Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 6

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 6

–**–**–

“””””””””””””””“””””””””
” بڑی ملکہ کی فوتگی کے بعد آج ایک مہینہ گزر چکا تھا لیکن شہزادی حورین آج بھی سنبھل نہیں پائی تھی”
“ملکہ اپنے خواب گاہ میں آرام کر رہی تھی تب کنیز اندر داخل ہوئی اور ملکہ عالیہ آپ سے دوسرے شہر کی ملکہ عالیہ ملاقات کا شرف چاہتی ہیں”
” ٹھیک ہے تم انہیں مہمان خانے میں بٹھاؤ اور ان سے کھانے پینے کا پوچھو میں آتی ہوں، ملکہ کی بات سن کر کنیز ادب میں سر جھکاتی ہوئی باہر چلی گئی”
” ملکہ مہمان خانے میں پہنچی تو دوسرے شہر کی شہزادی اور ان کا شہزادہ وہاں تشریف فرما تھے، جنہیں دیکھ کر ملکہ نے رسمی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر ان کو خوش آمدید کہا”
جی تو شہزادی یمن اور شہزادہ زوہان کیسے آنا ہوا ہوا؟؟ میرے اس غریب خانی میں!
” ملکہ نے ان سے آنے کا مقصد دریافت کیا؟؟
” شہزادی حورین ہم دراصل اس بات کو لے کر یہاں حاضر ہوئے ہیں کہ بڑی ملک کو گزرے آج ایک مہینہ ہو چکا ہے، اور آپ کی سلطنت میں ابھی تک شہزادہ منتخب نہیں کیا گیا آپ کو چاہیے جلدی سے اپنا شہزادہ منتخب کریں ورنہ دوسرے شہر کا شہزادہ آپ کو نکاح کا پیغام ہمارے ذریعے بھیج رہا ہے آپ کو وہ قبول کرنا ہوگا یہ ریاست کا اصول ہے جو آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں”
“اب کی بار شہزادے زوہان نے ملک حورین سے کہا تو ملکہ نے زخمی مسکراہٹ چہرے پہ سجا کر ان کو جواب میں کہا ہاں آپ فکرمند نہ ہوں میں جلد ہی اپنا شہزادہ تلاش کر لو گی اور بہت جلد سلطنت کا بادشاہ منتخب ہو جائے گا”
” ضرور ضرور پیاری سکھی ہمیں انتظار رہے گا تمہاری شادی کے انویٹیشن کا ملکہ یمن نے پیار سے کہا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی”
ملکہ اب ہمیں اجازت چاہیے آپ کی شادی پر ضرور آئیں گے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ کی شادی کا نوٹیفکیشن جلد ہی مل جائے گا شہزادے زوہان نے ملکہ کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ کر کہا اور باہر چلے گئے”
«««««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»
“سالار رجب اور رانیہ پر لگاتار کالے جادو کے عمل کئے جا رہا تھا ..
“اسے سادھو سے یہ بھی معلوم ہو رہا تھا کہ جادو کے عمل بلکل ضائع نہیں جا رہے بلکہ رانیہ اور رجب سخت بیمار ہیں۔۔ ان کی بیماری کا سن کر سالار کے دل میں بے چینی ہوتی لیکن وہ مکار سادھو اسکی بےچینی کو دو منٹ میں دور کر دیتا۔۔
“سالار سے کہتا ارے کمال وہ۔۔۔وہ تیرے دشمن ہیں وہ مسلے تیرے دشمن ہیں دشمن اور تو ان کے لیے بے چین ہو رہا ہے تو پاگل ہوگیا ہے کیا کالے جادو کے عمل میں تو بہت آگے تک جائے گا اگر تیرے دل میں یہ بے چینی رہی تو ماتا رانی تجھے اور تیری بلیوں کو سویکار(قبول) نہیں کرے گی..
سادھو کے یہ بات کہنے سے ہی سالار فورا سے رجب اور رانیہ کے متعلق سوچنا چھوڑ دیتا اور سارا دھیان اپنا کالے جادو پر لگانا شروع کر دیتا جس سے وہ اور زور و شور سے رجب رانیہ پہ کالے جادو کرنے لگا تھا۔۔۔ جس کے نتیجے میں رجب رانیہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے جنہیں رھبہ دیکھ دیکھ کر پریشان تھی، تہامی کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا بلکہ علی ہاؤس بھی ان دونوں کی کی غیر نظر آنے والی بیماری کو دیکھ کر بہت پریشان تھے۔۔۔
“سالار اپنے عمل میں مصروف تھا، تب بی وہاں پیلے رنگ کی روشنی نمودار ہوئی اور اس میں سے سادھو نکلا سالار کو کہا کہ آج رات بہت خاص پوجا ہے۔ “جس سے سے تجھے ماتا رانی بہت کچھ دی گئ اور اس پوجا میں خاص طور پر رجب اور رانیہ کی موت واقع ہوگئی، جو تمہیں ضرور کرنی ہوگی، جیسی آپ آگیا دے گُرو جی ویسا ہی ہوگا۔۔
سالار نے سادھو کی بات کو مانتے ہوئے کہا ۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««
“منان اور رھبہ کی شادی کو ایک ماہ ہوچکا تھا۔۔
منان جب اپنے روم میں داخل ہوا اسے رھبہ واش بیسن کو تھام الٹیاں کرتی نظر آئی منان اسے کے پاس پہنچا کہ کہیں وہ گر ہی نہ جائے۔ رھبہ فیس واش کرتی ہوئی باہر آنے لگی تو منان اسے تھام کر بیڈ تک لے آیا اور لا کر بیڈ پر بٹھا دیا۔۔
“کیا ہوگیا رھبہ؟؟ منان اسے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھا؟ منان کچھ نہیں ہوا اب پتا نہیں صبح سے مجھے بہت زیادہ الٹی آرہی ہے اور چکر بھی آرہے ہیں پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے مجھے شاید گرمی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔۔
!چلو میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتا ہوں۔۔ “تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے، منان نے اسے کہا تو وہ فورا سے تیار ہوگئ۔ کیوں کے وہ اسے انکار نہیں کر سکتی تھی ، مشادی کے کچھ دنوں بعد ہی اسے معلوم ہو چکا تھا کہ منان کو اسکی کسی بات میں انکار کرنا پسند نہیں اور وہ منان کی دیوانی اسے کسی بات سے انکار نہیں کرتی تھی۔۔ اس کی انہی سب باتوں کی وجہ سے وہ شروع دن سے ہی اپنیی بیوی کا دیوانہ ہو چکا تھا وہ اسے ذرا سی تکلیف میں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا ذرا سے سر درد کو لے کر بھی وہ فورا سے پریشان ہو جاتا کہ کیا ہو گیا اس کی بیوی کو۔۔ پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ دونوں ڈاکٹر شازیہ گائنی کالوجسٹ کے کلینک کے باہر تھے ۔۔
“ڈاکٹر شازیہ نے رھبہ کا مکمل چیک اپ کیا اور چیک کرنے کے بعد منان کو باپ بننے کی خوشخبری سنائی۔۔۔
“منان ڈاکٹر کی بات سن کر بہت خوش ہوا اور جلدی سے رھبہ کو گھر لے گیا۔
“آج علی ہاؤس میں رھبہ اور منان کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا علی اور مومنہ اپنے قریبی رشتہ دار کی شادی میں گئے ہوئے تھے۔
منان اپنے گھر کے پورچ میں گاڑی روک کر کر رھبہ سے بولا تم نیچے مت اترنا اور باہر نکل کر وہ رھبہ والی سائیڈ پرگیا، اسے باہوں میں اٹھا کر اوپر اپنے کمرے میں لے جانے لگا وہ تو اس کی حرکت پر دنگ رہ گئ ۔۔
” کیا کر رہے ہیں منان گھر کے نوکر دیکھیں گے تو کیا کہیں گے اور اگر عدن نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گی ہمارے بارے میں پلیز! آپ مجھے اتار دیں۔۔
” چپ ہو جاؤ رھبہ تمہیں اس کنڈیشن میں نہیں ہوں کے تم خود چل کے جاؤ اور عدن دیکھتی ہے تو دیکھنے دو اور میں نے کونسا کسی اور کو اٹھایا ہوا ہے اپنی بیگم کو ہی تو اٹھایا ہے اب اپنے روم میں جانے تک خاموش رہنا۔۔ منان کے ایسا کہنے پر اب وہ بلکل خاموش ہو چکی تھی۔۔
“منان نے رھبہ کو لاکر بیڈ پہ بیٹھا دیا۔۔
میری جان تم نے مجھے اتنی بڑی خوشخبری دی ہے بہت شکریہ میری جان، منان نے پیار سے اسکا گال چوم کر کہا، جس پر رھبہ شرما کر منان کے سینے میں سر چھپا گئ”
“ایک بات میں آپ لوگوں کو یہاں پر کلیئر کرتی چلوں کہ رھبہ تیس سال سے پہلے ہی منان کی زوجیت میں آ چکی تھی اس وجہ سے وہ ایک انسان بن چکی ہے کیونکہ 30 سال کی عمر میں اپنی ناگ شکتی سے واقف ہوتی جو کہ تیس سال سے پہلے ہی رھبہ منان کی زوجیت میں آ چکی ہے اس لیے اسے نہ تو یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ ایک ناگن کی بیٹی ناگن تھی اور نہ ہی اب اس پہ کبھی ناگن والا روپ جا سکتا ہے وہ مکمل طور پر ایک عام انسان بن چکی ہے لیکن منان تو انسان ہی نہیں۔۔۔
“دوسرے دن جب علی اور مومنہ شادی سے واپس آئے رات کو کھانے کی میز پر منان نے جب ان کو یہ خبر سنائی تو وہ دونوں بھی بہت خوش ہوئے علی نے منان سے کہا کہ اب اپنا ولیمہ کر لینا چاہیے تمہیں ۔۔
“پاپا میں ابھی ولیمہ نہیں کر سکتا میرے کچھ دوست باہر ہیں۔۔
“وہ آجائیں تو ان کی موجودگی میں ولیمہ کرنا چاہتا ہوں اس لئے کچھ عرصے تک ولیمہ نہیں کر سکتا۔۔
“اچھا بیٹا جیسے تمہاری مرضی جب تم چاہو تب کر لینا لیکن اب رھبہ کا تم نے بہت سارا خیال رکھنا ہے وہ اس گھر کو اولاد دینے والی ہے، مومنہ نے محبت سے بیٹے کو سمجھایا۔۔
“جی ماما میں بہت خیال رکھوں گا آپ فکر نہ کریں۔۔
شانو تم سن لو رھبہ کا کھانا اس کے روم میں پہنچانا تمہاری ذمہ داری ہے اب وہ نیچے نہیں آئے گی مومنہ نے کھانا صرف کرتی نوکرانی سے کہا۔۔
جاؤ چھوٹی بی بی کے لئے کوئی اور اچھا سا کھانا بنا کر روم میں پہنچاؤ، نورانی مالکن کا حکم سن کر کچن میں چلی گئ۔۔
منان بیٹا تم اسے اپنے موجودگی میں سارا کھانا کھلانا ایسی حالت میں لڑکیاں کم کھانا کھاتی ہیں، اس لیے اپنے سامنے سارا کھانا ختم کروانا تاکہ بچے کی صحت اچھی ہو۔۔
جی ٹھیک ہے ماما وہ ٹیشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتا کھانےکی میز سے اٹھ کر اپنے روم میں چلا گیا۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««««««
“رجب اور زانیہ کو سوئے ہوئے ابھی چند منٹ بی گزرے تھے کہ ان کے روم میں سفید رنگ کی روشنی پھیل گئی اس روشنی میں سے وہی بزرگ جنہوں نے ان دونوں کا نکاح اور ان دونوں کو دائرہ اسلام میں لایا تھا وہی بزرگ ظاہر ہوئے رجب نے انہیں دیکھ کر سوئی ہوئی رانیہ کو بھی جگا دیا اور دونوں بزرگ کے سامنے عقیدت اور آدب سے بیٹھ گئے، پھر بزرگ نے بولنا شروع کیا میرے بچوں!!
“تم بہت مصیبت میں ہوں تمہیں وہی ڈس رہا ہے جسے تم نے پال پوس کر بڑا کیا ہے۔۔ وہ لڑکا ناگ کا بیٹا جسے سے میں نے مارا تھا اور علی نے چلہ کاٹا تھا وہ اس لڑکے نے تم دونوں پر کالا جادو کر دیا ہے اور تمہارے بچوں پہ بھی کرے گا اس لئے تم دونوں جاؤ اور اسے ختم کر دو کمرے میں لگی پینٹنگ کی طرف اشارہ کیا تو وہاں وہ تصویر نظر آنے لگی جہاں پہ سالار عمل کررہا تھا بابا جی نے جگہ کی نشاندہی کرواتے ہوئے کہا اور فوراً غائب ہوگئے رجب رانیہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئے اور جلدی سے کہیں جانے کے لیے تیار ہوگئے۔۔ رجب رانیہ جلدی سے کھنڈر میں پہنچے جہاں پر سالار کالا جادو کرتا تھا۔۔ رجب نے دیکھا کہ وہ ابھی بھی کالا جادو کر رہا تھا لیکن اب اس کے سامنے لگی تصویر رھبہ، منان ،عدن اور تہامی کی تھی۔۔ وہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ وہ ان کے بچوں پر بھی کالا جادو کرنے والا ہے۔۔
یہ دیکھ کر رجب اور رانی نے فورا ناگ روپ لیا اور سالار کے عمل کو توڑنے لگ گئے ۔۔
“سالار کی جب ان دونوں پر نظر پڑی تو وہ دنگ رہ گیا۔۔
رانیہ نے سامنے لگی اپنے بچوں کی تصویر کو اٹھا کر غائب کر دیا اور رجب نے اس کے عمل کے سامان پر جادو کی آگ لگا دی جس پر سالار بلبلا اٹھا اور ان دونوں سے لڑائی کرنے کی ٹھان لی سالار اٹھا اور ان پر کالے جادو کے منتروں کے وار سے ان دونوں پر حملہ کرنے لگا گا جواب میں رجب اور رانیہ بھی اس سے لڑنے لگے۔۔
“رجب نے سالار کا سارا جادو کا سامان اور عملات کے لیے استعمال والی چیزیں سب کو جلا کر راکھ کر دیا یہاں تک کہ اس کے وہ عمل جو اس نے لوگوں کے برے کے لیے کیے تھے اور جس سے اس نے جنات کو قابو کیا تھا وہ سب رجب نے ضائع کردیا یہ سب دیکھ کر سالار کو بہت غصہ آیا اور وہ رانیہ اور رجب کو ایک سرکل نما جگہ کی طرف دھکیل رہا تھا یقینا اس جگہ پر اس نے ان دونوں کے لئے کچھ برا کیا ہوا تھا پر رجب رانیہ اس بات سے بے خبر اسی طرف جا رہے تھے۔۔۔
“رجب اور رانیہ نے سالار کو اچھا خاصا زخمی کر دیا تھا لیکن جب دونوں سرکل نما جگہ میں داخل ہوئے تو دونوں کے جسم کو بری طرح سے آگ لگ گئی جسے دیکھ کر سالار زور سے ہنسا تھا ہاں اب مزا آئے گا دونوں کو ایک جگہ موت دے کر مزہ آ گیا یہ میرے کالے عمل کی پہلی جیت ہے۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا سالار دونوں کے جھلسے جسموں کو دیکھ کر ہنس رہا تھا۔۔رجب رانیہ کے ناگ روپ کی جگہ اب وہاں پر دونوں کی انسانی شکل کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں سالار نے کچھ پڑھ کے پھونک ماری تو وہ لاشیں غائب ہوگئی۔۔۔
«««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»

” منان نے اپنے ہاتھوں سے رھبہ کو رات کا کھانا کھلایا تھا اور پھر اسے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق میڈیسن دے کر اس کی پریشانی کو چومتے ہوئے بیڈ پر سلا دیا ‘
“وہ کچھ ہی دیر میں سو چکی تھی اب منان اپنے کمرے سے کھڑکی میں دیکھنے لگا یہاں سے وہ پری کو دیکھا کرتا تھا آج کتنے مہینے ہو گۓ تھے اسے پری سے ملے ہوئے بے شک اس کے دل کے کسی کونے میں پری سے دوبارہ ملنے کی امید تھی۔۔
“جیسے وہ اس کی پرانی ساتھی ہو کھوئی ہوئی راجکماری ہو اور کسی حد تک یہ سچ بھی تو تھا لیکن منان ان سب سے انجان بس اسے ملنے کی دعا کر رہا تھا۔۔۔
“تبھی گھڑی اپنے گیارہ کے ہندسے کو کراس کرتے ہوئے بارہ کے ہندسے پر جا پہنچی۔۔
“ادھر گھڑی نے بارہ بجے جائے اور ادھر جنگل میں نہر کے قریب ہرگز کے درخت کے نیچھے سبز رنگ کی روشنی پھیل گئی۔۔
” جس میں سے سبز ہی لباس اور گولڈن بالوں والی وہ ہی خوبصورت پری نمودار ہوئی،منان بغیر پلک جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا ،جیسے سچ میں اس کی ہونے کا یقین کر رہا ہوں کہ وہ واقعی نہر کے قریب موجود ہے یا اس کا وہم ہے لیکن منان کو کوئی خواب یا کوئی وہم نہیں ہوا تھا بلکہ وہ سچ میں اس کے سامنے موجود تھی اور اسی کی طرف دیکھ رہی تھی منان نے جب اس کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو فورا سے کھڑکی سے باہر کود کر اس کی طرف چلا گیا۔۔۔
” تم کدھر تھی پری!! دوستی کا وعدہ کرکے پھر غائب ہی ہو گی منان نے کسی اپنے کی طرح اس سے گلہ کیا ”
“تمہیں میں کیا بتاؤں تو دوست ان مہینوں میں مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔۔
” منان!! تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتی ہوں کیا تم میرے ساتھ جاؤ گے؟ کیا تمہیں مجھ پہ یقین ہے؟ کیا اپنی دوستی کا فرض نبھا گے؟ میرے ساتھ جا کر اس نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
” منان کے منہ سے بے اختیار نکلا میں ضرور تمہارے ساتھ جاؤں گا،،مجھے تم پر یقین بھی ہے اس نے اس کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا، کیوں کے وہ اس کی آنکھوں میں خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔۔
“منا ن کو اس کا ضمیر چیخ چیخ کے کہہ رہا تھا کہ اس کی بیوی ہے جو اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے اسے یہ سب نہیں کرنا چاہیے ،لیکن منان اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہ جانے یہ سب کیوں کر رہا تھا اور وہ اس کے ساتھ جانے پر تیار ہو گیا پری اس کی بات سن کر بہت خوش ہوئی اس سے اس کا اقرار بہت خوشی دے گیا ہو جیسے اس کے ہاتھ دنیا کی قیمتی چیز ہاتھ لگ گئی ہو پری اسی خوشی میں ایک جانب کو پھونک مارتی ہے،اور وہاں ایک خوبصورت سفید رنگ کی گھوڑی نمودار ہوتی ہے پری منان کو اس پر بیٹھنے کا اشارہ کرتی ہے اور خود بھی اس پر بیٹھ جاتی ہے اور گھوڑی اڑتی ہوئی برف کی وادی میں جا پہنچتی ہے۔۔“` “““

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: