Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 1

0
ناگوں کا جوڑا سیزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 1

–**–**–

۔ نوٹ:- اس کہانی کا حقيقت سے کوٸی تعلق نہیں ہے۔۔ ضروری نہیں اس میں جو لکھا ہے وہ سب سچ پہ مبنی ہو، اس میں کچھ ایسے لفظ بھی شاید استعمال ہوں جن کا حقيقت سے دور دوران تک واسطہ ہی نہیں، اس لیے کہانی کو جسٹ انجوامنٹ کے لیے ریڈ کریں بلاوجہ کہانی کو ذہن پر سوار نہیں کریں۔۔
“””””””””””””””“”””””””””””””

“””””””””””””””“”””””””””””””
یہ ایک کالی سیاہ رات تھی، چاند کی چاندنی کا دور دور تک کچھ پتہ نہیں تھا ایسا لگتا تھا جیسے آج چاند کی چاندنی اس سے ناراض ہوکر گھر بھیٹ گئ ہے اور چاند بغیر چاندنی کے سیاہ پڑا ہے۔۔۔
دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازے ماخول کو پراثرار بنارہی تھیں۔۔۔ اندھیرا اس قدر تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دے رہا تھا ایسے میں دور کہیں سے ایک چیخ اٹھی اور فضاء میں غائب ہوگئ، اسی اندھری رات میں دور سے ایک روشنی نکلی رہی تھی یقینن وہ دیوں سے ایک دائرہ بنا تھا، اور یہ روشنی ان دیوں سے اٹھ رہی تھی یہ روشنی مندر کے اردگرد روشن کر رہی یہ مندر جنگل کے بیچ و بیچ بنا تھا ۔۔ مندر اس قدر پرانا تھا کہ اس کی خستہ خالی چیخ چیخ کر اس کے پرانے ہونے کا علان کررہی تھی۔۔ ماتا کی مورتی کے سامنے ادھ نگا وجود دیوں کے درمیان بھیٹا ہوا تھا۔۔
جیسے ہی گھڑی کی سوئی گیارہ کو کراس کرتی بارہ پر پہنچی تو دیوں میں بھیٹے آدمی نے آنکھیں کھول کر ماتا کو دیکھا پھر دونوں ہاتھ جوڑ کر پیشانی تک لے جاکر ماتا کو پرنام کیا۔۔۔
اے ماتا رانی مجھے آگیا دے کہ میں اس ناری سے بیاہ رچاوں اور پھر وہ شخص مندر کی گھنٹی بجاتا اس لڑکی کی جانب بڑھنے لگا جو لال رنگ کی ساڑی پہنے دولہن بنی ہوئی تھی اور رو رو کر اب نیم بہوشی کی سی خالت میں رسیوں سے بھندی گرنے کے سے انداز میں کھڑی تھی۔۔
وہ آدمی ایک ہاتھ میں سندور اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں مگلسوتر لیے اس کی طرف قدر بڑھتا چلا جارہا تھا۔۔۔
وہ اسکی مانگ میں سندور بھرنے ہی لگا تھا کہ اس سیاہ رات میں سبز روشنی پھیل گئ اور ادھر سبز پروں والی پری نمودار ہوئی اور اپنی جادوئی چھڑی سے آگ کا گولہ اس شخص کی طرف چھوڑا جس سے اس کے ہاتھ میں اٹھایا سندور اور مگلسوتر دور جا گرا۔۔۔۔۔
«««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
یہ ایک دلکش منظروں میں سے ایک تھا۔۔ چاروں اطراف درخت اور ان کے پیچھے سرسبز پہاڑ جس میں سے ابشار کی طرح بہتی نہر جو اس جگہ کو ایک وادی کی شکل اختيار کرنے پر مجبور کرتی تھی۔ یہ نہر پہاڑوں کے بیچ سے نکلتی ہوٸی آگے ایک شہر سے جا ملتی تھی۔۔ اس جگہ کا منظر کوٸی شاعر ہی اپنی شاعری سے بیان کرنے کا ہنر رکھتا ہے۔۔
آج سے پندرہ سال پہلے اس جگہ صرف دو ہی بنگے تھے۔ علی ہاوس اور رجب ہاوس،لیکن گزشتہ چند سالوں میں اس جگہ نے ایک شہر کو آباد کیا تھا۔۔ اور آج اس جگہ سو کے قریب گھر آباد تھے، اس جگہ کے کسی پرانے تعلق کی بنإ پہ اس جگہ کا نام #قوبرہ_ٹاون رکھا گیا تھا۔..
«««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
برگز کے درخت سے چند قدم کے فاصلہ پر بنے گھر کو آج ہر طرح کی روشنیوں سے سجایا گیا تھا، کیوں کہ آج اس گھر میں دوہرا جشن تھا۔۔
ایک تو آج مسٹر اینڈ مسسز علی کی شادی کی 35 سالگرہ تھی اور دوسرا آج ان کا اکلوتا بیٹا بیس سال بعد لندن سے واپس آرہا تھا۔۔
اب گھر کے سامنے ایک بڑی سی گاڑی آکر رکی اس میں سے دو نوجوان باہر آٸے اور اپنا سامان
گاڑی سے نکالنے لگے۔۔

ماما ماما۔۔۔ ارے کیا کیا ہوگیا ہے عدن؟
مسسز علی نے بیٹی کو شور مچاتے دیکھ کر پوچھا۔۔
ماما باہر تو دیکھے کون آیا ہے اس نے حال سے باہر آتے دو لڑکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بتایا۔۔
ارے میرا مانی آیا ہے۔۔
مسسز علی نے تیز قدموں سے فاصلہ ختم کیا اور ان میں سے ایک کو سینے سے لگا لیا۔۔
مسسز علی کا مانی پکارنے سے، برگز کے درخت پر بیٹھی نیلی طوطی نے گردن گھوما کر علی ہاوس کے اندر کا منظر دیکھا اور پھر فورا محتاط انداز میں اڑ گٸ۔۔۔
«««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
یہ ایک بڑا کمرہ تھا جسے ایک بڑا میدان کہنا غلط نہ ہوگا۔ اس میدان نما کمرے میں صرف مندر بنا ہوا تھا۔۔
باقی سارا کمرا اندھرے میں ڑوبہ ہوا تھا سوائے ماتا کے بت کے۔۔
سیڑیوں کہ سامنے ماتا رانی کا مجسمہ استوا تھا، جہاں ماتا رانی شیر کی سواری کرتی نظر آرہی تھی۔۔
مجسمے کے قدموں میں دو پراتے درہی گئ تھی، ایک خون سے لبالب بھری ہوئی تھی جب کہ دوسری میں دودھ پڑا ہوا تھا۔۔۔
ان سے دو قدم دوری پر بیٹھا نوجوان مسلسل اشکول پڑھنے میں مصروف تھا۔۔
آدھ نگے وجود آنکھیں بند کیے وہ مسلسل جاپ کیے جارہا تھا۔۔۔۔
ماتا رانی کی باہر کو نکلی سرخ زبان مجسمہ کے اردگرد جلتے دیے اس ماخول کو اور بھی ھیبت ناک بنا رہے تھے۔۔
ایسے میں سرخ زبان اور سرخ آنکھوں والی ماتا کی آنکھوں سے ایک روشنی نکلی اور اشکول پڑھتا نوجوان چاپ روک کر اور آنکھیں کھول کر سامنے دیکھنے لگا۔۔
صاف ظاہر تھا اسے کسی بات کا اشارہ ماتا رانی نے دیا ہے، جسے سمجھ کر نوجوان اٹھا اور دودھ سے بھری پرات اٹھا کر ماتا رانی کے بت پر بہانا شروع کردیا، دودھ مجسمہ سے بہتا ہوا نیچھے ایک گھڑے میں جمع ہورہا تھا، اور گھڑے کے ساتھ لگا نل نما راستہ یہ پتہ دے رہا تھا کہ اس دودھ کو عارضی طور پر روکا گیا ہے۔۔۔۔
جب دودھ سے بھری پرات ختم ہوئی تو نوجوان نے خون والی پرات اٹھا کر کر دوبارہ وہ ہی عمل کرنا شروع کر دیا۔۔ جب خون اور دودھ دونوں سے ماتا کو نہلا کر نوجوان فارغ ہوا تو وہ اس گھڑے کے نیچھے بھیٹ گیا اور رکا ہوے خون اور دودھ کو کھول دیا جو کہ نوجوان کے سر سے بہتا ہوا اسکا پورا وجود پر بہہ گیا۔۔۔۔۔۔
«««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
نیلی طوطی اڑتی ہوئی برف کی وادی میں پہنچ چکی تھی۔۔ وہ اڑتی ہوئی آگے جاتی کے کسی نادیدا چیز سے ٹکڑا کر زمین پر گر گئ۔۔
نیلے رنگ کی طوطی زمین پر گرتے ہی ایک نیلے لباس والی پری میں تبدل ہوچکی تھی۔۔۔
نیلی پری اپنے سر پر کچھ بھول جانے کے انداز میں ہاتھ مارتی ہوئی منہ ہی منہ میں. کچھ پڑھنے لگی اور پھر دوبارہ سے اسی طرف چلی پڑی اس بار وہ بن کسی چیز سے ٹکڑئے آگے بڑھ گئ۔۔۔
کچھ آگے جاکر نیلی پری نے پھر سے کچھ پڑھا اور ایک طرف پھنک ماری تو وہاں ایک سنہری دروازہ نمودار ہوا۔ پری اس دروازے میں داخل ہوٸی تو دوبارہ وہ غائب ہو گیا۔۔۔
سامنے گول چکر میں بنی سیڑیوں پر وہ چلنے لگی جب سیڑیاں ختم ہوئی تو ایک اور بڑا دروازے سامنے تھا جس پر چوکیدار کھڑے پہرا دے رہے تھے، اسے دیکھ کر چوکیداروں نے اسے آداب پیش کیا اور دوبارہ اپنی پوزیشن میں کھڑے ہوگے، پری ایک خوبصورت سے حال نما کمرے کے سامنے آکر رک گئ، اور دروازے پر کھڑی کنیز جو کہ پری ہی تھی اس سے کہا ملکہ عالیہ سے کہوں میں ان سے ملنا چاہتی ہوں، کنیز گردن ہلائی اندر داخل ہوگئ۔۔
جہاں پر جھولے میں بھیٹی سبز پروں والی پری، سر پر تاج پہنے اپنا ملکہ ہونے کا پتہ دے رہی تھی، ہاتھ میں پیانو پکڑی کسی اور ہی دنیا میں مصروف تھی اور دوسری پریاں جو کہ اس کی کنیزے تھیں اسے پھنکھا ہلا ہلا کر ہوا دے رہی تھیں۔۔
ملکہ عالیہ!!! نوری پری آپ سے ملاقات کا شرف چاہتی ہیں، نوری ملکہ کی خاص کنیز تھی، ملکہ نے آنکھیں کھول کر کنیز کی جانب دیکھا، کنیز ملکہ کا اشارہ سمجھ کر نوری کو اندر لے آئی۔۔۔
آداب پیش ہے نوری کا پیاری ملکہ عالیہ کو، ملکہ نے گردن ہلا کر جواب دیا۔۔۔
کہو کیسے آنا ہوا ناری؟؟ ملکہ نے سوال کیا!!!
ملکہ عالیہ شہزادہ صاحب تشریف لاچکے ہیں، یہ ہی بتانے کنیز خاصر ہوئی تھی۔۔۔
یہ بات سنتے ہی ملکہ کے خوبصورت چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئ۔۔۔
ملکہ جھولے سے اٹھتے ہوئے۔۔ بہت اچھی خبر سنائی ہے تو نے نوری۔۔ جا جاکر جشن کا انتظام کر ملکہ نے پری کو حکم صاد کیا۔۔۔
نوری پری نے جھجکھتے ہوا کہا جان کی امان پاوں تو ایک اور بات بھی ہے، ملکہ عالیہ!!!!!
ہاں ہاں بول نوری بلا جھجک کہہ۔۔۔
ملکہ عالیہ شہزادہ صاحب کے ہاں آج جشن ہے آپکو ادھر جانا چاہے ہے۔۔۔
بہت خوب بہت خوب نوری تو ایسا کر شہزادی خورین کے جانے کا انتظام کر، ملکہ نے ایک ادا سے اپنے چہرے پہ آٸے سنہری بالوں کو پیچھے کیا۔۔
نوری فورا چلی گئ۔۔۔
«««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
در عدن میرا مانی آیا ہے۔۔۔ ماں صدقے میری جان آج بیس سال بعد اپنی ماما کے سامنے کھڑا ہے۔۔۔
مسسز علی نے بیٹے کی پیشانی کو چومتے ہوے اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بیٹی کو بتایا۔۔
ماما!! یار سائڈ پر ہوں نا مجھے بھی ملنے دیں. بھائی جان سے آپ میرا نمبر آنے ہی نہیں دے رہی، در عدن نے ماں کو بڑے بھائی سے الگ کرتے ہوئے کہا۔ لو بھئ تم مل لو!!
مسسز علی نے بیٹی کو چپت لگاتے ہوے کہا تو عدن بھائی کے سینے لگے گئ۔۔۔
آہم آہم۔۔۔۔ لیڈیز!!!!
مجھ غریب سے بھی مل لو تہامی نے اپنے ہونے کا احساس دلایا، جسے دونوں ماں بیٹی واقع میں ہی غیر موجود سمجھ رہی تھیں۔۔۔
تہامی کے بتانے پر مسسز علی تہامی سے معزرت کرتی اس سے ملی، تو عدن کو بھی ہوش آیا۔۔۔
بھائی جان یہ کون ہیں عدن نے نہ آشنا انداز میں پوچها ؟؟
کیوں کہ اس کی لندن بات صرف اپنے بھائی سے ہی ہوتی تھی اس لیے وہ تہامی کو پہچان نہ سکی۔ لیکن تہامی تو صرف عدن کی آنکھوں میں جھنک رہا تھا جیسے اسے اس کا نہ پہچانا دکھ دے گیا ہو۔۔۔
ارے پاگلی یہ اپنا تہامی ہے نا جسے تم بچپن میں تومی کہہ کر جھگڑا کیا کرتی تھی۔۔۔
مسسز علی نے تعارف کروایا تو عدن تہامی کو پہچانے لگی۔۔۔
اوو تو یہ تومی ہیں عدن نے تھوڑی کے نیچھے ہاتھ رکھ کر بت بنے تہامی سے کہا تو وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا۔۔
وہ عدن کو دیکھنے میں اتنا مصروف تھا کہ اسے اور باتیں سنائی ہی نہ دے رہی تھی لیکن جب عدن نے تومی کہا تو تہامی کو خیال آیا کہ وہ. سب کے بیچ کھڑا ہے۔۔
اتنا گھور کیوں رہے ہیں؟؟ عدن نے سوال پہ سوال کیا۔
دیکھ رہا ہوں تم پہلے سے زیادہ بڑی چڑیل بن گئ ہو تہامی نے باظاہر سیریس ہوکر کہا تو عدن منہ بناتی پیر پٹھتی اندر چلی گئ۔۔ وہ شروع سے ہی تہامی کی بات کا جلدی غصہ کر جاتی تھی۔۔۔
تومی کے بچے میری بہنا کو ناراض کردیا منان نے کہا۔۔ یار سوری کرلو گا میڈم سے۔۔۔
اچھا چلو بیٹا اندر دونوں لمبے سفر سے آیے ہو آرام کرلو مسسز علی نے کہا۔۔
نہیں آنٹی میں اب گھر چلتا ہوں سب سے پہلے آپکی طرف آیا ہوں تہامی نے کہا۔۔ چلو ٹھیک ہے شام میں. چکر لگانا۔۔
جی آنٹی اور وہ اپنے گھر کی طرف نکل گیا۔۔۔
««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“دروازہ بجنے کی آواز سے رانیہ کی آنکھ کھلی، جو کہ بستر پر لیتی آرام کررہی تھی۔۔
رھبہ۔۔۔ رھبہ چندہ اٹھ جاو دیکھو تو دروازے پہ دستک ہورہی ہے۔۔
ماما یار رجو دیکھ لے گئ نا مجھے سونے دیں۔۔۔
وہ کب کی جاچکی ہے اور مین ڈور نہیں گھر کے اندر کا بج رہا ہے رھبہ اور ٹائم تو دیکھو مومنہ کے ہاں نہیں جانا کیا۔۔
رھبہ بال ٹھیک کرتی باہر کی جانب نکل گئ۔۔۔
ارے ارے ارے بھائی جناب آئے ہیں رھبہ خوشی سے بھائی کے گلے لگ گئ۔۔۔
میرا شہزادہ بیٹا بتا کر تو آتے نا میں کچھ تیاری کر لیتی تمہارے لیے رانیہ بیٹے سے ملتی کہنے لگی۔۔
ماما بس آپ کے لیے سرپرائز تھا اسی لیے آنٹی کو بتانے سے بھی منع کیا تھا ورنہ منان کے اور میرے آنے کا پتہ تھا انکل آنٹی کو، تہامی نے ماں کی پیشانی چومتے ہوئے بتایا۔۔۔
ماما! بابا کہاں ہیں حوری آپی اور سالے بھائی؟
تہامی نے اردگرد نظر دوڑاھتے پوچھا۔۔۔
تمہارے بابا آفس اور حوری تو ہوسٹل ہوتی ہے اور سالے جاب کرتا ہے آوٹ آف سیٹی اس لیے مہینے بھر بعد گھر چکر لگاتا ہے، رانیہ ساری بات بتاتی ہوئی تہامی کو دوبارہ سینے سے لگاتی ہے جیسے بیٹے کا سارا کا سارا براگ آج ہی اتارنا ہو۔۔
اچھا میری جان تم فریش ہوجاو میں چاہے کا انتظام کرواتی ہوں، رانیہ بھی بیٹے کی پیشانی چومتے اٹھ گئ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: