Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 3

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 3

–**–**–

««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
فنکشن ختم ہوچکا تھا۔۔
ابھی مومنہ اور علی گیسٹ کو رخصت کرکے اپنے روم میں آئے تھے۔۔
جب کہ عدن اور منان بھی اپنے اپنے رومز میں تھے۔۔۔
مومنہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی جولری اتار کر رکھتی ہے اور اپنی ساڑی کو اتار کے بیڈ پر رکھتی ہے اب وہ صرف بلوز اور جو ساڑی کے نیچے لہنگے نما ہوتا ہے اس میں ملبوس تھی، وہ ورڈروب سے اپنے لیے آرام دہ سوٹ نکلا کر واشروم میں جانے لگی تو علی سامنے سے نکلا جو اپنی پیاری سی بیوی کو اس شارٹ سے ڈریس میں دیکھ کر دیوانہ ہوگیا۔۔
مومنہ شادی کے 35 سال بعد بھی اسی طرح جوان اور خوبصورت تھی اکثر عدن کی کالج فنکشنز پر جب بھی وہ عدن کے ساتھ جاتی اسے سب عدن کی بڑی بہن سمجھتے تھے، یہ ہی وجہ تھی علی آج بھی اپنی بیوی کا دیوانہ شادی کے پہلے دن کی طرح تھا۔۔
علی اسے اپنی باہوں میں اٹھاتا بیڈ تک لے گیا۔۔۔
مومنہ ارے ارے ہی کرتی رہی۔۔
علی آپکو کیا جوانی چڑھی ہے اس عمر میں بھی، یار جب بندے کی بیوی اتنی پیاری ہوگئ اس عمر میں بھی تو پھر میں بچارہ کیا کرو۔۔
علی آپ کو نا اب اپنے بچوں کا سوچنا چاہے ہے ہہاں تو بچوں کے باپ کو جوانی چڑھی ہے ان کا کون سوچے گا۔۔ مومنہ کہتی ہوئی اپنی کپڑے اٹھا کر واشروم میں چلی گئ۔،، اور علی بھی لیپ ٹاپ لے کر بھیٹ گیا۔۔۔

عدن آج کے بارے میں سوچتی سخت پرشان تھی کہ اس کا موبائل رنگ کرنے لگا۔۔
عدن نے جب اسکرین پر نظر ڈالی تو سامنے وہی نمبر جگمگا رہا تھا جس سے وہ پچھلے دو منتھ سے سخت پرشان تھی لیکن وہ اس نمبر کو آنسر نہ دینے سے ڈرتی تھی۔ اس نے کال اٹینڈ کرکے بولے بغیر کان کے ساتھ لگایا۔۔
مارگریٹ!!!
ج۔۔جی جی۔۔
عدن نے اٹک اٹک کر کہا۔۔
مجھے سے ڈرتی کیوں ہو؟؟
نہیں تو اس نے چھوٹ بولا۔۔
اچھا بس کچھ دنوں کی بات ہے میں تمہے اپنے پاس لے آو گا شادی کرکے پھر تم مجھ سے ڈرنا چھوڑ دو گی۔۔
لیکن میں آپ سے شادی نہیں ابھی لفظ اس کے منہ سے ادا نہیں ہوئے تھے کہ مقابلہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔
مجھے تمہاری ہاں نہ نہیں سنی مارگریٹ میں اتنا جانتا ہوں کہ تم پر تمہارے جسم پر صرف میرا حق ہے۔
“یو آر اونلی می”
ساتھ ہی دوسری طرف سے رابطہ منقطع ہوچکا تھا۔۔۔
عدن موبائل کو زور سے بیڈ پر پھنکتی تکیے پر سر رکھتی اپنی آنکھوں کے قیمتی موتی بہانے لگی، کتنی بے بس تھی نا وہ کتنی مجبور کیا کررہے وہ یہ سوچتی وہ سو چکی تھی لیکن تکیا آنسوں سے بھیگ چکا تھا۔۔۔
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
گڈ مورنگ ماما۔۔
رانیہ ٹی وی پر مورنگ شو دیکھ رہی تھی جب سالار نے اس کے ساتھ صوفہ پر بیٹھا کر کہا۔۔
اٹھا گے بیٹا۔۔
نہیں ابھی سوئے ہیں ساتھ بھیٹی رھبہ نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
جس پر رانیہ نے اسے زبردست گھوری سے نوازہ۔۔
ارے ماما آپ بھی نا وہ اٹھ کر آپ کے پاس آگے ہیں آپ پھر بھی پوچھتی ہیں اٹھ گے بیٹا، رھبہ کی بات پر سالار نے بھی ہنسنا شروع کردیا۔۔
دانت مت نکالو جاو جاکر رجو سے ناشتہ تیار کرنا کا کہو اور تہامی اور حوری کو بھی اور اٹھاو
رانیہ اسے ہدایت دیتی دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
ماما مینے آپ سے کچھ بات کرنی ہے اگر آپ فری ہیں تو سالار نے رانیہ کو ٹی وی پر مصروف دیکھ کر کہا۔۔
ہاں ہاں بولو سالے رانیہ نے ٹی وی کو میوٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ماما آپ کو نہیں لگتا اب آپکو بہو کا سوچنا چاہے ہے۔۔
ہممم تو یہ بات ہے رانیہ نے ہممم کو لمبا کرتے ہوئے کہا۔۔
جی جی یہ بات ہے سالے نے اپنی پیشانی پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔
کیا کوئی لڑکی دیکھ رکھی ہے رانیہ نے بات بڑھائی۔۔
جب اپنوں میں مجود ہے تو کسی اور کا کیوں سوچنا۔۔ سالار کے کہنے پر رانیہ اچھے سے سمجھ چکی تھی اس کا اشارہ۔۔
اچھا اچھا۔۔
جی. ماما پلیز آپ کل ہی آنٹی سے بات کرلے اور جلدی سے شادی کا بھی بول دیں۔۔
رانیہ پہلے تو چپ رہی لیکن جب سالے نے اتنی جلدی کا کہا تو رانیہ کو عجیب لگا۔۔
اتنی جلدی کیا ہے سالے؟
ماما جلدی اس لیے کے مجھ بہت جلد اپنا بزنس شروع کرنا ہے اور میں یہ سب شادی کے بعد کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہاں مجھے کسی اور کی ضرورت نہ پڑے میری بیوی ہو میرا خیال رکھنے کے لیے۔۔
اچھا رانیہ اسکی بات پر خاموش ہوگئ۔۔
تبی رجب آتا دیکھائی دیا۔۔
گڈ مورنگ بابا سالار نے رجب کو کہا۔۔
مورنگ بچے۔۔
کیسی طبیعت ہے آپکی اب رانیہ نے رجب سے کہا اب بہتر محسوس کررہا ہوں اسی لیے تو نیچھے آگیا کہ آج اپنے بچوں کے ساتھ ناشتہ کرو۔۔
کیا ہوگیا بابا آپ کو سالار نے فکرمندی سے کہا۔۔
کچھ نہیں یار ایسے ہی رات میں طبیعت خراب ہو گئ تھی تھوڑی لیکن تمہاری ماما تو بہت پرشان ہوجاتی ہے تم سب جانتے تو ہو۔۔
ایسے ہی پرشان نہیں ہوتی اچھی بھلی زیادہ طبیعت خراب تھی آپکی۔۔
جس پر دونوں مسکرانے لگے۔۔ سب ہی جانتے تھے رانیہ رجب کا کتنا خیال رکھتی ہے زرا سا سر درد بھی ہو تو بہت پرشان ہوجاتی ہے۔۔
ماما رجو نے ناشتہ لگا دیا ہے آجائے سب رھبہ نے آکر اطلاع دی
اتنے میں. تہامی اور حوری بھی نیچھے آچکے تھے اور پھر سب نے مل کر ناشتہ کیا۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««
سامنے اسے بڑا سا تحت نظر آتا ہے جہاں ایک عمر رسیدہ عورت بھیٹی ہوتی ہے۔۔ وہ کوئی عام عورت نہیں بلکہ اس کے سر پر تاج اور کندھے کے پیچھے پر اس بات کا واضح اشارہ تھے کہ وہ ایک پری ہے۔۔ اس کے چاروں طرف پریاں ہی پریاں تھیں۔۔
اتنے میں ایک علان ہوتا ہے۔۔ ہمارے نیے شہزادہ صاحب تشریف لا رہے ہیں۔۔
پھر اسے پریاں اپنا نازک ہاتھ میں اٹھا کر تحت تک پہنچاتی ہیں اور وہ ہی عمر رسیدہ پری تھال میں سے تاج اٹھاتی ہے جو کہ ہیروں اور موتیوں سے بھرا ہوتا ہے، اور اس تاج کو اٹھاکر وہ اس کے سر پر رکھ دیتی ہے اور پھر ایک خوبصورت سی پری اس کے ساتھ آکر بھیٹ جاتی ہے۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔۔۔۔
منان کی جب آنکھ کھلی تو وہ اپنے کمرے میں اپنے بیڈ پر لیٹ ہوا تھا۔۔
اور سامنے دو طوطیاں کھڑکی میں بھیٹی ہوئی تھیں ایک سبز اور دوسری نیلی، منان نے اٹھ کر کھڑکی کا شیشہ کھول دیا جس سے دونوں اندر آگئ۔۔ سبز والی بہت زیادہ کیوٹ تھی جب کی نیلی والی اس کے مقابلہ کچھ بھی نہیں منان کو دیکھتے ہی سبز والی طوطی بہت اچھی لگی اس کا دل چاہے کہ وہ اسے ہاتھ لگا کر دیکھے لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے سبز طوطی نے اپنا پنجا نیلی طوطی کے سر پہ مارا منان کو لگا اب دونوں میں لڑائی ہوگی لیکن یہ کیا نیلی طوطی پنجا کھاتے ہی فورا اڑ گئ اور سبز طوطی اڑ کر منان کہ بازو پر بھیٹ گئ۔ منان نے اسے ہاتھ لگا تو وہ اڑ کر اس کے کندھے پر بھیٹ گئ اور منان کہ کالر کے بٹن کو چونچ سے جھڑنے لگی۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««
آج تہامی کی 30 سالگرہ تھی جسے رات بارہ بجے کے بجائے شام پانج بجے ہی منانا رکھا گیا تھا جس میں علی ہاوس اور رجب ہاوس کے علاوہ تہامی،رھبہ دونوں کے دوست شامل ہوگے۔۔۔
ابھی چار بجے تھے کے تمام گھر والے اپنے اپنے کمروں میں تیاری میں مصروف تھے۔۔ ایسے میں رھبہ تیار ہونے لگی تھی لیکن اسے اپنے ڈریس سلیکٹ کرنا مشکل لگ رہا تھا کے کون سا پہنے اسی لیے وہ رانیہ کے کمرے میں اسے بلانے چلی گئ۔۔۔
رھبہ جب رانیہ کے کمرے میں داخل ہوٸی تو زور کی چینج مار کے باہر آگئ۔۔ کیوں کہ رانیہ کے بیڈ پر سفید رنگ کا بہت بڑا سانپ بھیٹا ہوا تھا جسے دیکھ کر رھبہ بری طرح سے ڈر گئ اور چیخنا شروع کر دیا اس کی آواز سن کر واشروم میں کپڑے تبدیل کرتی رانیہ بھی بھاگ کر باہر آئی اور اس کا باپ بھی کمرے سے باہر نکلا۔۔
کیا ہو گیا؟ رھبہ بچے رجب نے پرشان لہجے میں پوچھا..
رجب کی پوچھنے کی دیر تھی رھبہ رجب کے گلے لگ کر رونے لگی بابا با۔۔ وہ آپکے بیڈ پر سانپ تھا بہت بڑا سفید رنگ کا۔۔
ارے نہیں بچے میں اور تمہاری ماما کمرے میں ہی تھے آو دیکھتے ہیں۔۔
اور رجب اسے لے کر کمرے میں آگیا کمرے کی اچھی طرح چیکنگ کے بعد رجب نے رھبہ سے کیا بچے آپ کا وہم ہوگا ورنہ سانپ کہا جاتا اتنی جلدی۔۔
ہاں رھبہ تمہارا وہم ہوگا ورنہ ہم نے چیک تو کیا ہے روم تہامی نے بھی رجب کی ہاں میں ہاں ملائی تو رھبہ کو تھوڑا حوصلہ ہوا اور وہ دوبارہ اپنے کمرے میں تیار ہونے چلی گئ۔۔۔
رھبہ کے جانے کے بعد رانیہ گھور کے رجب کو دیکھنے لگی۔۔
کیا ہوا جان رجب رجب نے جب رانیہ کو گھورتے دیکھ تو اس کو اپنی باہوں کے حصارے میں لیتے ہوئے پوچھا۔۔
کیوں رجب آج تیس سال بعد پھر کیوں۔۔
ارے ایسی بات نہیں ہے یار۔۔
ایسی ہی بات ہے رجب مینے بھی دیکھا تھا بیڈ پر ناگ کو بھیٹے ہوئے اور اب میں کیا تمہارا ناگ روپ بھی نہیں پہچانو گئ کیا رانیہ نے ساری بات کہہ کر آخر میں سوالۓ انداز میں رجب کو دیکھا۔۔
ہاں یار آج تیس سال بعد میں اپنے ناگ روپ میں. آیا۔۔ تمہیں پتہ ہے صنم آج مینے خواب میں اپنا نگر دیکھا ہے۔ رجب اسے بتاتا ہوئے اس کے پرانے ہندو نام لے کر بولا۔۔ اپنے بابا سائیں کو دیکھا وہ کہہ رہے تھے بیٹا یوراج تم نے بہت اچھا کیا دائرہ اسلام میں جا کر میں تمہارے اس عمل سے بہت خوش ہوں کیوں کہ تمہارے اس عمل سے مجھ پر سے عذاب ہٹا دیا گیا ہے۔۔ اور پھر میری آنکھ کھلی گی تو مجھے سے رہا نہیں گیا اور میں اپنی ناگ روپ میں آگیا ہوں۔۔۔
رانیہ تمہیں پتہ ہے ہمارے بچے بھی ناگ ہیں لیکن شادیوں کے بعد وہ ایک عام انسان بن جائے گئے ان میں سے ناگیت ختم ہوجائے گئ ہمیشہ کے لیے پھر اگر کبھی انہے پتہ بھی چل گیا کے وہ ناگوں کے بچے ناگ ہیں تو بھی وہ اپنے ناگ روپ میں نہیں آسکے گئے۔۔
پر کیوں رجب شادی کے بعد ہی کیوں ختم ہوگئ ناگیت؟ رانیہ نے سوالیے نظر سے اپنے شوہر کو دیکھا۔۔
وہ اس لیے کہ جب ایک ناگ اپنی انسان بیوی کو اپنی زوجہت میں لیتا ہے تو وہ ناگ اپنی ناگیت ہمیشہ کے لیے کھو دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک ناگن اپنے انسان شوہر سے حق زوجہت اپناتی ہے تو تو اس کی بھی ناگیت ختم ہوجاتی ہے پھر دوبارہ بھی وہ ناگ نہیں بن سکی وہ ایک عام انسان بن جاتی ہے۔۔
پر رجب ہم دونوں تو آج بھی اپنی ناگ روپ میں آسکتے ہیں رانیہ نے کہا۔۔ وہ اس لیے رانیہ کے ہم دونوں ہی ناگ ہیں اس لیے ہماری ناگیت ختم نہیں ہو سکتی اگر ہمارے بچے بھی اپنے جیسے ناگ اور ناگن سے شادی کرئے تو ان کی بھی ناگیت ختم نہیں ہوگئ رجب کی بات ختم ہوئی ادھر ان کے دروازے پہ دستک ہوئی رھبہ تیار ان کے سامنے کھڑی تھی ماما بابا آپ دونوں تیار نہیں ہوئے وقت دیکھے پونے پانچ ہوچکے ہیں۔۔ بس بچے تم چلو ہم دو منٹ میں آتے ہیں۔۔ رھبہ کے جاتے ہی رجب نے بابا جی کی دی اسلامی دعا پڑھی جس سے اس کی ناگ شکتی کا استمال گناہ میں نہیں آتا تھا اور رانیہ کو بھی پڑھنے کو کہا اور دونوں دیکھتے ہی دیکھتے فل تیار کھڑے تھے اور دونوں نیچھے چکے گے۔۔۔
«««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»
اگر ایپسوڈ اچھی لگی تو تعریف کرنے میں کنجوسی مت کیا کریں آپکے رسپونس دیکھ کر رائثر کو جلدی ایپیسوڈ لکھنے کا دل کرتا ہے اور آپ کو بھی ویٹ نہیں کرنا پڑتا۔۔ اسی طرح اگر رسپونس اچھا نہیں ملے گا تو رائثر کو بھی دل نہیں کرتا ایپیسوڈ لکھنے کا اس لے اچھا رسپونس دیا کریں اور جلدی ایپیسوڈ لیا کریں۔۔ انج تے انج سہی 🤨😏“`

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: