Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 6

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 6

–**–**–

 

وہ ویسے ہی مسکرائی تھی- یہ کتاب مجھ سے کیسے بات کرے گی؟
محمل سحر زدہ سی اس لڑکی کی گود میں پڑی کتاب کو دیکھ رہی تھی-
روز اس کا ایک صفحہ پڑھنا اگر مشکل لگے تو میں تمہیں کچھ ایسے لوگوں کا پتہ بتاؤں گی گو اس کتاب کا علم سکھاتے ہیں -بالکل چپ چاپ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں-میں تمہیں ادھر لے جاؤں گی- وہ تمہیں اس قدیم کتاب کا علم سکھائیں گے- جس میں یہ کتاب لکھی ہوئی ہے-پھر جب تم روز اس کا ایک ایک صفحہ پڑھنے کے قابل ہو جاؤ- تو تمہیں پتی چلے گا کی ہر صفحہ تمہارے لیے yesterday کی روداد ہےاور تمہیں tomorrow کی تدابیر بتائے گی-
اور اگر میں ایڈوانس میں ایک صفحہ آگے پڑھ لوں تو؟ تو مجھے اپنے آنے والاے کل کا علم ہوجائے گا ہے نا؟نہیں تم ایک دن میں پوری کتاب بھی پڑھ لو تب بھی وہ تمہاری yesterday کی روداد ہی سنائے گی-لیکن اگر وہی صفحے تم اگلے دن پھر سے پڑھو تو وہ اس دن کے حساب سے تمہاری گزشتہ دنوں کی روداد بن جائے گا-
کیا مطلب؟وہ الجھ سی گئی-یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ایک صفحے کا ایک دن میں ہی مطلب بدل جائے-
“اگر یہ نہ ہوتا تو کیا آج تم اس کتاب اس کتاب کی طرف یوں نہ کھینچےہے؟
ے آتی؟
ت
تمہیں شک ہے کیا؟
نہیں،مگر تم مجھے یہ کیوں دے رہی ہو؟ تمہارا اس میں کیا فائدہ،اپنی دانست میں محمل نے خاصا عقل مندانہ سوال کیا تھا-
” میرا ہی تو اصل فائدہ ہے؟ وہ پھر اسی پراسرار انداز میں مسکرائی- جو کچھ تمہیں حاصل ہوگا اس کا ایک شئیر تو مجھے ہی جائے گا-
شئیر وہ دنگ رہ گئی-کیا مطلب اور کتنا شئیر کتنے پرسینٹ؟
شاید آدھا شاید اس سے کچھ کم- معلوم نہیں-مگر یہ تمہارا مسئلہ نہیں- میرا حصہ مجھ تک پہنچ جائے گا-یہ کتاب خود میرے پاس آ کر میرا حصہ دلوائے گی-
اچھا -وہ متحیر سی ہو گئی-پھر یہ میں لے لوں-
پہلے خوب اچھی طرح سوچ لو؟
سب سوچ لیا ہے-وہ تیزی سے بولی اور کتاب پر ہاتھ رکھ دیا- مبادا وہ اسے واپیس نا لے جائے-
پھر لے جاؤ پر یاد رکھنا یہ ایک بوجھ ہے-جو میں تجھے دے رہی ہوں- اگر تم نے وہ جنہیں تم عملیات کہتی ہو-کر لیئے اور ویسے ہی کیئے جیسے یہ کتاب کہتی ہے تو سب کچھ بدل جائے گا-
تم اس کتاب میں رہنے لگو گی-اس کتاب کے علاوہ تمہیں کچھ نظر نہیں آئے گا-دیوانی ہوجاؤ گی مجنوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اگر تم نے اس کو چھوڑنا چاہا تو تباہ ہو جاؤ گی-جو ملا تھا وہ بھی کھو دو گی-اور جو پہلے سے تھا وہ بھی عذاب بن جئے گا-جاؤ اسے لے جاؤ-
اس نے سیاہ جلد والی بھاری کتاب اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دی-اور جب محمل نے اسے لینے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو لرز رہے تھے-
تھینک یو-کیا یہ مجھے تمہیں واپس کرنی پڑے گی؟
نہیں-
اور جب میں پوری پڑھ لوں ختم کر لوں تب؟
تب پھر سے شروع کر لینا-یہ کتاب کبھی پرانی نہیں ھوگی-
‘تھینک یو” کپکپاتی انگلیوں سے کتاب پکڑےتیز تیز چلتی گھر کی سمت بڑھ گٰی -کتاب کی سیاھ جلد سرد تھی ،بے حد یخ سرد-کوئی اسرار تھا اس میں کوئی قدیم راز،جسے وہ آج بےنقاب کرنے جارہی تھی-
جب اس نے گیٹ کھولا تو اسے محسوس ہواکہ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھی اور دل۔۔۔۔۔۔ دل تو ایسے دھڑک رھا تھا جیسے ابھی سینہ توڑ کر باہرآگرے گا-بوجھ بہت بھاری بوجھ تھا-جو اس تھکی ہوئی لڑکی سے لیا تھا-
اندر ہی اندر اس کا دل ڈر رہا تھا- کہیں وہ تباہی کے کسی رستے کی طرف تو نہیں جا رہی، یہ سیاہ علم یہ سفلی عملیات اچھے کام تو نہیں تھے-پھر وہ کیسے اسے اٹھا لائی تھی؟
اس نے رک کر سوچنا چاہا،مگر اب واپسی کا کوئی راستہ نہ رہا تھا-
“دولت نچھاور۔۔۔۔۔۔۔۔ محبوب قدموں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنا پہ راج-“
اسے بہت سی چیزیں اکٹھی کرنی تھی-اور وہ کتاب اس کے ہر مسئلے کا حل تھا-اسے ببیگم نعمان کے ٹھکرائے ہوئے رشتے کا خیال آیا-اس رات فواد کی بات پر سب کے رد عمل یاد آیا-اسے اپنی بے بناہ دولت بھی یاد آئی تھی جس پر عیش کوئی اور کر رہا تھا-پھر کیسے وہ اس لڑکی کو وہ کتاب،سب خزانوں کی کنجی واپس کر آتی؟پھر وہ نہیں رکی اور کتاب سینے سے لگائے سر جھکائے تیز قدموں سے چلتی لاؤنج میں داخل ہوئی-
کہاں سے آرہی ہو؟
وہ جو اپنے خیالوں میں گم تھی،آواز پر گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی-
سامنے تائی مہتاب قدرے مشکوک نطروں سے اسے دیکھ رہی تھی- وہ تائی وہ۔۔۔۔۔۔ وہ اس نے بے اختیار خشک لبوں پر زبان پھیری-وہ نادیہ سے کچھ نوٹس لینے تھے-ذرا اسٹاپ تک گئی تھی اماں کو بتا کر گئی تھی-
ماں-تمہاری ماں تو کہیں کی لینڈ لیڈی ہے-جس کی اجازت کافی تھی-
وہ تائی وہ تائی ۔۔۔۔۔۔۔چچا اسد کو بھی بتایا تھا
پہلی دفعہ وہ تائی کے سامنے یوں ہکلا رہی تھی-
اچھا جاؤ سر نہ کھاؤ- تائی بے زاری سے ہاتھ جھلا کر آگے بڑھ گئیں-
وہ کمرے کی طرف لپکی،اور جلدی سے الماری کھول کر ایک خانے میں سب کپڑوں کے نیچے وہ دبیز کتاب چھپا دی-پھر الماری احتیاط سے بند کی-ادھر ادھر دیکھا-صد شکر کہ کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا-
محمل”- باہر اماں نے پکارا تو وہ جلدی سے منہ سے پسینہ پونچھتے ہوئے باہر آئی-
جی؟
مسرت جو کچن میں سارے گھرانے کا ناشتہ بنانے میں مصروف تھی،پین میں انڈا پلٹتے ہوئے مڑ کر اسے مڑ کر اسے دیکھا؟
تم تو کالج گئی تھی اتنی جلدی کیسے واپس آگئی؟
جی بس !
خیریت؟
اوہو-آج سب کو میری اتنی فکر کیوں لگ گئی؟نادیہ سے نوٹس لینے تھے مل گئے تو واپس آگئی- وہ خواہ مخواہ چڑ گئی-پھر ادھر ادھر برتنوں میں ہاتھ مارتی بظاہر کچھ تلاش کرنے لگی-
میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی-اچھا ناشتہ تو کر لو-
نہیں بھوک نہیں ہے-وہ بس منظر سے ہٹنا چاہتی تھی-سو اتنا کہہ کر وہ باہر لاؤنج میں آگئی-ذہن ابھی تک الماری میں کپڑوں کے نیچے چھپی اس سیاہ جلد والی کتاب میں اٹکا ہوا تھا-
پھر گھر کے کام کاج،صفائی اور اس کے بعد مسرت کے ساتھ مشین لگائے وہ میکانکی انداز میں خاموشی سے کام کرتی گئی-مسلسل اس کا دل بار بار پلٹ کر اس کتاب کی طرف جاتا-وہ کئی بار کمرے میں آئی اور کپڑوں کے نیچے ہاتھ تھپ تھپا کر دیکھا-
وہ سیاہ کتاب وہی رکھی تھی-
پھر سارا دن وہ موقع ڈھونڈتی رہی- کہ اسے جا کر پڑھے-کچھ تو پتہ تو چلے-کوئی راہ تو نکلے-مگر کاموں کا بوجھ اور کچھ فطری سا خوف تھا جو اس کتاب کو نکالنے کی ہمت نہ کر سکی-
رات کھانے کے بعد جب اس نے سب کو ڈائننگ ہال میں سب کو سویٹ ڈش میں مصروف پایا- تو بالآخر الماری سے وہ کتاب نکالی-اور اسے سینے سے لگائے دبے پاؤں اوپر سیڑھیاں چڑھتی گئی-
ڈائننگ ہال سے براستہ کچن کی طرف جاتی مہتاب تائی نے چونک کر اسے آخری سیڑھی پھلانگتے دیکھا-
یہ محمل کیا کرتی پھر رہی ہے آج-انہوں پیچھے سے چاچی ناعمہ کو آتے روک کر سرگوشی کی-
ابھی کوئی کتاب پکڑے اوپر گئی ہے- واقعی سچ کہ
اچھا”- وہ متجسس سی تائی کے پاس آئی-
پڑھائی وڑھائی تو اب ختم ہے اور چھت پر تو کبھی بھی نہیں گئی یہ پڑھنے کے لئے- ضرور دال میں کچھ کالا ہے-
اور ان کی سرگوشیوں سے بے خبر وہ باہر ٹیرس پر نکل آئی-آہستہ سے دروازہ بند کیا اور ریلنگ کے ساتھ نیچے زمین پر بیٹھ گئی-کتاب گھٹنوں پے رکھے وہ کتنی دیر اس کو دیکھتی رہی-
محرومیوں-نا رسائیوں دکھوں کے اس کئی برس پرانے کرب کی اب جیسے انتہا ہو چکی تھی- اس سے اب مزید برداشت نہیں ہوتا تھا غلط ہو یا صحیح وہ زندگی سے اپنا حصہ ضرور وصول کرے گی-
ایک ٹھوس اور حتمی فیصلہ کر کے محمل ابراہیم نے سیاہ جلد والی کتاب پر ہاتھ رکھا-وہ بے حد سرد تھی-ٹھنڈی اور پر سکون-وہ جلد پلٹنے ہی لی تھی کہ ٹیرس کا دروازہ ایک دم دھرام سے کھلا
اس نے گھبرا کر سر اٹھایا-اور ایک لمحے کو زمیں آسمان اس کی نگاہوں میں گھوم گیا-
آغآ جان دونوں چچا تائی مہتاب چچی ناعمہ چچی فضہ لڑکیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مسرت بھی- سب ایک ساتھ باہر آئے تھے
یہ کیا ہو رہا ہے یہاں آغآ جان غصے سے غرائے تھے-محمل کیا کر رہی ہو ادھر-وہ ہکا بکا منہ کھول کر انہیں دیکھتی رہ گئی-
ادھر کیا بیٹھی ہو سامنے آؤ-تائی مہتاب چمک کر بولی-اور اس کی تو جیسے ٹانگوں میں جان ہی نہیں رہی تھی-بمشکل اٹھی اور دو قدم آگے بڑھی-کتاب اسی طرھ ہاتھوں میں پکڑی تھی اور پورا جسم لرز رہا تھا-
وہ آغآ جان میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
میں پوچھ رہا ہوں اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟
مم میں پڑھ رہی تھی-لفظ لبوں پر ہی دم توڑ گئے-اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں-کیا پڑھ رہی تھی؟ ادھر دکھاؤ-آغآ جان کے لحجے کی سختی کم نہ ہوئی تھی-انہوں نے کتاب لینے کو ہاتھ بڑھایا تو وہ بدک کر پیچھے ہٹی-
کک کک۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کتاب پیچھے کرنا چاہی-اور پھر اس نے دیکھا آغا جان کے پیچھے کھڑی مسرت کی آنکھوں میں آنسو تھے-اور تائی فاتحانہ مسکرئی تھی-
ارے ہم بھی تو دیکھیں بھری رات میں کتابوں میں چھپا کر کونسی خط و کتابت ہورہی ہے-میں تو پہلے ہی کہتی تھی یہ لڑکی کوئی چاند ضرور چڑھائے گی-
اس کے اردگرد جیسے دھماکے ہورہے تھے-
نہیں تائی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھی- میں نے کچھ نہیں کیا میں تو پڑھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا جان نے زور سے اس کے ہاتھ سے کتاب چھینی،پڑھ رہی تھی تو دکھاتی کیوں نہیں ہو؟
ایک غصیلی نگاہ اس پہ ڈال کر انہوں نے کتاب اپنے سامنے کی-
میں بھی کہوں کیوں راتوں کو چھت پر آجاتی ہے-کس کے ساتھ منہ کالا کرتی ہے جو اتنی لمبی زبان ہورہی ہے-ارے میں بھی کہوں کوئی تو ہے اس کے پیچھے آغآ صاحب!اسے کہیئے جس مردود کو چٹھیاں ڈالنے یہ یہاں آتی ہے وہ ابھی آئے اور اسے دو بول پڑھوا کر ابھی لے جائے-خاندان بھر میں بدنام کرے گی ہمیں کیا؟
اور اسے لگا آج وہ واقعتا ہار گئی ہے-آغا جان صفحے پلٹ رہے تھے-ہر پلٹتے صفحے ک ساتھ اس کا دل ڈوب رہا تھا- اس نے سر جھکا کر آنکھیں سختی سے میچ لیں-آج وہ اسے یقینا قتل کر ڈالیں گے-وہ سفلی عملیات میں پڑ گئی- کبھی معاف نہیں بخشیں گے-
شرم نہیں آتی تمہیں گٹھیا عورت! آغا جان ایک دم دھاڑے تو اس کی رہی سہی جان بھی نکل گئی-اسے لگا وہ لہرا کے گرنے کو ہے جب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں میں نے کیا کیا ہے؟ تائی کی ہکلاتی آواز نکلی-
محمل نے جیسے کسی خواب سے جا کر سراٹھایا- وہ کھلی کتاب ہاتھ میں پکڑے محمل سے نہیں تائی سے مخاطب تھے-
تمہیں شرم نہیں آئی اس یتیم بچی پر الزام لگا کر ہم سب کو اکٹھا کر کے-ڈوب مرو تم ایسے الفاظ کہنے سے پہلے- وہ اب چھت پر پڑھ بھی نہیں سکتی؟
محمل نے پلکیں زور سے جھپکائیں یہ آغا جان کیا کہہ رہے تھے-
“مگر آغا صاحب وہ اس کتاب میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈوب مرو تم بے دین عورت وہ قرآن پڑھ رہی تھی،تم قرآن کی حرمت کا تو پاس رکھ لیتی- انہوں نے سیاہ کتاب بند کی اسے چوما آنکھوں سے لگایا اور محمل کی طرف بڑھا دیا-
بیٹا نیچے پڑھ لیتی تو سب پریشان نہیں ہوتے- یہ لو ،وہ اسے کتاب تھما کر ایک کٹیلی نگاہ اس عورت پر ڈال کر واپس ہو لیئے-
نہ تو اب چوروں کی طرح پڑھے گی تو بندہ شک تو کرے گا ہی! ورنہ میرا کیا دماغ خراب ہے جو ایسا کہتی تائی شرمندہ سی پلٹیں-
آغا جان کبھی کبھار انہیں یونہی سب کے بیچ میں جھڑک دیا کرتے تھے-خصوصا جب وہ اپنے رشتے داروں پر بے دریغ پیسے لٹایا کرتی تھی-
“اور نہیں تو کیا سب نادم سے پلٹے تھے-
وہ اسی طرح ساکت سی کتاب ہاتھ میں لیئے کھڑی تھی-ٹیرس خالی ہو چکا تھا- سب جا چکے تھے-پرسکون اور سرخرو مسرت بھی اور وہ اسی طرح پتھر کا بت بنے وہاں کھڑی تھی-
“اس کتاب کا ہر صفحہ تمہارے گزرے دن کی روداد ہے-
” یہ کتاب کبھی پرانی نہیں ہوگی-
تم سب کو اپنی مٹھی میں کر کے دنیا پر راج کرو گی-
اس سیاہ فام لڑکی کا ایک ایک فقرہ طمانچے کی طرح اس کے منہ پر برس رہا تھا-
تڑاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تڑاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تڑاخ
اسے لگا وہ کبی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکے گی،یونہی صدیوں اس اندھیرے ٹیرس پر کھڑی رہے گی-دھوکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذاق فریب تمسخر قرآن کی بے حرمتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سیاہ فام لڑکی نے کیا نہیں کیا تھا- اتنا بڑا مذاق اس سیاہ فام لڑکی نے ایک پریشان حال لڑکی کو سبز باغ دکھا کر اس کی ہی مقدس کتاب تھما دی-یہ ہوا کیا تھا اس کے ساتھ-
اس کے ہاتھ ابھی تک لرز رہے تھے-نہایت بے یقینی کے ساتھ اس نے سیاہ جلد والی کتاب کو چہرے کے سامنے کیا-
سیاہ جلد صاف تھی- بے داغ’ بے لفظ-اس نے درمیان سے کتاب کھولی-
اوپر عربی کی عبارتیں تھی اور نیچے انگریزی میں-
سب سے اوپر لکھا تھا
الکہف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔the cave
اس نے چند صفحے آگے کھولے
العنکبوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ the spider
اس نے شروع سے دیکھا-
المائدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ the table spread
محمل نے کتاب بندھ کردی-
آغا جان نے ٹھیک کہا تھا وہ قرآن تھا- ان کی مذہبی کتاب مقدس کتاب اور اس فرنگن نے کیسے کیسے قصے گڑ دیئے تھے اس کے ساتھ-
“ذلیل عورت،وہ شاکڈ سے باہر نکلی تو اسے غصہ آگیا تھا-وہ لڑکی تو گھر بیٹی اس پر ہنس رہی ہو گی-اس کا تمسخر اڑا رہی ہوگی- اور وہ بھی کتنی جلدی بے وقوف بن گئی اف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدموں سے سیڑھی کی طرف لپکی-
“نہ سر پر دوپٹہ نہ وضو نماز اور چلے ہیں قرآن پڑھنے-ہونہہ ۔۔۔۔۔۔ نیچے لاؤنج میں بڑے صوفے پے بیٹھی تائی اسے زینے سے نیچے اترتا دیکھ کر بڑبڑائی-
برے عرصے بعد ؟آغآ جان نے ان کو سب کے سامنے بے عزت کیا تھا اور وہ بھی صرف اور صرف محمل کی وجہ سے انہیں اب کسی نہ کسی طرح غصہ تو اتارنا ہی تھا-مگر محمل کوئی بھی جواب دیئے بغیر سر جھکائے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح پھر وہ جلدی آگئی -سیاہ فام لرکی بہت پہلے سے آکر بینچ پے بیٹھی تھی
اسے دیکھ کر محمل کے قدم تیز ہوگئے
قدموں کی چاپ پر ہی اس نے سر اٹھایا محمل نے دیکھا’ اسے دیکھ کر اس کی سیاہ آنکھوں میں امید کے دئیے جل اٹھے تھے
سڑک خالی تھی دور نارنجی سورج طلوع ہورہا تھا-
محمل اس کے بالکل سامنے آکر کھڑی ہوگئی-سورج کی نارنجی شعاعیں اس کے پیچھے چھپ گئیں،
” تمہیں شرم تو نہیں آئی ہو گی میرے ساتھ ایسا بے ہودہ مذاق کرتے ہوئے- سیاہ فام لڑکی کی نگاہیں اس کے ہاتھ میں پکڑی کتاب پر پڑیں-ایک دم ہی اس کی آنکھوں کی جوت بجھ گئی-
“مصحف واپیس کرنے آئی ہو؟
“مصحف ؟اکھڑی اکھڑی محمل نے ابرو اٹھائی-
ہممم ایرب ورلڈ(عربی دنیا) میں قرآن کو مصحف کہتے ہیں-
تم نے مجھے کیا قصے کہانیاں سنا کر قرآن تھما دیا-یہ کوئی مذاق کرنے کی کتاب تو نہ تھی -یہ تو قرآن تھا-“قرآن نہیں قرآن ہوتا ہے-وہ اداسی سے مسکرائی تو محمل نےشانے اچکائے-
بہر حال تمہیں یہ پریکٹیکل جوک کرکے مجھے شرمندہ کرنے پر شرم آنی چاہیئے-میں تو کیا سوچ رہی تھی اور تم نے مجھے مقدس کتاب تھما دی؟
تو تم کسی غیر مقدس چیز کی توقع کر رہی تھی کیا؟
جی نہیں ،وہ تلملائی پھر قرآن اس کی گود میں رکھا یہ میرے پاس پہلے سے ہے مجھے ضرورت نہیں ہے-
بیٹھ کر بات کر لو-
“میں ٹھیک ہوں وہ اسی طرح سینے پر ہاتھ باندھے اکھڑی اکھڑی سی کھڑی تھی-
اچھا،اس نے پیار سے سیاہ جلد والی مصحف پے ہاتھ پھیرا تو تم نے یہ پڑھ رکھا ہے اس کے لہجے میں صبح کی ساری اداسی سموئی ہوئی تھی-
ہاں اور بچپن میں ہی پڑھ لیا تھا اللہ کا شکر ہے-کہ ہم شروع سے ہی مسلمان ہیں- وہ عادتا جتا کر بولی-اور تمہیں ہماری مقدس کتاب کو لے کر غلط فہمیاں ہین یہ کوئی فال نکالنے والی کتاب نہیں ہے-نہ ہی اس میں میری اور تمہاری سٹوری ہے،،،،،،،، لا حول ولا قوۃ اللہ باللہ-
“اچھا! چلو پھر بیٹھو اور مجھے بتاؤ اس میں کیا کیا ہے؟

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: