Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 7

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 7

–**–**–

“یہ شام کا خوبصورت وقت تھا تھا ہر چیز صاف ستھری دھلی ہوئی نظر آ رہی تھی کیونکہ صبح بہت زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے ہر چیز صاف ستھری اور شفاف نظر آ رہی تھی، پہاڑوں سے پانی رواں تھا اور سرسبز پہاڑ بہت خوبصورتی کا منظر پیش کر رہے تھے”
” عدن اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑی ہو کے خوبصورت پہاڑوں اور بہتی نہر کا منظر دیکھ رہی تھی اور ساتھ میں ہاتھ میں اٹھایا کافی کا مگ اس سے لطف اندوز ہو رہی تھی تبھی اس کی سوچوں کا تسلسل اس کے فون کی رنگ ٹون نے توڑا عدن نے اپنا موبائل اٹھا کر سامنے کیا جہاں اسکرین پے تہامی کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔
” باقی دعا سلام کے بعد عدن نے اس سے کال کرنے کا مقصد پوچھا؟ کیوں جناب میں آپ کو ویسے کال نہیں کر سکتا کیا اب تو خیر سے آپ میری ہونے والی بیوی ہیں اب تو میں کال کرنے کا حق رکھتا ہوں تہامی نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
“ہا ،جی آپ بلکل کال کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے نہ کال کرنے کی تو وجہ بتائے آپ کال کرنے کی؟ عدن نے اپنے ہاتھ کے ناجن کو دانتوں میں دباتے ہائے سوال کیا۔۔
“جی جناب وجہ ہے نا، تہامی نے دور سے عدن کو فلائنگ کس کرتے ہوئے بات بتانی شروع کی۔ بات یہ ہے کہ اتنے خوبصورت موسم میں آپ کو اپنے ساتھ کہیں ڈیت پہ لیے جانے کا پروگرام رکھتا ہوں۔
تہامی نے۔ مزاحیہ لہجے میں کہا تو آپ پلیز اچھی سی ڈریسنگ کرکے میرے ساتھ ساتھ والے پارک چلے تو آپ کی بہت مہربانی ہوگی تہامی کے پہلے ٹھرکی اور پھر اس قدر عاجزی سے کہنے پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تو سامنے کھڑکی میں کھڑے تہامی نے اسے تیار ہوکر نیچے آنے کو کہا، تو وہ کپ کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے اپنا ڈریس لے کے واش روم میں گھس گی”
“دس سے پندرہ منٹ ہو چکے تھے ان دونوں کو پارک میں جلتے ہوئے پھر وہ دونوں سامنے کھیلتے بچوں کے ساتھ کھیل میں شامل ہوچکے تھے، کچھ دیر بعد تہامی تو بنچ پر بیٹھ گیا لیکن عدن ویسے ہی کھیل میں مصروف تھی جیسے وہ بھی معصوم بچی ہو۔۔
کچھ دیر بعد بھی جب عدن کھیلنے میں مصروف رہی تو تہامی نے اسے آواز دے کر بلایا کہ اب ہمیں چلنا چاہیے کیونکہ کافی دیر ہو چکی اور اندھیرا بھی پڑھنے والا۔۔
“عدن اور تہامی دونوں گھر کی طرف چل پڑے اندھیرا بھی ہلکا سا ہو چکا تھا۔۔ ابھی دس منٹ ہی وہ دونوں چلے ہوں گے کے عدن اپنے بازو پہ ہاتھ رکھ کے چیخ اٹھی۔
کیا ہوگیا کیوں چیخ رہی ہو عدن تہامی نے پریشان ہو کر اس سے پوچھا؟؟
” تہامی مجھے نہ بازو پہ سوئی چبھ رہی ہے اس نے بازو کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔، ابھی وہ ایک بازو پہ ہاتھ رکھے بیٹھی ہوئی تھی کہ اس کی دائیں بازو کے بھی وہی عمل ہوا ابھی وہ سنبھل ہی نہیں پائی تھی کہ یک بعد اس کے جسم کے مختلف حصوں پر سوئیاں چبھنے لگی کبھی پیٹ پر کبھی کمر پر کبھی بازو پر کبھی ٹانگ پر اور ساتھ وہ رو رو کے یہ بھی بتا رہی تھی کہ اس کے بازو اور ہاتھ پاؤں جیسے کسی چیز نے جکڑ لیے ہوں وہ انہے ہلا بھی نہیں پا رہی تھی، اتنی بے بس پر عدن کا دل بند ہورہا تھا..
“25 منٹ لگاتار اس کے جسم پر یہی عمل ہوتا رہا اور وہ اس تکلیف کو برداشت کرتے کرتے بےہوش ہو چکی تھی تہامی بھی پریشان حال یہی سوچ رہا تھا پہلے اس کے ماما بابا کے ساتھ اور اب اس کی ہونے والی بیوی کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور وہاں سے اسے اٹھاتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا۔۔
««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“سالار رجب اور رانیہ کی لاشوں کو غائب کرنے کے بعد اپنی راکھ ہوئی چیزیں ڈھونڈنے لگا وہ تصویریں ڈھونڈنے لگا جو رجب علی کے بچوں کی تصویریں ساتھ لایا تھا کالے جادو کے لیے سالار کی بدقسمتی رجب نے اس کا سارا کالے جادو کا سامان جلا کر راکھ کر دیا اپنے بچوں کی تصویریں بھی جلادی لیکن پتہ نہیں کیسے۔ عدن کی تصویر اسے کونے میں پڑی ہوئی نظر آئی جو تھوڑی سی کونہ سے جلی تھی باقی اس کی جسم اور فیس بالکل ٹھیک ٹھاک تھا سالار کے منہ پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔
” وہ عدن کی تصویر کو اسی جگہ پر رکھنے لگا جہاں کالے جادو کی تصویروں کو رکھا جاتا ہے، اور دوبارہ سے عدن کی تصویر پر عمل کرنے لگ گیا”
“وہ اسنے تصویر کو دیکھتے ہوئے کپڑے کی ایک گڑیا بنائی اور پھر اس گڑیا کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کی طرف رسی کے ساتھ باندھ دی،اب اس کے دونوں پاؤں کو بھی وہ باندھ چکا تھا۔۔۔
“سامنے مختلف سوئیاں پڑی ہوئی تھی جو کہ اس نے کالے جادو کے ذریعے بنائی تھی وہ سویاں اٹھا کر ایک ایک کر کے اس گڑیا کے جسم میں اتارنے لگا۔۔
” وہ جیسے جیسے گڑیا کے جسم میں سوئیاں أتار رہا تھا۔۔ ایسے ایسے اس کے منہ پر فطرانہ مسکراہٹ پھیل رہی تھی ، آخر اس نے ساری کی ساری سویاں اس گڑیا کے ننھے وجود میں اتار دی۔۔ وہ اس عمل سے فارغ ہو کر اپنے گرو کے پاس چلا گیا۔۔۔۔
«««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“آج منان اور پری کو ساتھ آئے ہوئے پورے دو مہینے گزر چکے تھے”
” پری اور منان دونوں محل کے باغ میں چہل قدمی کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ باتوں میں مصروف تھے،، تبی پری نے اس سے کہا منان تم یہ تو جان ہی چکے ہو کہ تم میرے شہزادے ہو۔۔
“لیکن ابھی بھی دو راز اور باقی ہیں جو تم نہیں جانتے” یہ کہتے ہی پری نے بولنا شروع کیا۔۔۔
“تم میرے تایا زاد ہوں۔ مجھے میری میری ماں نے بتایا۔۔
” جس ٹائم مومنہ آنٹی کے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی لیکن بدقسمتی سے وہ لڑکا مردہ پیدا ہوا تھا۔۔اور ماں نے تمہیں مومنہ آنٹی کی گود میں ڈال دیا،، کیونکہ مومنہ آنٹی کو بچے کی بہت زیادہ خواہش تھی اس وجہ سے میری ماں نے تمہیں مومنہ آنٹی کے بچے کی جگہ رکھ دیا اور جو ان کا مردہ بچا تھا اسے اٹھا لیا، جو کہ کسی کو بھی پتہ نہیں چلا کیوں کہ وہ نے یہ سب غائب ہوکر کیا۔۔ اور اس مردہ بچے کو گھر کے باہر ہی دفنا دیا۔۔
“میری تائی ماں یعنی تمہاری ماں ثمرین پری وہ تمہیں جنم دیتے ہوئے، زندگی کی جنگ ہار گئی تھیں ،، پھر تمہارے بابا یعنی میرے تایا شہزادہ شہیر جو ایک دیو سے لڑتے لڑتے مارے جا چکے تھے تھے۔۔ ان سب کے باعث تمہاری دیکھ بھال صرف میری ماں پہ آ چکی تھی اور جب ماں کو اپنے ہاں بچا آنے کی خوشخبری ملی ،تب میرے بابا کو بھی دشمنوں نے دھوکے سے مار دیا تھا۔۔
” اب میری اکیلی ماں ہم دو بچوں کو پالنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی کیونکہ دشمن تاک میں تھا اس وجہ سے میری ماں نے تمہیں مومنہ آنٹی کی گود میں ڈال دیا اور وہ بھی تمیں اپنا بیٹا سمجھنے لگی۔۔اور اپنی گود بھری ہوئی دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سمائے آئی۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے تم دس سال کے ہوئے اور تمہیں لندن میں بھجوا دیا گیا لیکن میری ماں جانتی تھی کہ تم واپس آؤ گے اور تم بھی شہزادے ہو اور اس سلطنت کے بادشاہ بھی پھر میری ماں کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جو کہ بہت خوبصورت تھا۔۔ میری ماں بہت خوش تھیں لیکن دو تین مہینے کے بعد میرا بھائی غائب ہو گیا۔۔ ”
جو ایک ناگ نے اٹھا لیا تھا اور اس کا خون بہا کر خود نہایا تھا اور اپنی ناگن کو بھی نہلایا تھا تاکہ ان کے ہاں اولاد ہو سکے۔۔ کیونکہ ہمارا تعلق جنات قبیلے سے ہے اور ہم جنات ہیں اس وجہ سے ہمارا خون ایک ناگ کے خون کے ساتھ نہیں مل سکتا تھا ۔۔ جب وہ ناگ اور ناگن میرے بھائی کے خون سے نہائے اور کالے جادو کے ذریعے اس کی بیوی کو امید ہوگئی۔۔ لیکن جو میرے بھائی کا خون تھا وہ اس کے پیٹ میں ایک علیحدہ بچے کو پروان چڑھا رہا تھا۔۔ اس خون سے میری پیدائش ہوئی، میں اور اسکا بیٹا اس ناگن کے پیٹ سے پیدا ہوئے، لیکن سالار میرا بھائی نہیں ہے،،دیکھنے میں ہم دونوں بہن بھائی ہیں ۔۔لیکن وہ ایک ناگ ہے اور میں ایک جن زادی میں ایک ناگن کے پیٹ سے ضرور پیدا ہوئی لیکن میں ایک ایک جن زادی ہوں۔۔۔” حورین پری” اس سلطنت کی ملکہ اور جب سالار کو اور مجھے وہ ناگن جنم دیتے ہوئے مر گی۔۔
” پھر وہ ناگ جس نے میرے بھائی کو قتل کیا تھا اس کا خون اپنی ناگن کے جسم پہ بہایا تھا، اس ناگ کو انکل علی نے چلا کاٹ کے اور بابا جی کی خدمت سے مار دیا تھا۔۔۔
” تو میں تمہیں بتاتی چلوں کہ میں ایک جن زادی ہوں ایک پری ہوں بالکل بھی سالار کی بہن نہیں ہوں”
” یعنی کے تم ہی ہو حوری ہو ؟؟
“منان جو کافی دیر سے صرف پری کو سن رہا تھا اس سے سوال کیا۔۔۔
” ہاں میں ہی حوری ہوں۔۔ اب وہ دونوں اور بھی باتیں کرتے کہ ایک کنیز محل کی جانب سے آتی نظر آئی۔۔۔
” ملکہ عالیہ !!ملکہ عالیہ!!.
” ایک نیلے لباس والی پری حورین کے پاس آئی،، رجب انکل اور رانیہ آنٹی کو سالار نے ختم کردیا ہے۔۔
” پری نے ملکہ کے دماغ پر دھماکہ کیا۔۔
!! بکواس کر رہی ہو تم، ہوش میں تو ہونا حورین پری نے شدید غصے کے عالم میں پری کو کہا۔۔
” جو بیچاری ڈر کےپیچھے ہٹ گئی تھی، نہیں ملک عالیہ سچ کہہ رہی ہوں یہ سب سچ ہے، اس نے ڈڑتے دوبارہ بتانا چاہا۔۔
” اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ میرے اور شہزادہ منان کے جانے کا انتظام کرو اور پری فورا سے پلٹ گی…
“منان ہمیں واپس جانا ہوگا ماما بابا کو اس خبیث نے میں ختم کر دیا ہے۔۔ اب میں اسے چھوڑو گی نہیں حورین شدید غم و غصے کے عالم میں کہنے لگی۔۔ ہاں تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو ہمیں فورا جانا چاہیے ۔۔
_تب ہی کنیز نے آکر اطلاع دی۔۔
“ملکہ عالیہ سواری کا انتظام ہو چکا ہے آپ دونوں چلے منان اور حورین دونوں ایک بگھی میں بیٹھ گئے جو دیکھتے ہی دیکھتے بگھی ہوا سے سے باتیں باتیں کرنے لگی گئ، اور تھوڑی دیر بعد بھی زمین پر اتری۔۔۔
«««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“تہامی عدن کو اٹھائے ہوئے جب گھر کے قریب پہنچا تو اسے اپنے گھر میں سے بہت سی عورتیں اور مرد جاتے ہوئے نظر آئے۔۔ تہامی پہلے علی ہاؤس گیا اور عدن کو وہاں چھوڑ کر آیا کیوں کہ وہ بےہوش تھی ۔۔
“جب اپنے گھر میں آیا اور جب مین ڈور سے اندر داخل ہوا تو، رھبہ چیختی ہوئے اس کے سینے سے جا لگی گی۔۔۔
“بھائی بھائی!! ہمارے ماما بابا ہمے چھوڑ کے چلے گئے۔۔
” کیا کیا بول رہی ہو رھبہ بہ ہوش میں تو ہونا تہامی نے اسے جھنجھوڑ کر اپنے ساتھ الگ کر کے پوچھا۔۔ میں سچ بول رہی ہوں بھائی رھبہ نے اپنے روتے ہوئے کہا اور رجب رانیہ کئ میت طرف اشارہ کیا جہاں دونوں سفید کفن میں لپٹے ہوئے تھے۔۔۔
” دونوں کے جسم پر شدید قسم کے زخم آئے تھے وہ دونوں اپنے صحن میں زخمی حالت میں پائے گئے تھے”
” رھبہ جب رجب ہاؤس گئی تو اس نے اپنے ماں باپ کو دروازے کے اندر اس حالت میں دیکھا تو چیختی چلاتی زور زور سے رونا شروع کر دیا جس کی آواز سے اردگرد کے لوگ اکٹھے ہو گئے جنہوں نے رجب رانیہ کو ہسپیٹل پہنچایا،، لیکن وہ دونوں پہلے ہی دم توڑ گئے تھے…
” تہامی سکتے کی سی کیفیت میں دونوں ماں باپ کی میت کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
” رجب رانیہ کی ناگہانی موت پہ علی اور مومنہ کے علاوہ ٹاؤن کے سارے لوگ ہی رنجیدہ تھے مومنہ مشکل سے رھبہ کو سنبھال رہی تھی کیونکہ اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ زور زور سے روتی۔ لیکن جس کے دونوں ماں باپ ہی دنیا سے چلے جائیں اس سے بھلا کہاں صبر ہونا تھا۔۔۔
“علی ہاؤس کے سب لوگ یہاں پر موجود تھے منان بھی رھبہ کو بار بار سمجھا رہا تھا کہ اس کی کیسی کنڈیشن ہے، لیکن اس بچاری پہ تو قیامت کا سما تھا۔۔۔
” لوگوں کی بھیڑ میں علی ہاؤس کی پرانی ملازمہ آتی نظر آئی،، منان اس کو دیکھ کر اس کی جانب یا۔۔۔
” صاحب جی چھوٹی بی بی کی طبیعت بہت خراب ہے ان کے جسم سے جگہ جگہ سے خون نکل رہا ہے ملازمہ نے منان کے قریب پہنچا کر فورا سے بولی۔۔
اچھا ٹھیک ہے،، آپ گھر جائے عدن کے پاس میں ماما کو بجھتا ہوں۔۔
” یہ کہتا ہوا وہ عورتوں میں بیٹھی مومنہ کی طرف چلا گیا منان نے قریب جا کے مومنہہ کو سرگوشی کے انداز میں کہا ماما عدن کی طبیعت بہت خراب ہے بی حمیدہ بتا کر گئی ہیں۔۔ آپ کو جاناچاہیے، ہائے!! کیا ہوگیا ،، میری بچی کو مومنہ نے فکرمندی سے دل پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔۔
“ہاں اب جا کر دیکھ لیں میں ادھر ہوں رھبہ کے پاس ،اچھا ادھر کا دھیان رکھنا، اور وہ جلدی سے اپنے گھر کی طرف بڑھ گئ”
“مومنہ جب عدن کے روم میں پہنچی تو اسے برے حال میں دیکھا حمیدہ بی کے کہنے پہ مومنہ اسے ایک بزرگ کے پاس لے گئ ،اس کا کہنا تھا، یہ جنات کا کام تھا ایسے معاملات بزرگ بابا بہی سنبھال سکتے ہیں۔۔۔
” مومنہ اسے بزرگ کے پاس لے کر گئی بزرگ نے دم ڈالا اور عدن کے گلے میں ایک تعویذ ڈالا اور کہا کہ اس بے کالے جادو کا اثر ہے یہ تجویز گم ہو گیا تو دوبارہ ایسے نہیں ملے گا پھر آپ جانتی ہیں کہ آپ کی بیٹی کی کیسی حالت ہو سکتی ہے بزرگ بابا نے تعویذ ڈال کر تھوڑی سی تفصیل بتائی اور مومنہ اسے لے کر گھر آ گئی ابھی تھوڑی دیر رانیہ رجب کی نماز جنازہ تھی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: