Nago Ka Jora Novel By Tawasul Shah – Episode 9

0
ناگوں کا جوڑا از تاوسل شاہ – قسط نمبر 9

–**–**–

یہ اک بہت تاریک گوشا تھا اس کو کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا شاہد اس کی طاقتیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی پر کیوں اس نے تو طاقتیوں کو حاصل کرنا کے لیے اک جن زاد بچے کو قربان کردیا اور اس کی طاقتیں اتنی کمزور کیوں ہوگی تھی اس بڈھے نے جب اسکو وہاں سے لیا تو اس کے بعد اس نے خود کو اس تاریک گوشے میں پایا اسے اپنی ناگن کا بھی خیال آیا رہا تھا جو کہ اس کے بچے کی ماں بنے والی تھی ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے وہہی بابا جی نمودار ہوے اے ناگ تجے اب میں نہیں بخشو گا اور یہ کہتے ہی انے اس کی قافی طاقتیوں کو ختم کر دیا اور دیوراج درد سے بلبلا اٹھا اور دنیا جہاں سے بخبر ہو گیا
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
یہ اک بہت خوبصورت کمرا تھا کمرے میں جاہنکا جاے تو سامنے اک خوبصورت پیش قیمت جہازی سائز بیڈ اس کے بلکل سامنے ڈریسنگ ساتھ نفیس سے صوفہ اسکے ساتھ بڑی سی ورڈروب جس کا سراکمرے کے چھت کے ساتھ لگرہا تھا اور ماربل کے فرش پر پیش قیمت کارپٹ جس میں پاوں دھستے ہوے محسوس ہوتے اب بیڈ کے اوپر نگاہ ڈالی جاے تو گاب اور چمبیلی کے پھولوں سے سجی سیج جو کو رجب(یوراج) رانیہ(صنم) کا کمرا تھا اور اب رانیہ رجب کا انتظار کررہی تھی تھوڑی دیر ہی بعد رجب کمرے میں داخل ہوا اور روم کو لاق کر کے بیڈ پر آیا اور پیار سے اس کے ہاتھ کو تھام کر خوبصورت سی ہیرے کی انگوٹھی پہنا دی اور رانیہ کے ماتھے پر اپنے پیار کی مہر ثبت کی اور رانیہ بخود ہو کر اپنے محرم کے گلے لگی اور رجب ساری رات اس پر اپنی محبت کی بارش کرتا رہا۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
مومنہ کی ڈلیوری کو بس کچھ دن ہی رہتے تھے علی بچینی سے اس وقت کا انتظار کررہا تھا جب اک ننھا سا وجود ان کے درمیان اجاتا۔۔۔
مومنہ کو دوبارہ دیوراج کا سامنا نہیں کرنا پڑا اک تو اس کی طاقتیں اب بہت کمزور ہو چکی تھی اور دوسرا مومنہ اب ہر وقت قران پاک کی تلاوت کرتی رہتی۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی آفس میں آج بہت دنوں بعد آیا کے اک چکر لگا آیے اب اسکو تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کے علی کے سامنے والی کرسی پر بابا جی نمودار ہوے اور اسے اشارہ سے کہا کے کسی کو اندر انے سے روک دو اور علی نے فون اٹھاکر کسی کو بھی اسکو ڈسٹرب کرنے سے منع کردیا۔۔۔
اب بابا جی نے کہا بیٹا دیکھے آپ کو اور آپ کی بیوی کو خطرہ ہے علی نے خیران ہو کر کہا بابا جی کس سے اور کیوں بابا نے کہا اک ناگ سے اس خبیس کی نظر مومنہ بیٹی پر ہے جس سے وہ اپنی طاقتیوں زیادہ کرنے چاہتا ہے فلوقت تو مینے اسکو روک دیا پر آپ کو ایک چلہ کرنا پڑے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جایے گا علی نے کہا بابا جی میں ہر قسم کے چلہ کے لیے تیار ہو میں اپنی بیوی کو خطرہ سے بچانے کے لیے کسی خد تک بھی جاسکتا ہوں بس بیٹا تم ہمت نہیں ہارنی چلہ تین دن کا ہے اور اس میں چاہے جو بھی ہو جایے تم نے خسارے سے باہر نہیں نکلنا جب تک چلہ ختم نہیں کرلیتے ٹھیک ہے بابا جی اچھا بیٹا اب میں جلتا ہوں کل شام پانچ بجے مجھے اپنے گھر سے دور کھنڈات میں ملنا جی اچھا علی نے کہا۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
آج علی کو چلہ شروع کرنا تھا اور بابا جی سے بھی ملنا تھا اس نے کھڑی دیکھی ابھی ساڈھے چار ہوے تھا اور اسکو کھنڈات میں جانے کے لیے 15 منٹ لگنے تھے۔۔۔
علی نے سوچا آج سے 7 دن بعد کی مومنہ کی ڈیٹ ہے اور یعنی اس کام کے بعد دو تین دن بعد یا اس سے پہلے کبھی بھی مومنہ کی طبیعت خراب ہو سکتی ہے اور اس کے پاس کسی عورت کا ہونا بہت ضروری تھا اور اس کی تو کو بہن تھی نہیں اور مومنہ کی اک ہی بہن تھی جو لندن مقیم تھی اور علی اور مومنہ کے سب رشتہ دار بہرونے ملک تھے علی کو اپنے وطن سے بےپناہ محبت تھی تبی وہ کسی اور ملک نہیں گیا پھر اس کے زہن میں خیال آیا اور اس نے پہلے بابا جی سے مل کر پھر اپنے خیال پر عمل کرنے کا سوچتے ہوے بابا جی کے پاس چل دیا۔۔۔
؛؛!♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
دیوراج کو جب ہوش آیا تو اسے سمجھ آئی کے وہ واقع ہی مصیبت میں گھڑ چکا ہے اس نے شیطان ناگ کو پکارا اور وہ جلد ہی اس کے سامنے آگیا اس نے کہا اے مہان ناگ میری مدد کرو اس بڈھے نے مجھ سے بہت سی طاقتیں ختم کردی اب میں زندہ رہنے کے علاوہ ہوٸی طاقت نہیں ہے اے بالک ناگ ہم تیری کوئی مدد. نہیں کرے گے کیوں کے تو شیطان کو خوش نہیں کرسکا اب میں چلتا ہوں اور وہ دیوراج کو دوتا چھوڑڑ کر غائب ہوگیا۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
کچھ دیر بعد علی کھنڈات میں تھا اور تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے بابا جی اس کے سامنے تھے بابا نے کہا علی بیٹا آپکو آج رات عشاء کے بعد چلہ میں بیٹھنا ہے جی بابا جی اور کسی صورت خسارے سے باہر نہیں آنا جی بہتر بابا اب تم جاو اور اپنی تیاری کرو آج جمرات ہے اور ہفتہ کی فجر کو آپکا چلہ مکمل ہوگا۔۔۔۔۔
علی جب نہر کے قریب پہنچ تو اس نے رجب کو آواز دی چند منٹ بعد رجب نمودار ہوے اور خوشدلی سے علی کو اسلام کرتے ہوے اس کے بعلگیر ہوا اور علی نے کہا تیرا گھر کدھر ہے کیا بھابی سے نہیں ملویے گا اب رجب اور علی اچھے دوست بن چکے تھے رجب نے کچھ پڑھ کر پونک ماری تو اک خوبصورت سا گھر ظاہر ہوا علی نے کہا تو اب بھی ہندو مزہب کی عمل استمال کرتا ہے نہیں نہیں یہ سب بابا جی نے ہماری منی میں پاک کلام سے منور کیا ہے اور یہ سب اس وجہ سے ہے علی نے مسکرا کر کہا اچھا اب چل نا اندر رجب نے کہا اور دونوں گھر میں داخل ہوے علی نے کہا مجھ بہت ضروری کام ہے تجھ سے رجب حکم کر یار وہ دراصل مجھ اک ناگ کو ختم کرنا ہے اور پھر مومنہ سے لیکر بابا جی تک سب رجب کو بتادیا اور رجب نے کہا دیوراج نہیں سدرہا کیا یہ وہ ہی دیوراج ہے علی نے کہا رجب نے ہاں میں سر بلادیا اور علی نے کہا میرا چلہ تین دن کا ہے اور مومنہ کو میں اس خالت میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا کیا تم اور بھابی مومنہ کے پاس رک جاو گے کیوں نہیں یار میں اور رانیہ ضرور رکے گے بھابی کے پاس اور اتنے میں رانیہ چاہیے لیکر آگی اسلام و علیکم بھائی کیسے ہیں آپ اور مومنہ بھابی کیسی ہیں ؟؟میں تو ٹھیک ہوں مومنہ کو تو آپ گھر آکر دیکھا لیں کیوں کے مجھے اک کام سے جانا ہے اور آپ مومنہ کے پاس رہنا اس کی ایسی حالت نہیں کے وہ اکیلی رہے علی نے کہا کیوں نہیں کیوں ہم ضرور اپکے گھر رہیے گے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: