Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 11

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 11

–**–**–

“””””””””””””””“””””””””
“رھبہ کو چھوٹی سی بوتل میں ڈالے ہوا تھا ،وہ سانس بھی مشکل سے لے پا رہی تھی، اس کی کنڈیشن بھی ایسی نہیں تھی کہ وہ زیادہ محنت سے سانس لیتی اس وجہ سے اس کی کنڈیشن کافی زیادہ خراب ہوچکی”
” رھبہ کو اس خبیث نے چھوٹی سی گڑیا کی طرح بنا کے اس وقت مرتبان میں ڈالا ہوا تھا، جسے وہ اپنے نازک ہاتھوں سے بجا بجا کے نکالو نکالو پکا رہی تھی، لیکن اس کی آواز اس مرتبان سے باہر ہی نہیں آ رہی تھی”
««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“آگ کا جادوئی گولا لگتے ہی وہ اوندھے منہ زمین پر جا گرا۔۔۔ منگل سوتر اور سندور بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کے دور جا گرے تھے ”
“وہ زمین سے اٹھا اور دیکھنے لگا کہ اس کی اتنی ہمت ہے جس نے مجھ پر وار کیا ہے”
“اس نے جب اس کی جانب دیکھا تو وہ پری کوئی اور نہیں بلکہ حورین ہی تھی۔۔
“سالار نے حورین کو جب دیکھا تو وہ پریشان ہو گیا، کیوں کے اس کے گرو نے اسے پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ اگر وہ مارک کرتا ہے تو اس کا مقابلہ کر پائے گا ورنہ وہ اس کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے گا اور سالار کو ابھی مارک کرتے ہوئے ایک دن ہی ہوا تھا اس مارک میں عدن سے شادی شامل تھی، جو وہ کرنے جارہا تھا لیکن وہ یہ کیوں بھول گیا تھا کہ عدن اور رھبہ کو جب اٹھا کے لائے گا،، عدن اور حورین کے شوہر کیا چپ بیٹھیں گے،،،، وہ کمبخت یہ بھول بیٹھا تھا۔۔۔۔
” وہ حورین کو دیکھتے ہوئے اس کے شاطر دماغ میں فورا سے ایک بلین آگیا”
“حوری۔۔ میری بہن تم تو میری بہن ہونا،، پھر تم ان لوگوں کے ساتھ کیوں ہو،،، کیونکہ تمہیں تو میرے ساتھ ہونا چاہیے نا وہ حورین کے سر پے ہاتھ رکھتے ہوئے بولا”
” ابھی وہ کچھ اور کہتا کہ منان کا زور دار مکاہ اس کے جبڑے پر جا لگا، بغیر اس کی بات سنیے ایک کے بعد ایک مکاے اس کے منہ میں برسانے لگا”
” منان نے جب اسے چھوڑا تو اس کے ناک سے خون بہہ رہا تھا وہ حورین کئ طرف مدد طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا ،، تب حورین نے غصہ سے اسکا گربان پکڑتے ہوئے کہا،،، کون سی بہن ابے اوئے میں تیری بہن نہیں ہوں تیرے باپ نے میرے بھائی کا قتل کیا تھا اور اس سے تو پیدا ہوا اور جو میرے بھائی کا خون تھا اس سے میں پیدا ہوئی بہن ہرگز نہیں ہوں میں تمہاری”
” تو میرے بھائی کا قاتل تیرا باپ بھی میرے بھائی کا قاتل ہے، اب تو میں تمہیں بخشنے والی نہیں ہوں اور تم نے میرے ماں باپ جیسے انکل آنٹی کو بھی مار دیا اس نے رجب اور رانیہ کو تصور می سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
“سالار اب لاجواب ہو چکا تھا اس کے پاس کسی بھی سوال کا جواب نہیں تھا اس کے پاس کوئی حربہ بھی نہیں تھا جن سے وہ منان اور حورین کو گمراہ کرتا ،،، اور تو اور حورین اس کی ساری طاقتیں ضبط کر چکی تھی”
” کبھی وہ اپنے چیلوں کو بلا رہا تھا تو کبھی اپنے گرو کو لیکن وہ حاضر نہیں ہو رہے تھے وہ چڑیلیں جو اس نے عمل کرکے کے حاصل کی تھی اور جن ان میں سے کوئی بھی حاضر نہیں ہو رہا تھا”
” سالار کو اب اپنی جان خلاصی کروانا مشکل ہو رہا تھا اس نے آخری بار اپنے گرو کو پکارا لیکن گرو کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا”
“منان نے بندھی ہوئی عدن کو رسیوں سے کھولا اور اپنے سینے سے لگا کر اس کی حالت ٹھیک کی۔۔ لیکن وہ بیچاری ڈر اور اورخوف کے زیر اثر بے ہوش ہوچکی تھی ”
“تہامی کو بھی قالین نے جب اسی مندر کے سامنے اتارا تو وہ چاروں جانب عدن کو ڈھونڈنے لگا تب اس کی نظر مندر کے سامنے منان پڑی جو عدن کا بے حس و حرکت وجود اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہوا آرہا تھا”
” منان نے تہامی کو دیکھا تو عدن کو اس کی بازوؤں میں دیتے ہوئے بولا اس کو ہوش میں لاؤ میں رھبہ کا پتہ چلاتا ہوں وہ کمینہ اسے بھی اٹھا لایا ہے”
” ٹھیک ہے تم رھبہ کا پتہ چلاو۔۔ میں عدن کو ہوش میں لاتا ہوں تہامی کہتا ہوا عدن کو لے کر چلا گیا”
” منان جب حورین کے پاس پہنچا تو وہ سالار کو بری طرح کی اذیت دے رہی تھی اس کا آدھا جسم ان دیکھی آگ جل رہا تھا جب کہ آدھے جسم پر ان دیکھی برف پڑی ہوئی تھی اسے ایک وقت میں دوہری اذیتیں مل رہی تھی ایک طرف جل رہا تھا اور ایک طرف ٹھنڈ کی شدت سے وہ پاگل ہو رہا تھا” “حورین اس سے پوچھو میری رھبہ کہاں ہے منان نے زمین پر پڑے ہوئے سالار کو اٹھا کر اس کے گربان کو پکڑتے ہوئے کہا بتاؤ کہاں ہے اور اسے لوہے کی کانٹے دار چھڑی کے ساتھ مارتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ ہاہاہاہا مجھے تو مار دو لیکن میں اس رھبہ کا کبھی پتہ نہیں بتاؤں گا،،،وہ کمبخت اپنی تکلیف کو بھول کر کمینی سے ہنستے ہوئے بولا”
“تو ایسے نہیں بتائے گا منان نے اپنی چھڑی کو گھماتے ہوئے سالار سے کہا منان نے اسے ایک جادوئی بوتل میں قید کر دیا سالار کو قید کرنے کے بعد منان نے حورین کی طرف دیکھ کر کہا مجھے رھبہ کی بہت زیادہ فکر ہو رہی ہے اور اس کا پتہ کیسے چلائیں گے”
“منان آپ فکر مت کریں میں کچھ کرتی ہوں یہ کہتے ہوئے حورین نے اپنی ہتھیلی پہ کچھ پڑھ کے پھونک ماری تو ہتھیلی پہ وہی منظر آنے لگا”
“جہاں پر رھبہ کو مرتبان میں قید کر کے رکھا گیا تھا”
” حورین نے منان سے کہا چلیں رھبہ کا پتہ چل گیا ہے پھر وہ دونوں جلدی ہی روح کے پاس پہنچ چکے تھے،، حورین نے جب رھبہ کو مرتبان سے باہر نکالا تو اس کی حالت بہت زیادہ نازک تھی،،، تہامی اور منان بھی اپنی بیوی اور اپنی بہن کی حالت دیکھ کر بہت پریشان تھے ان پانچوں نے حورین اور عدن کو جلدی سے ہوسپیٹل پہنچایا”
“آج رھبہ کو ہوسپیٹل سے گھر ڈسچارج کردیا گیا تھا، اب وہ اور اسکا بچا بلکل ٹھیک تھے، گھر جانے کے بعد منان نے آپنے اور حورین کے بارے میں رھبہ کو سب سچ بتا دیا رھبہ نے منان سے کہا۔۔۔
“منان مجھے کوئی اعتراض نہیں آپکے اور حوری آپی کی شادی سے کیوں کہ میں یہ میں جانتی ہوں کہ شادی سے پہلے صرف میں آپ سے پیار کرتی تھی،،، آپکے دل میں میرے لیے ایسا کچھ نہیں تھا، پھر بھی اپنے میری محبت کو منزل نکاح تک پہنچایا”
” مجھے بہت پیار دیا، وہ الگ بات ہے کہ آپ اب مجھ سے بہت محبت کرنے لگے ہیں اس لئے میں آپکی محبتوں کا بدلہ تو کبھی نہیں دے سکتی لیکن آپکی محبت کی خاطر ہمیشہ محبت کا جواب محبت سے دو گئ اور رہی بات حوری آپی اور آپکے نکاح تو آپکی محبتوں کے بدلے یہ کچھ بھی نہیں ہے، میں اس پہ خوش ہوں کہ آپ نے خود مجھے یہ سب بتایا، اگر یہ سب میں آپکے بجائے کسی اور سے سنتی تو شاید تھوڑا ملال رہتا پر اب میں مطمئن ہوں آپکے اور اپنے ساتھ سے۔۔
“مجھے پتہ تھا میری بیوی میرا مان ہے اور تم کبھی مجھ سے خفا نہیں ہو سکتی، منان یہ کہتا ہوا اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔۔۔
“ہممم لیکن میری ایک شرط ہے رھبہ نے اسکے سینے سے لگے ہوئے ہی کہا،۔۔
“وہ کیا ؟ منان نے چونک کر کہا۔۔۔
“وہ یہ کہ حوری آپی بھی ہمارے اس روم میں شفٹ
ہونی چاہے ہیں ہمارے ساتھ۔۔
“پر یار ایسا کیسے ماما پاپا کو کیا بتاو گا میں، تمہیں تو یہ بتا دیا کہ میں اک پری زادہ ہوں اور حورین میری کزن ہے اور بیوی بھی پر میں ماما کا اصل بیٹا نہیں پر انہے نہیں بتا سکتا نا، منان نے پرشانی سے. رھبہ کی جانب دیکھا۔۔
“اس کا بھی حل ہے میرے پاس، رھبہ نے مسکرا کر کہا۔۔
“وہ کیا منان نے خیرانگی سے پوچھا؟؟
وہ یہ کہ آپ انکل آنٹی کو بس اتنا ہی بتایں کہ حوری آپی آپکی دوسری بیوی اور پسند ہیں اور اس پہ مجھے بھی کوئی اعتراص نہیں تو ایم شور وہ کچھ نہیں کہے گئے، رھبہ نے سب بتا کر داد طلب نظروں سے منان کی طرف دیکھا۔۔۔
“ویری گڈ مائی کیوٹ اینڈ موٹو وائف، منان نے شرارت سے آخر میں اسے کہ باہر کو نکلے پیٹ کو دیکھ کر کہا، جس پر رھبہ نے ٹیڑا منہ بنا کر کہا آپکی ہی ٹھرکیوں سے یہ سب ہوا ہے، جس پر منان کا جاندار قہقہا بلند ہوا۔۔۔ »»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««
“”ایک ویک کے بعد….
” روبی!! حوری!!۔۔
” منان کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے برابر میں دونوں بیویاں نظر نہیں آئی تو وہ باری باری دونوں کو آواز دینے لگا”
“تب ہی اسے حورین واش روم سے باہر نکلتی نظر آئی”
” حوری! روبی کدھر ہے؟؟ ‘منان نے حورین کو دیکھتے ہوئے رھبہ کا پوچھا”
“منان رھبہ کو میں نے ابھی زبردستی نیچے بھیجا ہے،،ڈاکٹر نے جو اکسائز بتائی تھی وہ ڈیلی کرتی ہی نہیں ہے، بہت ہی زیادہ لیزی ہوگئی ہے آج کل، حورین نے منہ بنا کر کہا،، اور آپ کو پتا ہے ہمارے بیبی کے لئے لیزی پن بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے”
” اچھا جی ذرا میرے پاس آنا منان اس کی بازو سے پکڑ کر اپنے پاس بیٹھتا ہوئے بولا”
” ارے کیا کر رہے ہیں؟منان آپ پھر صبح صبح شروع ہوگئے، حورین نے منہ تیڑا کر کہ کہا منان حورین کی گردن پہ جھکا تو اس نے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا”
” یار اب جس بندے کی دو بیویاں ہوں، وہ بھی اتنی خوبصورت تو بندا کیا کرئے”
” اب تم دیکھو یار رھبہ تو کچھ منتھ ان سب سرگرمیوں سے فری ہے،ایسے میں اب صرف تم ہی کو میرا خیال رکھنا ہے۔۔ جب تم بھی نخرے دکھاؤ گئ، تو میں غریب کہا جاو گا،، اور ویسے بھی اگر وہ ٹھیک ہوتی تو تمہیں کہنے کی نوبت ہی نہیں آتی” “وہ تمہاری طرح مجھے منع نہیں کرتی، منان مطلبی بیوی کی طرح رھبہ کی تعریف کرکے اپنا کام نکلوانہ چاہتا تھا، لیکن سامنے بھی حورین تھی، رھبہ نہیں”
“وہ اسکی کسی بات کا نوٹس لیے بغیر، ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بال بناتے ہوئے منان سے کہنے لگی”
“شہزادہ صاحب اب زیادہ فری مت ہو میرے ساتھ جا کے اپنے ولیمے کا انتظام کریں جو رات میں ہوگا پھر ہمیں پرستان بھی جانا ہے کیوں کہ وہاں بھی ہمیں ولیمہ کی تقریب کرنی ہوگی،، آپ سب کچھ بھول گئے نا اب ذمہ دار بن جائیں پرستان کی بہت بھاری ذمہ داری ہے آپ پہ، وہ اس کا برین واش کر ہوئی روم سے باہر چلی گئی”

»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««««
“منان نے مومنہ اور علی کو حورین کی اور اپنی شادی کے متعلق بتایا تو انہے نے بہت غصہ کیا منان پر ، لیکن جب رھبہ نے منان کی سائڈ لی تو دونوں بھی خاموش ہوگئے، کہ اس کی بیوی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو انہے کیا تھا اور پھر وہ بیٹے کی خوشی میں کیوں خوش نہ ہوتے۔۔۔
“برخودار اگر دو شادیاں کر ہی لی ہیں تو اب ولیمہ بھی کرلو اپنا علی جاتے ہوے منان کو باور کروانا نہ بھولا تھا۔۔
“آج صبح منان اور حورین آور رھبہ کا ولیمہ تھا” “جبکہ تہامی اور عدن کی رخصتی تھی وہ اور عدن سامنے والے صوفے پر موجود تھے۔۔
“عدن نے ریڈ کلر کا لہنگا پہنا تھا جس پر سفید رنگ کا کام بنا ہوا تھا اور تہامی نے سفید کلر کی شیروانی اور سفید کلر کی ہی بڑی پگڑی پہنے رکھی تھی دونوں بہت پیارے لگ رہے تھے۔۔۔
“دوسرے صوفے پر وہ اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ برجمان تھا۔۔۔
لائٹ اورنج کلر کی شیروانی سر پہ گولڈن اور بلیک کلر کی پگڑی پہنے وہ بہت پرکشش لگ رہا تھا۔۔
“گولڈن کلر کا خوبصورت سا برائیڈل ڈریس پہنے حورین اسکے ایک طرف بیٹھی تھی، جبکہ رھبہ نے پنک اینڈ گرین کمیشن کا خوبصورت ڈریس پہنا تھا،، اور وہ منان کے دوسری طرف بیٹھی تھی۔ وہ تینوں بلاشبہ خوبصورت کپل لگ رہے تھے۔۔۔
“عدن کی رخصتی کہ بعد سب مہمان آہستہ آہستہ جانے لگے ، سب کہ جانے کہ بعد دونوں دولہنوں کو منان کہ روم میں پہنچا دیا کیا۔۔۔
“منان جب روم میں داخل ہوا تو اسکی دونوں بیویاں اسکا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔
“منان نے باری باری دونوں کی تعریف کی اور دونوں کو چینج کرنے کو کہا اور خود بھی آرام دہ سوٹ پہن لیا۔۔ وہ دونوں بیویوں کی پیشانی پر کس کرتے ہوئے دونوں کے درمیان میں لیٹ گیا اور ان دونوں کو بھی سوجانے کو کہا، کیوں کہ وہ تینوں ہی تھک چکے تھے۔۔
“شوہر کی بات پر عمل کرتے ہوئے دونوں اس کے لفٹ رائٹ سوگئ۔۔۔
«««««««««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“عدن اپنے ڈیکوریٹ روم میں بیٹھی اپنے شوہر کا انتظار کررہی تھی کہ اس کی کمر صبح سے بیٹھنے کی وجہ سے دکھ رہئ تھی،، اسنے بیڈ کی کرون سے ٹیک لگالی اور آنکھیں بند کرلی تاکہ تھوڑی دیر سکون محسوس کر کہ تھکن کو دفا کرسکے۔۔۔
وہ آنکھیں بند کیے اور ٹانگے لمبے کیے برسکون انداز میں ٹیک لگائے بیٹھی تھی، کہ اسے اپنے پاوں پر کسی چیز کا گمان ہوا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ایک سنہری رنگ کا بڑا ناگ اسکی پاوں سے لپٹتا ہوا اب عدن کہ گھنٹے تک آچکا تھا ، عدن کی ڈر اور خوف سے آواز بھی نہیں نکل رہی تھی، اب عدن ڈر سے بیڈ پر مکمل لیٹ چکی تھی، ناگ اب اسکے پیٹ کے اوپر والے حصے تک پہنچ چکا تھا، ناگ اب اسکے فیس کے بلکل قریب تھا اور اب وہ اپنا منہ اٹھاکر عدن کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا،، عدن ڈر اور خوف میں ہوتے ہوے بھی اس ناگ کو دیکھا رہی تھی جس کی نیلی آنکھیں تھی وہ ناگ بہت خوبصورت سا تھا” “اب ناگ عدن کے ہونٹوں کی طرف اپنا منہ بڑھا رہا تھا ”
“، عدن کو اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی اور اسنے وحشت سے اپنی آنکھوں بند کرلی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: