Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 10

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 10

–**–**–

“پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ اور اس کا گرو لگاتار کالے جادو کی پتلوں کو جلانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔
“جو کہ انھوں نے خاص حورین اور منان کے لیے بنائے تھے،،لیکن وہ تو جل کے ہی نہیں دے رہے تھے ان کے ان کے نزدیک آگ کو لے جایا جاتا تو بجھ جاتی اور اس کا گرو بری طرح سے تھک چکے تھا، پتلے جلاتے جلاتے لیکن وہ جلنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور آخرکار گرو نے آخری کوشش کی اور پتلے کو آگ میں ڈالا لیکن اسے آگ لگنے کے بجائے گرو کے دامن میں آگ لگ گئی”
” سالار نے جلدی سے گرو کے دامن سے آگ کو بجھایا اور کہا کیا ہوگیا گرو جی آپ کو؟؟
” سالار نے پریشانی سے کہا،، لیکن گرو نے غصہ سے پتلوں کو دور پھینکتے ہوئے کہا یہ عمل کبھی بھی نہیں ہوسکتا”
” پر کیوں گرو جی؟؟سالار نے پرشانی سے پوچھا”
” وہ اس لئے کہ تو جس پر عمل کر رہا تھا، اس منان کی صرف بیوی ہی پری زاد نہیں بلکہ وہ خود بھی ایک پری زادہ ہے، ایک جن اور ایک پری کا بیٹا۔۔۔
“کیا منان بھی پری زادہ ہے، سالار نے بےیقینی سے گرو کو دیکھا”
” ہاں کمار اب تو ان دونوں کا تب تک کچھ بگاڑ نہیں سکتا،،،،جب تک تو دس دن کا کھٹن مارک نہ کرلے۔۔
“اب کی بار گرو غصے سے اپنا دامن جھاڑتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««««««
“تہامی نے جب عدن کو گھر کے سامنے ڈراپ کیا،، تو وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی”
“مرر کے سامنے کھڑی ہو کر وہ اپنا عکس دیکھنے لگی،، اسے یہ سوچ کر بہت شرم محسوس ہو رہی تھی، کہ اس کی شرٹ ایسے تہامی کے سامنے اس کے جسم سے غائب ہو گئی تھی۔۔۔
“ہیں میں یہ کیا سوچے جارہی ہوں،، وہ کونسا میرے لیے نا محرم ہیں، ہمارا نکاح ہو چکا ہے، ہم میاں بیوی ہیں۔۔ یہ سوچتے ہوئے عدن اپنی وارڈروب کی طرف بڑھ گئ ”
“عدن نے سفید رنگ کا خوبصورت ڈریس نکال کر بیڈ پر رکھا تاکہ وہ فریش ہو کے وہ پہن سکے، لیکن عدن جب اپنا ڈریس اٹھا کے واش روم میں جانے لگی تو اس نے دیکھا ڈریس کے اوپر تو خون کے بہت زیادہ چھینٹے اور ڈریس پہ جگہ جگہ سے کٹ لگائے ہوئے ہیں”
” جیسے بلیڈ سے کوئی کٹ لگاتا رہا ہو،،عدن اپنے خوبصورت ڈریس کا یہ حشر دیکھ کر پریشان ہو گئی اور وارڈروب سے دوسرا ڈریس نکالنے لگی لیکن یہ کیا اس کے اس ڈریس پر بھی ویسے ہی کٹ اور خون کے چھٹنے لگے ہوئے تھے”
” عدن نے وہ دونوں سوٹ بیڈ پے اچھالتے ہوئے اپنی الماری کے تمام کپڑے دیکھے تو صدمے میں آ گئی،، کیوں کہ اس کے سارے ڈریسز پہ اسی طرح کے کٹ اور خون کے چھینٹے تھے”
“اس کے سارے ڈریسز اب پہننے کے لائق نہیں بچے تھے”
” وہ آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھ گئی،، اور اپنے ڈریسیز پر ہاتھ پھرنے لگی، ابھی کچھ ٹائم پہلے ہی تو اس نے یہ سارے ڈریس بہت پیار سے بنوائے تھے لیکن وہ سارے کے سارے خراب ہو چکے تھے”
” وہ کچھ سوچتے ہوئے رھبہ کے روم میں چلی گئی اور اسے ساری صورتحال بتانے کے بعد اس سے ایک ڈریس لے کے آئی ،،اور واش روم میں چلی گئ”
“، عدن شاور لے رہی تھی تب واش روم کے روشن دان میں سے ایک مکڑی اندر داخل ہوئی،، بہت عجیب سی مکڑی تھی،جس کی پیلے رنگ کی بڑی بڑی آنکھیں باہر کو نکلی ہوئی تھی اور اس کے پر سیاہ کالے رنگ کے تھے ، جب کہ اس کا باقی جسم سرخ رنگ کا تھا،وہ دیکھنے میں بھی ایک پُراسرار مکڑی دکھائی دیتی تھی”
” مکڑی اڑتے ہوئے آئی اور شاور والے پائپ پر اس طرح بیٹھ گئی کہ عدن اسے دیکھ نہ سکے کچھ دیر مکڑی عدن کو نہاتے ہوئے دیکھتی رہی، اور پھر مکڑی نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں جو پہلے ہی باہر کو نکلی تھی اور باہر نکال کر اپنا منہ کھولا اور اس میں سے بال کی طرح باریک کوئی چیز نکلی جو اڑتے ہوئے عدن کے دماغ والے حصے میں جذب ہوگی”
“وہ چیز عدن کے دماغ میں جزب ہوتے ہی عدن کے ہاتھ بے اختیار اپنے گلے کی طرف بڑھنے لگے اور گلے میں پڑے تعویز کو اتار کر واش بیسن کے سامنے رکھ دیا ،، اور دوبارہ سے نہانے میں مشغول ہو گئی گی”
” دیکھتے ہی دیکھتے تعویذ غائب ہو چکا تھا”
” اب وہ مکڑی اڑتی ہوئی روشن دان سے باہر نکل چکی، کیوں کے وہ اپنا کام کر چکی تھی”
“وہ رھبہ کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر باہر آ گئی لیکن ابھی عدن صرف بال ہی خشک کر رہی تھی”
“کہ اسے اپنی کھڑکی سے اندر ایک دھواں سا آتا دکھائی دیا،،وہ اس دھوئے کو تہجب سے دیکھنے لگی”
” اب وہ اس کے کمرے میں آ کر ایک جگہ ٹہر گیا تھا”
” اب اس دھویں میں سے ایک چھوٹے قد کا جن نکلا سر پہ چھوٹے چھوٹے دو سینگھوں والا جن نمودار ہوا، جس کی شکل بہت ہی خوفناک تھی ایک آنکھ جو گڑھا بنی تھی اور دوسری آنکھ سے ٹپکتا ہوا خون، دو نوکیلے دانت باہر کو نکلے ہوئے اور ایک منہ کی سائیڈ پوری جلی ہوئی تھی”
“عدن اسے دیکھتے ہی بے ہوش ہو کے بیڈ پر جا گری اور جن اسے اپنی بانہوں میں اٹھاتا ہوا کھڑکی سے باہر غائب ہو گیا۔۔۔

” وہ شام کے وقت کافی پیتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی اور ساتھ میں منان کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ وہ کب آئیں گے ابھی اسے گئے ہوئے ایک ہی دن ہوا تھا لیکن اس سے ایک دن بھی بہت مشکل سے گزرا تھا”
“رھبہ کو اپنے اندر گھٹن سی محسوس ہونے لگی تو اس نے کھڑکی کا بڑا شیشہ کھول دیا ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ کھڑکی کے سامنے کالے سیاہ بادل چھا گئے”
” رھبہ اچانک بادلوں کی وجہ سے گھبرا گئ اور گھبرا کے پیچھے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی ابھی وہ کھڑکی کو بند کرنے کا ارادہ ہی کر رہی تھی کہ اس وقت کھڑکی کے اندر ایک چیل داخل ہوئی اور آکر سامنے بیٹھ گی، رھبہ اسے دیکھ کر اور بھی زیادہ خوف زدہ ہوگی کیوں کہ وہ چیل تھی ہی اتنی بھیانک شکل کی تھی، کے کوئی بھی بہادر انسان دیکھتا تو ڈر جاتا اور رھبہ تو تھی ہی ڈرپوک۔ چیل اڑ کے رھبہ کی جانب آئی رھبہ نے چلانا چاہا لیکن اس کے منہ سے آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔۔
” چیل نے اڑ کر رھبہ کے نازک فیس پر پنجا مارا تو وہ ڈرم سے بیڈ پر جاگری دیکھتے ہی دیکھتے اب بیڈ پر رھبہ کی جگہ چھوٹی سی چڑیا پڑی ہوئی تھی۔۔ چیل نے چڑہا کو اپنے پنجے میں دبایا اور کھڑی سے باہر اڑ گئ۔۔
««««««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»

“اٹھ جائے نا صبح ہو گئی ہے ”
“ایک نرم و نازک ہاتھ اس کے کندھے پہ آیا اور اسے اٹھانے لگا”
” ارے یار سونے دو نا ابھی تو سویا تھا وہ نیند سے بھری ہوئی آواز میں اس کی جانب دیکھے بغیر بولا”
” شہزادہ صاحب بہت زیادہ ٹائم ہو چکا ہے اور ہمیں ابھی دوسرے شہر کی ملکہ کے محل میں بھی تو جانا ہے، دعوت ہے ہماری۔۔ حورین کے یاد دلانے پر منان اس کی جانب دیکھ کر اچھا اٹھتا ہوں کہا”
“حورین نے اس کی آنکھیں دیکھی تو اس کی آنکھوں کے ڈورے سرخ ہو رہے تھے رات دیر تک وہ دونوں جاگ کے باتیں کرتے رہے ایسے ہی ساری رات گزر گئی اور پھر صبح مؤذن کی اذان پر ان دونوں نے فجر کی نماز ادا کی اور پھر سونے کے لئے لیٹ گئے”
“اور ابھی بامشکل چند گھنٹے ہی ہوئے تھے اور وہ اسے جگا رہی تھی ”
” منان اٹھا اور واش روم میں چلا گیا کپڑے پہننے کی ٹائم پے لائٹ جا چکی تھی اور اس کے پاس چھڑی بھی نہیں تھی کہ وہ روشنی کرتا۔۔۔
“جب وہ کپڑے چینج کرکے باہر نکلا تب ہی تمام روشنیاں واپس آچکی تھیں”
“حورین اسے دیکھ کے زور زور سے ہنسنے لگی”
“اس طرح کیوں ہنسی جا رہی ہوں،؟؟ وہ ابھی بدستور ہنسی جا رہی”
“اب کی بار منان نے تھوڑے غصہ سے کہا، بتانا پسند کریں گئ۔۔ محترمہ کیوں ہنس رہی ہو؟؟
ا”پنا ڈریس تو دیکھیں ہاہاہا حورین دوبارہ سے ہنسنا شروع کر چکی تھی”
“منان کی نظر جب اپنے ڈریس پر گئ تو خود بھی ہنسنا لگا، ریڈ کلر کے شرارے اور شرٹ میں منان واقع میں ہنسنے کے قابل لگ رہا تھا”
“او میرے خدایا جب لائٹ چلی گئی تو آپ میرے کپڑے پہن کے آگے، آپکو محسوس نہیں ہوا کہ یہ میرے کپڑے ہیں، حورین نے اپنے سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا؟؟
“مجھے یار فیل ہی نہیں ہوا، منان نے کندھا اچکا کر کیا”
“اچھا جاکے چینج کرئے ورنہ میں آپ کو لڑکی سمجھنے میں دیر نہیں لگاؤں گی۔۔
“جارہا ہوں یار”
” دونوں ناشتے کی بڑی سی میز پر بیٹھے ہوئے تھے”
” ان کی کنیزے یعنی پریاں انہیں طرح طرح کے کھانے صرف کر رہی تھیں”
” وہ دونوں ناشتے میں مصروف تھے۔۔۔۔
“کے سامنے لگا بڑا سا مرر جس کے چاروں طرف سونے کا خوبصورت فریم لگا ہوا تھا، وہ میجکل مرر تھا،،اس میں اچانک اندھرے چھا گیا، پھر کچھ دیر بعد ایک منظر ابرا ایک چیل نے اپنے پنجھے میں ایک چڑیا کو دبوچ رکھا تھا اور وہ چیل اڑ رہی تھی”
“پھر دوبارہ سے مرر نے منظر تبدیل کیا”
” اب ایک بھیانک شکل والا جن ایک لڑکی کو اٹھائے جارہا تھا منان نے جب غور سے دیکھا تو وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ عدن تھی منان اپنی جگہ پر کھڑا ہوکر زور سے عدن کو پکارہ لیکن اب مرر اپنی اصلی شکل میں واپس آچکا تھا”
“ملکہ یہ سب کیا ہے عدن کو کون لے جارہا ہے اور وہ چڑہا اور چیل منان نے پیشانی پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے ناسمجھی سے کہا، وہ اسے ملکہ کہ کے پکار رہا تھا کیوں کے سب کنیزے سامنے تھی، اس لیے وہ اسے حورین نہیں کہہ سکتا تھا”
“شہزادہ صاحب ہمے فورا نکلالنا چاہے۔۔۔
” لیکن یار مجھے تو کچھ بتاو؟؟۔۔۔۔
“شہزادہ صاحب وہ چڑیا آپکی رھبہ تھی، اور جو چیل اسے دبوچے ہوئے تھی،ایک مکار چڑیل تھی، اور عدن کو تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں ۔ ہمے دیر نہیں کرنی چاہے دونوں کی جان خطرہ میں ہے۔۔
“ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو چلو منان نے کہا تو،،حورین نے ایک جانب پھونک ماری تو سفید گھوڑی نمودار ہوئی اور دونوں اس پر بیٹھ کہ اڑ گئے۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««««««
“تہامی دوسرے ملک تھا اپنے دوست کے ساتھ بزنس ٹریپ پہ، جب اسکا ناگ منی کسی انہونی کا پتہ دینے لگا”
” اس کا ناگ منی اس کے سینے میں حرکت کرنے لگا اور وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ ضرور کوئی خبر لایا ہے”
” وہ تھوڑا سائیڈ پر جا کر ناگ منی کو ہاتھ میں اٹھا کر بولا !!اے ناگ منی بتا کیا مسئلہ ہے؟؟
“تہامی نے جیسے ہی ناگ منی کو اپنے ہاتھ پر رکھا تو وہ چاروں جانب سے چمکنے لگا اور ناگ منی کے اندر سے آواز آئی”
” اہے ناگوں کے شہزادے آپ کی منکوحہ اور آپکی بہن اس وقت ایک خبیث جادوگر کے قبضے میں ہیں”
” ان دونوں کی عزت اور جان کو بہت زیادہ خطرہ ہے”
” آپ کو فورا وہاں پہنچنا چاہیے ”
“یہ کہتے ہی ناگ منی تو خاموش ہوگیا لیکن تہامی نے سامنے دیوار پر زور سے مکا مارا اور سوچنے لگا، اب میں وہاں جائے تو جائے کیسے وہ بھی اتنی جلدی”
“تہامی کو پریشان حال کھڑا دیکھ کر ناگ منی سے فورا آواز آئی”
” اے ناگوں کے شہزادے اگر آپ بولے تو میں آپ کے جاننے کا انتظام کیے دیتا ہوں تہامی نے فورا ہاں میں سر ہلایا تو ناگ منی زمین پر ایک قالین کی شکل اختیار کر چکا تھا”
” ناگ منی میں سے دوبارہ سے آواز آئی آپ اس پر سوار ہو جائیں یہ آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا دی گئ، تہامی ناگ منی کی آواز سنتے ہی قالین پر سوار ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے قالین ہوا سے باتیں کرنے لگی اور جنگل کی طرف بڑھ گئی”
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««««
“وہ جیل اڑتی ہوئی سالار کے آستانے پہ پہنچ گئی”
” جسے دیکھ کر سالار بہت خوش ہوا”
“سالار کے ہاتھ کے اشارے سے اس چیل نے رھبہ کو زمین پر ڈالا اور خود ایک بھیانک چڑیل کے روپ میں آگئی ”
“جو حکم میرے آقا اس نے سر جھکاتے ہوئے سالار کے سامنے کہا”
“دوشالی تو نے بہت اچھا کام کیا ہے اسے لے کر آگئی گی اسے وہ سامنے پڑے ہوئے مرتبان میں ڈال دے تاکہ یہ میرے کام آ سکے”
“سالار نے سامنے پڑے 15 انچ کے مرتبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،، تو دوشالی نے رھبہ کو اٹھا کر کر اس مرتبان میں ڈال دیا اب کیا حکم ہے میرے آقا دوشالی چڑیل نے سالار کے سامنے سر جھکاتے ہوئے دوبارہ پوچھا؟؟
“اب تو جا سالار نے ہاتھ کے اشارے سے کہا جب تیری ضرورت پڑی تو تجھے بلا لوں گا حکم میرے آقا یہ کہتے ہوئے دوشالی چڑیل ہواؤں میں غائب ہو گئ”

“یہ ایک کالی سیاہ رات تھی، چاند کی چاندنی کا دور دور تک کچھ پتہ نہیں تھا ایسا لگتا تھا جیسے آج چاند کی چاندنی اس سے ناراض ہوکر گھر بیٹھ گئ ہے اور چاند بغیر چاندنی کے سیاہ پڑا ہے”
“دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازے ماخول کو اور بھی پراثرار بنارہی تھیں۔۔
“اندھیرا اس قدر تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دے رہا تھا”
” ایسے میں دور کہیں سے ایک چیخ اٹھی اور فضاء میں غائب ہوگئ”
” اسی اندھری رات میں دور سے ایک روشنی نکلی رہی تھی یقینن وہ دیوں سے ایک دائرہ بنا ہوا تھا، اور یہ روشنی ان دیوں سے اٹھ رہی تھی یہ روشنی مندر کا اردگرد روشن اور ظاہر کر رہی تھی”
” یہ مندر جنگل کے بیچ و بیچ بنا ہوا تھا”
” مندر اس قدر پرانا تھا کہ اس کی خستہ خالی چیخ چیخ کر اس کے پرانے ہونے کا علان کررہی تھی۔۔
“ماتا کی مورتی کے سامنے ادھ نگا وجود دیوں کے درمیان بھیٹا ہوا تھا۔۔
“جیسے ہی گھڑی کی سوئی گیارہ کو کراس کرتی بارہ پر پہنچی تو دیوں میں بھیٹے آدمی نے آنکھیں کھول کر ماتا کو دیکھا پھر دونوں ہاتھ جوڑ کر پیشانی تک لے جاکر ماتا کو پرنام کیا۔۔۔
“اے ماتا رانی مجھے آگیا دے کہ میں اس ناری سے بیاہ رچاوں اور پھر وہ شخص مندر کی گھنٹی بجاتا اس لڑکی کی جانب بڑھنے لگا”
“جو لال رنگ کی ساڑی پہنے دولہن بنی ہوئی تھی اور رو رو کر اب نیم بہوشی کی سی خالت میں رسیوں سے بھندی گرنے کے سے انداز میں کھڑی تھی۔۔
“وہ آدمی ایک ہاتھ میں سندور اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں منگلسوتر لیے اس کی طرف قدم بڑھتا چلا جارہا تھا۔۔۔
“وہ اسکی مانگ میں سندور بھرنے ہی لگا تھا کہ اس سیاہ رات میں سبز روشنی پھیل گئ اور ادھر سبز پروں والی پری نمودار ہوئی اور اپنی جادوئی چھڑی سے آگ کا گولہ اس شخص کی طرف چھوڑ جس سے اس کے ہاتھ میں اٹھایا سندور اور منگلسوتر دور جا گرے”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: