Nago Ka Jora Novel By Tawasul Shah – Episode 8

0
ناگوں کا جوڑا از تاوسل شاہ – قسط نمبر 8

–**–**–

علی مومنہ کو سیر کروا کر اک ہوٹل میں روم بک کروایا اور مومنہ اور علی دونوں کمرے میں بھیٹے باتیں کررہے تھے علی نے کہا مومنہ اگر Baby girl ہوئی تو اس کا نام میں رھبہ رکھوگا اور اگر Baby boy ہوا تو میں اس کا نام منان رکھوگی مومنہ بھی جلدی سے بولی جیسے وہ اگر جلدی سے نہ بولی تو کہیی اس کا نام بھی علی ہی نہ رکھ دے😜علی ہاہاہاہاہاہاہا میری جان آپ ہی رکھنا علی نے مومنہ کے بیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا یار کب تک آیے گا آیے گی یہ اس دنیا میں مجھ سے اب اور انتظار کرنے بہت مشکل لگ رہا ہے مومنہ نے علی کے بالوں میں ہاتھ پھرتے ہوے کہا انشالللہ بس دو مہینے اور علی اس کے بعد انشالللہ ہمارا بیبی ہماری گودی میں ہوگا علی نے بھی انشالللہ کہا اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
آج شکتی رات تھی اور آج یوراج اور صنم کے لیے بہت اہیم رات تھی کیوں کے آج انکی شکتی ان کو ملنی تھی صنم اور یوی دونوں سر توڑ کوشش کر رہے تھے زیر زمین ناگ منی ڈونڈھنے کی پر یہ مل کرہی نہیں دی رہی تھی ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی ایک سفید چغلے میں ملبوس نہایت نورانی چہرہ والے بزارگ نمودار ہوے انکا تعلق قوم جنات سے تھا انہوں نے یوراج کو مخاطب کر کے کہا اے ناگ بشک تم مسلمان نہیں پر میں مسلمان ہونے کے ناتے تم ضرور آگا کرو گا اس جگہ بلکہ اس پورے گھر میں قران پاک کی تلاوت روز ہوتی ہے اس لیے وہ منی تمکو تب تک نہ ملے گی جب تک وہ بچی ادھر قران پاک کی تلاوت نہ کردے ورنہ تم چاہو تو قیامت تک ڈونڈتے رہو منی نے ملا گی یہ سنتے ہی یوراج نے کہا ہمے شما کر دے آپ پر ہم پر دیا کرے اور بتادیں کون آپ کی پاوتر کتاب پڑھے تو یمے منی ملے گی وہ بزارگ بولے وہ بچی جس کا یہ گھر ہے یعنی مومنہ۔۔۔۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی کو جب یہ احساس ہوا کے اس کے علاوہ بھی کوئی کمرے میں ہے تو وہ کمرے سے باہر نکلا سامنے ہی اک ناگ رینکتے ہوا نظر آیا ابھی علی ناگ کو دیکھاکر ڈر ہی گیا کے وہ ناگ انسانی روب میں آیا یوراج تم افففففففففف تم نے تو ڈرا ہی دیا یار علی اک سمسیا ہے کیا ہوا یوراج نے کہا یار اک بزارگ جنات آیے تھے اننے کہا جب تک مومنہ بھابی آپکی پاوتر کتاب کا جاپ نے کرے گی ادھر تو ہمے منی نہیں ملے گی آپ پلیز بھابی سے کہو کے ادھر پڑھ دیں علی سوچ میں پڑگیا پھر اسنے سوچا کسی کی مدد سے انکار کرنا بھی گناہ کے زمیلے میں آتا ہے اور علی نے کہا میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
صبح علی نے ویٹر سے اپنے اور مومنہ کے لیے ناشتہ منگوایا اور پھر دونوں نے ناشتہ سے فارغ ہو کر گھر کی رہ لی۔۔
مومنہ صوفے پر نمدراز تھی علی نے کہا مومنہ ڈارلینگ آو قران پاک پڑھتے ہیں گاڈرن میں بھیٹکر اچھا علی آپ وضو کر کے کارپٹ لیے کر چلے میں بھی وضو کر کے قران پاک لیے کر آتی ہوں۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد علی اور مومنہ دونوں گاڈرن میں مصروف تھے اب تک دونوں نے دس پارے پڑھ لیے تھے اور مومنہ بولی علی میرے پیٹ میں پین شروع ہو گی ہے علی نے مومنہ سے کہا میری جان آپ جاو روم میں اور ریسٹ کرو میں بھی آتا ہوں تھوڑی دیر تک مومنہ کے جاتے ہی ایک سفید چغلے میں ملبوس نہایت نورانی چہرہ والے بزارگ نمودار ہوے اور علی ان کا نورانی چہرہ دیکھتے ہی رہ گیا انہوں نے علی سے کہا بیٹا تم نے اک غیر مزہب کی مدد کرکے بہت اچھا کام کیا ہے بلکے وہ تو انسان بھی نہیں وہ ناگ ہے پر مومنہ بیٹی نے جو تلاوت کی اس سے اب ان ناگوں کو ان کا موتی مل جایے گا اللہ کی کلام کا بہت اثر ہے بےشک اور اللہ نے آپکو ایک نیک سعادت سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے علی بیٹا کیا مطلب بابا جی میں سمجھا نہیں بیٹا وہ دونوں ناگ جب اپنا موتی خاصل کر گے تو انکو دعوت اسلام دینا بلاشبا وہ دونوں ناگ علط ہرگز نہیں ہیں اور دین اسلام کا بہت اخترام کرتے ہیں وہ دونوں اسلام قبول کرنے میں دیر نہ کرے گے علی نے انشالللہ کہا اور وہ بابا غایب ہو گے اور علی رات کا انتظار کرنے اندر چلدیا۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی کو کال آیی اور وہے مومنہ کو آرام کرنے کا کہہ کر باہر نکل گیا تھوڑی دیرہی گزری تھی کے مومنہ کو کمرے میں کسی اور کی مجودگی کا احساس ہوا تو اس نے مڑ کر دیکھا تو علی کو کرسی پر بھیٹا پایا علی آپ گے نہیں میری جان مجھے تم سے پیار کرنا کو بہت دل کررہا ہے پر تم تو میرے قریب نہیں آتی مومنہ کو خیرت ہویی کیوں کے جب علی کو اس کے قربت کی ضرورت ہوتی تو علی نے کبھی ایسے نہیں کہا بلکہ وہ خود اسکے قریب اجاتا۔۔ع
مومنہ علی کی بات سن کر گلابی ہوگی اور علی اس کے قریب آرہا تھا جسیے ہی مومنہ کو ہاتھ لگایا تو علی کو شدید جھٹکا لگا اور پھر وہ ہی نورانی چہرہ والے بزارگ نمودار ہوے اور دیوراج کو غزب سے دیکھا جو زمین پر پھڑا تھا بزارگ نے کہا اے ناگ تجے اب سبق سکھنا پڑےا گا تو اس پاک بی بی کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا اور بیٹی آپ ہمیشہ اپنے آپکو قرانی آیات کے حسارہ میں رکھا کرو اور پھر وہ دونوں کمرے سے غایب ہوگے اور مومنہ بہوش ہو گی۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی جب شام کو کمرے میں آیا تو مومنہ سورپی تھی علی بیڈ پر بیھٹکر اسکے بالوں میں ہاتھ چلانے لگا اٹھ جاو میری جان کتنا سونا ہے مومنہ اٹھکر بیٹھ گی اور کچھ یاد انے پر گھبرا گی اور علی کو سب بتا دیا آج دن والا واقع اور اس دن والا بھی اور یہ بھی کے ان نورانی چہرہ والے بزارگ نے آیات کے حسارہ میں رھنے کا کہا علی یہ سب کیا ہورہا ہے علی بھی پرشان ہو گیا پر مومنہ پر ظاہر نہیں کیا کے وہ مزید پرشان ہو گی اور کہا یار کوئی خواب دیکھا ہے اور اسے سچ سمجھنا کوئی سمجھدادی نہیں ہے پر علی وہ خواب تھا مجھے ایسا لگا وہ سب سچ تھا ایسا کچھ نہیں میری جان اور اٹھ کر کچن میں چلا گیا کے ڈنر یتار کرلے۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی مومنہ کو ڈنر کروا کر اور میڈیسن دی اور وہ کچھ دیر میں ہی سوگی کیوں کے میڈیسن میں نیند کی بھی دوا تھی۔۔۔
علی نے مومنہ پر قرانی آیات پڑھ کر دم کی اور بیڈ روم کو ڈور بند کر کے باہر آگیا کچھ دیر بعد یوی اور صنم بھی آگے اور منی کو تلاش کرنے لگے پر وہ ملا نہیں علی نے جب دونوں کو پریشان دیکھا تو اندر سے قران پاک لیے آیا اور تلاوت کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد ہی صنم اور یوی کو منی ملے گیا اور دونوں خوشی سے پاگل ہو رہے تھے یوی اور صنم نے علی کا شکریہ ادا کیا تو علی نے کہا آپ دونوں میرے مزہب میں آجایے اور ہماری دوستی کو اور مظبوظ کردو اور صنم اور یوی دونوں نے اسلام قبول کر لیے اور بزارگ بھی آگے اور ان دونوں کو اسلام کی تعلیمات دی اور دونوں کا اسلامی نام تجویز کیا یوراج کا نام رجب اور صنم کا نام رانیہ رکھا اور پھر بزارگ نے ہی دونوں کا نکاح پڑھوایا اور کہا آپ دونوں کو پہلے تو اسلام قبول کرنے کی مبارک ہو اور پھر دونوں کو نکاح کی بہت مبارک ہو اب آپ دونوں قانونی اور شرغی میاں بیوی ہو۔۔ جیتے رہو میرے بچوں دوا دے کر غائب ہوگے۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: