Nago Ka Jora Novel By Tawasul Shah – Episode 1

0
ناگوں کا جوڑا از تاوسل شاہ – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ آج سے دو سوسال پہلے کی بات ہے (جوگی نگر) میں چند گھر جوگیوں کے اس کے علاوہ ہر طرف ناگوں کے خاندان بس رہے تھے خوبصورت جوگی نگر واقع میں ہی بہت سندر تھا جو چاروں طرف درختوں کی برمار بستی کے وست میں خوبصورت سی نہر بستی کو چار چاند لگا رہی تھی اس علاقے میں زیادہ تعداد ساپوں کی ہونے کی وجہ اس کو (ناگ نگر) بھی کہا جاتا تھا ہر درخت پر ناگ اور ناگن کا جوڑا بیٹھا نظر آتا۔۔۔ ان ہی خاندانوں میں اک راجکمار یوراج(یوی) اور راجکماری صنم اک دوسرے کو بخد پیار کرتے تھے راجکمار یوی قبیلے کے سردار کا بیٹا تھا چب کے راجکماری صنم راجکمار یوی کی کزن اس کے چچا کی بیٹی تھی یہ دونوں (تکشق) ونچ سے تھے۔۔۔ یوی اور صنم کے دو دوست تھے دیوراج اور مایا (شیشناگ) ونچ سے تھے۔۔ اک دن ان چاروں نے کہیں گومنے پھرنے کا پرگرام بنایا نہر کے قریب اک جگہ منتحب کی اور شام کو آنا تہ پایا۔…
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
صبح کا وقت تھا مومنہ کچن میں علی کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی تب ہی علی ڈائينگ حال میں آیا مومنہ یار ناشتہ دیدو مومنہ کچن سے آکر علی کو ناشتہ سرو کرنے لگی۔۔ علی ناشتہ کرکے نکل گیا آج علی کی بہت ایم میٹنگ تھی تب ہی اسے آفس جانے کی جلدی تھی علی اک بزنس مین کا بیٹا تھا جن کا بزنس مختلف ملکوں میں پیھلا ہوا تھا علی ان کا اکلوتا بیٹا ہونے کے ناتے سارے بزنس کا اکیلا مالک تھا۔۔۔ علی نے اپنی پسند سے اپنی کالج کی دوست مومنہ سے شادی کی ہواہش ظاہر کی جسکو انہوں نے خوشی سے مان لیا کیوں کے مومنہ بھی اک امیر باپ کی اکلوتی بیٹی اور شکل صورت میں بھی بہت خوبصورت تھی جو اک بار دیکھتا دیکھتا ہی رہ جاتا سرخ سفید رنگت برون آنکھیں کالے لمبے بال گلاب کی کلایوں جیسے لب دراز قد وہ ہر طرح سے پرفکٹ عورت تھی۔۔۔ علی بھی کچھ کم نہ تھا گندمی رنگت کالی آنکھیں بھورے بال دراز قد وہ بھی بلاشہ بہت خوبصورت تھا۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
شام کو یوی دیوراج صنم اور مایا نہر کے کنارے جا پہنچے صنم نے نیلے رنگ کی چولی آستن کے بغیر اور اسکے ساتھ گلابی رنگ کا لہنگا زیب تن کر رکھا تھا صنم کی سبز بڑی آنکھیں کالے لمبے بال جو پشت پر بکھرے ہوے تھے پتلی ناک گلاب کی کلایوں جیسے لب دراز قد وہ حسن کا مکمل آشاکار تھی یوی اپنے ناگ لوگ میں سب سے زیادہ خوبصورت ناگ تھا یوی نے آج کالے رنگ کے کپڑے زیب تن کر رکھا تھے اس کی نیلی آنکھوں میں صنم کے لیے بخد پیار ہی پیار تھا ۔۔۔ مایا نے آج کالے رنگ کی چولی آستن کے بغیر اور ناف سے بہت اوپر ساتھ سرخ رنگ کا لہنگا زیب تن کر رکھا تھا مایا بھی کچھ کم خوبصورت ناگن نہیں تھی دیوراج اور مایا اک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے دیوراج اتنا خوبصورت ناگ نہیں تھا دیوراج نے آج سفید رنگ کا لباس زیب تن کر رکھا تھا اور وہ آج کافی اچھا لگ رہا تھا دیوراج آج مایا سے نظر بھی نہیں ہٹا رہا تھا ایسے میں دیوراج کے شاظر دماغ میں اک خیال آیا اور اس نے اسی وقت اس پر عمل بھی کیا ۔۔۔ وہ مایا کو ساتھ لیےگیا اور یوی اور صنم پیار کی باتوں میں ایسے مگن ہوۓ کے انکو اردگرد کا کوٸی ہوش نہ رہا اور دیوراج نے مایا کو اک الگ گوشے میں لے جاکر اپنی باہوں میں پھر لیا پہلو پہل تو مایا نے دھیان نہ دیا کے دیوراج کیا ارادہ رکھتا ہے پر جب دیوراج کی پھڑتی ہوئی مدہوشیں حد سے زیادہ ہوئی تو مایا نے اسکو کہا دیو یہ سب شادی کے پہلے ٹھیک نہیں یے اور اگر قبیلے کے سردار کو پتا چل گیاتو ہماری شادی بھی نہ ہو گی اور ہم سے سب طاقتیں بھی چھن لیگے پر دیو نے اس یہ کہکر خاموش کروا دیا کے ان کو بتایے گا کون اور مایا نے بھی چپ ساد لی۔۔۔ دیو اور مایا اپنی حوس پوری کر کے برہنہ حالت میں پڑے تھے اور ادھر قبیلے کا سردار نہر کی سیر کرنے کی عرض سے اسی طرف گے جدھر مایا اور دیو برہنہ پھڑے تھے۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: