Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 8

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 8

–**–**–

 

“تم کتی خوبصورت ہو محمل-
محمل کا دل زور سے دھڑکا-اس نے بمشکل پلکیں اٹھائیں-وہ ان ہی مخمور نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا-اس کی نظروں کی حدت سے اس کے رخسار سرخ پڑنے لگے تھے-
وہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جھمکا پہنا نہیں جا رہا -وہ گھبرا کر ادھر ادھر دعکھ کر بولی-
ادھر دکھاؤ-فواد نے اس کے ہاتھ سے جھمکا لیا ذرا سا جھکا-ایک ہاتھ سے اس کا کان پکڑا اور دوسرے سے جھمکا ڈال دیا-
لو۔۔۔۔۔۔ اتنی سی بات تھی اور تم نے پورا کان سرخ کر ڈالا-اس نے نرم لہجے میں کہتے ہوئے اس کے بھورے بالوں کو چھوا اور پیچھے ہٹ گیا-وہ بھی سنبھل کر جھمکے کا سہارا لگانے لگی-
ایک دم ہی فواد کچھ کہے بنا باہر چلا گیا-اور وہ پچھلے لمحے کے فسوں میں کھوئی ہوئی تھی- چونک کر پلٹی وہ دروازہ بند کر کے جا چکا تھا-
یہ کیا؟ وہ الجھ کر آئینے کی طرف پلٹی تو ٹھٹھک گئی-حسن سیڑھیوں کے اوپر کھڑا تیکھی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا-
وہ گڑبڑا کر جلدی سے بالوں میں برش پھیر کر جانے لگی-مگر حسن سیڑھیاں تیز تیز پھلانگتا بیچے آیا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آج کے بعد میں نے تجھے فواد کے دس فٹ کے قریب بھی دیکھا تو ٹانگیں توڑ گھر بٹھا دوں گا- سمجھیں- غصے سے اس کی کلائی پکڑ کر اس نے اتنی زور سے جھٹکا دیا کہ اس کی چیخ نکل گئی-
حسن بھائی—
آئی سمجھ کہ نہیں؟ اس نے دوبارہ جھٹکا دے کر اس کی کلائی چھوڑی- اور ایک غصیلی نگاہ ڈال کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا-
وہ ساکت سی اپنی جگہ پر کھڑی رہ گئی-اس نے سبز چوڑیوں والی کلائی پکڑی تھی- اور آدھی سے زیادہ چوڑیاں تڑ تڑ ٹوٹ کر گرنے لگی تھی- بہت سا کانچ اسے چبھ گیا تھا-اور جگہ جگہ سے خون کے قطرے رسنے لگے تھے-
یہ۔۔۔۔۔۔۔ حسن بھائی – انہیں کیا ہوا؟ وہ دکھ سے اپنی کلائی دیکھتی رہ گئی تھی- سبز کانچ کے ٹکڑے زمین پر بکھرے پرے تھے-اس کی آنکھون میں آنسو آگئے-
یتیم ہونے کا یہ مطلب تھا-جس کا دل چاہے اس پر ہاتھ اٹھائے- وہ آنسو پیتی آندر کے زخموں کو بمشکل مرہم لگاتی زمین سے کانچ چننے لگی- دل چاہ رہا تھا وہ بہت روئے مگر خود کو سنبھالتے وہ دوسری چوڑیاں پہن کر باہر آگئی-
سدرہ براے صوفے پر دلہن کی طرح سجی سنوری بیتھی تھی-عام سی شکل کی سدرہ بہت میک اپ کے بعد بھی عام سی ہی لگ رہی تھی-اس کا منگیتر خاصا موٹا تھا-اور خاصا شرمایا ہوا بھی- اس مین کچھ ایسا نہین تھا کہ کوئی متاثر ہوتا- اور ندا سامیہ مسکرا مسکرا کر جلاے ہوئے تبصرے بھی کر رہی تھیں- سننے میں آیا تھا وہ مہتاب کی کسی سیکنڈ کزن کا بیٹا تھا-یہی اسلام آباد مین ایک اچھی پوسٹ پر کام کر رہا تھا-جانے کب رشتہ آیا اور ہان ہوئی-اسے اور مسرت کو تو غیروں کیطرح خبر دی گئی-
لان میں قمقموں اور روشنی کی بہار تھی-وہ جس وقت باہر آئی اس وقت رسم ہورہی تھی-اور سمدھنیں ایک دوسرے کو مٹھائی کھلا رہی تھی سب ہنس بول رہے تھے-
وہ خاموشی سے گھاس پر چلتی ہوئی ایک کرسی پر آبیٹھی- اس کا دل اداس اور آنکھیں غمگین تھیں-
فواد بھی وہیں اسٹیج پر کسی بات پر ہنستا ہوا اپنے بہنوئی کو مٹھائی کھلا رہا تھا- محمل نے اردگرد متلاشی نگاہوں سے دیکھا- اسٹیج کے سامنے گھاس پر ساڑھی میں ملبوس فضہ اپنی کسی جاننے والی خاتون سے حسن کا تعارف کروا رہی تھی-حسن کا بازو تھامے بہت فخر سے وہ حسن کے بارے میں بتا رہی تھی- اور وہ مسکراتے ہوۓ اس عورت سے بات کر رہا تھا-اس نے بھی بلیک ڈنر سوٹ پہن رکھا تھا-اور بلا شبہ وہ بھی بہت گڈ لکنگ تھا-
محمل نے اسے دیکھا-اس پل اسے حسن سے بڑا منافق اور دوغلا بندہ کوئی نہ لگا-حسن نے اس کی نازک کلائی کو ہی نہیں اس کے دل کو بھی زخمی کیا تھا-سارے فنکشن کا مزہ خراب کر دیا تھا- وہ اتنی بد دل اور غم زدہ ہو کے بیٹھی تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کب وسیم اس کے ساتھ آکر کھڑا ہوگیا-
آج کتنوں کو گرانے کا اراداہ ہے سرکار؟وہ ایک دم پاس آکربولا تو وہ اچھلی- وہ اپنے ازلی لوفرانہ انداز میں مسکرا رہا تھا-
بڑے لشکارے ہیں چھوٹی کزن’ خیریت؟ وہ معنی خیز مسکرایا تو وہ گھبراکر اٹھی- اور لڑکیوں کے گروپ کی طرف بڑھ گئی-ساتھ ہی بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی- وسیم ادھر ادھر گھومتے مسلسل اسے اپنی نگاہوں کے حصار میں لیئے ہوۓ تھا-
وہ بچتی بچاتی لوگوں میں ہی گھری رہی-وہ سب کزنز بہت خوش اور ایک ساتھ مکمل نظر آرہے تھے- صرف وہ ایک فالتو کردار تھی-حالانکہ کتنی ہی عورتوں نے پوچھا تھا یہ سبز اور سلور سوٹ والی لڑکی کون ہے- وہ تھی ہی اتی منفرد اور دلکش اور ہر شئے سے بے خبر وہ سارا وقت افسردہ ہی رہی
سدرہ کی منگنی پر جتنے شغل اور مزے کا اس نے سوچا تھا-اس سے بڑھ کر بد مزہ ہوئی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فواد اسے آفس میں چھوٹے موٹے کام دینے لگا-زیادہ تر سپر وژن کا کام دیتا-
“یہ ڈرافٹ بنانا ہے-اپنی نگرانی میں فنانس کے ذاکر صاحب سے بنوا لاؤ- اس چیک پر سائن کروانا ہے فلاں صاحب سے کروا لاؤ-
اور یہ سارے کام بہت اعتماد طلب ہوتے ہیں-اسے اچھا لگتا تھا وہ اس پر بھروسہ کرتا ہے-اس کا خیال کرتا ہے- وہ ایک ساتھ ہی لنچ کرتے تھے-باقی وقت وہ آفس میں کام کرتا اور محمل اپنے کیبن میں بیٹھی دوسروں کا بغور مشاہدہ کرتی- کبھی کبھی اسے احساس ہوتا کہ اتنے دن گزر جانے کے بعد نہ تو وہ کام کو ٹھیک سے سمجھ پائی اور نہ ہی فواد کے زیادہ قریب آپائی-وہ ہمیشہ اس کی پسند کی چیزیں منگواتا- اس سے اس کے مشاغل اور سٹڈی کے بارے میں ہلکی پھلکی گپ شپ بھی کرتا- مگر اس شام آئینے کے سامنے جھمکا پہنانے جیسی بے خودی اور جراٰت دوبارہ نہیں کی تھی-
اس روز صبح فواد کے ساتھ آفس نہیں گئی تھی-
“دوپہر میں اسٹاپ پرآنا میں پک کرلونگا-
آج مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے-وہ صبح دھیرے سے کہہ گیا تھا- اور اب وہ مسرور دوپہر کا انتظآر کرتی اوپر ٹیرس پر بیٹھی چاۓ پی رہی تھی-
جانے فواد کو کیا بات کرنا تھی-اتنا کیا خاص کام تھا- وہ ٹانگ پے ٹانگ رکھے چائے کے سپ لیتی سوچ رہی تھی-نگاہیں یونہی ساتھ والوں کے لان میں بھٹک رہی تھیں- وہاں گھاس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی-اور ان پر سفید شلوار قمیض اور سفید ٹوپی پہنے مدرسے کے بچے ہل ہل کر قرآن پاک پڑھ رہے تھے- درمیان میں ایک چھوٹی سی میز پڑی تھی جس پر ایک بڑا قرآن پاک اور کچھ سپارے پڑے ہوے تھے-ساتھ ہی اگر بتیاں جل رہی تھیں-
وہ بلا اراداہ ہی بڑے بند قرآن کو دیکھے گئی-ذہن کے نہاں خانوں سے وہ چہرہ نکل کر اس کے سامنے آگیا-
سیاہ فام لڑکی کا چہرہ-سیاہ آنکھیں اور موٹے موٹے سیاہ ہونٹ-وہ مصحف کو سینے سے لگائے لنگراتے ہوئے سڑک پہ دور جا رہی تھی-کبھی کبھی اسے لگتا-جاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے- وہ کیوں رو رہی تھی اسے سمجھ نہیں آئی تھی- اسی طرح بچے ہل ہل کر سیپارے پڑھ رہے تھے-اس نے دیکھا کونے پر بیٹھے ہوئے ایک بچے نے صفحہ پلٹتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا اور دو تین صفحے ایک ساتھ پلٹ دئیے-اور پھر بلند آواز میں لہک لہک کر پڑھنے لگا-
نہ چاہتے ہوئے بھی محمل ہنس دی-وہ چھوٹا سا بچہ اپنی دانست میں آس پاس کے لوگوں کو دھوکہ دے رہا تھا یا پھر رب کو وہ جان نہیں بائی-
بچے آہستہ آہستہ اتھ کر سیپارے رکھنے لگے-یہاں تک کہ سارے سیپاروں کا واپس ڈھیر میز پر لگ گیا-تو قاری صاحب نے پاس کھڑے ملازم کو بلایا-
قرآن خوانی ہو چکی ہے بریگیڈئیر صآحب کو بلا دیں آکر دعا میں شرکت کر لیں-ملازم سر ہلا کر اندر چلا گیا-وہ فواد کو بھول کر دلچسپی اور تجسس سے ریلنگ پر جھکی ساری کاروائی دیکھنے لگی-
“سر کہہ رہے ہیں وہ بزی ہیں دعا میں شرکت نہیں کر سکتے-مگر آپ کا شکریہ کہ آپ نے قرآن پڑھا دیا-سر کہہ رہے ہیں کہ انہیں سکون نہیں ہے باقی سب ٹھیک ہے-بس یہی دعا کروا دیں کے انہیں سکون مل جاۓ-
قاری صاحب نے گہری سانس لی اور دعا کے لیئے ہاتھ اٹھا لیئے-
وہ جیسے شاکڈ سی سارا منظر دیکھ رہی تھی-دل میں نا معلوم افسوس سا اتر آیا تھا-ایک عجیب سا احساس ندامت،عجیب سی بے کلی-وہ اس احساس کو کوئی نام تو نہ دے پائی پر کپ اٹھا کر نیچے آگئی-
اور پھر دوپہر کو وہ اس واقعے کو بھول بھال چکی تھی-اسٹاپ پر ٹائم پہ فواد کی مرسڈیز آتی دکھائی دی-تو وہ خوش اور پر شوق بینچ سے اٹھی-
کیسی ہو؟ وہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھی تو وہ مسکرا کر،جیسے بے تابیسے پوچھ رہاتھا-
ٹھیک ہوں فواد بھائی آپ کیسے ہیں؟وہ سادگی سے کہہ کر بیگ کندھے سے اتارت کر پیچھے رکھنے لگی-اپنے انداز سے اس نے کبھی ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ فواد کے جذبات تک رسائی حاصل کر چکی ہے-وہ خود کو ہمیشہ اس کے احسانوں کے بوجھ تلے ممنون ظاہر کرتی-
آج کا دن بہت اسپیشل ہے محمل-وہ کار سڑک پر ڈال کے بہت جوش سے بتا رہا تھا-آج مجھے تم سے بہت کچھ کہنا ہے-
جی کہیئے؟
اونہوں ابھی نہیں-ابھی سرپرائز نہیں کھول سکتا-
اچھا -ایسا کیا ہے فواد بھائی-
تم خود دیکھ لینا-خیر ابھی تو ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں- تمہارے لیئے کچھ بہت سپیشل لینا ہے-
“کپڑے،مگر ابھی تو کوئی فنکشن قریب نہیں ہے-
ہے نا! آج ہے کچھ خاص
“اچھا کون کون ہوگا ادھر؟
میں اور تم-اس نے مبہوم سا مسکرا کر اس کی آنکھوں مین دیکھا-
آفس میں؟ وہ کچھ کچھ سمجھ رہی تھی-مگر انجان بنی رہی-
اونہوں میرٹ میں آج ہم ساتھ ڈنر کریں گے-
“میرٹ لمحے بھر کو تو وہ سانس لینا بھول گئی تھی-میرٹ میں ڈنر تو کیا اس نے تو کبھی میرٹ کی اندر سے شکل بھی نہیں دیکھی تھی-لیکن پھر ڈنر کا لفظ اسے ذرا پریشان کر گیا-
“میں اتنی رات کو کیا کہہ کر باہر رہوں گی فواد بھائی؟
نہیں ہم جلدی آجا ئیں گے-اور آج رات میں خود تمہیں گھر لے کر جاؤں گا مگر تمہارے جواب کے بعد-
جواب؟کس چیز کا جواب؟
کچھ پوچھنا ہے تم سے-
اس کا دل زور سے دھڑکا-کیا وہ جو سمجھ رہی تھی صحیح تھا؟
مگر کیا؟
یہ تو وہی بتاؤں گا-آؤ کچھ کپڑے لیتے ہیں تمہارے-وہ کار پارک کر کے سیٹ بیلٹ ہٹا رہا تھا-
مگر یہ ٹھیک تو ہے-اس نے معمولی سا احتجاج کیا-
” اونہوں آج تمہیں اسپیشل تیار ہونا پڑے گا-
اس کے انداز میں نرم سی دھونس تھیں-وہ ہنس کر اچھا کہتے نیچے اتری-
وہ اسے ایک خاصے مہنگے بوتیک میں لے گیا-
کپڑوں سے زیادہ کپڑوں کی قیمتیں ہو اڑا رہی تھی-وہ خود ہی آگے بڑھ کر کپڑوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا-پھر رک کر پوچھا تمہیں ساڑھیاں پسند ہیں محمل؟
ساڑھیاں وہ حیران ہوئی-جی مگر وہ بہت فارمل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی اگر مگر نہیں،یہ ساڑھی دیکھو،کیسی ہے،
اس نے ایک سیاہ ساڑھی آگے کی سیاہ شفون کی ساڑھی پر سلور مقیش بکھری تھی-یہ اتنی خوبصورت جھلملاتی ساڑھی تھی کہ نظریں خیرہ کرتی تھیں-
اچھی ہے مگر بہت قیمتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم سے زیادہ قیمتی نہیں ہے یہ پیک کر دیں-
پھر میچنگ جوتے اور ایک ناک سلور نگوں والا آرٹیفشل سیٹ لیتے خاصا وقت لگ گیا-دوپہر ڈھلنے لگی تھی جب وہ ایک جیولری کی شاپ میں داخل ہوۓ-گولڈ اینڈ ڈائمنڈ جیولری شاپ میں محمل کا دل ور سے دھڑکا تھا-کیا فواد اس کے لیئے کچھ اتنا قیمتی لینے جا رہا تھا؟کیا وہ اس کے لیئے اتنی خاص تھی؟
“ڈائمنڈ رنگز دکھائیے-وہ کرسی کھینچ کے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا قدرے تحکم و رعب سے بولا تو محمل تو سانس لینا بھول گئی-خدا اس طرح چھپر پھاڑ کر بھی مہربان ہوتا ہے-اسے آج پتہ چلا تھا-
معمر، با ریش سنار صاحب نے فورا کچھ سیاہ کیس آگے کیئے اور جیس جیسے وہ سیاہ کیس کھولے جا رہا تھا جگر جگر کرتی ہیرے کی انگوٹھیوں سے اس کی آنکھیں چندھیا رہی تھی-
سر solitaire میں دکھاؤں؟
ہاں بلکل-
وہ تو بلکل چپ بیٹھی تھی-سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ری ایکٹ کس طرح کرے-
فواد کو کوئی رنگ پسند نہیں آرہی تھی-وہ اس سے رائے بھی نہیں لے رہا تھا-بس دھڑا دھڑ انگوٹھیاں رد کرتا جا رہا تھا-
“یوں کرو تم پہلے تیار ہو جاؤ رنگ بعد میں لے لیں گے-شاپ سے نکلتے ہوۓ اس نے گھڑی دیکھی-
“میری چھے سے سات ایک میٹنگ ہے-بہت ضروری ہے مس نہیں کر سکتا-چھے سے سات تمہیں میرے ساتھ آفس میں بیٹھنا پڑے گا-اور پھر سات بجے ہم اکتھے میرٹ کے لیے نکلیں گے-سو تم ابھی تیار ہو جاؤ-
“کدھر وہ واقعی حیران ہوی تھی-
“پارلر میں اور کدھر؟ میں نے تمہارے لیئے اپائنمنٹ لے لی تھی-تم صرف اندر جانا اور وہ تمہیں تیار کر دیں گی-
وہ اسے قریبی پارلر لے آیا تھا-اور پھر ویسے ہی ہوا جیسے اس نے کہا تھا-محض ایک گھنٹے بعد جب اس نے پارلر کے قد آدم آئینے میں خود کو دیکھا تو اسے خود پر رشک آیا-
سیاہ مقیش والی دلکش ساری میں اس کا دراز قد سیاہ و سلور پنسل ہیل کے باعث اور نمایاں ہوگیا تھا-
لمبی صراحی سی گردن اونچے جوڑے کے باعث بے حد دلکش لگ رہی تھی- جوڑے سے کچھ لٹیں گھنگھریالی کر ک اس کی گردن اور چہرے پر جھول رہی تھیں- لائٹ لپ اسٹک کے ساتھ بلیک اسموکی آئیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بلیک بلاؤز کی چھوٹی بازو سے جھلکتے اس کے بے حد گورے سنہرے بازو-ذرا سی محنت سے وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ خود کو دیکھ دیکھ کر اس کا دل نہیں بھر رہا تھا-
وہ باہر آئی تو وہ جو اس کے انتظار میں گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ایک دم سیدھا ہوا-اور پھر مبہوت سا دیکھتا رہ گیا-وہ ساڑھی کا پلو انگلی پر لپیٹے آحتیاط سے پارلر کی باہر کی سیڑھیاں اتر رہی تھی-
“اتنی حسین ہو تم محمل؟مجھے اتنے برس پتہ ہی نہیں چلا-وہ جیسے متاسف ہوا تھا-وہ بے اختیار مسکرا دی-
“تھینک یو،چلیں؟اس نے آسمان کو دیکھا جہاں شام ڈھلنے کو تھی-
“ہاں میری میٹنگ شروع ہونے میں یادہ وقت نہیں ہے چلو- ایک بھرپور مسکراتی نگاہ اس پر ڈال کر وہ کار کا لاک کھولنے ہی لگا تھا کہ اس کا فون بجا-
اس وقت کون کہتے کہتے اس نے اسکرین کو دیکھا اور جلدی سے سیل کان کے ساتھ لگا لیا-
جی ملک صاحب؟خیریت؟جی کیا مطلب اس نے لب بھینچ کر کچھ دیر دوسری طرف ہونے والی بات سنی-مگر آپ نے ان کو بتایا آپکہ میں نے ہی بھیجا ہے؟ مگر کیوں؟انہوں نے سائن کیوں نہیں کیے؟اور اسے ایک دم فواد کے چہرے پر ابھرتی غصے کی لہر دکھائی دی-آپ سینئر آفیسر ہیں یا جونیئر انہیں اس سے کیا غرض؟ آپ کو پتہ ہے ملک صاحب اگر انہوں نے فائل سائن نہ کی تو صبح تک ہماری فیکٹری ڈوب جائے گی- ہم برباد ہو جائیں گے- اس نے رک کر کچھ سنا اور ایک دم بدکا-کیا مطلب میں اس وقت کیسے آسکتا ہوں اتنی دور؟میری میٹنگ ہے صدیق صاحب کے ساتھ- چھے سے سات میں ابھی اے ایس پی صاحب سے کیسے مل سکتا ہوں؟کیا بکواس ہے اس نے جھلا کر فون بند کر دیا-
کیا ہوا؟ وہ گھبرا کر قریب آئی-
“معلوم نہیں کیا ہوگا اب-وہ پریشانی سے دوسرا نمبر پریس کرنے لگا-لمحے بھر کو تو وہ جیسے بھول ہی گیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کھڑی ہے-
جی راؤ صآحب میں نے ملک الیاس کو بھیجا تھا آپ کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر راؤ صاحب اتنی بھی کیا بے اعتباری؟اسنے رک کر دوسری طرف سے سنا اور جیسے ضبط کرتا ہوئے بے بسی سے بولا- آپ کے اے ایس پی کا دماغ تو ٹھیک ہے؟اس کا باپ جاگیردار ہوگا گاؤں کا ہم اس کے مزارعے نہیں ہیں-بورڈ آف ڈائریکٹر میں سے کسی کے پاس بھی اتنا ٹائم نہیں ہے کہ ان کے ایک فون کال پر بھاگا چلا آئے اور نہ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحے بھر کو رکا اور پھر میں کچھ دیر میں آپ کو بتاتا ہوں-
کہہ کر وہ اب کوئی اور نمبر ملانے لگا تھا- اے ایس پی ہمایوں داؤد نہ جانے کیا مسئلہ ہے اس بندے کا-
محمل بد دل سی اس کے ساتھ گاڑی کے باہر کھڑی تھی-نجانے کیا ہوا تھا -دل میں عجیب عجیب سے وسوسے آرہے تھے-
خیریت ہے فواد بھائی-
“خیریت ہی تو نہیں ہے-اے ایس پی جان کو آگیا ہے-کہتا ہے کمپنی کے مالکوں کو بھیجو تو فائل اپروو ہوگی-میں ملازموں سے بات نہیں کرتا-اب کس کو بھیجوں ادھر؟ وہ ابھی اسی وقت بلا رہا ہے-اور اس کے گھر پہنچنے کے لئے آغآ جان یا حسن کو ڈیڑھ گھنٹہ تو لگ جائے گا-اور اگر نہ پہنچے تو میرا کڑوڑوں کا پروجیکٹ ڈوب جاۓ گا-
وہ جھنجھلا کر کسی کو بار بار فون ملاتا بہت بے بس لگ رہا تھا-اب یہی حل ہے میں ابھی اس کے پاس چلا جاؤں-اور واپس آکر صدیقی صاحب سے میٹنگ کر لوں-
اور ڈنرکینسل؟اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا-
کرنا پڑے گا محمل- اس نے ہاتھ روک کر محمل کا تاریک پڑتا چہرہ دیکھا-آئی ایم سوری میں یوں تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا تھا-مگر میری مجبوری ہے-وہ ملازم سے بات نہیں کرے گا-گھر کے بندے کو ہی جانا پڑے گا-
میں بھی ملازم ہوں فواد بھائی؟ایک خیال سا محمل کے دماغ میں میں ابھرا
کیا مطلب وہ جیسے چونکا-
اگر۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں آپ کے دو کاموں میں سے ایک کر دوں تو تب تو ہم ڈنر پر جا سکتے ہیں نا؟ وہ ہچکچا کر بولی کہ کہی برا نہ مان جائے-
“ارے مجھے یہ خیال کیوں نہیں آیا؟تم بھی تو کمپنی کی اونرز میں سے ہو-تم بھی تو یہ فال سائن کروا سکتی ہو- بلکہ یوں کرتے ہیں تم فائل کو لے کر ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ- جب تک میں صدیقی صاحب سے نپٹ لیتا ہوں- اور پھر ڈرائیور تمہیں ہوٹل لے آئے گا ٹھیک؟ اس نے منٹوں میں سارا پلان ترتیب دے لیا-وہ گہری سانسیں بھر کے رہ گئی-
:ٹھیک ہے میں پھر چینج کر لوں؟
“نہیں نہیں ایسے ہی ٹھیک ہے-اس طرح تو تم واقعی پر اعتماد ایگزیکٹو لگ رہی ہو- یہ ساری بزنس وومن فارملی ایسے ہی ڈریس اپ ہوتی ہیں- میں ڈرایور کو کال کر لوں-
وہ مطمئن تھا مگر محمل کو قدرے عجیب لگ رہا تھا-وہ اتنی قیمتی اور جھلملاتی ساڑھی میں کسی فنکشن کے لیئے تیار ہوئی لگ رہی تھی-کسی آفیشل معاملے کے لیئے موزوں نہیں-لیکن اگر فواد کہہ رہا ہے تو ٹھیک ہی کہہ رہا ہو گا-
سارا رستہ وہ پچھلی سیٹ سے سر ٹکاے آنکھیں بند کئے ہیرے کی انگوٹھی کے متعلق سوچ رہی تھی- جو فواد نے یقینا اس کے لیئے لے لی ہوگی-اور جب وہ تائی اماں کے سامنے کھڑا محمل سے شادی کا کہہ رہا ہوگا-
تب تو گھر میں سچی میں طوفان آجائے گا-مگر اچھا ہے-ایسا ایک طوفان ان فرعونوں کو لرزانے کے لیئے آنا چاہیئے-
وہ پرسکون پر اعتماد اور مطمئن تھی-
گاڑی طویل ڈرائیو وے عبور کر کے پورچ میں داخل ہوئی-تو وہ ایک پر ستائش نگاہ خوبصورت سے لان پر ڈال کر گاڑی سے اتری-
مین ڈور پر جیسے ایک سوٹڈبوٹڈ ادھیڑ عمر شخص جیسے اس کا منتظر کھڑا تھا-
“اے ایس پی ہمایوں داؤد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ذہن میں اندازہ لگایا-اور فائل ہاتھ میں پکڑے اعتماد سے چلتی ان کے قریب ائی-
” میں آغآ گروپ آف انڈسٹریز سے-
جی میڈم محمل ابراہیم- آئیے اے ایس پی صاحب آپ کا ہی انتظار کر رہے ہیں-اس نے دروازہ کھول کر راستہ دیا-وہ لمحے بھر کو ہچکچائی پھر خود کو ڈپٹتے ہوئے آگے بڑھی-
روشنیوں سے گھرا بے حد نفیس اور قیمتی سامان سے آراستہ گھر اندر سے اتنا خوبصورت تھا کہ خود کو سنجیدہ رکھنے کے باوجود اس کی نظر بار بار بھٹک کر آس پاس کا جائزہ لینے لگتی-
اے ایس پی صاحب کدھر ہیں؟وہ اندر آپکا انتظار کر رہے ہیں-وہ اس کے اگے تیز تیز چلتا ہوا لاؤنج میں لے آیا-سر یہ پہنچ گئی ہیں
اس نے لاؤنج میں قدم رکھا تو ایک شخص کو اپنی طرف متوجہ پایا-
وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے صوفے پہ بیٹھا تھا-تھوڑی تھوڑی سی شیو بڑھی ہوئی تھی- اور بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے-
بلیک کوٹ میں ملبوس جس کے اندر سفید شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھلے تھے-ایک ہاتھ میں اورنج جوس سے بھرا وائن گلاس لیئے وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا-
ایک لمحے کو تو محمل کے قدم ڈگمگائے-اس کا پالا تو ابھی تک بس گھر کے لڑکوں سے پرا تھا- فواد اور حسن خوش شکل تھے-کچھ دولت کی چمک دمک سے بھی سٹائلش لگتے تھے-باقی اس کے چچاؤں میں سے بھی کوئی متاثر کن شخصیت کا مالک نہیں تھا- جتنا صوفے پر بیٹھا وہ مغرور سا دکھنے والا شخص تھا- ہینڈ سم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے حد ہینڈ سم۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا وجیہہ مرد اس نے پہلی بار دیکھا تھا-
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مرعوب ہوگئی-
وہ خاموشی سے اسے بغور جانچتی نگاہوں سے دیکھتا رہا-یہاں تک کہ وہ آکر سیدھی سامنے والے صوفے پر بیٹھی اور فائل میز پر رکھ دی-یہ فائل اپروو کروانی تھی اے ایس پی صاحب-
وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے اس کے مقابل بیٹھی خاصے اعتماد سے بولی-تو وہ ذرا سا مسکرایا اور پاس کھڑے سوٹڈ بوٹڈ شخص کی طرف دیکھا-
ان کو آغا فواد کریم نے ہی بھیجا ہے راؤ صآحب؟
مسکرا کر کہتے اس نے جوس کا گلاس لبوں سے لگایا-
محمل نے چونک کر راؤ کو دیکھا-
وہ بھی مسکرا دیا تھا-
کچھ تھا ان دونوں کی معنی خیز مسکراہٹ میں-کہ دور اس کے ذہن میں خطرے کا الارم بجا-
تو آپ فائل اپروو کروانے آئی ہیں؟وہ استہزائیہ مسکراتی نگاہوں سے کہہ رہا تھا- محمل کو الجھن ہونے لگی-
“جی یہ آغآ انڈسٹریز کی فائل ہے اور۔۔۔۔۔۔
“اور آپ کی اپنی فائل وہ کہاں ہے؟اس نے گلاس سائیڈ پر رکھ کر جھک کے فائل اٹھائی-
میری کون سی فائل؟کچھ تھا جو اسے کہیں غلط لگ رہا تھا-کہیں کچھ بہت غلط لگ رہا تھا-
“آپ جائیں راؤ صاحب-اس نے فائل کے صفحے پلٹا کر ایک سرسری سی نظر ڈآلی-اور پھر فائل اس کی طرف بڑھائی- محمل لینے کے لیئے اٹھی مگر بہت تیزی سے راؤ صاحب نے آگے بڑھ کر فائل تھامی-
اور جا کر آغآ فواد کے ڈرائیور سے کہیں کہ فائل اپرووڈ ہے صبح انہیں رسید مل جائے گی-
بہتر سر! راؤ صاحب فائل لے کر پلٹے تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی-
“مجھے دے دیں میں لے جاتی ہوں-“
وہ دونوں ایک دم چونکے تھے-اور پھر رک کر ایک دوسرے کو دیکھا-ہمایوں نے اشارہ کیا تو راؤ صاحب مسکرا کر باہر نکل گئے-
آپ بیٹھیئے مادام ڈرائیور دے آئے گا-
ایک دم ہی اس کے کانوں میں خطرے کی گھنٹی زور زور سے بجے لگی- اسے لگے وہ غلط وقت پر غلط جگہ اور غلط لوگوں میں آگئی ہے-اسے وہاں نہیں آنا چاہیئے تھا-
نہیں میں چلتی ہوں-وہ پلٹنے ہی لگی تھی کہ وہ تیزی سے اٹھا اور زور سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف گھمایا-اس کے لبوں سے چیخ نکلی-
” زیادہ اوور سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے-جو کہا جا رہا ہے ویسے ہی کرو-اس کے بازو کو وہ اپنی آہنی گرفت میں لیئے غرایا تھا-لمحے بھر کو تو زمین آسمان محمل کی نگاہوں کے سامنے گھوم گیا تھا-
” چھوریں مجھے- وہ سنبھل ہی نہیں پائی تھی کہ ہمایوں داؤد نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنے سامنے کیا-
“زیادہ چالاکی دکھائی تو اپنے پیروں پر گھر نہیں جاؤ گی-
مم۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے چھوڑیں -مجھے گھر جانا ہے محمل نے اسے دھکیلنا چاہا-مگر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی-
گھر جانا ہے؟گھر ہی جانا تھا تو یہ اتنا بناؤ سنگھار کس لیئے کیا تھا ہوں؟
اس نے ہولے سے اس کی ٹھوڑی انگلی سے اوپر کی-دوسرے ہاتھ سے کہنی اتنی مضبوطی سے پکڑی تھی کہ وہ ہل نہیں پائی اور گھبرا کر چہرہ پیچھے کیا-
میں فنکشن پر جا رہی تھی-آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں میں ایسی لڑکی نہیں ہوں-آپ فواد بھائی سے میری بات کروائیں- انہیں بتائیں کہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چونکا آغآ فواد تیرا بھائی ہے؟

 

Read More:  Aaina Novel by Nazia Shazia – Last Episode 3

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: