Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Last Episode 42

0

مصحف از نمرہ احمد – آخری قسط نمبر 42

–**–**–

 

آپا! آرزوآپا نے خود کشی کر لی ہے-آج ہمایوں بھائی نے اس کو ریجیکٹ کر دیا تھا- اماں سنبھل نہیں پا رہیں- ہمیں بدعا مت دینا آپا –
جاؤ معیز ! میں نے تمہیں معاف کیا- سب کچھ معاف کیا-
وہ کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی-
آپا دعا کرو آرزوآپا بچ جائیں- ان کے لیے بد دعا مت کرنا-
میں دعا کروں گی تم جاؤ –
اور وہ ویسے ہی الٹے قدموں واپس پلٹ گیا-
کیا تم ہمیں معاف کر سکتی ہو محمل؟َوہ شکست خوردہ ،ٹوٹا ہوا آغا فواد ہی تھا-
“میں نے معاف کیا سب معاف کیا- وہ اب بھی پیچھے نہیں مڑی تھی-
آغآ جان کو آدھے جسم کا فالج ہو گیا ہے- وہ تمہیں بہت یاد کرتے ہیں-ممی ان کے غم کی وجہ سے نہ زندوں میں رہی ہیں نہ مردوں میں- سدرہ کے شوہر کی ڈیتھ ہوگئی ہے اور اس کے وہ خاندانی سسرال والے اس کو میکے نہیں انے دیتے – وہ اور اس کے یتیم بچے اپنے گھر میں اس سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں جو تم نے مسرت چچی نے گزاری تھی- مہرین کو۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کچھ مت بتائیں فواد بھائی- پلیز میں نے معاف کیا – سب معاف کیا- مجھے یہ سب بتا کر اور دکھ نہ دیں- ابھی مجھے اکیلا چھوڑ دیں- اس کے نرم لہجے میں منت تھی-
ٹھیک ہے- اور یہ تمہارا حصہ ہے ان میں تمام سالوں کے منافع سمیت – فرشتے کا حصہ میں اسے ادا کر چکا ہوں-ہوسکے تو ہمارے لیے دعا کرنا- وہ ایک فائل اور ایک مہربند لفافہ اس کی بیڈ کی پائنتی پہ رکھ کر واپس مڑگیا تھا-
محمل نے گردن پھیر کر دیکھا- وہ سر جھکائے نادم و شکستہ حال جا رہا تھا-
وہ ہمیشہ سوچتی تھی کہ آغا فواد کا کیا انجام ہوا؟مگر یہ دنیا انجام کی جگہ تھوڑی ہے؟یہ تو امتحان کی جگہ ہے اپنے گناہ نظر آنا بھی ایک امتحان ہے اصل فیصلہ تو روز حساب ہی ہوگا-
اس کے بیڈ کی پائنتی پر چند کاغذ رکھے تھے- وہ کاغذ جوکبھی اس کی زندگی کا محور تھے مگر آج اس نے ان پہ دوسری نظر بھی نہیں ڈالی تھی-انہیں کاغذوں کے لیے اس نے فواد کا جھانسہ قبول کیا تھا، آج فواد نے اسے خود لا دیے تھے مگر کتنی بھاری قیمت تھی اس غلطی کی جو اسے چکانی پڑی تھی-
کچی عمر کے کچے سودے۔۔۔۔
بارش دھیمی ہو چکی تھی- کھڑکی کی جالیاں گیلی ہو چکی تھیں-ان سے مٹی کی سوندی خوشبو اندر آرہی تھی-بہت دیر تک وہ وہی بیٹھی خوشبو سونگھتی رہی – اسے لا شعوری طور پر اس کا انتظار تھا- وہ جانتی تھی اب وہ اس کے کمرے میں ضرور آئے گا-
کافی لمحے بیت گئے تو اس نے چوکھٹ پرآہٹ سنی- وہ آہستہ سے مڑی-
ہمایوں تھکا ہارا سا دروازے میں کھڑا تھا- یہ وہ دروازہ تھا جہ اسنے محمل کی موجودگی میں کبھی پار نہیں کیا تھا- یہ وہ چوکھٹ تھی جس پہ وہ کبھی سوالی بن کر نہیں ایا تھا- مگر آج وہ آیا تھا-
اس کے تھکے تھکے ٹوٹے قدم آہستہ آہستہ اندر داخل ہوئے تھے-
محمل! ٹوٹی ہوئی آواز میں اس نے پکارا تھا- اور پھر وہ پورے قد سے ،گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں آن گرا تھا-
مجھے معاف کردو محمل !اس کی آنکھیں سرخ تھیں ، اور چہرے پہ صدیوں کی تھکان تھی-
مجھے معاف کردو- میں بہت دور چلا گی اتھا- اس نے تاسف سے ہمایوں کو دیکھا- پہلے بھی وہ سب اس سے اس کا سب کچھ چھین کر لے گئے تھے- آج بھی وہ مانگ ہی رہے تھے مانگنے ہی آئے تھے-
ہر ایک کو اپنے ضمیر کے بوجھ سے نجات چاہیئے تھی- محمل ابراہیم تو کہیں بھی نہیں تھی!
میں نے صرف فرشتے کی بات پر۔۔۔۔۔ اور آج وہ کہہ رہی ہے کہ تم نے اس سے صرف ایک مسئلہ پوچھا تھا، اس نے خود غلط اخذ کیا- میں نے صرف فرشتے کی وجہ سے-
کیا آپ نے پہلے زندگی کے سارے فیصلے فرشتے کے دماغ سے کیے تھے ایس پی صاحب ؟ وہ سپاٹ لہجے میں بولی تھی- آپ چھوٹے بچے تھے جو یہ نہیں جانتے تھے کہ میرے رشتے دار میرے کھلے دشمن ہیں؟ آپ ان پڑھ جاہل تھے جو یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ایسی محمل ، یقین کرو میں-
ایک منٹ ایس پی صاحب ! میں نے کئی مہینے صرف آپ کی سنی ہے- آج اپ میری سنیں گے-آپ کہتے ہیں کہ آپ نے فرشتے کے کہے پہ یقین کرلیا؟ آج میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ آپ نے فرشتے سے پوچھا ہی کیوں؟ آپ میری طرف سے اتنے بدگمان تھے کہ آپ کو دوسروں سے پوچھنا پڑا ؟
کیوں نہیں آپ نے تصآویر معیز کے منہ پے دے ماریں؟کیا آپ بہت قابل پولیس آفیسر نہیں تھے؟ کیا اپ کو کھرا اور کھوٹا الگ کرنا نہیں آتا تھا؟ کیا آپ آرزو کی خصلت کو نہیں جانتے تھے؟ یا شاید آپ کی دلچسپی ایک بیمار ،بے ہوش عورت میں ختم ہو گئی تھی- شاید آپ کو میری خدمت سے دور بھاگنے کا ایک موقع چاہیئے تھا- آپ آزاد ہو نا چاہتے تھے- اگر ایسانہ ہوتا تو آپ مجھے صفائی کا موقع تو دیتے – ایک بار تو پوچھتے کہ کیا تم نے ایسا کیا ہے؟ مگر آپ خود بھی مجھ سے تھل گئے تھے- آپ نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا ہمایوں کہ اگر میری جگہ آپ یوں بیمار ہوتے اور میں آپ کے ساتھ یہی کرتی تو آپ کی کیا حالت ہوتی؟
بولتے بولتے اس کا سانس پھول گیا تھا- تب ہی کھلے دروازے سے تیمور اندر آیا- شور سن کر وہ نیند سے جاگا تھا- وہ بھاگ کر اس کے پاس آیا اور اس کے گھٹنوں سے لپٹ گیا- مگر ہمایوں اور محمل اس کو نہیں دیکھ رہے تھے–
” محمل ، مجھے معاف کردو – میں رجوع کرنا چاہتا ہوں-میرے ساتھ چلو- ہمایوں نے اسکا ہاتھ تھامنے کے لیےہاتھ بڑھایا مگر محمل ایک دم پیچھے کو ہوئی-
لیکن اب میں ایسا نہیں چاہتی – ٹوٹئ دھاگے کو دوبارہ جوڑا جائے تو اس میں ایک گرہ رہ جاتی ہے-ہمارے درمیان بھی وہ گرہ رہ گئی ہے، سو اس دھاگے کو ٹوٹا رہنے دیں-
محمل! وہ بے یقین تھا- معافی کے لیے جڑے اس کے ہاتھ نیچے گر گئے- محمل نے گہری سانس لی –
میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے ہمایوں! دل سے معاف کردیا ہے-مگر اب رجوع کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے- آپ فرشتے سے شادی کر لیں- آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں- درمیان میں ،میں آگئی تھی-
مگر محمل۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔ وہ کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر آج وہ نہیں سن رہی تھی-
مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے-ہمایوں- میرا بیٹا میرے پاس ہے- فواد نے مجھے میرا حصہ بھی دلا دیا ہے- میں لوگوں کی محتاج نہیں رہی ، آپ فرشتے سے شادی کرلیں- وہ آپ کا انتظار کر رہی ہے-
اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا- ہمایوں نے گردن موڑ کر دیکھا-
فرشتے وہاں کھڑی رو رہی تھی- ہمایوں کو گردن موڑتے دیکھ کر ، وہ منہ پہ ہاتھ رکھے باہر کو بھاگی تھی-
آپ اس کا اور امتحان نہ لیں- اس سے شادی کر لیں- میں تیمور ایک دوسرے کو بہت ہیں- ہمارا تیسرا اللہ ہے- آپ ہمیں جانے دیں- اب ہمارا ساتھ نا ممکن ہے-
وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا تھا-
میں نے تمہاری قدر نہیں کی محمل! وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اٹھا، اور شکستہ قدموں سے باہر کی جانب بڑھ گیا-
دروازہ بند کر جائیے گا-
اس کے الفاظ پہ وہ ذرا دیر کو رکا ، مگر پلٹا نہیں- اب شاید وہ پلٹنے کی ہمت خود میں نہیں پاتا تھا-
بہت آہستہ سے وہ باہر نکلا اور کمرے کا دروازہ بند کیا-
وہ محمل کی زندگی سے جا چکا تھا-
فرشتے کہتی تھی کہ اس نے سنا نہیں جب وہ برسوں پہلے اس اسپتال میں ” کچھ ” بتانا چاہتی تھی- حالانکہ وہ منظر تو اسے آج بھی یاد تھا- وہ جو نرس کے پکارنے پہ اٹھی تھی-وہ ہمیشہ سے جانتی تھی کہ فرشتے ہمایوں کو پسند کرتی ہے- مگر جب فرشتے نے خود اپنے رویے سے یقین دلایا تو وہ بھی بظاہر خود کو مطمئن کرنے لگی کہ بھلا فرشتے ایسے جذبات کیوں رکھے گی، مگر دور اندر وہ ہمیشہ سے جانتی تھی- اگر آرزو کو درمیان میں نہ دیکھا ہوتا تو وہ کبھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہہوتی کہ ہمایوں کس سے شادی کر رہا ہے- ہاں وہ جانتی تھی کہ فرشتے کیوں ان کی شادی کے بعد باہر چلی گئی تھی-
وہ سب جانتی تھی- یہ بھی کہ اب وہ معذور ہو گئی تھی- ایک بے کشش عورت بن گئی تھی- ہمایوں نادم ہو کر پلٹا تو تھا – مگر تھا تو مرد ہی – کب تک اس سے بندھا رہتا؟ جا کانوں کا اتنا کچا تھا کہ اس فون کال میں ایک انگوٹھی کا ذکر اس کی سمجھ میں آیا- اور اس کی مسلسل ” فواد بھائی ” کی تکرار میں بھائی کا لفظ سمجھ میں نہیں آیا- وہ کب تک اس کا رہتا؟ایک نہ ایک دن وہ پھر کسی دوسری عورت کی طرف چلا جاتا – تب بھی وہ اکیلی رہ جاتی مگر تب وہ شاید برداشت نہ کر پاتی- اس میں بار بار ٹوٹنے کا حوصلہ نہیں تھا – سو اس نے ٹوٹا ہوا برتن بننے کا سوچا- فرشتے نے اعتراف کیا تھا،معافی نہیں مانگی تھی- ہمایوں نے معافی مانگی تھی مگر اعتراف نہیں کیا تھا- اور وہ دونوں سمجھتے تھے کہ وہ بری الذمہ ہوگئے ہیں- خیر !
تیمور ! اس نے گود میں سر رکھے تیمور کے نرم بھورے بالوں کو پیار سے سہلایا-
ہوں؟ وہ کچی نیند میں تھا-
تم نے ایک بار مجھ سے پوچھا تھا کہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے ذکر پہ اداس کیوں ہو جاتی ہوں، ہے نا؟
جی ماما! وہ نیم غنود سا بولا –
پتا ہے کیوں اداس ہو جاتی ہوں؟ اس نے اپنے آنسو پونچھے ، کیونکہ وہ بہت صبر کرنے والے تھے اور وہ اپنے والد کے بہت پیارے تھے- اسے بولتے ہوئے کچھ اور بھی یاد آرہا تھا-
مگر ان کے اپنے بھایئیوں نے اس کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا- اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ مناظر تیزی سے چل رہے تھے-
پھر ان کو درہم کے عوض بیچا گیا- اس پہ بہتان لگایا گیا-ان کو برسوں قید میں رکھا گیا- اور پھر ایک دن آیا جب وہ اسی مصر کے فنانس منسٹر بنے جس میں کبھی ان کو بیچا گیا تھا- ان کو اپنا بچھڑا ہوا بھائی مل گیا- اور وہ جنہوں نے ان پہ تہمتیں لگائی تھیں- اور وہ جنہوں نے ان کو ان کے گھر سے بے دخل کیا تھا، وہ ان کے پاس معافی مانگنے آئے- مگر اس ہستی نے کچھ نہیں جتایا ، کچھ نہیں گنوایا ، سب معاف کردیا- میں اس لیے اداس ہوتی ہوں تیمور کہ میں صبر کے اس مقام تک کبھی نہیں پہنچ سکی – کیا تم سن رہے ہو؟ اس نے چند لمحے اسکے جواب کا انتظار کیا – اور پھر جھک کر اس کے بالوں کو چوما-
تیمور گہری نیند سو چکا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ٹی وی لاؤنج کی مرکزی دیوار پہ بڑی سی پلازمہ اسکرین لگی تھی- اس پر ایک خوبصورت منظر پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا-
روشنیوں سے منور ایک بڑا ساہال ،ہزاروں لوگوں کا مجمع – اسٹیج پہ بیٹھی نامور دینی شخصیات اور رووٹرم پہ کھڑا وہ شخص جو لیکچر دے رہا تھا-
ٹی وہ کے سامنے صوفے پہ بیٹھے ہمایوں داؤد نے ریموٹ اٹھا کر آواز اونچی کی- والیوم کے بڑھتے نقطے اسکرین پہ موجود شخص کے کوٹ پہ نمودار ہوئے تھے-
ہمایوں نے ریموٹ رکھ دیا- اب وہ بنا پلک جھپکے ، ساکت بیٹھا اسکرین کو دیکھ رہا تھا-
یہ فیصلہ آج نہیں ہوا تھا، بلکہ بیسویں صدی کے اوائل میں ہی ہو گیا تھا کہ قرآن صرف عربی کا قر آن ہے- اس کے تراجم قر آن نہیں ہیں-
وہ روشن چہرے والا شخص اپنے خوبصورت انگریزی لب و لہجے میں کہہ رہا تھا- وہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا- چہرے پہ نفاست سے تراشیدہ داڑھی تھی، اور سر پہ سفید جالی دار ٹوپی اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں- کانچ سی بھوری چمکتی ہوئی- اور مسکراہٹ بہت دلفریب تھی-کچھ تھا اس کی مسحور کن شخصیت میں کہ ہزاروں لوگوں سے بھرے ہال میں سناٹا تھا- سب سانس روکے اس کی بات سب رہے تھے-
آج کے دور کا مسلم جب قرآن کھولتا ہے تو کہتا ہے کہ اسے اس میں وہ انداز ککلام نظر نہیں ارہا جس کے قصے وہ بچپن سے سنتا آیا ہے وہ انداز کلام جسے سنتے ہی عرب کے لوگ لاجواب ہو جاتے تھے- سجدے میں گرجاتے تھے، فورا ایمان لے آتے تھے- آخر کیا وجہ ہے کہ اس قرآن کا لاکھ انکار کرنے کے باوجود ابوجہل بن ہشام جیسے لوگ بھی چھپ چھپ کر اسے سننے آتے تھے؟اور کیا وجہ ہے کہ ہمیں اس میں وہ بات نہیں نظر آتی جو ان عربوں کو نظر آتی تھی؟ہمیں کیوں یہ صرف قصوں کا مجموعی لگتا ہے جن کے درمیان چند نصیحتیں ہیں اور نماز روزے کے احکام ؟
ہمایوں نے ریموٹ اٹھا کر دوبارہ آواز اونچی کی۔ اور پھر مضطرب انداز میں واپس رکھ دیا – کیا آپ نے ڈاکٹر موریس بکائی کا واقعہ سنا ہے؟ اس نے لمحے بھر کو توقف کیا اور پورے ہال پہ نگاہ دوڑائی -سب دم سادھے اس کو سن رہے تھے- ڈاکٹر موریس بکائی ایک فرنچ ڈاکٹر تھے- وہ اپنے پاس آنے والے ہر مسلمان مریض سے کہتے تھے کہ قرآن حق نہیں ہے بلکہ ایک من گھڑت کتاب ہے- مریض بے چارے آگے سے خاموش ہو جاتے – پھر ایک دفعہ جب شاہ فیصل ان کے پاس زیر علاج تھے- انہوں نے یہی بات شاہ فیصل ان کے پاس زیر علاج تھے- انہوں نے یہی بات شاہ فیصل سے کہی تو انہوں نے پوچھا کیا تم نے قرآن پڑھا ہے اس نے کہا ہاں تو شاہ فیصل نے کہا کہ تم نے صرف قرآن کا ترجمہ پڑھا کیونکہ قرآن صرف عربی میں ہے-
ڈاکٹر بکائی نے اس کے بعد دوسال لگا کر عربی سیکھی اور پھر جب انہوں نے اصل قرآن پڑھا تو وہ فوڑا مسلمان ہو گئے- با دراصل یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا ہوتا- جو عربی ہم پڑھتے ہیں اس کا لیٹرل ورڈ میننگ ہمیں نہیں آتا ہوتا اور اس کا جو اردو ترجمہ ہم پڑھتے ہیں وہ اللہ نے نہیں اتارا ہوتا- کسی حد تک یہ تراجم اثر کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی قرآن کا اصل جاننا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ عربی کا قرآن پڑھے-
ہمایوں کے صوفے کے پیچھے جانے کب آہستہ سے فرشتے آکھڑی ہوئی تھی – وہ نا پلک جھپکے اسکرین کو دیکھ رہی تھی-
اب اس کے دو طریقے ہیں، یا تو آپ پوری عربی سیکھیں ، یا آپ صرف قرآن کی عربی سیکھیں اور صرف قرآن کی عربی سیکھ کر بھی آپ بالکل درست طور پہ اصل قرآن سمجھ سکتے ہیں – اینی کوئسچن ؟
اس نے رک کر ہال پہ نظر دوڑائی –
اسٹیج کے سامنے لگے مایک کے قریب کھڑی ایک پاکستانی لڑکی فورا آگے بڑھی اور مائیک تھاما-
السلام علیکم ڈاکٹر تیمور-
وعلیکم السلام ! وہ سر کے خفیف اشارے سے جواب دیتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا-
سر! مجھے آپ کی بات سن کر یہ سب بہت مشکل لگ رہا ہے- عربی بہت مشکل زبان ہے اور پیچیدہ اور یہ ہماری مادری زبان نہیں ہے- عام آدمی – اسے کیسے سیکھ سکتا ہے؟
وہ ذرا سا مسکرایا اور اپنا چہرہ مائیک کے قریب لایا-
بالکل ایسے جیسے ہمارے ملک کے عام آدمی نے دنیا کا علوم حاصل کرنے کے لیے انگریزی سیکھی ہے- وہ بھی ہماری زبان نہیں ہے- مگر ہمیں آتی ہے- کیا نہیں آتی؟
عربی سیکھنا تو زیادہ آسان اس لیے بھی ہے کہ یہ اردو سے بہت قریب ہے-
لڑکی نے لا جواب ہو کر گہری سانس بھری پیچھے پورے ہال میں ایک تبسم بکھر گیا-
“میرا ایک کوئسچن ہے سر!” ایک نو عمر،لمبا سا لڑکا مائیک پہ آیا.
” میں نے آپ کے پچھلے لیکچر سے متاثر ہو کر قرآن سیکھنا شروع کیا تھا.مگر قرآن پڑھتے اب مجھ پر پہلے والی کیفیت طاری نہیں ہوتی. دل میں گداز نہیں پیدا ہوتا. میں قرآن پڑھتا ہوں تو میرا ذہن بھٹک رہا ہوتا ہے.”
تیمور نے مائیک قریب کیا، پھر بغور اس لڑکے کو دیکھتے ہوئے پوچھا.” آپ کہیں جھوٹ تو نہیں بولتے؟”
“جی؟” وہ بھونچکا رہ گیا .
“ایک بار یاد رکھیے گا، قرآن صرف صادق اور آمین کے دل میں اترتا ہے. میں نے اس کتاب کے بڑے بڑے علما کو دیکھا ہے، جو امانت کی راہ سے ذرا سے پھسلے اور پھر ان سے قرآن کی حلاوت چھین لی گئی. اور پھر کبھی وہ اس کتاب کو ہاتھ نہ لگا سکے.”
بات کرتے ہوئے تیمور ہمایوں کی کانچ سی بھوری آنکھوں میں ایک کرب ابھرا تھا.اس نے صوفے کی پشت پہ ہاتھ رکھے.
فرشتے ساکت کھڑی تھی.اس کے پیچھے دیوار میں شیلف بنا تھا. ایک طرف میز تھی .میز پہ تازہ تہہ کی ہوئی جائے نماز ابھی ابھی رکھی گئی تھی.
ساتھ شیلف کے سب سے اوپر والے خانے میں احتیاط سے غلاف میں لپٹی ایک کتاب رکھی تھی. اس کا غلاف بہت خوبصورت تھا. سرخ ویلویٹ کے اوپر سلور ستارے. مگر گذرتے وقت نے غلاف کے اوپر گرد کی ایک تہہ جما دی تھی اور وہ شیلف اتنا اونچا تھا کہ اس تک اسٹول پہ چڑھے بغیر ہاتھ نہیں جاتا تھا.
“جس شخص میں صداقت اور امانت ہوتی ہے اور وہ واقعی قرآن حاصل کرنا چاہتا ہے تو قرآن اس کو دے دیا جاتا ہے.” اسکرین پہ وہ روشن چہرے والا شخص کہ رہا تھا.
” ہم حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کے زمانے کے عرب معاشرے کے بارے میں عمومی تاثر یہ رکھتے ہیں کہ وہ بہت جاہل اور گنوار لوگ تھے اور بیٹیوں کو زندہ دبانے والے وحشی تھے. لیکن ان لوگوں میں بہت سی خوبیاں بھی تھیں. وہ مہمان نواز تھے، عہد کی پاس داری کرتے تھے. جہاں تک بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا تعلق ہے تو یہ کام عرب کے کچھ غریب قبائل کرتے تھے اور اس وقت بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں تھیں جو فدیہ دے کر ان بچیوں کو چھڑاتی تھیں.
اور رہی بات صداقت کی تو عرب معاشرے میں جھوٹ بولنا انتہائی قبیح عمل سمجھا جاتا تھا اور لوگ اس شخص پہ حیران ہوتے تھے جو جھوٹ بولتا ہو.
اسی لئے ان لوگوں کو قرآن دیا گیا تھا اور اسی لئے ہم لوگ اس کی سمجھ سے محروم کر دے گئے ہیں، کیوںکہ نہ تو ہم سچ بولتے ہیں اور نہ ہی امانت کا خیال رکھتے ہیں بھلے وہ کسی ذمہ داری کی امانت ہو، کسی کی عزت کی یا کسی کے راز کی.”
محمل مسکرا کر ٹی وی اسکرین کو دیکھ رہی تھی- وہ سیمینار ملائشیا سے لائیو آرہا تھا- سیمینار ختم ہوتے ہی تیمور نے فلائٹ لینی تھی اور وہ جانتی تھی کہ رات کھانے پہ وہ ان کے ساتھ ہوگا- ابھی اس نے تیمور کے لیے اسپیشل ڈش کی تیاری بھی شروع کرنا تھی وہ پروگرام چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی-
تیمور کے لیے کھانا وہ ہمیشہ اپنے ہاتھوں سے بناتی تھی-ایک ایک سبزی خود کاٹتی تھی ہاں ، آغآ جان کا پرہیزی کھانا ملازمہ بنا لیتی تھی-
وہ سیڑھیوں کے ایک طرف سے نکلتی ہوئی آغآ جان کے کمرے کے دروازے کے باہر رکی اور ہولے سے کھٹکھٹا کر کھولا-
آغآ جان ! آپ نے ناشتہ کر لیا؟
وہ بیڈ پر لیٹے تھے- ان کے ہونٹ فالج کے باعث ذرا ٹیرھے ہو گئے تھے- اس کی آہٹ سن کر انہوں نے آنکھیں کھولیں اور پھر مسکرانے کی کوشش کی- جب سے وہ اپنی اولاد پہ بوجھ بنے تھے، محمل انہیں اپنے پاس لے آئی تھی-
تیمور کہہ رہا تھا وہ رات تک پہنچ جائے گا-
وہ آگے بڑھی اور کھڑے کھڑے اس کا ہاتھ نرمی سے تھامے بتانے لگی –
میں رات کو کچھ اسپیشل بنانے کا سوچ رہی ہوں، کتنے دنوں بعد ہم تینوں اکٹھے کھائیں گے، ہے نا؟
آغا جان نے پھر مسکرانے کی سعی کی، اس کوشش میں ان کیآنکھوں سے دوآنسو ٹوٹ کر گرے-
آپ فکر مت کریں، میں ہوں نا آپ کے پاس – جس طرح اللہ نے مجھے شفا دی آپ کو بھی دے گا-
اس نے نرمی سے ان کے آنسو صاف کیے، اچھا مجھے مسجد میں ایک لیکچر دینا ہے ، بس گھنٹہ لگے گا، میں ابھی چلتی ہوں ، جلدی آنے کی کوشش کروں گی،پھر ڈنر کی تیاری بھی کرنی ہوگی- وہ گھڑی دیکھتی جانے کو مڑی-
آغا جان اب سسک سسک کر رو رہے تھے- باہر آکر وہ سیڑھیوں کے پاس لگے آئینے کے سامنے رکی – سامنے کیل پہ اس کی پونی ٹنگی تھی- اس نے پونی اٹھائی اور لمبے بال سمیٹ کو اونچی پونی میں جکڑے پھر آئینے میں خود کو دیکھا اور مسکا دی-
وہ آج بھی اتنی ہی صبیح ، تروتازہ اور خوبصورت تھی جتنی برسوں پہلے لگتی تھی- اورآج بھی ہر صبح وہ اہیں جاتی تھی جہاں پہلے جایا کرتی تھی-
اس نے ٹی وی بند کیا- ( تیمور کا پروگرام ختم ہوچکا تھا) اور میز سے اپنا بیگ اور سفید جلد والا قرآن اٹھائے آغآ ہاؤس ، سے باہر نکل آئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ مسجد جانے سے پہلے پندرہ منٹ کے لیے بس اسٹاپ ضرور جایا کرتی تھی- اسے کئی برسوں سے اس سیاہ فام لڑکی کی تلاش تھی- جس نے اس تک قرآن پہنچایاتھا-وہ ایک دفعہ اس سے مل کر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی-
سنہری سی صبح اتری ہوئی تھی- دور کہیں پرندے بول رہے تھے، وہ دھیمی رفتار سے چلتی ، سفید جلد والا قرآن سینے سے لگائے بینچ پہآبیٹھی- ہر صبح کی طرح آج بھی وہ اسی موہوم – امید پہ ادھر آئی تھی کہ شاید وہ لڑکی آجائے-
رات خوب بارش ہوئی تھی- سرمئی سڑک ابھی تک گیلی تھی- وہ سر جھکائے اداس سی بیٹھی سڑک پہ چلتی چیونٹیاں دیکھ رہی تھی-
پندرہ منٹ ہونے کو آئے تھے مگر وہ لڑکی کہیں بھی نہیں تھی-
مایوس ہو کر محمل نے جانے کے لیے بیگ اٹھایا- تب ہی اسے سڑک پر قدموں کی چاپ سنائی دی – اس نے بے اختیار سر اٹھایا-
ایک لڑکی دور سے چلی آرہی تھی-
کندھے پہ کالج بیگ ،ہاتھ میں موبائل ، شولڈر کٹ بال کیچر میں جکڑے ہوئے جینز پہ کرتا پہنے چیونگم چباتی ، قدرے جھنجھلاتی ہوئی سی وہ دھپ سے آک اس کے ساتھ بینچ پہ بیٹھی- محمل یک ٹک اسے دئکھے جا رہی تھی- وہ لڑکی روز اس وقت ادھر آتی تھی، مگر آج سے پہلے وہ اسے دیکھ کر اتنی چونکی نہیں تھی- اب پاؤں جھلاتی ہوئی اکتا کر مو بائل کے بتن پریس کر رہی تھی-
پتا نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو- وہ ذیر لب غصے سے بڑبڑا کر اس نے بٹن زور سے دبایا اور موبائل بیگ میں پھینکا-
وہ ابھی تک یونہی لڑکی کو دیکھ رہی تھی- بہت دھیرے سے اسے کچھ یاد آیا تھا-
وہ لڑکی ادھر ادھر گردن گھماتی تنقیدی نگاہوں سے دیکھنے لگی تھی- دفعتا محمل کی نگاہوں کا ارتکاز محسوس کرکے وہ چونکی –
محمل نے ذرا سنبھل کر نگاہیں جھکالیں- نیچے اس لڑکی کابیگ پڑا تھا، جس پہ جگہ جگہ چاک سے اس کا نام لکھا تھا-
عشاء حیدر-
وہ زیر لب مسکرادی ، بہت کچھ یاد آگیا تھا-
ایکسکیوزمی ! اس نے چیونگم چبانا روک کر ایک دم محمل کو مخاطب کیا- محملنے نرمی سے نگاہیں اٹھائیں-
جی؟
میں روزآپکو دیکھتی ہوں اور۔۔۔۔۔۔۔ اس نے محمل کی فود میں رکھے سفید کور والے قرآن کی طرف اشارہ کیا- اورآپ کی اس بک کو بھی-
آپ اتنی کئیر سے اسے رکھتی ہیں، اس میں کیا کچھ خاص ہے؟
محمل نے سر جھکا کر سفید قرآن کو دیکھا، جس کی صاف جلد اب خستہ ہو گئی تھی اور جھلکتے صفحے زرد پڑگئے تھے – وہ دیکھنے سے کوئی قدیم کتاب لگتی تھی-
خاص تو ہے- اس نے مسکرا کر سر اٹھایا-
اچھا واٹس سو اسپیشل ؟ وہ متجسس ہوئی- اس میں کسی عشاء حیدر کا ذکر ہے، اس کی زندگی کی کہانی ہے اور اس کے لیے کچھ میسیجز ہیں- اس لیے اسپیشل تو پے-
وہ لڑکی یک ٹک منہ کھولے اسے دیکھے گئی-
کون۔۔۔۔۔۔۔۔ کون عشاء حیدر؟ بہت دیر بعد بمشکل وہ بول پائی تھی-
ہے ایک اس زمین پہ بسے والی لڑکی جس کو لوگوں کی بات غمگین کرتی ہیں جس کے کہنے سے قبل کوئی اس کے دل کی با نہیں سمجھتا اور جس کو زندگی سے اپنا حصہ وصول کرنا ہے- اسی لمحے بس ہارن بجایا – محمل نے بات روک کر دور سے آتی بس کو دیکھا-
میں چلتی ہوں ، تمہاری بس آگئی ہے- وہ سفید جلد والی کتاب اٹھائے اٹھ کھڑی ہوئی – وہ لڑکی ابھی تک ششدر سی بیٹھی تھی-
بس قریب آرہی تھی-
محمل چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بینچ سے دور جانے لگی-
سنیں ۔۔۔۔۔۔۔ بات سنیں ، ایک منٹ رکیں- یک دم وہ بے چینی سے اٹھی
اور تیزی سے اس کے پیچھے لپکی- ..

 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: