Nago Ka Jora Novel By Tawasul Shah – Episode 7

0
ناگوں کا جوڑا از تاوسل شاہ – قسط نمبر 7

–**–**–

علی گھر سے باہر نکلا ہی تھا آفس جانے کے لیے اور سامنے سے آتے انسان کو دیکھا کر گاڑی کو روک دیا اور اس نوجوان کو دیکھنے لگا جو نیلی آنکھیں سفید کرتے شلوار میں بڑی ٹھاٹ سے چلا آرہا تھا ایسے لگتا تھا وہ کوئی بہت اچھے اور بڑے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا علی سوچ رہا تھا اسے مجھ سے کیا کام بلا۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
مومنہ نے جب دو ناگ ایک ساتھ دیکھے تو زور سے چینح مارکر گرپڑی علی کو ایسے لگا کے کوئی چینحا ہے جب اس نے اپنی لفٹ طرف دیکھا تو اسکو شدید جھٹکا لگا کیوں کے اس کی جان سے پیاری بیوی بیڈ پر نہیں تھی اسکا مطلب و۔۔وہ چینح مومنہ کی ہی تھی اور علی نے بھاگتے ہوے گارڈن تک آیا ادھر مومنہ بہوش پڑی تھی علی نے جلدی سے اس اٹھایا شکر ہے گھاس ہونے کی وجہ سے چوٹ نہیں لگی تھی علی اس اٹھا کر روم میں لے آیا اس اچھی طرح چیک کیا وہ بلکل ٹھیک تھی۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
چاندنی رات تھی چاند اپنے دودہھی روشنی سے سارے آسمان کو روشن کیا ہوا تھا مایا اور دیوراج اپنے بیڈ روم میں باتوں میں مصروف تھے ان کی شادی کو مہینہ ہونا والا تھا اب وہ دونوں مزہ سے باتیں کررہے تھے کے کمرہ میں اک دور دار جھٹکا لگا مایا ڈر کر دیوراج کے سینے سے لگ گی اور اس جھٹکے میں اک ناگ نمودار ہوا جس کے پانچ منھ تھے اور وہ اب بہت بڑے اثدھے کی شکل اختیار کرچکا تھا اس بڑے ناگ نے گرجدار آواز میں دیوراج کو مخاطب کیا دیوراج تم نے اپنے طلسم ٹورنے کے لیے اس بچے کو قربان کیا اور اب شیاطان تم سے بہت خوش ہے وہ چاہتا ہے کے تم اب کسی عورت کا جسم حاصل کرکے اپنے طاقتیں بڑھوں اور اب تمے جلد از جلد اپنی طاقتیوں زیادہ کرنی ہے کیوں کے شیطان نے تمکو شیطان ناگوں کا سردار بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کہتے ہی وہ ناگ غائب ہوگیا۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی ابھی یہ ہی سوچ رہا تھا کے وہ نوجوان علی کی گاڈی کے پاس آکر رک گیا اور پرنام کہتے ہوے کہا مجھے آپ سے اک کام ہے آپ پلیز انکار نہیں کرنا۔ علی کو وہ لڑکا دیکھتے ہی اچھا لگا پر جب علی کو معلوم ہوا کے وہ ہندو ہے تو علی کو اس سے بات کرنے اچھا نہیں لگرہا تھا پر پھر بھی علی پتہ نہیں کیوں اس کی بات سنے کو تیار ہو گیا۔۔
اب اس نے کہنا شروغ کیا میں اک ناگ ہو ناگوں کا راجکمار ہوں میرا نام یوراج ہے اور میرا ناگ منی آپ کے گھر کے گارڈن میں دفن ہے آپ آجازت دیں تو ہم وہاں سے نکال لیں علی کو اس کی کوئی بات بھی سمجھ نہیں آئی شاید یوراج نے علی کی پریشانی سمجھ کر کہا علی دوست تم یقین نہیں آرہا نا۔۔ جب میں ناگ بنو گا تو تم ڈرنا بلکل بھی نہیں بلکہ میری آنکھوں میں دیکھنا تم سب نظر اجایے گا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اک سفید رنگ کا ناگ بن گیا علی بےیقینی کفیت میں یوراج کی نیلی آنکھوں میں دیکھنا لگا اور پھر دیوراج اور مایا کی غلطی سے لیکر اب تک سب علی کو نظر آگیاپھر یوراج نے اپنی انسانی روب میں آیا اور علی کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی اس کو ہر طرح سے چیک کر چکا تھا اور تھوڑی دیر بعد مومنہ ہوش میں آگی مومنہ کیا ہوا تھا تمے تم گاڈرن میں بہوش پڑی تھی علی و۔۔وہ ادھر دو ناگ دیکھے مینے ارے یار تم نے کوئی خواب دیکھا ہو گا علی نے مومنہ کے طبیعت کے خاطر ایسے کہا تو دیا تھا پر اندر سے وہ پھر سے ناگوں کی آمد سے گھبرا گیا کے آخر ان کا مقصد کیا ہے اور یہ چاہتے کیا ہیں ایسے بہت سے سوال اس کے زہن میں سوار تھے۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
ادھر دیوراج اور مایا ناگ کی بات سن کر پرشان تھے مایا بولی دیوراج تم کہا جاو کے مجھے اس خالت میں چھوڑ کر تم تو جانتے ہی ہو نے میں ہمارے بچے کی ماں بنے والی ہوں اور اس پنڈت کی بات کے مطابق میں صرف اک بار ماں بن سکو گی۔۔ کہیی نہیں چاو گا میں بس اس محل تک جاو گا اس نے کھڑکی سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا اور پھر وہ مایا کو آرام کی تنقین کر کے محل کی جانب بھڑگیا۔۔۔.
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی سب دہکھنے کے بعد پتہ نہیں کیوں یوراج اور صنم پر بہت ترس آیا اور علی نے اس سے مدد کر نے کا وعدہ کیا تو یوراج نے کہا اب میں بلکل شانت ہوں کیوں کے جانتا ہوں کے جب مسلمان وچن دے تو اسے ضرور پورا کرتے ہیں اور میں تو مسلمان درم کا بہت عزت کرتا ہوں ۔۔
ٹھیک ہے یوراج تم مجھے بتا دینا جب تم کام کرنا ہو تو میں اپنی بیوی کو کہیی لے جاو گا کیوں کے اس کی خالت ایسی نہیں کے اس کچھ بتایا جایے
ابھی تھوڑے دنوں بعد ناگ شکتی ہے اس میں سب ناگوں کو انکی شکتی ملتی ہیں اس رات آپکو میری مدد کرنی ہے اور میں آپ سے سب کے سامنے اس روپ میں ملو گا کیوں کے یہ میرا انسانی اصل روپ ہے ۔
ٹھیک یے میں چلتا ہوں اب علی نے یہ کہتے ہوے گاڈی زن سے آگے بڑھا دی۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
آج علی کو بہت دیر ہوگی اب تک آیے نہیں ابھی مومنہ سوچ ہی رہی تھی کے ڈوربیل ہوئی آگے علی یہ کہتے ہوے مومنہ نے دور کھولا علی ہی تھا علی اندر آتے ہی مومنہ کو کہا جان فورن بیڈ روم میں چلو پر علی ابھی مومنہ کچھ بولنے ہی والی تھی کے علی اسے بیڈ روم میں لے گیا اور اسکو باہوں میں پھر کر اس کے جسم پر جکا ہی تھا کے علی کو زور سے جھٹکا لگا اور وہ مومنہ سے بدک کر پیچھے ہوا یہ کیا ہوا علی علی آپ کو کیا ہوا مومنہ یہ تم نے گلے میں کیا پہن رکھا ہے یہ ۔۔۔ یہ تو آیتلکرسی کا تعویز ہے علی اتارو اسکو کیوں علی یہ تو آیتلکرسی ہے میں کہا نا اتارو اسکو مومنہ علی نے اس کو اس قدر غصہ میں کہا کے ایسے علی نے مومنہ کو کھبی غصہ نہیں کیا اتنے میں ڈوربیل ہوئی اور علی تن فن کرتا باہر نکل گیا اور تھوڑی دیر بعد علی آیا اور مومنہ کو آواز دینے لگا مومنہ کدھر ہو یار آج ڈور بھی کھولنے نہیں آئی ہو یہ پہلے ہی کھلا تھا یہ سب مومنہ کو بہت عجیب لگ رہا تھا اب پہلے علی کتنے غصے میں تھے اور ابھی کیسے ریلیکس تھے۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
آج ناگ شکتی تھی اور علی نے مومنہ کو کہیی گومنے پھرنے لیے گیا اور پھر روم بھی لے لیا وہ یوراج کے لیے کے وہ اپنا منی حاصل کرسکے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: