Nago Ka Jora Novel By Tawasul Shah – Last Episode 10

0
ناگوں کا جوڑا از تاوسل شاہ – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

علی چاہے پینے کے بعد رجب چلے کیا رجب نے رانیہ کو آواز دینے ہوا کہا چلو رانیہ اچھا رجب میں آتی ہوں چادر لیکر رانیہ اب مکمل طور پر اسلام پر عمل کرتی تھی۔
علی رانیہ اور رجب کو لیکر اپنے محل میں آیا اور مومنہ کو آواز دینے لگا مومنہ کدھر ہو یار دیکھو تو مہمان آیے ہیں مومنہ رجب اور رانیہ سے اک بار پہلے بھی مل چکی تھی اس یہ دونوں سبز آنکھیں والی اور نیلی آنکھوں والا ان دونوں کی جوڑی بہت اچھی لگی تھی اور اس سے بڑکر وہ اس کے ہسبنڈ کا دوست اور اس کی ہیوی تھی علی نے مومنہ کو بتایا تھا کے رجب اس کا ادھر ہی دوست بنا ہے جب سے وہ محل بنوا رہا تھا۔۔
مومنہ جب سیڑیوں سے نیچے انے لگی تو رجب اور رانیہ نے کہا بھابی آپ نیچھے نہ آیے ہم اوپر آجاتے ہیں اور سب اوپر چل پڑے سب اوپر والے ڈراینگروم میں بیٹھے خوش گپوں میں مصروف تھے مومنہ اٹھنے لگی تو علی نے کہا کدھر جاریی ہو علی مہمانون کے لیے کچھ چاہے پانی لیے او نا مومنہ تم بیٹھو میں لاتا ہوں اتنی میں رجب بولا ارے بھابی آپ تو آرام سے بھیٹے اور علی ہماری بیگم بہت مزہ کی چایے بناتی ہے رانیہ نے کہا جی کیوں نہیں رجب ٹھیک ہیں اور رانیہ تھوڑی دیر میں چاہے اور ساتھ لازمات لیے آئی جو کے اسکو علی نے ہی دیے تھے تھوڑی دیر بعد علی نے مومنہ سے کہا مومنہ مجھے آفس کے کام سے تین دن کے لیے امیرکا جانا ہے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ورنہ تمے بھی ساتھ لے جاتا اس لیے رجب اور رانیہ بھابی کو تمہارے پاس چھوڑ کر جارہا ہوں اچھا علی میں آپ کی پیکنگ کر دیتی ہوں نہیں مومنہ میں سب پیک ہے اور آفس سے ہی جانا ہے اس لیے ابھی عشاء ہونے والی ہے اور تھوڑی دیر بعد میری فلائٹ ہے اوکے مومنہ اپنا خیال رکھنا اور علی سب کو الوعدہ کہتا ہوا باہر نکلا گیا۔۔۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛
علی چلہ میں بھیٹ چکا تھا پہلی رات آرام سے گزر گئ دوسری بھی تھوڑے بہت جھٹکوں سے گزر گئ آج تیسری اور اخری رات تھی ابھی علی کو عمل کرتے اک گھنٹا ہی مشکل سے گزرا تھا کے دو ناگ نمودار ہوے جو رجب اور رانیہ تھے علی نے دونوں کو پریشان نظر سے دیکھا یہ دونوں رورہے تھے علی بھابی مومنہ کی جان چلی گی اور تمارا بچا بھی علی بھاگ کر اٹھنے ہی لگا تھا کے باباجی کی آواز آئی بیٹا یہ سب فریب یے اور علی پھر سے بیٹھ گیا اور وہ دونوں ناگ دھوں بن کر غائب ہو گے علی عمل کرتا جارہا تھا ابھی فجر ہونے میں قافی دیر تھی کے اک ناگ جس کے پانچ منھ تھے بہت خوفناک ناگ تھا اس کے پانچوں منھوں سے آگ کے شولا نکلا رہے تھے اس نے مومنہ کو نامناسب طرح بالوں سے پکڑا ہوا تھا اس نے کہا اے بالک اس جاپ کو یہاں ہی چھوڑ کر بھاگ جا نہیں تو تیری پتنی کو موت کے گھاٹ اتاردوگا علی مومنہ کو دیکھا کر اس کا دل کٹ کر رہ گیا اور وہ خسارے سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کے باباجی کی آواز آئی بیٹا یہ سب نظر کا دھوکہ ہے اپکی بیوی اللہ کی امان میں ہے اور یہ سب فریب یے آپکو اس چلہ سے روکنے کے اوچھے اتکھنڈے ہیں آپ آنکھیں بند کر کے عمل پورا کرو۔۔۔
علی جب پھر سے بیھٹگیا تو مومنہ کی جگہ اب اک خوفناک ناگن تھی اور علی کو دہمکی دے رہی تھی علی بغیر ڈرے عمل میں مصروف تھا ۔۔۔
آگے کا عمل خیروعافیت سے گزر گیا اب فجر کی ازان ہو رہی تھی اور علی نماز پھر کر خسارے سے باہر ہی آیا تھا کے اس کے سامنے اک کالا ناگ آیا جو بہت بری خالت میں تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اک ناگ سے انسان کی شکل میں آیا وہ دیوراج ہی تھا اس کے جسم پر جا بے جا زخم کے نشان تھے جیسے اسکو کو بہت مارا گیا ہو اور پھر بابا جی نمودار ہوے اور دیکھتے ہی دیکھتے دیوراج کو ان دیکھی آگ جلانے لگی اب وہاں اک راکھ کا ڈیڑ تھا۔۔۔
برائی ختم ہو چکی تھی برے کو اک نہ اک دن مرنا ہی ہوتا ہے اب نگر دیوراج جیسے ناگ کے شرخ سے محفوط ہو چکا تھا۔۔
؛؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛؛
آج مومنہ اور علی کا بیٹا ہوا تھا جس کا نام مومنہ نے منان رکھا تھا مومنہ اور علی کی تو خوشی کا تھکانہ ہی نہیں تھا علی اور مومنہ کو مبارک بات دینا رجب اور رانیہ بھی آیے ہوے تھے اور سب ہسی خوشی باتوں میں مصروف تھے۔۔۔۔
؛؛؛؛♥️♥️♥️♥️؛؛؛
ادھر جب سے مایا کو دیوراج کی موت کا پتا چلا تھا وہ پاگل ہی ہو چکی تھی اس کی ڈلیوری میں بھی اک دو دن رہتے تھے اور اس کو رانیہ ہی ہسپتال لے کر گئ آخر کار مایا اس کی بچپن کی دوست تھی اور اب تو وہ بیوہ بھی ہو چکی تھی اور ویسے بھی دیوراج کے سب غلط کاموں میں اس کا کیا قصور تھا۔۔۔ اللہ اللہ کر کے مایا کی بھی ڈلیوری کو وقت آیے مایا کے ٹونز دو بچے ہوے تھے اک لڑکی اور اک لڑکا پر مایا ان دونوں کو دنیا میں لاتے لاتے خود زندگی کی جنگ ہار گی تھی اور رانیہ اور رجب دل سے غمگین تھے رجب اور رانیہ نے مایا کے بچوں کو لیےلیا مایا کی بیٹی مایا مایا کی دوسری کاپی تھی اور وہ ناگن بھی نہیں تھی وہ جن زادی تھی اور میں سب جنوں والی باتیں تھی کیوں کے وہ اس جن زاد بچے کی قربانی سے پیدا ہوئی تھی جب کے مایا کا بیٹا اک ناگ تھا بلکل اپنے باپ کی کاپی اور کون جانے دیوراج کا خون اک دن ضرور اپنے باپ کا انتکام لینے والا تھا رانیہ نے مایا اور دیوراج کے بچوں کے نام خود رکھے مایا کی بیٹی کا نام خورین رکھا وہ تھی بھی خور جسی اور بیٹےکا نام سالار رکھا رانیہ اور رجب نے دونوں بچوں کو اسلام کی تعلیمات دی اور وہ دونوں اب مسلمان تھے کیوں کے دونوں نے اک مسلمان گھرانے میں انکھ کھولی۔۔۔۔
؛؛؛♥️♥️♥️♥️♥️؛؛؛؛
💢دس سال بعد💢
اب مومنہ اور علی کی ایک اور بیٹی تھی در عدن جو سات سال کی تھی اور علی اپنے بیٹے منان جو کے دس سال کا تھا لندن بھجوا رہا تھا اپنی خالہ کے پاس پڑھنے کے لیے ۔۔۔رجب اور رانیہ کے بھی دو بچے تھے ایک بیٹی رھبہ جو آٹھ سال کی تھی اور اس کا نام علی نے رکھا تھا اور اک بیٹا تہامی جو نو سال کا تھا اور وہ بھی علی کے بیٹے منان کے ساتھ لندن جارہا تھا کیوں کے تہامی اور منان میں گہری دوستی تھی جب کے خورین مایا اور دیوراج کی بیٹی رھبہ رجب کی بیٹی اور در عدن علی کی بیٹی ان تینوں میں بہت پیار تھا جب کے سالار مایا اور دیوراج کا بیٹا بہت چپ سنجیدہ لڑکا تھا یہ بھی منان کا ہم عمر تھا علی نے سالار کو بھی لندن جانا کا کہا پر اس نے کہا میں ماما رانیہ کے بغیر نہیں رہ سکتا سالار بھی رانیہ سے بخد پیار کرتے تھا۔۔۔
جی تو آج میرا پہلے ناول (ناگوں کا جوڑا) مکمل ہو گیا ہے میں ان لوگوں کی بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے سراہا میری تحریر کو پسند کیا بہت بہت شکریہ سب کا اس ایپیسوڈ کے بارے میں بھی ضرور بتایے گا کے کیسا لگا میرا ناول اس کا سیزن ٹو بھی لکھتے کا شوق رکھتی ہوں

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: