Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 2

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 2

–**–**–

مسلسل دروازہ بجنے کی آواز سے اس کی نیند میں خلل پڑ رہا تھا۔۔
وہ بامشکل آنکھیں کھول کر سائڈ ٹیبل پہ پڑا موبائل اٹھا کر دیکھتا ہے، موبائل پر وقت دیکھنے اور کمرے پر نظر پڑتے ہی اس کے سوئے ہوئے ہواس بیدار ہوٸے، اسے یاد آیا کہ وہ لندن نہیں بلکہ پاکستان میں ہے اپنے گھر،، اور وہ فورا اٹھ گیا کیوں کہ دروازہ بجنے والا شاید تھک گیا تھا اسی لیے اب دروازہ بجنا بھی بند ہوچکا تھا۔۔۔
اس نے جب دروازہ کھولا تو سامنے اس کی ماں ساڑی کا پلو سنبھلے گھڑی تھی۔۔۔
ماما آپ اس نے شرمندہ لہجے میں کہا کیوں کہ پچھلے بیس منٹ سے وہ دروازہ پیٹ رہی تھی لیکن مجال ہے جو اس کے کان پر جوں بھی رینگی ہو۔۔
بیٹا جی فنکشن اسٹارٹ ہوچکا ہے مہمانون نے آنا شروع کر دیا ہے اور آپکی آنکھ ہی نہیں کھل رہی۔۔
ماما جانی مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اتنا وقت گزر گیا ہے۔۔۔
اچھا جلدی کرو جلدی سے تیار ہو جاو سب تمہارا پوچھ رہے ہیں، مسسز علی نے اس کو ڈریس تھماتے ہوئے کہا اور خود اس کے کمرے کہ پردے ہٹاہے تاکہ اس کے بیٹے کو وقت کا احساس ہوسکے۔۔۔
جلدی سے آجانا اب دوبارہ مجھے آنا نہیں پڑے وہ اس ایک بار پھر کہتی باہر چلی گئ۔۔
منان بھی کھڑکی سے نیچھے دیکھتا واشروم میں گھس گیا جہاں پر سب مہمان نظر آرہے تھے
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
رھبہ میں جا رہی ہوں تم اکیلی آتی رہنا اتنی دیر ہوچکی ہے اب ہم بھی غیروں کی طرح فنکشن کے درمیان میں جاکر پہنچے تو کتنا برا لگتا ہے نا، رانیہ رھبہ کو گھوری سے نوازتی اسے چھوڑ جانے کی دھمکی دی جو کے خاصی کارآمد ثابت ہوٸی اور رھبہ نے جلدی سے لپ اسٹک کو لاسٹ ٹچ دیتی اپنا دوپٹہ گلے میں ڈالتی رانیہ کے پیچھے بھاگی۔۔
وہ دونوں ماں بیٹی مین ڈور کراس کرتی کے سامنے سے آتے سالے کی وجہ سے رک گئ۔۔
ماما!! آپ دونوں کہیں جارہی ہیں کیا؟
ارے بیٹا تم نے بتایا نہیں آج آنا ہے تمہیں رانیہ سالے سے مل کر بولی۔۔۔
ماما بس اچانک ہی کرونا کی وجہ سے چھٹیاں ہوگئ ہیں دو دن بعد سب روڈز، شاپنگز مالز،آفس سب بند ہوجائے گا۔۔۔
اچھا پر ہم تو آج مومنہ کی طرف جا رہے ہیں اپنا منان اور تہامی لندن سے واپس آگے ہیں تو منان کے آنے کی خوشی میں اور مومنہ اور علی بھائی کی شادی کی اینورسری ہے نا اس لیے پارٹی رکھی ہے، تم بھی تیار ہو کر آجاو تہامی بھی ادھر ہے وہی مل لینا رانیہ سالے کو ہدایت دیتی مین ڈور سے نکل گئ۔۔۔
«««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»
منان جب ڈریس اپ ہوکر واشروم سے باہر آیا تو مرر کے سامنے آ کر اپنے بال بنانے لگا اور پھر اپنی رسٹ واچ پہنتے ہوئے گھر کے باہر کی جانب کی طرف سے پردے ہٹادیے۔۔
باہر اندھیرا ہی اندھیرا تھا لیکن سامنے نہر کے پانی سے اتھتی آواز اسے بہت بھلی لگی وہ پلٹنے ہی لگا تھا کہ اسے سبز آنچل نظر آیا جو کہ بڑی سی باربی فراح پہنے اپنے دوپٹے کو ہوا سے اڑنے سے روک رہی تھی، دور ہونے کی وجہ سے وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہا تھا لیکن پھر بھی اسے وہاں روکے رکھنے کی ایک خاص وجہ تھی وہ یہ کہ اس لڑکی کے سبز رنگ کے پر بھی تھے منان نے سوچا آج کل نقلی پر لگانا بھی کون سا مشکل ہے۔۔ لوگ بھی نا کیا کیا فئشن کرتے ہیں۔۔
منان ارے بیٹا اب آ بھی جاو مومنہ دوبارہ اسے بلانے آچکی تھی لیکن سچ پوچھ تو منان کو وہاں سے جانے کو دل نہیں کر رہا تھا وہ دیکھنا چاہتا تھا وہ کون ہے جو رات کو اس طرح جنگل والی سائڈ پہ ہے عام طور پر تو لڑکیاں اندھرے سے اور جنگل سے ڈرتی ہیں لیکن یہ عجیب لڑکی ہے جو ادھر میں مزے سے اچھل کود کررہی ہے، منان یہ ہی سب سوچتا مومنہ کے ساتھ نیچے آگیا۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««««
جب وہ نوجوان دودھ اور خون سے نہا کر فارغ ہوا تو وہاں ایک سادھو نمودار ہوا۔۔
اے بالغ تجے ماتا نے اپنا خاص پیروکار بنایا ہے، تیرا نام ماتا نے کمار رکھا ہے۔۔ کیوں کہ تو بہت وقت مسلوں میں رہا ہے اس لیے ماتا تج سے دو بَلیاں چاہتی ہے، ایک تو جو تیری منہ بولی بہن ہے اس کی دوسری بَلی اس صورت میں ہوگئ کہ ایسی لڑکی جو تجے پسند ہو اور اس سے تو اپنے درہم کے مطابق بیاہ رچائے اور پھر اس کے خون کے ایک پیالے سے ماتا کو اسنان کروائے تو ماتا تجھ سے بہت خوش ہوگئ اور تجہ مالامال کردے گئ پھر تو اپنے ماتا پتا کی موت کا بدلہ لے لینا سادھو اس نوجوان کو سمجاتا ہوا اب اس کے قریب آیا اور کہا دیکھ تو میرے پاس دس برس کی عمر میں آیا تھا تب مینے تجھ بتایا کہ تیرے ماتا پتا کی ہتھیا(قتل) کس نے کی ہے اور اس وقت تجے اپنا درھم سکھایا اور آج تو اس قابل ہے کہ اپنے دشمنوں کا خاتمہ کرسکے۔۔
جی گُرو جی آپ ہی تو میرے سب کچھ ہیں نوجوان نے سادھو کے پاوں چھوے اور پھر سادھو غائب ہوگیا۔۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««
اچانک رجب ہاوس کے کچھ فاصلہ پر ایک ہوسٹل وین نمودار ہوئی۔۔۔
اس میں سے ایک لڑکی نکل کر آئی جو کہ یونیفارم میں تھی۔۔
وین واپس چلی گئ تو وہ چلتی ہوئی مین ڈور تک پہنچی جہاں گارڈ نے بتایا کہ سب لوگ سامنے علی ہاوس گے ہیں، وہ گارڈ کو بتاتی اوکے میں بھی وہی جاتی ہوں۔۔۔
گارڈ بی بی جی آپ اس ڈریس میں جائے گی چینج کرلیں نہیں وہاں میرا ڈریس ہے اور وہ دوبارہ علی ہاوس کی جانب چلنے لگی۔۔۔

اسلام ڈیڈ منان علی کے بغلکیر ہو کر بولا منان جب آیا تو علی اس وقت گھر میں نہیں تھا اور پھر منان سو رہا تھا اس لیے ملاقات نہیں ہوئی تھی باپ بیٹے کی۔۔
جوان ہوگے ہو یار علی نے اپنے قد سے نکلتے بیٹے کو دیکھ کر کہا جس پر منان مسکرانے لگا۔۔۔ آو تمہیں دوستوں سے ملواتا ہوں۔۔
ان سے ملو بیٹا یہ ہیں مسٹر شیریار کیانی، یہ ہیں مسٹر شاویز کیانی اور یہ ان کے بہنوئی مسٹر کاشان ملک یہ تینوں پاٹنرز ہیں انکی کمپنی کیانی انڈسٹریل پاکستان بھر میں نمبر ون پہ ہے۔۔۔ اور یہ ہادی کیانی اور اختشام ملک آگے ان کے ساتھ آپ نے بزنس کرنا ہے کیوں کہ اب ہمارے آرام کرنے کے دن ہیں کیوں مسٹر کیانی جی بلکل آپ نے ٹھیک کہا اب ہم نے بہت کرلیا بزنس اب بچے سنبھلے۔۔
پھر منان رجب سے ملا تو رجب نے بتایا منان سالار کو تو جانتے ہی ہو نا منان نے جب سالار سے ہاتھ ملایا تو منان کو کچھ غیر مناسب لگا اس کے ہاتھ میں جی جی انکل سالے کو کیوں نہیں پہچان گا یہ تو اور بھی پراثرار ہوگیا ہے منان نے سالار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا۔۔ ہاہاہا ہاں دیکھ لو پھر سالار نے ہنستے ہوے کہا۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««
بلیک کلر کی اسٹائلش شارٹ شرٹ کے ساتھ ریڈ کلر کی لُنگی شلوار اور ریڈ ہی کلر کے دوپٹہ کو لگے میں ڈالے گولڈن بال ایک سائڈ پر کیے وہ چھوٹی سی لڑکی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
تہامی تو دیکھتا ہی رہ گیا اسے کہ وہ اتنی پیاری ہے یا صرف میری نظر کا کمال ہے۔۔
ہیلو مس پرفیکٹ تہامی نے عدن کو مخاطب کر کے کہا۔۔
ہیلو جواب میں. عدن نے بھی مسکرا کے کہا۔۔
عادی! عدن نے پلکے اٹھا کر تہامی کو دیکھا۔۔
آئی مین عدن “لکنگ ویری پریٹی”
آنٹی سے کہہ کر نظر أتار لینا۔۔
تھنکس تومی عدن نے مسکرا کر اپنی تعریف وصول کی۔۔
“آئی ایم سوری” یار
پر کس لیے تہامی عدن نے خیرانگی سے پوچھا ۔
وہ اس دن تمہیں میری بات بری لگ گئ تھی نا اس لیے۔۔
ارے اس کے لیے سوری کی تو ضرورت نہیں۔۔
کس بات یہ سوری کی ضرورت نہیں پاس آتے منان نے کہا۔۔۔
اس دن کی بات پہ سوری کر رہا تھا یار تہامی نے منان کو یاد کروایا۔۔
او اچھا۔۔۔
ہیلو گائز!!
رھبہ نے ان کو جوائن کرتے کہا۔۔۔
ہیلو لیڈی آپ کون مینے پہچانا نہیں منان نے کہا۔۔۔
اوئے یار یہ رھبہ ہے نا میری بہن۔۔۔
اوو اچھا اچھا کیسی ہو رھبہ۔۔
آئی ایم گڈ آپ کیسے ہیں
تمہارے سامنے ہی ہوں منان نے مسکراتے ہوے کہا۔۔
اتنے میں منان کی نظر مین ڈور سے اندر آتی لڑکی جس نے وائٹ کلر کا خوبصورت سا فراح پہنا تھا۔۔ وہ اتنی خوبصورت تھی کہ اس پہ پریوں کا گمان ہوتا۔۔
منان کے منہ سے باختیات نکلا “بیوٹی کوئن”
اوکے گائز جوائن لیٹر”
اور وہ ادھر سے چلا گیا۔۔
منان چلتا ہوا اس لڑکی کے پاس آیا،، لیکن منان یہ سوچ رہا تھا کہ میں کیوں جا رہا ہوں اس کی طرف کیا بات کرو گا میں تو جانتا بھی نہیں اسے۔۔۔
ہائی!!
حوری نے نہ آشنا انداز میں منان کو دیکھا۔۔
بیوٹی کوئن میں تم سے بات کررہا ہوں۔۔
لیکن میں تم سے بات نہیں کررہی حوری نے ٹرخ کر کہا۔۔
کیوں منان نے اس کے ایک ایک نقش پر غور کرتے ہوئے پوچھا؟؟
میری مرضی اور وہ آگے چلی گئ۔۔
رانیہ نے جب حوری کو آتے دیکھا تو اس کی طرف لپکی۔۔۔ ارے حوری کب آئی بیٹا؟؟
ماما کچھ دیر پہلے گارڈز نے بتایا آج آنٹی انکل کی اینورسری ہے تو میں تیار ہوکر آگئ۔۔
ہاں ہاں لیکن منان اور تہامی بھی لندن سے واپس آگے ہیں آو تمہیں ملواتی ہوں۔۔
رانیہ حوری کو لے کر منان کی طرف چلی گئ۔۔
جہان عدن ، رھبہ اور تہامی کھڑے تھے۔۔
رانیہ نے جب حوری اور منان کا تعارف کروایا تو حوری کو شرمندگئ نے آ گیرا لیکن منان طنزیا لہجے میں بولا۔۔ آنٹی میں ان محترمہ سے مل چکا ہوں۔۔
اچھا کب ملاقات ہوئی بیٹا رانیہ نے مسکرا کر کہا۔۔
تھوڑی دیر پہلے آنٹی اور یقین مانے بہت اچھا لگا ان سے مل کر ۔۔۔
بھائی جان آپ کو ماما بلا رہی ہیں انہے کسی گسٹ سے ملوانا ہے آپکو عدن منان کو بتاتی حوری سے ملنے لگی۔۔
اوکے آنٹی میں آتا ہوں وہ رانیہ سے اجازت لے کر مومنہ کی جانب گیا۔۔
رھبہ تہامی چلو بابا سے ملتے ہیں حوری نے دونوں سے کہا تم بھی چلو نا عدن۔۔ آپی میں بعد میں آتی ہوں۔۔ اوکے اور تینوں رجب کی طرف چلے گئے۔۔۔

عدن کو مومنہ نے اندر سے کچھ لے آنے کو کہا تو وہ جانے لگی۔۔۔
وہ اپنے روم میں گئ ابھی وہ لائٹ اون کرتی کی اسے کسی نے پکڑ کر دیوار سے لگا لیا اور منہ پر ہاتھ رکھ نے کی وجہ سے وہ آواز بھی نہیں نکال پائئ۔۔۔
اس کے کان میں آواز آئی “”مارگریٹ”” یو آر اونلی می”
“آئی لو یو سو مچ”
“آئی وانٹ میری یو”
“مائی فرسٹ کس اون یور چیکس”
اور وہ اسکی گال پر اپنے ہونٹ رکھتا اسے بیڈ پر دھکا دے کر فورا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
وہ اچھی طرح پہچان گئ تھی اس آواز کو اور یہ بھی کہ وہ کون ہے اور اسے کیا یاد کروانا چاہ رہا تھا۔۔
وہ اپنے ذہن میں ہزاروں سوچے سوار کرتی نیچے چلی گئ۔۔۔“`

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: