Nago Ka Jora Novel By Tawasul Shah – Episode 5

0
ناگوں کا جوڑا از تاوسل شاہ – قسط نمبر 5

–**–**–

ان دو ناگوں نے زور کا جھٹکا کھایا اور پھر سے ساکت ہو گے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد پھر سے دونوں ناگوں میں جنش ہوئی۔۔۔۔
یہ کیا اب ان دو ناگوں کی جگہ اک خوبصورت لڑکی جو کے مایا ہی تھی اور اک نوجوان جو کے اور کوئی نہیں دیوراج تھا۔۔
دیوراج اور مایا دونوں صددیوں کے بیمار لگ رہے تھے کیوں کے ناگ روپ میں دو سوسال زمین میں قید رہنے کے بعد اب باہر نکلے تھے۔
مایا اور دیوراج نے جب اک دوسرے کو دیکھا تو انکو یقین نہیں آرہا تھا کے وہ دونوں پھر سے اک دوسرے کو ملے گے ان دونوں کو پھر سے نیئ زندگی ملی تھی۔
مایا جب دیوراج کی طرف بڑنے لگی تو دیوراج نے کہا وہہی رک جاو مایا ہم اک دوسرے کو چھو بھی نہیں سکتے تمے یاد نہیں ہم پر سردار نے طلسم کیا تھا۔۔
مایا نے کہا وہ تو ٹھیک یے دیو پر اک بات کی سمجھ نہیں آئی مجھے ہمکو تو سردار نے زندگی بھر کے لیے قید کیا تھا پر اب ہم آزاد کیسے ہوے دیوراج نے کہا تم رات 2 بجے نہر کے کنارے آنا تب تک میں یہ سب پتا کرواتا ہوں۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
آج محل میں قران خانی ہو رہی تھی جب 49 تک قران پاک مکمل ہوے تو گاڈرن میں پھر سے دھمکہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے دو ناگ اس گڑے میں سے نمودار ہوے جو کے نہایت ہی خوبصورت ناگ تھے اک ناگ جو مکمل سفید تھا دوھ کی طرح جس کی نیلی آنکھوں تھی وہ ناگ بشک بہت خوبصورت تھا اور دوسرا ناگ مکمل سرخ رنگ کا تھا جس کی آنکھیں سبز کلر کی تھی وہ ناگ بھی بڑا خوبصورت تھا ان دونوں کے سروں پر ایسے نشان تھے جیسے وہ ناگوں کے سردار ہوں۔۔
کجھ لوگ بھاگ کر ڈنڈے وغیرہ لینے چل دیے کے ان کو مارا جایے پر یہ کیا ناگ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گے اور لوگوں نے سر پر پاوں رکھ کر بھگنا شروع کر دیا دیکھتے ہی دیکھتے علی کے گھر میں کوہی 200 کے قریب بندے رہ گے وہ بھی صرف علی کی کمپنی کے لوگ علی نے اک رہتا قران پاک مکمل کروایا اور کھانا غریبوں میں تقسیم کر دیا کیوں کے مہمان تو ڈر کے بھاگ چکے تھے۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
آج 14 فروری تھی علی نے مومنہ کو رات کو ہی پیکنگ کرنے کا کہا دیا تھا جو مومنہ نے کر بھی لی تھی۔۔
دن کے کوئی 3 کا ٹائم تھا علی نے مومنہ سے کہا مومنہ پیکنگ ہوگی جی ہوگی اور ایسا کرو گھر کی ضروری چیزوں کو لاک کردو کیوں کے اب سے گھر نوکرروں کے سپرد کر کے جانا ہے پھر اسکو رینٹ پر لگا دیگے اب سے ہم نیے گھر میں رہے گے پکے پکے۔۔
تھوڑی دیر بعد مومنہ نے کہا علی چلے سب کام ہو گے۔۔۔
اوکے تم گاڑی میں میرا ویٹ کرو میں آتا. ہوں تھوڑی دیر بعد علی نے گاڑی کو start کیا اور اپنی منزل کی طرف چل پڑے۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
رات کے اس پہر جب کوئی بھی جاگ نہیں رہا تھا تو ہی نہر کے کنارے اک لڑکی ا کر رکی جس نے نے سرخ رنگ کی ساڑی زیب تن کر رکھی تھی اور اس اندھیری رات میں وہ سرخ رنگ کی ساڑی پہنے ہوے وہ رات کی رانی ہی لگ رہی تھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی اس نے گانا شروع کر دیا آآآآآآآجاجاجا جاجاجا آآآآآآآجاجاجا جاجاجا آآآآآآآجاجاجا زندگی میں تمہی پے لٹاوگی میں تو مر کے بھی تجھ کو چاہوں گی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد شاید اس کے محبوب نے اس کی پکار سن لی تھی تب ہی اب وہ فروری کے اس مہینے میں نہر کے ٹھنڈے پانی میں پاوں ڈالے اپنے محبوب کا انتظار کر رہی تھی۔۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کے اک کالے رنگ کا ناگ رینگتا ہوا آیا اور اس لڑکی کے کچھ فاصلے پر رک گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اک نوجوان کا روپ دھرن کر لیا۔۔
دیوراج۔۔ دیو تم آگے مجھے یقین تھا تم میری پکار پر ضرور آو گے۔۔
ہاں مایا تم اپنے دیو کو پکارو تو ایسا کیسا ہو سکتا ہے کے میں نہیں آتا۔۔
دیو کچھ پتہ چلا سردار اور قبیلے واے کدھر گے میں نگر گئ تھی پر ادھر کوئی بھی نہیں ملا نہ ہمارے گھر ہیں؟؟
ہاں مایا جب ہم کو قید کیا گیا اس کے کچھ عرصے بعد نگر میں شدید زلزلا آیا اور اس میں سب غرکار ہو گے سب کے سب مر گے ہمارے گھر گر گے ہمارے مان باپ بہن بھائی سب چلے گے یمے چھوڑ کر مایا اور دیوراج کی آنکھیں اشک بار تھی۔۔
تبھی مایا نے کہا یوراج اور صنم کدھر گے وہ بھی ہماری وجہ سے قید ہو گے تھے وہ کدھر گے اور ۔اور دیو اگر ہمارے سب لوگ مر گے تو ہم دو سوسال بعد کیوں آزاد ہوے ہیں۔۔۔۔؟؟
دیوراج نے کہا مایا اس وقت ہم زمین میں تھے اور تب ہمارا طلسم نہیں ٹوٹا تھا مایا نے کہا تو اب کیسے ٹوٹا ہے وہ ایسے کے جس جگہ ہم قید تھے ادھر اک شحص نے اپنا محل بنوایا ہے اور وہ مسلمان ہے اس کے گھر میں 40 دن لگا تار ان کا قران پاک پڑھا جاتا رہا اس وجہ سے 41 دن ہمارا طلسم ٹوٹ گیا اور ہم آزاد ہو گے۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی اور مومنہ جب گھر کے قریب اترے تو مومنہ نے کہا علی wao mashallah so beautiful house
علی یہ گھر کس کا ہے ؟؟
میری جان کا۔۔
علی پلیز مزاق نہیں کرے
نہیں میری جان قسم لیلو یہ تمہارا گھر اس اور پیچھلے ڈیر ماہ میں بنوایا ہے یہ ہے ہماری anniversary کا گفٹ تمہارے لیے۔۔
او علی thanks thank you so much
ارںے میری جان thanks کیسا۔۔۔
اوکے No thanks علی میں اپنا تھینکس واپس لیتی ہوں😍اچھا چلو اندر تو مومنہ نے سارا محل گھوم کر دیکھا اس کو جنوبی طرف نہر والا منظر بہت پسند آیا۔۔
علی نے مومنہ سے کام کے دوران ہونے والے واقیعت اور قران خانی والے دن کی کوئی بات نہیں بتا ہی کے مومنہ ایسے ہی پرشان ہوگی۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
مایا ہم اب یہ طلسم کیسے ختم کرے جو ہمارے جسموں پر ہوا ہے
دیو تم کس پنڈت یا کسی شنکا سے اس کا توڑ پوچھو ہاں تم ٹھیک کہتی ہو میں صبح ہی جاو گا ان کی تلاش میں پر اس سے پہلے مجھ کسی عورت کا جسم حاصل کرنا ہو گا تب میری ناگ سکتی واپس مل جاے گی اب تو میرے پاس صرف نگ روپ اور اپنا ہی انسان روپ ہے جسم حاصل کرنا کے بعد مجھ میں انگنت شکییں آجائے گی پر تم کو یہ عورت ملے گی کہا اس کا انتظام ہو چکا ہے جس نے محل بنوایا اس کی بیوی اچھا ٹھیک ہے مایا میں اب چلتا ہوں۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
آج 14 فروری کی رات تھی اور آج علی کے محل میں بہت بڑی پارٹی کا اہتمام تھا ویسے بھی علی ہر وہ دن جو اس کی اور مومنہ کی زندگی کا اہم دن ہرتا علی اس کو بہت اچھے سے سیلیبریٹ (celebrate) ضرور کرتا
پارٹی اپنے اہتتام کو تھی سب نے کھانا کھایا اور رخصت لی اور علی بھی اپنے روم کی طرف بڑگیا مومنہ نے کہا اف آج تو بہت تھک گئ ہوں اور سونے کے لیے لیٹ گئ۔۔
صبح مومنہ نماز کے ٹائم اٹھی تو نماز ادا کرنے کے بعد اس نے قران پاک کی تلاوت کی اور پھر بیڈ پر لیٹ گئ کیوں. کے آج سنڈے تھا اور علی نے لیٹ اٹھنا تھا۔۔۔
وہ لیتی اور اس کی پھر سے انکھ لگ گی علی جب ساڈے دس بجے اٹھا تو مومنہ کو سوتے پایا علی باتروم میں فرش ہو نے چلا گیا جب واپس آیا تبھی مومنہ کو سوتے پایا اس نے اسکو جگانا مناسب نہیں سمجھا اور اٹھ کر ناشتہ بنانے لگا اور پھر بیڈ روم میں آیا اور مومنہ کے سر کے بالوں میں پیار سے ہاتھ چلانے لگا اٹھ جاو میری جان آج کتنا سونا ہے اب مومنہ جاگ گی اور کہنے لگی کے ارے نے پہلے کیوں نہیں جگایا اچھا آپ چلاے میں آپ کے لیے ناشتہ بنا دیتی ہوں نہیں ناشتہ بنا چکا ہے میری شہزادی تم صرف فرش ہو کر جلدی نیچھے آو اور علی باہر نکل گیا۔۔۔
ناشتہ کرتے ہوے مومنہ کو vomiting آنے لگی اور وہ wash basin کی طرف لپکی ہی تھی کے دڑم کر کے زمین بوس ہوگی علی بھاگ کر مومنہ تک پہنچا مومنہ بہوش ہو چکی تھی علی کو تو ہاتھ پاوں پول گے۔۔۔
علی جب مومنہ کو قرہبی کلینک لیکر گیا لیڈی ڈاکٹر نے مومنہ کا چیک آپ کیا اور علی کو مبارک دی congratulate Mr’ ali she is pregnant..
علی اور مومنہ کے خوشی دیکھنے لائک تھی ڈاکٹر علینہ نے کہا یہ بہت ویک ہیں اس لیے آپ کو اپنی وائف کی بہت care کرنی ہوگی میں نے کچھ medicine لکھ دی ہیں یہ انکو باقائیدگی سے دیجیے گا. ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: