Nago Ka Jora Novel By Tawasul Shah – Episode 3

0
ناگوں کا جوڑا از تاوسل شاہ – قسط نمبر 3

–**–**–

گھر کے باہر ہاران کی آواز نے مومنہ کو جلدی جلدی ہاتھ چلانے پر مجبور کردیا۔ علی گاڑی کو پارک کر کے جب گھر کے اندورنی حصہ میں آیا تو سامنے ہی مومنہ کو سیڑیوں سے نیچے آتا پایا ارے واہ ڈارلینگ بڑی جلدی تیار ہوگی ہو اور اور آج کیا مجھ غریب پر بجلی گرانے کا ارادہ ہے کیا یہ مہرون ساڑی آج تو قسم س۔۔۔۔ بس بس علی رات کو آپ نے ہی تو کہا تھا کے رات Birthday party پر یہ ڈریس پہنے۔۔ اوہ سوری جانی مجھے یاد نہیں رہا تھا مومنہ نے منھ بناتے ہوے کہا نہیں ابھی یہ چینج کر کے آتی ہوں مومنہ جانے لگی جب علی نے اس کا ہاتھ پکڑلیا سوری نا جان اب چلو بھی دیر ہورہی ہے اور مومنہ کو لیکر چلاگیا۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
ان چاروں کے قید ہونے پر سب ہی دکھی تھے سب سے زیادہ صنم اور یوی کی قید پر کیوں کے وہ دونوں بےگناہ تھے۔۔۔
انکی قید کے کچھ عرصے بعد جوگی نگر میں ایسا زلزلا آیا کے نگر میں کچھ بھی نہ رہا پورا کا پورا نگر ہی غرکار ہو گیا۔۔
جس جگہ ہر طرف ہریلی ہی ہریلی تھی اب وہاں مکنات ٹوٹے پڑے تھے اور جگہ جگہ ناگوں کے لاشے پڑے تھے خون ہی خون یا مٹی ریت بڑے بڑے پتھر جو گھر بنانے کے کام آتے ہیں یہ سب اب ایک میدان میں پڑا تھا۔۔۔
کوئی بھی اس جگہ کو دیکھا کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کے اس جگہ ناگوں کی بہت بڑی بستی تھی۔۔۔
جوگی نگر تو دنیا سے مڑ مٹ چکا تھا پر کون جانے کے اس کے نیچھے قید میں پڑے ناگ چار ناگ آج بھی زندہ تھے۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی گاڑی کو مزے سے چلا رہا تھا ساتھ میں مزے کا رومینٹک سونگ چل رہا تھا۔۔
آ تجے ان باہوں میں بھر کر اور بھی کرلو میں قریب
تو میری باہوں میں ہو تو
آتا جاتا ہر پل حسین.۔۔۔
علی بار بار مومنہ کو دیکھ جارہا تھا اور دیکھتا بھی کیوں نے ساتھ بھیٹی کوئی اور نہیں اس کی شریکہ حیات تھی اتنے میں فائف سٹار ہوٹل آگیا تھا علی گاڑی پارک کر کے آیا اور دونوں اندر چل پڑے لنچ کر کے وہ دونوں گومنے پھرنے چل پڑے اور شام کو مومنہ کی birthday party تھی ۔۔۔
وہ گومنے پھرنے کے بعد علی نے رات کے لیے مومنہ کو ڈریس لےکردیا اور پھر وہ رات کو دیر تک مزے کرتے رہے پورے 9 بجے وہ لوگ ہوٹل پہنچے جہاں سب لوگ پارٹی میں پہنچ چکے تھے پھر مومنہ نے کیک کاٹا جس پر Happy Birthday Momna لکھا تھا سب نے ڈنر کیا اور اپنے اپنے گھر کو چل دیے علی نے ہمیشہ کی طرح آج بھی ہوٹل میں روم بک کروایا تھا اج کی رات کے لیے مومنہ علی جب روم میں پہنچے تو علی تو چینج کر نے چلا گیا جب کے مومنہ کسی گہری سوچ میں گم تھی علی جب چینج کر کے آیا تو مومنہ کو اسی طرح سجا سنوار دیکھا تو اس کا من تو کچھ اور ہی کہنے لگا کیا بات ہے میری جان ایسے کیوں بھیٹی ہو علی آج دیکھا تھا ارم کے دو بچے ہیں ہماری شادی بھی اس کے ساتھ ہوئی تھی اس کے دو بچے ہیں اور ہمارا ایک بھی نہیں آپ کو بچا نہیں چاہے پر مجھ تو ضرورت ہے آپ افس چلے جاتے ہیں اور میں سارہ دن اکیلی 5 سال ہو گے ہیں شادی کو۔ علی نے کہا میری جان مینے جب کہا کے ابھی بچا نہیں چاہے ہے مجھے۔۔۔ علی کی کی بات منھ میں ہی تھی مومنہ بولی اچھا میں چینج کرلو نیند آئی ہے علی نے کہا نہیں مومنہ تم صرف فیس واش کر کے جلدی باہر او ڈریس نے چینج کر نے مومنہ کیا ہوا علی چپ بلکل چپ جو کہا وہ کرو مومنہ اوکے کہتی واشروم میں چلی گئ جب وہ واپس آئی تو علی پورے کمرے میں پرفیوم چھڑک رہا تھا جب بوتل خالی ہوئی تو علی سونگ گنگنتا ہوا مومنہ کی طرف پڑا
آج پھر تم پر پیار آیا یے
بحد اور بشمار آیا ہے۔۔۔۔
مومنہ کی آنکھیں نیند سے سرخ ہو رہی تھی علی مومنہ کو اپنی مظبوظ باہوں میں پھر چکا تھا مومنہ آج میں تمہارےیے بیبی کا انتظام کر دو گا😘 مومنہ علی آج نہیں میں بہت تھک چکی ہوں علی بلکل چپ مجھے انکار نہیں پسند مومنہ تم جانتی ہو اور علی مومنہ پر مکمل جھک چکا تھا۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: