ہائیں کرتی رہ گئیں-اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا-محمل کا دل یکدم اداس سا ہوگیا تھا -نہ جانے کیوں-
٭٭٭٭٭٭٭٭
دور بینچ پر بیٹھی سیاہ فام لڑکی کو دیکھ کر اس کے پاؤں میں تیزی آگئی-وہ سبک رفتاری سے چلتی بینچ کے قریب آئی-
گڈ مارننگ-
سیاہ فام لڑکی نے چونک کر سر اٹھایا-اور پھر ذرا سا مسکرائی گڈ مارننگ ٹویوٹو-
وہ اسی طرح کتاب کے کنارے پر ہاتھ جمائے بیٹھی تھی-
میں دراصل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل ذرا سا متذبذب سی ساتھ بیٹھی-مجھے ،مجھے کل کے رویہ پر شرمندگی ہے-میں کبھی بھی اتنی روڈ نہیں ہوتی-اور۔۔۔۔۔۔۔
جانے دو-مجھے برا نہیں لگا-
نہیں ائی ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔۔ ایم رئیلی ویری سوری- میں کچھ پریشان تھی-
میں نے تو تجھے تمہاری ہر پریشانی کاحل بتایا تھا-تم خود ہی اس طرف نہیں انا چاہتی-
نہیں وہ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بے ساختہ نظریں چرائی- مجھے اس کتاب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے-
” مگر اس کتاب کو تم سے ہے-اس نے مجھے کہا ہے کہ میں اسے تمہارے حوالے کر دوں-
وہ بری طرح چونکی تھی-پہلی گفتگو میں بھی اس نے کچھ ایسی ہی بات کی تھی-
یہ،یہ کتاب مجھے جانتی ہے؟سو فیصد جانتی ہے-تمہاری زندگی کی ساری کہانی اس میں لکھی ہے-گزرے واقعات اور آنے والے حالات-
واقعی وہ ششدر اسے دیکھ رہی تھی-
عجب بے یقینی سی بے یقینی تھی-
ہاں اس میں لکھا ہے-
تم نے،تم نے میری کہانی پڑھی ہے؟
نہیں میں وہ نہیں پڑھ سکتی،
کیوں؟کیا تم نے یہ کتاب پوری نہیں پڑھی؟
میں نے پوری پڑھ رکھی ہے-مگر مجھ پر صرف میری زندگی کی کہانی کھلی ہے-تمہاری زندگی کی کہانی صرف تم پر کھلے گی-
تم کیا کہہ رہی ہو میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا-اب کہ وہ واقعی پریشان ہو گئی تھی-
آجائے گی-ہر بات سمجھ میں آجائے گی-بس تھوڑا وقت لگے گا-وہ اسے دیکھ کر رہ گئی تھی-وہ لڑکی کون تھی کہاں سے ائی تھی-اور کس نے یہ کتاب صدیوں پہلے اس کے لئیے رکھ کر چھوڑی تھی-کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا-
بس کا ہارن بجا تو وہ چونکی-اور پھر بنا کچھ کہے وہ اٹھ کھڑی ہوئی-
سیاہ فام لڑکی مسکراتے ہوئے اسے بس میں سوار ہوتے دیکھ رہی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فواد کو چائے کمرے میں دے آؤ اور محمل تم ٹرالی لان میں لے اؤ-تائی مہتاب اپنی ازلی بے نیازی سے کہہ کر پلٹ گئی تھی-تو ٹرالی سیٹ کرتی محمل کسی خیال سے چونکی-فواد کی ٹرے الگ سیٹ کر دو محمل میں دے آؤں گی تم ٹرالی باہر دے آؤ-
میں نہیں دے کر آرہی ٹرالی تنگ اگئی ہوں میں ان ذلیل لوگوں کے سامنے-
اچھا اچھا چپ کرو مسرت بوکھلا کر آگے بڑھی-اور ٹرالی کا کنارہ تھام لیا-میں لے جاتی ہوں تم فواد کو چائے دے آؤ-
اور یہی تو وہ چاہتی تھی-سو شانے اچکا کر لاپرواہی سے ٹرے سیٹ کی اور پھر اسے اٹھا کر دھپ دھپ سیڑھیاں چڑھتی گئی-
فواد بھائی اس نے دروازے پر ہلکا سا ناک کیا-
ہوں آجاؤ-
اس نے دروازہ دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا-فواد آنکھوں پر بازو رکھے بیڈ پر نیم وا پڑا تھا-
فواد بھائی آپ کی چائے-
“ہاں رکھ دو وہ کسلمندی سے اٹھا-انداز سے تھکا تھکا لگ رہا تھا-
کیا بات ہے فواد بھائی آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں-اس نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور کپ اٹھا کر اس کے پاس آئی-
“ہاں- کچھ نہیں آفس کا مسئلہ ہے-اس نے چائے پکڑنے کے لیئے ہاتھ بڑھایا تو چائے پکراتی محمل کی انگلیاں ذرا سی مس ہوگئی-اس نے فورا ہاتھ پیچھے کیا تو وہ بے ساختہ مسکرا دیا-
پھر چائے کا گھونٹ بھرا-
ہوں چائے تو تم اچھی بنا لیتی ہو-
اماں نے بنائی ہے-وہ جز بز سی اس کے سامنے کھڑی تھی- اونچی بھوری پونی ٹیل والی دراز قد محمل-
لائی تو تم ہو- ذائقہ ہے تمہارے ہاتھ میں-اچھا،وہ مسکرا دی-
اور یہ انگلینڈ جانے کا کیا سین ہے؟
وہ میں۔۔۔۔۔۔۔ میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں-وہ سر جھکائے کھڑی انگلیاں مڑور رہی تھی-
“مگر تم جاب کرنے کا کہہ رہی تھی- مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی تھی- وہ جائے کا کپ ایک سائیڈ پر رکھے بری سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا-
میں صرف اپنے خرچوں کے لئیے جاب کرنا چاہتی ہوں-
اور یہ اتنی بڑی بزنس ایمپائر- یہ کون سنبھالے گا؟
محمل نے جھٹکے سے گردن اٹھائی-اسے لگا اس نے غلط سنا ہے-
بزنس ایمپائر؟
ہاں تم اس کے اونرز میں سے ہو-کیا تمہارا فرض نہیں ہے تم اپنے ابا کے بزنس پر بھی دھیان دو-آخر کبھی نہ کبھی تمہیں یہ سب سنبھالنا ہے-
جی؟وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی-
اتنی حیران کیوں ہو محمل؟وہ اٹھ کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا-محمل نے دیکھا وہ اس سے خاصا لمبا تھا-
میں۔۔۔۔۔ میں پتہ نہیں-
کیا تم یہ سب نہیں سنبھالنا چاہتی؟
میں سنبھالنا چاہتی ہوں مگر کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تم واقعی سنبھالنا چاہتی ہو؟ فواد کے چہرے پر خوشگوار حیرت اتری- یعنی اگر میں تمہیں اپنے ساتھ آفس میں لگانا چاہوں تو تم کام کرو گی میرے ساتھ؟
جی جی بلکل-اس کا دل ایک دم کسی اور لے پر دھڑکنے لگا تھا ہاتھ لرزنے لگے تھے-
ٹھیک ہے پھر میں شام میں آغا جان سے بات کر لیتا ہوں-
وہ۔۔۔۔۔ وہ اجازت دے دیں گے؟ اس کے اندر وسوسوں نے سر اٹھایا-
شیور کیوں نہیں دیں گے- وہ مسکرا کر اسے تسلی دے رہا تھا-اور اسے سمجھ میں نہیں آرہی تھی اپنی خوشی کا اظہار کیسے کرے-ایک دم ہی اسے سب اپنی مٹھی میں اتا دکھائی دینے لگا تھا-
دولت نچھاور محبوب قدموں میں-
اب اسے اس سیاہ فام لڑکی کی کتاب کی ہرگز ضرورت نہ تھی-
وہ ہواؤں میں اڑتی واپس اپنے کمرے میں آئی تھی،
اور پھر رات میں جب فواد نے آغا جان کے سامنے اسے اپنے ساتھ کام پر لگانے کی تجویز پیش کی تھی -تو سب سے پہلے حسن نے پہلو بدلا تھا-
اس کی کیا ضرورت ہے فواد، محمل کو ابھی اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہیئے- وہ ناگواری سے بولا تو محمل کو واضح برا لگا تھا- شکر تھا خاندان کی عورتیں وہاں نہ تھیں نہیں تو طوفان ہی آجاتا-
تم بیچ میں مت بولو حسن میں آغآ جان سے بات کر رہا ہوں-
“اور میں تمہاری باتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھتا ہوں-
حسن نے ایک کٹیلی نگاہ محمل پر ڈالی-مجھے اچھی طرح پتا ہے یہاں کیا چکر چل رہا ہے،
شٹ اپ،فواد بھڑک اٹھا تو آغا جان نے دونوں کو ہی جھڑک دیا-
شٹ اپ یو بوتھ-حسن تم جاؤ اپنے کمرے میں – اور وہ فورا تیز تیز چلتا وہاں سے نکل گیا-
“اور فادی حسن ٹھیک کہہ رہا ہے-محمل کا آفس سے کوئی تعلق نہیں ہے-نہ ہی وہ کبھی آفس جائے گی-
مگر آغا جان-
آغا بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں محمل کا آفس میں کیا کام؟
“بالکل لڑکیوں کو ادھر دھکے کھانے کی کیا ضرورت ہے؟غفران چچا اور اسد چچا نے بھی فورا آغا جان کی تائید کردی تو محمل نے بے بسی سے مدد طلب نظروں سے فواد کو دیکھا-
اوکے جیسے آپ کی مرضی-وہ شانے اچکا کر اب جھک کر اپنے بوٹ کے تسمے بند کر رہا تھا-
اس کا دل جیسے کسی گہری کھائی میں جا گرا وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی کچن میں ائی اور سنک پر جھک کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی- اس کے آنسوؤں کے ساتھ سارے خواب گرتے بہتے چلے گئے-وہ اتنا روئی کہ ہچکی بندھ گئی-تو بالآخر نل کھول کر منہ پر پانی ڈالنے لگی-
اس نے سوچ لیا تھا کہ آج وہ آخری بار رو رہی ہے-وہ آج کے بعد ہرگز نہیں روئے گی-اس نے تو سیدھے طریقے سے سب حاصل کرنے کا سوچا تھا- لیکن ان لوگوں کو سیدھا طریقہ راس نہیں آتا- ٹھیک ہے اب ان سے انتقام لینے کے لیئے اسے جادو یا سفلی علم کا سہارا بھی لینا پڑا تو وہ لے گی-
اسے اب صبح کا انتظآر تھا-صبح اسے بس اسٹاپ پر جا کر اس سیاہ فام لڑکی سے وہ کتاب لینی تھی-
ویسے نہیں تو ایسے سہی-
چہرے پر ٹھنڈا پانی ڈالتے ہوئے اس نے نفرت سے سوچا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح اسے کالج نہیں جانا تھا- ایگزامز ختم ہو چکے تھے-مگر وہ پھر بھی بہانہ بنا کر مخصوص وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے بس اسٹاپ پر چلی گئی- اور اب مسلسل بینچ کے آس پاس ٹہل رہی تھی-
سیاہ فام لڑکی ابھی تک نہیں آئی تھی-محمل بار بار کلائی پر بندھی گھڑی دیکھتی-پھر بے چین نگاہوں سے گردن ادھر ادھر گھماتی-بھوری اونچی پونی بھی ساتھ ساتھ ہی جھولتی-اسے شدت سے اس لڑکی کا انتظآر تھا-اور آج تو لگ رہا تھا وقت بہت دیر سے گزر رہا ہے-بالآخر وہ بینچ پر بیٹھی اور سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا-
کیا میرا انتظار کر رہی تھی؟کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو وہ کرنٹ کھا کر اٹھی-
وہ سیاہ فام لڑکی سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی-” میں تمہارا ہی ویٹ کر رہی تھی-
اور میں جانتی ہوں کہ کیوں-وہ آرام سے بینچ پر بیٹھی-بیگ کا اسٹرپ کندھے سے اتار کر ایک طرف رکھا اور کتاب احتیاط سے گود میں رکھی- پھر جیسے فارغ ہو کر محمل کا چہرہ دیکھا-
“تم تھک گئی ہو؟
ہاں میں تھک گئی ہوں میں تنگ آگئی ہوں اس دنیا میں میرے لئیے کچھ نہیں ہے کوئی نہیں ہے-
اونہوں ایسے نہیں کہتے-ابھی تو تم نے وہ کچھ لینا ہے جس کی چمک سے تمہاری آنکھیں چکا چوند رہ جائیں گی-ابھی تو تم صحیح راستے پر آئی ہو-
مجھے صحیح اور غلط کا نہیں پتہ اور نا ہی میں صحیح اور غلط کی تفریق میں پڑنا چاہتی ہوں-اس نے بے اختیار نگاہیں چرائی تھی-اپنے دل سے اپنے اندر بیٹھے گلٹ کے آحساس سے-کوئی بات نہیں شروع شروع میں یہ کتاب مشکل لگے گی-‘جیسے کوئی عزاب ہو کوئی قید ہو- مگر پھر تم عادی ہو جاؤ گی- وہ ویسے ہی مسکرائی تھی- یہ کتاب مجھ سے کیسے بات کرے گی؟

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: