Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 9

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 9

–**–**–

 

بھائی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چونکا آغا فواد تیرا بھائی ہے؟
جی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرے بھائی ہیں-آپ بے شک ان سے پوچھ لیں-مجھے یہاں نہیں آنا تھا فواد بھائی کو خود آنا تھا-مگر ان کی میٹنگ تھی- وہ ایک دم رونے لگی تھی-آپ پلیز مجھے گھر جانے دیں میں غلط لڑکی نہیں ہوں میں ان کی بہن ہوں-
“جھوٹ بول رہی ہے-راؤ پیچھے آ کھڑا ہوا تھا- اسی کو ادھر آنا تھا چار ہفتے پہلے تو ڈیل ہوئی تھی سر اور اسی کے نام سے ہوئی تھی-کم عمر خوبصورت اور ان چھوئی-آغآ نے کہا تھا یہ ہماری ڈیمانڈ پہ پوری اترتی ہے-راؤ کا لہجہ سپاٹ تھا-
محمل ابراہیم نام ہے نا تمہارا؟ تم آغآ کی بہن کیسے ہوسکتی ہو؟ وہ تین کڑوڑ کے نفع کے لیے اپنی بہن کو ایک رات کے لیے نہیں بیچ سکتا-
اس کے اردگرد جیسے دھماکے ہورہے تھے-اسے بہت زور کا چکر آیا تھا- وہ گرنے ہی لگی تھی کہ ہمایوں نے اس کی دوسری کہنی سے پکڑ کر اسے کھڑا رکھا-
“اب سیدھی طرح بتاؤ تم ہمیں بے وقوف بنا رہی ہو یا آغآ نے تمہیں بے وقوف بنایا ہے-تم محمل ابراہیم ہو اور وہ فواد کریم-وہ تمہارا سگا بھائی ہے؟اتنے عرصے لڑکیاں فراہم کر رہا ہے تو کبھی اپنی بہن کا سودا نہیں کیا-“
“نہیں- اس نے بے یقینی میں نفی میں سر ہلایا-آپ جھوٹ بول رہے ہیں-فواد بھائی میرے ساتھ ایسا نہین کر سکتے-آپ میری ان سے بات کروائیں- آپ خود سن لینا وہ میرا ویٹ کر رہے ہیں- ہمیں ایک فنکشن پہ جانا تھا-
عام انسان کی طرح محمل کو بھی ہلکی پھلکی جھوٹ کی عادت تو تھی ہی-اور اسی پرانی عادت کا کمال تھا کہ اس کے لبوں پپے خود بخود ڈنر کی جگہ فنکشن نکلا تھا- کہیں لا شعوری طور پر اسے احساس تھا کہ اگر فواد اور اپنے خاص ڈنر کا بتاتی تو وہ اسے بری لڑکی سمجھتا-
راؤ صاحب آغا فواد کو فون ملائیں-
“رائٹ سر! راؤ موبائل پر نمبر مملانے لگا-
اور اسپیکر آن رکھیں-اس نے کہہ کر ایک گہری نظر محمل پر ڈالی-جو بے قرار اور ہراساں سی کھڑی راؤ کے ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکھ رہی تھی-
“جی راؤ صاحب- ؟”
ایک دم کمرے میں فواد کی آواز گونجی- مال پہنچ گیا؟
“پہنچ تو گیا ہے مگر پرزے آواز بہت دیتے ہیں-آپ بات کر لیں-اس نے فون اگے پڑھا کر محمل کے کان سے لگایا-
ہیلو فواد بھائی! وہ رو پڑی تھی-فواد بھائی یہ لوگ مجھے گلظ سمجھ رہے ہیں-آپ پلیز ان کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بکواس مت کرو اور میری بات غور سے سنو-
تمہیں وہ ڈائمنڈ چاہیے یا نہیں؟چاہیئے نا؟تو جیسے اے ایس پی صاحب کہتے ہیں کرتی جاؤ-
فواد بھائی! وہ حلق کے بل چلائی-یہ میرے ساتھ کچھ غلط کر دیں گے-
وہ جو کرتے ہیں کرنے دو-ایک رات کی ہی تو بات ہے- اب زیادہ بک بک مت کرنا صبح تمہیں ڈرائیور لینے آجائے گا-
ساتوں آسمان اس کے سر پر ٹوٹے تھے-
وہ ساکت سی کھڑی رہ گئی-
“صرف ایک رات ہی کی تو بات ہے-صرف ایک رات ہی کی تو بات ہے- اس کی آواز اس کے ذہن پر ہتھوڑے برسا رہی تھی-
بس ایک ڈائمنٹ رنگ کا لارا دیا ہے اس نے تمہیں؟اور تم تو کہتی ہو وہ تمہارا بھائی ہے؟فون اس کے کان سے ہٹا کر بند کرتے ہوۓ ہمایوں نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا-
وہ اسی طرح پتھر کا بت بنی کھڑی تھی- اس کا ذہن،دل کان آنکھیں سب بند ہو چکے تھے-
“راؤ صاحب پتہ کروائیں یہ واقعی فواد کریم کی بہن ہے یا نہیں؟ اور اس کی بات میں کتنی سچائی ہے،یہ تو ہم بعد میں خود معلوم کر لیں گے-شمس بچل اس نے زور سے آواز لگائی-
اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے تھے-ساکت کھڑے وجود سے سہمی سہمی جان آہستہ آہستہ نکل رہی تھی-اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرے بادل چھانے لگے تھے-
دو گن مین دوڑتے ہوئے اندر آئے تھے-
“شمس اسے اوپر والے کمرے میں بند کردہ، اور دھیان کرنا بھاگ نہ پائے بچل۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اس کا فقرہ مکمل ہوتا محمل چکرا کر گری اور اگر اس نے اسے دونوں بازوؤں سے تھام نہ رکھا ہوتا تو وہ نیچے گر پڑتی-
محمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل! وہ اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا-
اس کی آنکھیں بند ہوتی گئیں-اور ذہن گہرے اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس کی آنکھوں پے کچھ نمی ڈالی گئی تھی-گیلے پن کا احساس تھا یا کچھ اور اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں-
اٹھ جاؤ بہت سولیا-” وہ گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر سامنے کرسی پر جا بیٹھا تھا-
چند لمحے تو وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی،اور جب آہستہ اہستہ ذہن بیدار ہوا تو وہ چونک کر سیدھی ہوئی-
وہ بڑا سا پر تعیش بیٹ روم تھا-قیمتی صوفے قالین اور بھاری خوبصورت پردے-وہ ایک بیڈ پر لیٹی تھی-اور اس کے اوپر بیڈ کور ڈالا ہوا تھا-
اسے یاد آیا وہ اسے کسی کمرے میں بند کرنے کی بات کر رہا تھا-جب وہ شاید بے ہوش ہوگئی تھی-اب وہ کدھر تھی؟اور اسے کتنی دیر بیت چکی تھی- گھر میں سب پریشان ہورہے ہونگے-
وہ گھبرا کر قدرے سیدھی ہوکر بیٹھی-وہ ابھی تک اسی سیاہ جھلملاتی ساڑھی میں ملبوس تھی-اور بیوٹیشن کی لگائی ہوئی ساری پینیں ابھی تک ویسے ہی کس کر لگی ہوئی تھیں-
مم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کدھر ہوں؟کیا وقت ہوا ہے؟صبح ہوگئی؟وہ پریشان سی ادھر ادھر دیکھنے لگی تو سامنے وال کلاک پر نظر ٹکی-
ساڑھے تین بج رہے تھے
:ابھی صبح نہیں ہوئی؟اور آپ وہیں ہیں-جہاں آنے کے لیے فواد نے آپ کو ڈائمنڈ رنگ کا لالچ دیا تھا-
مجھے فواد بھائی نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا،انہوں نے کہا تھا میں فائل سائن کروا کے واپس آجاؤں-
میں جھوٹ نہیں بول رہی-
میں کیسے مان لوں کہ تم سچ کہہ رہی ہوَ آغا فواد تو کہتا ہے تم اس کے گھر میں پلنے والی ایک یتیم لڑکی ہو،نہ کہ اس کی بہن۔۔۔۔۔۔
“یتیم ہوں تبھی تو تم جیسے عیاشوں کے ہاتھوں بیچ ڈالا،اس نے مجھے،میرا سگا تایا زاد بھائی تھا-تم سب گدھوں کا بس یتیموں پر ہی تو چلتا ہے-وہ پھٹ پڑی تھی-
“مجھے یہ آنسو اور جزباتی تقریریں متاثر نہیں کرتیں-وہ اب اطمینان سے سگریٹ سلگا رہا تھا-مجھے بس سچ سننا ہے وہ بھی ٹھیک ٹھیک نہیں تو تمہیں تھانے لے جا کر تمہاری کھال ادھیڑ دوں گا-“
میں جھوٹ نہیں بول رہی-
مجھے یہ بتاؤ اس سے پہلے وہ تمہیں کتنا شئیر دیتا رہا ہے-کدھر کدھر بھیجا ہے اس نے تمہیں- اور تمہارے اس گینگ میں کون کون ہے؟
سگریٹ کا ایک کش لے کر اس نے دھواں چھوڑا تو لمحے بھر کو دھوئیں کے مرغولے ان دونوں کے درمیان حائل ہوگئے-
مجھ سے قسم لے لو میں سچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قسم لے لوں واقعی؟
ہاں لے لیں-
سو بندوں کے سامنے عدالت میں اٹھاؤگی قسم؟وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا سگریٹ لبوں میں دبائے کش لے رہا تھا-
میں تیار ہوںمجھے عدالت میں لے جائیں میں یہ سب دہرانے کو تیار ہوں-
وہ تب ہوگا جب میں تیرے کہے پر یقین کروں گا-یقین جو ابھی تک نہیں آیا-اس نے سگریٹ ایش ٹرے پہ جھٹکی-راکھ کے چند ٹکڑے ٹوٹ ک گرے-
:میں سچ کہہ رہی ہوں میرا کسی گینگ سی کوئی تعلق نہیں ہے-مجھے فواد بھائی نے کچھ نہیں بتایا تھا-
تم اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہو میں جانتا ہوں-
نہیں پلیز۔۔۔۔۔۔ وہ لحاف اتار کر بستر سے اتری اور گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں آبیٹھی-
اے ایس پی صاحب! اس نے اس کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دئے
میں لاعلم تھی کہ آپ کا کیا مقصد ہے-کہ فواد بھائی کا کیا مقصد ہے- میں میرٹ میں ڈنر پہ جانے کے لیئے تیار ہوئی تھی- میرا کوئی قصور نہیں ہے- اس کی کانچ سنہری آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے تھے اللہ کی قسپ یہ سچ ہے-
اللہ کی قسم کھانے کے لیئے آغا فواد نے کیا پیش کیا تھا؟ڈائمنڈ سیٹ؟
وہی شکی پولیس آفیسر،اور مخصوص طنزیہ انداز-جتنا وہ شخص وجیہہ تھااس کی زبان اس سے برھ کر کڑوی تھی-محمل کا دل چاہا اس کا منہ نوچ لے-اور اگلے ہی پل وہ اس پر جھپٹی اور اس کی گردن دبوچنی چاہی مگر ہمایوں نے اس کی دونوں کلائیاں اپنی گرفت میں لےلیں-اسی کشمکش میں محمل کے دو ناخن اس کے گال سے رگڑے گئے-
صرف آنکھیں نہیں تمہاری تو حرکتیں بھی بلیوں جیسے ہیں وہ کھڑا ہوا اور اس کو کلائیوں سے پکڑے پکڑے بھی کھڑا کیا پھر جھٹکا دے کر چھوڑا- وہ دو قدم پیچھے جا ہوئی-
مجھے گھر جانا ہے- مجھے گھر جانے دو-میں تمہاری منت کرتی ہوں- وہ مڑ کر جانے لگا تو وہ تڑپ کر اس کے سامنے آکھڑی ہوئی-اور پھر سے ہاتھ جور دیئے- صبح ہوگی تو بدنام ہو جاؤں گی-
میں نے کہا نہ بی بی مجھے یہ جزباتی تقریر متاثر نہیں کرتیں-اس نے اپنے گال پر ہلکا سا ہاتھ پھیرا پھر استہزائیہ مسکرایا-پھر کہا-تم بہادر لڑکی ہو-میں تمہیں گھر جانے دوں گا مگر ابھی نہیں-ابھی تم ادھر ہی رہو گی کم از کم صبح تک،،،،،،
میں بدنام ہو جاؤں گی اے ایس پی صاحب-رات گزر گئی تو میری زندگی تباہ ہو جائے گی-
ہوجائے مجھے پروا نہیں ہے-وہ سگریٹ ایش ٹرے میں ڈال کر دروازے کی طرف بڑھا-
وہ ہاتھ جوڑے کھڑی رہ گئی اور وہ دروازہ باہر سے بند کر کے جا چکا تھا-دروازے کی جانب وہ لپکی اور ڈور ناب زور سے کھینچا-وہ باہر سے بند تھا-
دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔۔۔ کھولو- وہ دونوں ہاتھوں سے زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی- مگر جواب ندارد ۔۔۔۔۔
وہ بے بس سی زمین پہ بیٹھتی چلی گئی-
فواد ۔۔ فواد اس کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے؟اسے یقین نہ آتا تھا-اس نے کیا بگاڑا تھا فواد کا جو اس نے چند روپوں کے عوض اسے بیچ دیا؟
وہ گھٹنوں پر سر رکھے،آنسو بہاتی وہ شام یاد کر رہی تھی-جب وہ اسے دیکھتے دیکھتے چونکا تھا اور چائے کا کپ لیتے ہوئے اس کی انگلیاں مس ہوئی تھیں-
کم عمر ؛خوبصورت اور ان چھوئی-آغا نے کہا تھا یہ ہماری ڈیمانڈ پر پر پوری اترتی تھی-تو وہ اس لیئے چونکا تھا کہ کسی عیاش شخص کی بتائی گئی ڈیمانڈ پہ اس کے گھر میں پلنے والی یتیم لڑکی پوری اتری تھی-
تم کتنی خوبصورت ہو محمل!مجھے پتہ ہی نہیں تھا -اس کے لہجے کا افسوس اور پھر اس کی ساری عنایتیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی کمزوری کیا ہے،اس نے اس کو اس کی من پسند چیزیں دکھائی یہاں تک جب وہ اس کے مکمل قابو میں اگئی تو فواد نے اسے ادھر بھیج دیا اور وہ بھی کتنی بے وقوف اور سادہ تھی،اسے پتہ ہی نہیں چلا-وہ آفس میں اس کو ادھر ادھر چیزیں سائن کروانے بھیج دیتا ہے اور کوئی کام تو اس نے محمل سے لیا ہی نہیں تھا،وہ تب بھی نہ سمجھ سکی؟
اور اب یہ شخص ہمائیوں داؤد وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ آدمی کون تھا-اس سے یہ سب باتیں کون پوچھ رہا تھا-اور اس کا کیا مقصد تھا-اسے صرف علم تھا تو اتنا کہ اگر رات بیت گئی تو صبح اسے کوئی قبول نہیں کرے گا-اور قبول تو شاید اب بھی کوئی نا کرے-کوئی فواد کے خلاف اس کی بات کا یقین نہیں کرے گا، کوئی اسے بے گناہ نہیں مانے گا اور فواد وہ تو شاید سرے سے ہی مکر جائے کہ وہ کبھی محمل کو آفس لے کر ہی نہی گیا-خدایا وہ کیا کرے؟
اس نے بھیگا چہرہ اٹھایا-کمرے قدرے دھندلا سا دکھائی دیتا تھا- اس نے پلکیں جھپکائیں-تو آنسوؤں کی دھند لڑھکتی چلی گئی-
کمرہ نہایت خوبصورتی سے آراستہ تھا-قیمتی قالین،خوبصورت فرنیچر،اور بھاری مخملیں پردے؟وہ چونکی-کیا انکے پیچھے کوئی کھڑکی تھی؟
وہ پردوں کی طرف دوڑی اور جھتکے سے انہیں ایک رخ کھینچا- پردہ کھلتا چلا گیا-
باہر ٹیرس تھا-اور اس کی روشنیاں جلی ہوئیں تھیں-جن میں وہ بغیر دقت کے دو گن مین چوکس کھڑے دیکھ سکتی تھی-
اس نے گھبرا کر پردہ برابر کیا-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: