Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 4

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 4

–**–**–

»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««««
آج شام میں تہامی کی برتھ ڈے پارٹی سیلیبرٹ ہوچکی تھی وہ پورے تیس سال کا ہوچکا تھا۔۔
پارٹی کے بعد وہ شام میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر کو نکل گیا۔۔ لیکن وہ سب آکر بشتا رہے تھے کیوں کے پانچ بجے کے بعد ہر چیز بند ہورہی تھی کرونا کی وجہ سے، اس کے دوست تو ادھر کے ہی تھے جب کے تہامی کو قوبرا ٹاؤن تک جانا تھا جو ہیاں سے تقریبا بیس بچس منٹ کی دوری پہ تھا رات کے 11- 55 ہوچکے تھے تہامی نے گاڑی کو آگے بڑھا دیا، تہامی آرام آرام سے جا رہا تھا کہ اسے سڑک کے قریب کچھ لوگ ایک لڑکی کو زبردستی لے جارہے تھے۔ تہامی نے گاڑی کا شیشہ اتار کر کہا ابے لڑکی کو چھوڑ دو لیکن ان لوگوں نے اس کی ایک نہ سنی وہ لڑکی تہامی کو دیکھ کر مدد کے لیے پکارنے لگی۔۔
تہامی گاڑی سے نکلا اور گاڑی لاک کرکے ان لوگوں کے پیچھے جانے لگا۔۔
تہامی نے ایک لڑکے سے اس لڑکی کا بازو چھڑوایا تو دوسرے کو ایک لات رسید کی جس سے وہ لڑکا دور جا گرا لیکن اب تہامی کو تین لڑکوں نے پکڑ لیا تھا تہامی نے بہت کوشش کے باوجود اپنا آپ ان سے نہیں چھڑوا پایا۔۔ دوسرے لڑکے نے چاقو نکال لیا جیسے جیسے وہ قریب جارہا تھا تہامی کو اپنے ساتھ برا ہوتا نظر آرہا تھا۔۔
ابھی وہ آدمی دو قدم کے فاصلہ پر تھا کہ تہامی کے ہاتھ میں بھندی گھڑی نے بارہ کا الام بجانا شروع کر دیا۔۔۔
وہ لڑکا اس کو چاقو مارنے ہی لگا تھا کہ تہامی کئ جگہ ایک بڑے سنہری رنگ کے سانپ نے لے لی سانپ دیکھتے ہی وہ لڑکے تہامی کو چھوڑ کر بھاگنے لگے گئے لڑکی موقع کا فایدہ اٹھتے ہوئے وہاں سے جا نکلی اور تہامی یعنی سانپ ان چار لڑکوں کے پیچھے بھاگنے لگا باری باری چاروں کو ڈس کے وہ وہاں ہی جنگل میں ہی اپنے ہوش خراش سے بگانہ گر گیا وہ بہوش ہوچکا تھا۔۔۔۔
««««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
اپنے کمرے کی بلکنی میں وہ کھڑی سامنے منان کے کمرے کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔۔ جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑا تھا۔۔۔۔
یہ شام کا وقت تھا رھبہ اپنی سوچوں میں ہی کھڑی تھی کہ عدن کی آواز اسے سنائی دی جو کہ اس کے گھر کے نیچے سپوٹ ڈریس میں گھڑی تھی۔۔ آجا کرکٹ کھیلتے ہیں۔۔ یار میں نہیں آرہی رھبہ نے منھ بنا کر کہا۔۔
یار آنا دیکھ بھائی کو بھی مشکل سے ملنا کر لائی ہوں، عدن نے منان کو آتے دیکھ کر کہا۔۔۔
رھبہ عدن کے منہ سے منان کے آنے کا سن کا اچھا میں آتی ہوں اور فورا نچے چکی گئ۔۔۔
ارے تو اکیلی آگئ تومی کہا ہیں۔۔ یار بھائی کل شام سے گھر سے نلکلے تھے ابھی تک نہیں آیا شاید وہ اپنے کسی دوست کی طرف رک گے ہیں۔۔ آو اچھا چلیں بھائی شروع کرتے ہیں آس پاس کی کچھ اور لڑکیاں لڑکے بھی کھیل میں شامل ہوگے۔۔۔
آم کے درخت کی چھاٶں میں انہوں نے کھیلنا شروع کیا ٹاس کے مطابق منان کی ٹیم کی پہلے بیٹنگ آئی تو منان بلا سنبھلتا درخت کے نیچے پہنچا۔۔
ادھر عدن ہاتھ میں بال لیے کھڑی تھی، تبی اس کے شرادتی دماغ میں آیا بھائی جان ایک آم توڑ لو اس بال سے عادی اس سے بلا کوئی آم توڑتا ہے کیا ایک بار ٹرائی تو کرنے دیں نا عدن نے معصوم شکل بناتے ہوا کہا تو منان نے اسے اجازت دے دی عدن نے فل زور سے بال کو درخت کے پتوں میں مارا تو ایک درمینے سائز کا پتھر پتوں میں سے نکلتا ہوا منان کے پیشانی پر جالگا اور اس کی پیشانی سے خون ٹپکنے لگا۔۔ عدن۔۔۔
منان کو پتھر اتنی روز سے لگا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا وہ گرنے ہی لگا تھا کہ منان کے تھوڑے دور کھڑی رھبہ نے بھاگ کر منان کو تھام لیا لیکن ایک اچھی بھلی جسامٹ کے مرد کو وہ بھلا کیا سنبھل سکتی تھی اسی لیے وہ منان کو تھامتی ہوئی زمین پر بھیٹ گئ اور منان کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔۔ عدن بھی بھاگ کر بھائی کی طرف آئی لیکن تب تک رھبہ اپنے گلے میں پڑا اسکاف نکل کر اس کا پیس کرتی منان کے زخم کو صاف کرتی اسکے ماتھے پر پٹی کر چکی تھی۔۔ رھبہ منان کا خون دیکھ کر ایسے رو رہی تھی جیسے چھوٹی بچی ہو منان نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو رھبہ کو بری طرح روتے پایا۔۔۔ رھبہ چپ ہوجاو یار میں ٹھیک ہوں منان نے اس کی گود میں سر رکھے ہی اس کے آنسو اپنی انگلی سے صاف کیے۔۔
شکر ہے بھائی جان آپ ٹھیک ہیں عدن نے بھی رونے والی شکل بناکر کہا۔۔ میں ٹھیک ہوں یار تم دونوں چپ تو ہو منان اس کے گود سے اٹھتے ہوئے بولا تو رھبہ تھوڑی چپ ہوئی چلیں آپکو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہے رھبہ نے بھری ہوئی آواز میں کہا۔۔
اور منان کو سہارا دینے لگی نہیں رھبہ میں ٹھیک ہوں اتنی چوٹ نہیں لگی تم زیادہ سمجھ رہی ہو اور پھر تینوں علی ہاوس چلے گے۔۔۔
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
وہ اپنے کمرے میں سونے کی کوشش کررہا تھا کیوں کے صبح اسے جلدی نکلنا تھا۔۔ تبی کمرے میں پیلے رنگ کی روشنی پھیل گئ۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں وہ ہی سادھو نمودار ہوا۔۔
کمار۔۔ سالار نے اپنے نام اور اپنے گُرو کی آواز سن کر فورا آنکھیں کھولی۔۔
جی گُرو آگیا(حکم) دیجیے۔۔
تجے ابھی پوجا کرنی ہوگئ جو ساڈھے بارہ بج تک کی ہے دو گھنٹے کی پوجا کر اور اور صبح جلدی آستانے پر پہنچ انتو(پھر) تجہے ایک اور مارک (امتحان)کرنا ہے ماتا کے لیے اور وہ سادھو غائب ہوگیا اور وہ پوجا میں بھیٹ گیا۔۔
رانیہ کل سالار کا پرپوزل لے کر گئ تھی مومنہ کی طرف لیکن اس نے کہا تھا میں علی اور منان سے مشورا کرکے بتاو گئ۔۔ یہ ہی بتانے وہ سالے کے کمرے میں گئ رات کے کوئی ساڈھے گیارہ کا وقت تھا۔۔ رانیہ نے جب سالے کے کمرے کا دروازہ کھلا تو سامنے کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گٸ۔۔
سامنے سالے ماتھے پر تلک لگائے سامنے چھوٹی سی مورتی رکھے آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہا تھا۔۔ رانیہ یہ اب دیکھ کر فورا اپنے کمرے میں واپس آگئ۔۔
رانیہ کو اس طرح کمرے میں آتے دیکھ کر رجب نے کہا کیا ہوا رانیہ؟؟
وہ رجب مینے جو دیکھا اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہورہا رانیہ نے پرشان لہجے میں کہا۔۔
یار بتاو گئ تو پتہ چلے گا نا۔۔
رجب آپکو پتہ ہے میں سالے کے کمرے میں گئ تو وہ ہندو درھم(مذہب) کی طرح پوجا پوٹ کررہا تھا سامنے کالی کا چھوٹا سا مجسمہ بھی رکھا تھا۔۔
کیا بول رہی ہو رانیہ رجب نے نہ یقین آنے والے انداز میں کہا تو رانیہ نے سامنے لگی پینٹک پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری تو پینٹک میں سالار کے کمرے کا منظر نظر آیا۔۔ جسے دیکھ کر رجب بھی خیران ہوگیا۔۔۔
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
علی ہاوس میں رات کا کھانا کھا جارہا تھا
کے منان بھی آیا بیٹا اب زخم کیسا ہے؟ مومنہ اور علی دونوں نے فکرمندی سے کہا۔۔
اب بلکل ٹھیک ہے ماما پاپا منان نے مسکرا کے کہا۔۔
علی منان آپ دونوں سے مینے بات کرنی ہے ضروری۔۔
ہممم بولو علی نے کھانا کھاتے ہوئے کہا جب کہ منان نے صرف نظر اٹھا کر ماں کو دیکھا۔۔۔
کل رانیہ اور رجب آئے تھے عدن کا پرپوزل لے کر۔۔
تہامی کے لیے علی نے مومنہ سے پوچھا؟؟
نہیں سالے کے لیے مومنہ نے چاول کی ٹرے منان کے سامنے رکھتے ہوئے کیا۔م وٹ!! منان نے تقریبا چلا کر کہا کیا ہوگیا بیٹا آرام سے علی نے بیٹے کو کہا ماما پاپا میں آپ دونوں کو پہلے بتا دو مجھے عدن کے لیے سالار کا پرپوزل کسی صورت قبول نہیں ہے وہ بندہ مجھے شروع سے ہی پسند نہیں بہت پراثرار سا ہے۔۔ منان بات کرتے ہی رکا نہیں بلکہ اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔
مومنہ رانیہ بھابھی کو انکار کردو اگر وہ تہامی کے لیے کہتی تب ہمے کوئی اشو نہیں تھا لیکن سالار نہ تو ان کی اولاد ہے نا ہی کوئی رشتہ دار بلکہ وہ رجب کے دوست کا بیٹا ہے اس لیے مجھے یہ رشتہ قبول نہیں۔۔
علی مجھے بھی وہ لڑکا کچھ عجیب سا لگتا ہے میں کل ہی رانیہ کو انکار کردو گئ۔۔
ہممم ٹھیک ہے میں روم میں چلتا ہوں تم بھی آجاو۔۔ اور مومنہ بھی ملازمہ کو برتن اٹھنے کا کہہ کر خود علی کے پیچھے چلی گئ۔۔۔
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
منان کچھ سوچتے ہوئے عدن کو کال کرنے لگا۔۔
جی بھائی جان حیریت؟؟
تم سو تو نہیں رہی نا نہیں بھائی۔۔
اچھا دو کپ چاہے کا کہہ کر میرے روم میں آو مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے اوکے بھائی آتی ہوں۔۔۔
کچھ دیر بعد عدن منان کے کمرے میں داخل ہوٸی۔۔
جی بھائی عدن صوفے پر بھیٹ کر بولی تب روم ناق ہوا اور ملازمہ چاہے کے دو کپ لے کر آئی۔۔۔
عدن تمہیں سالار کیسا لگتا ہے۔۔
عدن منان کے اس قسم کے سوال پر تھوڑی پرشان ہوگئ۔۔
بتاو گڑیا میں تمہارا بھائی اور فرنڈ بھی تو ہوں نا منان کے پیار سے کہنے پر عدن نے کہا بھائی بہت عجیب لگتے ہیں بہت ڈر لگتا ہے ان سے اچھا عدن کے کہنے پر منان نے اچھا کر لمبے کیا
پر بھائی آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔۔
ویسے ہی گڑیا۔۔ اچھا تم جاو سو جاو بہت رات ہوگئ ہے۔۔۔
جی بھائی۔۔
عدن کے جانے کے بعد منان نہر سائڈ والی ونڈو کھول کر باہر دیکھنے لگا۔۔
تبی اسے وہ ہی لڑکی نظر آئی جو اسے نے اس دن دیکھی تھی سبز فراح پہنا ہوئے سبز پروں والی۔۔۔
منان اسے غور سے دیکھ رہا تھا تبی وہ منان کی طرف مڑی۔۔۔
افففففففففف خدایا سبز ہی آنکھیں اس پر گولڈن بال اور سر پر تاج پہنے وہ کوئی شہزادی لگی منان کو منان بھاگ کر باہر نکلا۔۔
منان جب نہر کے قریب پہنچا تو وہ نہر کے پانی میں پاوں ڈالے بھیٹی تھی۔۔
منان نے اسے پکارہ
تم کون ہو اور یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔
منان کے پکارنے پر اس نے مڑ کر دیکھا اور اسے دیکھ کر بولی کیوں یہ تمہارا جنگل ہے کیا؟؟
نہیں تو
پھر مت پوچو اور میں صرف دوستوں سے بات کرنا پسند کرتی ہوں اس لیے تو چلے جاو ہہاں سے
تو مجھ سے بھی دوستی کرلو نا۔۔ منان نے اس کے خوبصورت چہرے کو اپنی آنکھوں میں بساتے ہوئے کہا۔۔
سوچو گئ تم سے دوستی کا اس نے اپنا انچل لہرایا اور سبز روشنی پھیل تو وہ غائب ہوگئ۔۔
منان یہ تو جان چکا تھا کہ وہ جو بھی ہے پر انسان نہیں ہے۔۔۔
««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»
تہامی نے جب آنکھ کھل کر دیکھا تو خود کو اک جوپڑی میں پایا۔۔۔
سامنے ایک بزارگ جاءنماز پر بھیٹے عبادت کررہے تھے جن کا چہرہ بہت نورانی تھا سفید داڑھی جو سینے تک آرہی تھی اور سفید ہی بال جو کندھے تک تھے۔۔
تہامی کے منہ سے اچانک پانی نکلا تو وہ بزارگ اٹھے اور تہامی کو پانی پلایا ۔۔
باباجی میں کہاں ہوں۔۔
تہامی نے پانی پی کر پوچھا تم محفوط جگہ ہو بیٹا۔۔
پر باباجی میں یہاں کیوں آیا اور کیسے آیا تہامی کو یہ ہی یاد تھا کہ وہ اس لڑکی کی مدد کے لیے گیا تھا اور ان لڑکوں نے چاقو نکال تھا اسے مارنے کےلیے اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں تھا۔۔۔
بیٹا تم ایک ناگ ہو ناگ اور ناگن کے بیٹے۔۔ کیوں کہ تم پر ناگ روپ پہلی بار آیا ہے اس لیے تو بے ہوش ہوگے تھے تو میں تمہیں اپنے پاس لے آیا کیوں کہ باہر جنگل میں تمہیں خطرہ تھا۔۔۔
بابا کیا میرے ماما بابا مسلمان نہیں ہیں کیا میں ایک کے بعد ایک سوال اس نے ان بزارگ سے پوچھا۔۔
بیٹا تمہارے ماں باپ شادی سے پہلے مسلمان ہوچکے تھے اور ان کا نکاح بھی مینے بڑھیا تھا اور تمہارا یہ ناگ روپ تب تک ہے جب تک تم کسی انسان سے شادی نہیں کرلیتے۔۔ جب انسان لڑکی سے شادی کرو گے تو تمہاری ناگیت ختم ہوجائے گئ۔۔
اور تمہاری بہن بھی تیس سال کی عمر میں ناگن کا روپ اختیار کرسکے گئ۔۔۔
باباجی نے اسے ساری. سمجھی اور کہا چلو بیٹا گھر جاو تمہاری ماں پرشان ہے گھر اور یہ کلام پاک پڑھ گے تو تم اپنی تمام ناگ طاقتیں استمال کرسکو گے بابا جی نے اسے کلام پاک دیتے ہوئے بتایا اور تہامی دیکھتے ہی دیکھتے اپنی گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔۔۔
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»“`

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: