Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 7

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 7

–**–**–

 

“اچھا! چلو پھر بیٹھو اور مجھے بتاؤ اس میں کیا کیا ہے؟
” اس میں احکامات ہیں نماز روزے حج زکوۃ کے-وہ اس کے ساتھ بینچ پر بیٹھی کر بہت سمجھداری سے اسے بتانے لگی-اس میں پرانی قوموں کے قصے ہیں قوم نمود قوم عاد اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بنی اسرائیل-
یہ بنی اسرائیل کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
“مطلب؟
وہ ہلکا سا گڑبڑائی-بنی اسرائیل کا مطلب ہوا اسرائیل کے بیٹے وہ بتا رہی تھی یا پوچھ رہی تھی خود بھی نہ سمجھ سکی-
اسرائیل کا مطلب عبداللہ ہوتا ہے ایل اللہ کو کہتے ہیں یہ یعقوب کا نام تھا-
آں ہاں حضرت یعقوب علیہ السلام کا قصہ حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ سب پڑھ رکھا ہے میں نے،سب پتہ ہے مجھے یوسف اور زلیخا کا قصہ تو کورس میں پڑھایا گیا یے ہمیں-
یوسف اور کس والا؟سیاہ فام لڑکی کی آنکھوں میں حیرت ابھری-
“یوسف اور زلیخا والا قصہ-
“عزیز مصر کی بیوی کا نام زلیخا تھا؟
کیا نہیں تھا؟وہ کنفیوژڈ ہوگئی-
“کوئی دلیل ہے تمہارے پاس کوئی حجت؟
دلیل حجت؟ وہ ٹکر ٹکر اس کا چہرہ دیکھنے لگی-ہمارے کورس کی گائیڈ بک میں لکھا تھا-
کورس کی گائید بک انسان کی بات ہے اور انسانوں کی بات میں دلیل نہیں ہوتی-دلیل بس قرآن اور حدیث سے بیان کی جاتی ہے’کیونکہ دونوں نازل خداوندی ہوتے ہیں-قرآن اور حدیث میں اور اسرائلیات میں کہیں بھی نہیں بتایا گیا کہ اس عورت کا نام زلیخا تھا-اس کا لہجہ نرم تھا’ مصر کی اس عورت سے ایک جرم سرزد ہوا تھا؛مگر اللہ نے اس کا پردہ رکھ لیا تھا-اس کا فعل تو بتایا پر نام نہیں، پر جس چیز پر اللہ پردہ رکھے وہ کھل نہیں سکتا- مگر ہم نے یوسف و زلیخا کے قصے ہر مسجد و منبر پر جا کے سنائے-ہم کیسے لوگ ہیں؟
ہیں تو کیا اس کا نام زلیخا نہیں تھا؟ وہ ساری خفگی بھلا کر حیرت سے پوچھ رہی تھی-
“اس کا نام ایک راز ہے اور اللہ وہ راز نہیں کھولنا چاہتا-سو یہ ہمیشہ راز ہی رہے گا
“اچھا- اس نے شانے اچکائے-پہلی بار اسے اپنی کم علمی کا احساس ہوا تھا مگر یہ ماننا اس کی انا کی شکست تھی- سو لا پرواہی سے ادھر ادھر دیکھتے بولی-
بہرحال مجھے افسوس ہے قرآن کو لے کر تمہارا کانسیپٹ غلط ہے-یہ کتاب وہ نہیں ہے جیسا تم سمجھتی ہو-
“اور اگر یہ وہ نہ ہوئی جیسا تم اسے سمجھتی ہو تو؟
“میں صحیح ہوں مجھے سب پتہ ہے-
“تمہیں جو کوئی اس نور کی طرف بلائے گا تم اسے ایسا ہی کہو گی؟
“مگر تم نے یہ تو نہیں بتایا تھا کہ یہ قرآن ہے- تم نے تو کچھ اور قصے سنئے تھے آخر کیوں؟
” اگر میں تمہیں تبلیغ کرتی تو تم مجھ سے اکتا کر دور بھاگ جاتی-
اب بھی تو یہی ہوگا-” وہ جتا کر بولی تو سیاہ فام لڑکی نے مسکرا کر سر جھٹکا-
“لیکن اب تمہاری حجت تمام ہو چکی ہے آگے تمہاری مرضی-
ایک سیاہ مرسڈیز زن کر کے ان کے سامنے سے گزری-تھوڑی دور جا کر اس کے ٹائر چرچرا کر رکے اور وہ تیزی سے ریورس ہوئی-محمل نے چونک کر دیکھا-
ڈرئیونگ سیٹ پر فواد تھا-
وہ حیران سی کھڑی ہوئی-وہ اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کر رہا تھا-ساتھ ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا-
وہ جیسے کھل کے مسکرائی اور بینچ پے رکھا بیگ کندھے پر ڈالا-سیاہ فام لڑکی نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا،اور پھر محمل کی مسکراہٹ کو-
تمہارے پاس دو راستوں کا انتخاب تھا-مصحف یا دل- تم نے اپنا انتخاب کر لیا-مگر مجھے ساری زندگی افسوس رہے گا-کہ میں تمہیں مصحف کی طرف نہیں لا سکی-اب تمہیں جو بھی لے آۓ میرا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا-لیکن میں ہمیشہ تمہارے لیئے دعا کرونگی-
سیاہ مصحف والی کتاب کو سینے سے لگاۓ اپنے بیگ کو کندھے سے لٹکاۓ خالی سڑک پر ایک جانب چل پڑی-محمل نے دیکھا وہ لنگڑا رہی تھی-وہ سر جھٹک کر گاڑی کی طرف چل دی-
جی فواد بھائی؟اسنے فرنٹ سیٹ والے کھلے شیشے سے جھک کر پوچھا-
آؤ بیٹھو-
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ متذبذب ہوئی-گھر تو کالج کا کہہ کر آئی تھی-
کالج کیوں جانا ہے؟
“ایسے ہی فرینڈز گیٹ ٹوگیدر کر رہی ہیں-
“پھر کبھی چلی جانا ابھی بیٹھو-! وہ حکم دے کر جیسے کچھ سننے کے موڈ میں نہ تھا-وہ مسکراہٹ دبائے بیٹھی اور دروازہ بند کیا-
ونڈ اسکرین کے اس پار سیاہ فام لڑکی لنگڑا کر جاتی ہوئی دور ہوتی جا رہی تھی-
محمل کو نہیں پتہ تھا وہ اسے اس اداس صبح میں آخری بار دیکھ رہی ہے-اس کا نام کیا تھا وہ کدھر سے آئی تھی وہ کچھ نہیں جانتی تھی-مگر اس لمحے اسے جاتے دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ وہ بس اسٹاپ پر بس کے لیئے نہیں آتی تھی-اور شاید اس کے بس پکڑ لینے ک بعد یونہی چلی جاتی تھی-
ہم کہاں جا رہے ہیں فواد بھائی؟ فواد نے گاڑی آگے بڑھائی تو وہ پوچھ بیٹھی-
“تم مجھے بھائی کہنا چھوڑ نہیں سکتی؟
وہ کیوں؟دھڑکن بے ترتیب ہوئی مگر وہ سادگی سے بولی تھی-
ایسے ہی-
پر ہم جا کہاں رہے ہیں؟
“آفس بتایا تو تھا- اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھے -ذرا سا چہرہ اس کی طرف موڑا اور مسکرایا-
آفس؟اب کے وہ واقعتا حیران ہوئی تھی-مگر آغا جان نے تو منع کیا تھا-
ان سے تو میں نے رسما پوچھا تھا-وہ لاپروا تھا –
اور حسن بھائی نے بھی-
جہنم میں گیا حسن تم آفس جانا چاہتی ہو کہ نہیں؟
” جانا چاہتی ہوں اس کے بگڑنے پر وہ جلدی سے بولی-
وہ کھل کر مسکرادیا-
“ایسے ہی اعتماد سے زندگی گزارو گی تو خوش رہو گی ورنہ لوگ تجھے ہضم کر جائیں گے- زندگی سے اپنا حصہ وصول کرنا سیکھو لڑکی!- وہ بہت موڈ میں ڈرائیو کر رہا تھا-اور وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی-اسے تو کچھ بھی کرنا نا پڑا تھا اور قسمت اس پر مہربان ہوگئی تھی-
اور یہ جوڑا تم نے پہن رکھا ہے میں غالبا پچھلے دو سال سے دیکھ رہا ہوں-
“تین سال سے اس نے تصیح کی-
“امیزنگ-یہ تمہاری کزنز تو 3 بار سے زیادہ جوڑا نہیں پہنتی اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ تین سال پہلے عید پر بنوایا تھا-محمل نے کرتے کے دامن پر ہاتھ پھیرتے بغور اسے دیکھا-
“میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ نئے جوڑے بنوا سکوں-آغا جان تو بس عید کے عید کپڑے بنوانے کے پیسے دیتے ہیں- اس کا دل نہ جانے کیوں بھر آیا-آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو پھسلے تھے-
“ارے نہیں محمل ایسے نہیں روتے-اس کے رونے پر وہ پریشان سا ہوگیا اور گاڑی سائیڈ پر رہک دی- ” معرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا-اور جب تک میں ہوں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے-
اس نے سر اٹھایا تو بھوری آنکھیں بھیگی ہوئی تھی-
اور ابھی آفس نہیں جاتے جناح سپر چلتے ہیں-وہاں سے تمہارے لیئے ڈیزائنر وئر لیں گے-تم بہت خوبصورت ہو محمل-تمہیں خوبصورت چیزیں ہی پہننا چاہیئے-وہ اس کے بہت قریب مخمور سا کہہ رہا تھا- پھر چونکا اور سیدھا ہو کر انگنیشن میں چابی گھمائی- وہ سر جھکاۓ ہتھیلی کی پشت سے گیلے رخسار رگڑنے لگی-ایک دلفریب مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھر گئی-اگر جو تائی ماں کو پتہ چلے کہ ان کا یہ ولی عہد میرے آنسوؤں کی اتنی پرواہ کرتا ہے تو کتنا مزہ آئے
فواد ترپ کا وہ پتا تھا جس کے ذریعے اس نے ان سب سے انتقام لینا تھا-
وہ اسے ڈیزائنرآؤٹ لٹس پہ لے گیا-محمل ایک دو دفعہ ہی ندا سامیہ کے ساتھ یہاں آئی تھی-رنگوں خوشبوؤں اور خوابوں کی سر زمین-چمکتے سنگ مر مر کے فرش اور قیمتی ملبوسات-اسے لگا وہ کسی خواب میں چل رہی ہے-سب کچھ جیسے واقعی اس کے قدمون میں ڈھیر ہو چکا تھا-ہ رہہی ہو وہ اندر ہی اندر خود زدہ بھی تھی
آج کل ایسی شڑٹس کا فیشن ہے-اور جیسی کرتیاں پہنتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تنقیدی نگاہ اس پر ڈال کر اس نے ایک جدید تراش خراش کے لباس کا ہینگر اتارا اور اس کے کندھے کے ساتھ لگایا- ہوں یہ ٹھیک ہے! تمہیں کیسا لگا؟
اچھاہے وہ تو جیسے بول ہی نہین پا رہی تھی-
“یہ پیک کر دیں-اس نے ہینگر بے نیازی سے سیلز گرل کی طرف بڑھایا اور دوسرے ریک کی طرف بڑھ گیا-
سدرہ کی منگنی کے لیے بھی کوئی نیا جوڑا تو لینا ہی ہو گا نا؟
سدرہ باجی کی منگنی؟وہ چونکی-
ہاں اس کا رشتہ طے ہو گیا ہے اور نیکسٹ سنڈے اس کی منگنی ہے-تمہیں نہیں پتہ؟وہ فارملز کے ریک پر کپڑے الٹ پلٹ کر رہا تھا-
نہیں-وہ گھر میں غائب دماغ رہتی تھی-یا تائی اماں لوگو نے بات چھپا کر رکھی تھی-وہ فیصلہ نہ کر سکی-
“یہ منگنی کے فنکشن کے لیئے لے لو اچھا ہے نا- اس نے ایک نارمل سا جوڑا نکال کر اس سے پوچھا-
محمل اس کے قریب چلی آئی-
پی کاک گرین رنگ کی سیدھی لمبی سی شرٹ اور ساتھ سلور چوڑی دار پائجامہ-گہرے سبز رنگ کی قمیض کے گلے اور دامن پر بھی موتیوں کا نازک کام تھا-
ٹیپکل نہیں ہے، پر بہت کلاسک ہے- یہ بھی پیک کر دیں-اس کے چہرے پر پسندیدگی دیکھ کر اسے بھی سیلز گرل کو تھما دیا-
بس بہت ہے فواد بھائی میں یہ سب کیسے لے کے جاؤں گی گھر؟جب وہ اگلے بوتیک کی طرف بڑھا تو اس نے گھبرا کر روکا-
واقعی یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں-چلو پھر کوئی چھوٹی موٹی چیزیں لے لیتے ہیں- جوتے، پرفیومز، کاسمیٹکس، جیولری، سبز اور سلور جوڑے کے ساتھ میچنگ کانچ کی چوڑیاں دلوا کر اس کے بصد اصرار بالآخر فواد نے بس کردی-
میرا دل کرتا ہے محمل میں تمہیں پوری دنیا خرید کر دے دوں-پتہ نہیں کیوں وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہا تھا-اور وہ اہی دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے گم صم سی اسے دیکھ رہی تھی- یہی سب تو چاہا تھا اس نے پر کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی آسانی سے ہو جاۓ گا-
پھر وہ اسے فیکٹری لے آیا-
ہیڈ آفس میں پاپا اور حسن ہوتے ہیں-اسد چچا اور غفران چچا پنڈی والی برانچ میں ہوتے ہیں-جبکی میں فیکٹری سائیڈ پر ہوتا ہوں-تم آج سے روز ادھر میرے ساتھ کام کرو گی-میں تمہیں آہستہ آہستہ سب کام سکھا دوں گا ٹھیک؟
“ٹھیک ہے مگر میں گھر میں کیا کہوں گی؟
“تم ٹیوشن پڑھانے جاتی ہو نا؟تو بس تمہیں ایک ٹیوشن اور مل گئی ہے-جس کی پے سے تم نے اتنی ساری شاپنگ کرلی-مسرت چاچی کو شاپنگ کے بارے میں یہی کہہ دینا اور باقیوں کو کچھ دکھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے رائٹ؟اب چائے لو گی یا کافی؟وہ سیٹ سنبھالتے بے نیازی سے ہدایت دیتا فون کی طرف بڑھا تو وہ طمانیت سے مسکرا دی-
کافی اور اس کے مقابل کرسی کی پشت سے ٹیک لگالی-
گڈ وہ بھی مسکرایا-مسکراتے ہوئے وہ بہت اچھا لگتا تھا-
اس دن فواد نے اسے کوئی کام نہیں کرنے دیا-بس ادھر بیٹھ کر مجھے ابزرو کرو اور سیکھو-کہہ کر اسے اپنے سامنے بٹھا لیا-کام کرتے کرتے گاہے بگاہے وہ اسے مسکرا کر دیکھتا تو وہ ہنس پڑتی-
وہ دن اس کو اپنی زندگی کا یادگار دن لگا-اماں مجھے دوسری ٹیوشن بھی مل گئی ہے سو اب صبح جایا کروں گی-
مسرت اپنے کاموں میں الجھی تھیں سو اس نے دھیان نہ دیا اور اس نے سارے کپڑے اور چیریں الماری میں راکھ دیں-
پھر روز کا یہی معمول بن گیا-نادیہ کے والد کی اکیڈمی سے اس نے مہینے بھر کی چھٹی لے لی-اور صبح سے شام ڈھلے واد کے ساتھ فیکٹری چلی جاتی تھی-اس نے آغآ جان سے پیسے مانگنے چھوڑ دیئے تھے-اور جب سدرہ کی منگنی کے کپڑے بنوانے کے لئیے آغآ جان نے چند سو روپے دینے چاہے-تو اس نے بے نیازی سے انکار کر دیا-
تھینک یو آغا جان پر میرے پاس پہلے ہی بہت ہیں- تین تین ٹیوشنز پڑھا رہی ہوں میرے خرچے پورے ہو ہی رہے ہیں-پھر بھی اگر چاہیئے ہونگے تو آپ سے مانگ لونگی-آغا جان اور تائی مہتاب نے پھر کبھی اس کے شام کو گھر آنے پر اعتراض نہیں کیا-محمل ان سے پیسوں کا مطالبہ نہیں کرتی انہیں اور کیا چاہیئے تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سیڑھیوں کے ساتھ لگے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی وہ کان میں جھمکا پہن رہی تھی-جھمکا چاندی کا تھا اس کے سلور چوڑی دار پائجامے جیسا-اور سبز قمیض پر بھی ایسا کام تھا-اور دوپٹہ تو ایسا تھا جیسے سبز آسمان پر تاراے بکھرے ہوں-چھوٹی آستین سے اس کے نرم گداز بازو نمایاں تھے- اور گوری کلائی میں سبز اور سلور چوڑیاں-ہلکا سا میک اپ اور سنہرے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے-
جھمکا کان میں جا کے ہی نہیں دے رہا تھا-وہ چوڑیوں بھرے دونوں ہاتھوں سے کان کے سوراخ میں جھمکا ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی- سب باہر لان میں جمع تھے-منگنی کا فنکشن سروع تھا بس ایک اس کی تیاری باقی تھی-
:اف او-اس نے جھلا کر جھمکا کان سے ہٹایا-کان کی لو سرخ پر چکی تھی-
اب کیا کروں؟
اسی پل آئینے میں اس کے سامنے فواد کا چہرہ ابھرا
فواد بھائی آپ ادھر-وہ حیران سے پلٹی-سب تو باہر ہیں-
تم بھی تو ادھر ہو-وہ اس کے بالکل سامنے آکھڑا ہوا-بلیک سوٹ میں وہ اتنا سمارٹ بندہ بنا پلک جھپکے مبہوت سا اسے دیکھے جا رہا تھا-اس کی نظریں بلا ارادہ ہی جھک گئیں-
“تم کتی خوبصورت ہو محمل-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: