Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 5

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 5

–**–**–

»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««
“ماں اسے کیسے پتہ چلے گا کہ وہ میرا شہزادہ ہے؟، پری نے اپنی ماں سے پوچھا جو کہ کشن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھیں”
” بیٹا وہ تمہارا کزن ہے تایا زاد، تیری پیدائش سے پہلے وہ پیدا ہوا، جب وہ پیدا ہوا تب اس کی ماں اسے پیدا کرتے ہوئے زندگی کی جنگ ہار چکی تھی۔۔۔ پھر تیرے تایا کی ایک دیو سے لڑائی ہوگٸ۔۔
” تیرے تایا نے اسے دیو کو بری طرح مارا لیکن تیرے تایا سے ایک غلطی ہوئی وہ اسے مرا سمجھ کر آنے لگے تب اس دیو نے تیرے تایا پر وار کیا اور وہ ہلاک ہوگۓ، بچا تو وہ دیو بھی نہیں لیکن تیرے تایا کو بھی مرتے موتے مار گیا، بڑی پری نے اپنی بیٹی کو تمام بات بتا کر ٹھنڈی آہ بھری…
“ماں پھر؟؟
تیرے شہزادے کو میں نے اٹھا کر اس کی گود میں ڈال دیا۔۔ کیوں کے اس بچاری کا بچا مردہ پیدا ہوا تھا اور اسے بچے کی ضرورت تھی وہ بہت ترسی ہوئی تھی بچے کی، اس لیے مجھے مجبورن ایسا کرنا پڑا۔۔ بڑی پری کی باتیں سن کر چھوٹی پری بہت غمگین یو چکی تھی۔۔
“ملکہ عالیہ!! محل میں آپکی سہیلیاں آئی ہیں”
“ایک کنیز نے ملکہ کو آ کر اطلاع دی”
” ٹھیک ہے تم جاٶ ان کے کھانے پینے کا انتظام کرو ہم آتے ہیں، چھوٹی پری نے کنیز کو کہا جو ملکہ کا حکم مانتے ہوئے باہر نکل گئ”
“ماں میں آتی ہوں چھوٹی پری بڑی پری کے پاوں پر بوسا دیتی اٹھا کر باہر نکل گئ۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««
“یہ صبح صادق کا وقت تھا۔۔۔ ہلکی ہلکی روشنی نکلی ہوٸی تھی”
“ایسے میں در عدن وضو کرنے کے بعد اپنے ٹیرس پر چلی گئ, جو کہ اس کے کمرے کے ساتھ ہی لگے دروازے کے ساتھ ہی تھا”
“عدن نے نماز ادا کی اور پھر قران پاک پڑھتے لگ گئ، جب وہ قران پاک پڑھ کر اٹھی تو اچھی بھلی روشنی ہوچکی تھی “عدن کچن سے چاہے کا کپ لیتی اپنے روم میں چلی گئ ٹیبل پر چاہے کا کپ رکھ کر وہ ونڈو سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔
“وہ سالار کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ اس سے کیسے جان چھڑوائے٬ تبی کوئی اس کے روم میں داخل ہوا اور روم لاک کردیا، وہ پلٹ کے دیکھتی اس سے پہلے ہی اسے پیچھے سے کوئی اپنی باہوں میں بھر چکا تھا۔۔۔
“مارگریٹ!!!
“کیسی ہو؟؟
“سالار کی آواز اس کے کانوں میں پڑھی تو وہ بری طرح ڈر گئ”
“پلیز مجھے چھوڑے، عدن روتی ہوئی اسے پیچھے ہٹانے لگی تو سالار کو اسے چھوڑنا پڑا..
“اچھا مارگریٹ تم تو رونے لگی، چپ ہو، وہ حکم دیتے والے انداز میں بولا”
“آپ چلے جائے میرے روم سے عدن نے اسے جانے کو کہا”
“میں جاتا ہوں پہلے ادھر گڈ مورنگ کس تو کرو نا سالار نے اپنی گال پر انگلی رکھ کر گھٹیا پن کی حد گراس کرتے ہوئے کہا”
“عدن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا، اسی لیے وہ اس سے بن ڈرے زبردست قسم کا چماٹ لگا چکی تھی، حد میں رہے سالار بھائی میں آپ سے کبھی شادی نہیں کرو گی”
وہ حیرت اور بے یقینی سے اسے دیکھتا تن فن کرتا روم سے نکل گیا.۔۔۔
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“منان روز اس پری کا انتظار کرتا لیکن وہ آج دو منتھ سے نہیں آئی تھی، نہ جانے وہ کیوں اس کا انتظار کرتا لیکن اس کا انتظار بھی مزید ہڑھتا جارہا تھا، وہ آج بھی معمول کے مطابق اس کا انتظار کررہا تھا لیکن وہ ابھی تک نہیں آئی تھی, تبی روم کا ڈور ناق ہوا”
“مومنہ روم میں داخل ہوٸی”
“ماما آپ آئے منان نے ماں کو بیٹھنے کی جگہ دی”
“منان بیٹا تم نے شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے، ماشااللہ سے 31 سال کے ہوگے ہو اب”
“ماما ایسی بھی کیا جلدی ہے، کرلے گے شادی بھی منان نے ٹالنے والا انداز میں کہا”
“کوئی نہیں اب میں اور انتظار ہرگز نہیں کرو گئ، تمہاری کوئی پسند ہے تو بتاو مومنہ نے سحتی سے کہا”
” ماما مجھے تو کوئی پسند نہیں ہے آپکو کوئی پسند ہے میرے لیے تو کردیں شادی”
” منان کو لگا تھا مومنہ اس کا رشتہ کہیں آگے پیچھے دیکھے گئ تبی اس نے ایسا کہا۔۔ منان کو لگا تھا جب مومنہ کہے گی میں رشتہ تلاش کرتی ہوں تو میں ماما کو منع کردو گا، لیکن منان کے سوچ کے برعکس مومنہ نے کہا ہاں رھبہ کے لیے تمہارا پرپوزل لے کر آج ہی جاو گئ”
“ماما!!!! منان نے پرشانی سے کہا لیکن مومنہ نے اسے ٹوک دیا،۔۔
“منان میں اب کچھ نہیں سنو گئ اور اب منان کو خاموش ہونا پڑا، ۔ مومنہ روم سے باہر نکل گئ”
«««‹«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“منان اور رھبہ کا رشتہ پکا ہوچکا تھا۔۔
“اگلے مہینے دونوں کی شادی ہونا تہ پائی تھی”
“رھبہ کو جب پتہ چلا کے منان اس کا ہوجائے گا تو اس کے خوشی سے پاوں ہی زمین پر نہیں پڑ رہے تھے”
“منان کے موبائل پر رنگ ہوئی، منان نے نمبر دیکھا تو نیو نمبر تھا، اس نے کال رسیو کر کے کان کے ساتھ لگائی”
“پیاری سی سریلی آواز میں سلام کیا گیا”
“و علیکم اسلام” منان نے کال رسیو کر کے کہا”
“آپ کون؟؟ میں پہچانا نہیں آپ کو منان نے سوال کیا۔۔
“میں وہ ہی ہوں جس سے آپکا ابھی نیا نیا رشتہ بنا ہے، لیکن بہت جلد آپکی سانسوں میں بھی بس جاو گئ، رھبہ کے اس طرح کہنے پر منان کے منہ سے بےساختہ نکلا رھبہ۔۔
“جی منان جی، رھبہ نے لاڈ لٹاتے والے انداز میں کہا”
“تو منان نے سیریس ہوکر اس سے کہا تم خوش ہو نا؟ اس رشتے سے ”
“بہت زیادہ خوش ہو۔۔ “بہت شکریہ منان مجھے اپنا بنانے کے لیے، رھبہ نے کہا، تو منان نے جواب میں کہا اچھا میرا نمبر کس سے لیا؟ عدن سے؟
“جی اسی سے لیا ہے۔۔
“اچھا ٹھیک ہے بعد میں بات کرتی ہوں، رھبہ نے کہہ کر کال کاٹ کردی۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««««
“دو منتھ پہلے بڑی پری سحت بیمار تھیں، اور چھوٹی پری ان سے ایک منٹ کو بھی دور نہیں جاتی تھی…
“دو دن پہلے بڑی پری چھوٹی پری پر بہت سے انکشاف کرنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھیں، ملکہ کا رو رو کہ برا حال تھا، اب ملکہ کو پورا ایک منتھ محل میں ہی رہنا تھا۔۔
“ان کہ ہاں یہ رواج تھا کہ بڑی ملکہ کے مرنے کے بعد چھوٹی ملکہ کو ایک منتھ تک سوگ میں کہیں جانا نہیں ہوتا، اسی لیے ملکہ محل میں ہی تھی دنیا کی تمام تر باتوں سے بےخبر…
«««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“سالار کی خقیقت جاننے کے بعد رجب نے سالار کو کہا تھا ایک غیر مسلم کے لیے میرے گھر میں کوئی جگہ نہیں اب واپس آنے کی زحمت مت کرنا۔۔
“بابا بابا!!! دیکھے میں جو بھی ہوں لیکن آپکو اپنے پتا کی طرح سمجهتا ہوں، سالار نے منت بھرے لہجے میں کہا۔۔
“نہیں سالے ایک ہندو سے مجھے کوئی رشتہ نہیں رکھنا ہے، اور رجب نے کال کاٹ کردی”
“سالار نے ساری بات اپنے گُرو کو بتائی”
“کمار!!! شنی۔۔شنی تیرا برا وقت آگیا ہے کمار ، سادھو نے کھڑے ہوا کہا”
“اب مجھے کیا کرنا چاہے، گُرو جی آپ ہی بتایں، سالار نے پرشانی سے کہا”
“ایک ہی حل ہے اب کالا جادو تمہیں بچا سکتا ہے بالک”
“اس میں وہ دونوں ناگ ناگن بلی چڑھے گئے، سادھو نے کہا اور سالار کو کالے جادو کا طریقہ بتانے لگا”
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««
“آج منان اور رھبہ کا نکاح اور رخصتی تھی”
“دونوں گھرانوں میں خوشیاں ہی خوشیاں تھی۔۔۔
“منان اور رھبہ کے نکاح کے بعد عدن اور تہامی کی منگنی کی تقریبا رکھی گٸ تھی۔۔۔

“چار کالے بکروں کی سریاں(سر) قطار میں رکھی گئی تھی، اور دو پراتے خون کی، خون کے دائرے میں وہ بیٹھا مسلسل عمل کیے جارہا تھا، سامنے آگ میں وہ بھر بھر کے گھئ ڈالتا تو سامنے لگی آگ مزید تیزی پکڑ لیتی تھی۔۔۔
“سامنے رجب اور رانیہ کی تصویر رکھی وہ اس پر بھی عمل کررہا تھا۔۔۔

“منان اور رھبہ کا نکاح ہو چکا تھا، اور دونوں کو ساتھ بیٹھایا گیا تھا۔۔
“اب تہامی اور عدن نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائی۔۔۔
“اب فوٹو شوٹ ہوا باری باری سب نے فوٹو بنوائی اور اب رخصتی کا وقت ہوا۔۔۔
“رھبہ اپنے ماما بابا کو مل چکی تو عدن اور مومنہ نے اس کا لہنگا اٹھا اور چلنے لگی، تہامی رھبہ پہ قران پاک کا سایہ کیا ہوا تھا۔۔۔
“تبی رانیہ اپنے گال پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئ جہاں ایک کٹ نمودار ہوا اور وہاں سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا، ابھی ایک گال وہ پکڑے بیٹھی تھی تبی دوسرے گال پر بھی ویسا ہی کٹ لگا اور خون نکلنے لگا۔۔ رانیہ درد سے رونے شروع کر چکی تھی، کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا کیوں کے رانیہ کو کٹ کوئی غائبی طرح مار رہا تھا، سب مہمان بھی ہکے بکے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔
“رجب اور تہامی رانیہ کی طرف بڑھ تو ساتھ ہی رانیہ نے چیخ مار کر اپنی پشت کی طرف اشارہ کیا جب رجب نے رانیہ کی کمر کی طرف دیکھا تو وہاں بھی ایک بڑا کٹ لگا اور رانیہ کی سفید ساڑی کا بلوز خون سے لال ہوچکا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے رانیہ کے جسم پر کہیں ان گنت کٹ لگ چکے تھے، جب رانیہ لہولہان ہو گئ اور تکلیف سے بےہوش ہوگئ تو تہامی نے ماں کو اٹھاکر سامنے لگے صوفہ پر ڈال دیا۔۔۔۔
“اب رانیہ کے کٹ ختم ہوئے ہی تھے کہ رجب اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا اس کے بھی سینے پر کٹ لگا چکا تھا، اور پھر باری باری پیٹ،گال،کمر،ٹانگوں اور جسم کے مختلف حصوں پر کٹ لگائے گئے، رانیہ اور رجب دونوں کو زخمی اور بےہوشی کی خالت میں ہوسپیٹل منتقل کیا گیا۔۔
“آج چار دن بعد رجب اور رانیہ کو گھر لایا گیا تھا اور دونوں کافی بہتر محسوس کررہے تھے، تبی آج رھبہ کو اپنے گھر جانے کو کہا کیوں کے رخصتی کے وقت جو کچھ ہوا رھبہ نے رو رو کر اپنی حالت خراب کرلی تھی..
اب جب دونوں واپس گھر آچکے تھے تب علی مومنہ عدن اور منان دونوں کی طبیعت پوچھنے آئے تب رانیہ اور رجب نے رھبہ کو منان کے ساتھ جانے کو کہا۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««««
“منان جب باہر آیا تو رھبہ نے کہا چلیں گھر منان۔۔
“تم اس حالت میں میرے ساتھ میرے بیڈ روم میں جاو گئ منان نے اس کے سمپل سے ڈریس پر نظر ڈال کر کہا”
“جی تو کیا ہے میری حالت کو، رھبہ نے منہ بنا کر پوچھا”
“چلو میرے ساتھ”
“منان اسے بازو سے پکڑ کر روم میں لایا اور بری کے ڈریسز جو کے مومنہ نے اس کے لیے بنوائے تھے اس میں سے لائٹ گرین اور لائٹ پنک کلر کا شرارہ نکال کر دیا اور اسے باہر گاڑی تک لایا۔۔
“رھبہ کو گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی پالر کی طرف ڈال دی”
“پالر پہنچ کر منان نے بیوٹیشن سے کہا میری دولہن کو ایسا تیار کرو کے یہ خود بھی پہچان نہ سکے خود کو۔۔۔
اور مجھے وقت بتادیں میں کتنی دیر بعد او اس کو لینے بیوٹیشن نے ٹائم بتایا
تو وہ واپس چلا گیا۔۔۔
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہا”
“تیرا عمل سفل (مکمل) ہوا بالک سادھو نے سالار کو کہا”
“اب وہ دونوں رفتہ رفتہ مر جائے گئے.. ہاہاہاہاہاہاہا..
اب تمہیں اس کی بیٹی کو لے کر آتا ہے جس نے تیرے ماتا پتا کی ہتھیا کی، سادھو سالار کا دھیان پھر اس طرف لگاتے ہوئے بولا۔۔
“یہ سب کالا جادو تھا جو سالار سے سادھو کروا رہا تھا، دیکھتے ہیں سادھو اور سالار اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»««««««««««««««««««««
“منان بیوٹیشن کے دیئے ہوئے وقت پر پالر پہنچ چکا تھا، جب وہ اندر گیا تو بیوٹیشن نے اسے دیکھ کر کہا میں بلاتی ہوں آپ کی وائف کو،
یہ لے جائے اور اسے کہیں کے چہرہ چھپا کر آئے، منان نے اسے بڑی سی چادر دیتے ہوئے کہا
“رھبہ نے ایسا ہی کیا جیسا منان نے کہا تھا، اور آکر گاڑی میں بیٹھ گئ، رھبہ تم روم میں جاو میں آتا ہوں منان اسے کہتا گاڑی سے اترا”
“منان اچھے سے ڈریس اپ ہوکر اپنے روم میں داخل ہوا، تو منان کی نظر سامنے گھڑی پر پڑی جہاں بارہ ہونے والے تھے”
“منان نے آج دوبارہ اپنا روم ڈیکوریٹ کروایا تھا، گلابوں کے بھکے سارے روم میں لگے ہوئے تھے”
“منان چلتا ہوا اپنے بیڈ کی جانب آیا جہاں رھبہ گھگھٹ ڈالے بیٹھی تھی”
“منان نے رھبہ کا گھگھٹ الٹ دیا، منان نے رھبہ کی تھوڑی کو ہاتھ سے اوپر اٹھایا رھبہ بہت پیاری لگ رہی تھی منان نے رھبہ کو منہ دیکھائی کی رنگ پہنانی۔۔۔
یہ بہت پیاری ہے رھبہ نے کہا۔۔
تمہارا شوہر بھی بہت پیارا ہے ابھی اسے دیکھ لو بعد میں میں موقع نہیں دو گا۔۔
جس پر رھبہ شرما کر نیچھے دیکھنے لگی۔۔
اور ساتھ ہی رھبہ کو کہا تمہاری محبت کا پتہ لگاتے ہیں کہ کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے منان نے اس کا دوپٹہ سرکا دیا اور اس کی جولیری اتار کر اسے اپنی باہوں میں بھر لیا وہ اس کی سانسوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرتا اس کی محبت کا امتحان لینے لگا۔۔۔
“تبی کھڑکی سے منان کو اور رھبہ کو دو آنکھیں حیرت اورو بے یقينی سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: