Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 8

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 8

–**–**–

“منان، رھبہ تہامی اور حورین رانیہ اور رجب کی میتوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،، حورین بھی بری طرح سے رو رہی تھی۔۔ کیونکہ اس نے ان دونوں کو ہمیشہ ماں اور باپ کا درجہ دیا تھا۔۔
” سالار اور حورین کو بھی رجب اور رانیہ نے بچوں کی طرح پالا تھا لیکن وہ الگ بات تھی کہ سالار نے ہی ان کی جان لے لی،، جب کہ حورین دونوں کے مر جانے کی دکھ میں میں بہت رو رہی تھی۔۔۔ نماز جنازہ کا وقت ہوا تو مرد حضرات آئے اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے میتوں کو اٹھا لیا۔۔۔
«««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“وہ اپنے گُرو کے آستانے پر جارہا تھا،،جب وہاں پہنچا تو اس کا گرو کچھ لوگوں کے لئے عمل کر رہا تھا۔۔
” اس کو آتے دیکھ کر عمل ختم کر دیا۔۔۔
” او او !!کمار میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا سنا کیسا رہا تیرا عمل؟؟
” گرو جی آپ کی۔آگیا سے سفل رہا ہے،، سالار نے اس سادھو کو پرنام کرتے ہوئے بتایا”
” سنا وہ ناگ اور ناگن مر چکے ہیں نا؟, اور اس لڑکی پہ تو نے عمل کرنا شروع کر دیا ہے بہت اچھا کیا کمار بہت اچھا کیا، سادھو نے کمینگی سے کہا”
” اب تجھے اس جن زادی کو بھی ختم کرنا ہوگا جو تیری بہن ہونے کا ناٹک کر رہی ہے۔ وہ تیری بہن ہرگز نہیں ہے سادھو نے اسے انگلی اٹھا کے بتایا۔۔۔
“جی گرو جی جیسے آپکی اچھہ میں کل ہی حوری پر عمل کرنا شروع کرتا ہوں۔۔۔
” ابے او مورکھ!!! سادھو نے سالار کو غصہ سے دیکھا۔۔۔
” وہ تیرے عمل کے جال میں نہیں پھنسے گی وہ کوئی سادھارن لڑکی نہیں ہے،، جیسے تو اپنے کالے عمل کے جادو سے مار ڈالے گا۔۔۔
” وہ ایک پری زادی ہے،، جو ایک جن کی بیٹی اور پری کی بیٹی ہے اس لئے وہ ملکہ ہے پرستان کی اور اسے مارنا اتنا آسان ہرگز نہیں ہے،، اس کے پاس بہت شکتیاں ہیں جن کا تجھے مقابلہ کرنا بہت کٹھن ثابت ہوگا۔۔ سادھو نے اسے باور کروانا ضروری سمجھا۔۔
” تو پھر آپ ہی اسے ختم کر دینا،، گرو جی !اگر بس کی بات نہیں ہے تو سالار نے اپنے ماتھے یا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
“ارے مورکھ وہ مجھ سے نہیں مرے گی اسے تو نے ہی مارنا ہے لیکن دوکھے سے۔۔ اب تو جا میرے عمل کا سمے ہوگیا ہے،،سادھو نے اسے اشارہ سے جانے کو کہا اور وہ بنا کچھ کہے کہ چپ چاپ اٹھ کے چلا گیا۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»›»»«««««««««««««««««««««
“نماز جنازہ سے واپسی پر منان اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑا یہی سب سوچ رہا تھا،،کہ جس دن میں حورین کے ساتھ پری ستان گیا تھا۔۔
” اس رات بھی 12 کی 22تاریخ تھی اور آج 23 ہے ہے میں تو پرستان میں دو مہینے رہا ہوں اور حورین کے ساتھ اور رھبہ کو بھی میں جس کنڈیشن میں میں چھوڑ کے گیا تھا اسی کنڈیشن میں ہے اور خاص بات نہ ماما پاپا نے اور نہ ہی رھبہ نے کوئی سوال کیا مجھ سے ، میں اتنے دن کہاں تھا۔۔۔
” اب یہ پہلی تو صرف اور صرف حورین ہی سلجھ سکتی ہے۔۔ تبی کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر منان نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
” کمرے میں آنے والا کوئی اور نہیں بلکہ رھبہ پی تھی منان اس کو دیکھ کر اس کے قریب آیا اور رھبہ اس کے گلے لگ کے رونا لگ گئ ۔۔
“منان دیکھے نا ماما بابا دونوں ہمے چھوڑ کے چلے گئے ،، میرا کون رہا ہے اب دنیا میں بالکل اکیلا چھوڑ کے چلے گئے ہیں،، اس نے بچوں کی طرح بلک بلج کر رونا شروع کر دیا۔ تم کیوں روتی ہو میری جان ہو میں ہوں نہ تمہارے پاس تمہارا ہمسفر تمہارا منان، منان اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے، آپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو رھبہ تھوڑی سی چپ ہوئی۔۔۔
” جیسے اسے زندگی گزارنے کا ایک بہانہ مل گیا۔۔۔
” منان!!
” رھبہ نے دھیمے لہجے میں اسے پکارا”.
” جی منان کی جان ”
“اس نے بہت پیار سے رھبہ کو خود سے الگ کرتے ہوئے بیڈ پے بٹھا کے پوچھا؟؟
” کل رات کو کوئی ایک دو کا وقت ہوگا جب میری آنکھ کھلی آپ بیڈ پر موجود نہیں تھے۔۔ پھر صبح جب میں اٹھی اور میں نے سوچا پہلے ماما بابا کا حال پوچھ کر ناشتہ کرونگی۔۔
” اس خیال کے آتے ہی میں ان کے گھر چلئ گی۔ پر وہاں میں نے ماما بابا کو اس حال میں پایا پھر ماما بابا کو ہسپتال لے جانے اور واپس لانے پر آپ ادھر موجود تھے۔ لیکن آپ رات کو کہاں گئے تھے رھبہ نے عام سے لہجے میں منان سے سوال کیا لیکن منان کا رنگ ایسے اڑ گیا جیسے کسی بچے کا اپنی چوری پکڑے جانے پے رنگ اڑ جاتا ہے۔۔ لیکن وہ خود کو سنبھلتے ہوئے بولا۔۔
” ارے ارے میں نے کہاں جانا ہے یہیں کہیں باہر ہوگا ہاں یاد آیا رات کو مجھے بہت گھٹن محسوس ہو رہی تھی اس وجہ سے میں ٹیرس پہ چلا گیا تھا تب شاید تم نے مجھے بیڈ سے غائب پایا ہو گا تم بھی نا چھوٹی چھوٹی باتوں پہ پریشان ہو جاتی ہوں میں نے بلا کہاں جانا ہے، منان نے رھبہ کو مطمئن کرتے ہوئے کہا۔۔۔
” اچھا تم نے کھانا نہیں کھایا میں کھانا منگوانا ہوں تمہارے لیے یہ کہتے ہوئے منان ان کچن سے کھانے کی ٹرے لے آیا اور رھبہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اس نے اسے زبردستی سارا کھانا کھلا دیا اور اسے ڈاکٹر کی میڈیسن کھلا کر سلا دیا رھبہ جب سو گئی تو منان اپنی کھڑکی میں کھڑے ہوکر حورین کاانتظار کر نے لگا۔۔
” کچھ ہی دیر انتظار کرتے ہوئے گزری تھی کہ حورین اسے باہر نظر آئی اور منان اس کی طرف چلا گیا، یہ دیکھے بغیر کے رھبہی کھڑکی سے کودتا ہوا دیکھ چکی ہے۔۔۔
” حورین مجھے تم سے بہت سے سوال کرنے ہیں منان درخت کے تنے کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے بولا۔۔
“کون سے سوال شہزادہ صاحب؟؟ حورین نے اس کی طرف خوبصورت مسکان اچھالتے ہوئے کہا۔۔۔
“پہلا سوال پرستان میں ہم دو مہینے ساتھ گزار کے آئے لیکن جس رات میں گیا تھا اس کے دوسرے دن ہی میں ادھر واپس آیا مطلب کے جس مہینے کی جس تاریخ کو میں بارہ بجے تمہارے ساتھ گیا تھا اسی مہینے کی اسی تاریخ کو ہم بگی سے سفر کرتے ہوئے اپنے گھر واپس آئے تھے۔۔۔
” دوسرا سوال سالار نے انکل آنٹی کو کیوں مارا کے کے ان دونوں نے اسے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔۔۔
” سوال نمبر تین عدن کی جو حالت ہو رہی ہے وہ کیا صرف سالار کی وجہ سے ہے یا اس میں کوئی اور ملوث ہے ان تینوں سوالوں کے جواب مجھے تم دے سکتی ہو،، منان نے ایک ساتھ سارے سوال پوچھ کر خود اس کے بولنے کے انتظار میں خاموش ہو گیا۔۔
” حورین نے بولنا شروع کیا ،،شہزادہ صاحب پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے پرستان میں جو بھی جتنا ٹائم گزار کے آئے واپس اسی ٹائم آتا ہے جس دن وہ وہاں سے گیا ہوتا ہے یعنی کہ یہاں کا ایک دن اور وہاں کہ دو مہینے یا ایک سال کے برابر ہے وہ جو جادوئی دنیا ہے میرے شہزادے۔۔۔
” حورین نے منان کی پیشانی پر آنے والے والوں بالوں کو پیار سے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔
” دوسرا سوال سالار ایک ناک کا بیٹا ہے، جو کہ کالے جادو کے علم میں اتنا اندھا ہو چکا تھا اسے یہ خیال نہیں آیا کہ ان دونوں نے اسے زندگی دی ہے اور اسے پال کر اتنا بڑا کر دیا اور بدلے میں اس نے انہیں موت دے دی جو بھی جیسا بھی ہوا ہے لیکن میں اس سالار کو کبھی نہیں چھوڑوں گی حوری نے غصے سے کہا ۔۔۔
“تیسرا اور آخری سوال سالار کا عدن کو حاصل کرنا چاہتا ہے، اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔
” جس وجہ سے وہ اس پے کال عمل کر رہا ہے تاکہ کالے جادو کے زور سے وہ اس کی وش میں اجائے لیکن مومنہ آنٹی نے اسے جن بزرگ بابا کے پاس لے کر گئی ان کے دم کی وجہ سے وہ اس کے قریب بھی نہیں آسکتا ہے۔۔۔۔
“منان نے حورین کی باتیں سن کر لمبا سانس کھینچا، اور بولنا شروع کیا…
” حورین میں جانتا ہوں ہماری شادی ہونا بہت ضروری ہے لیکن میں رھبہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔ وہ میری بیوی ہے اور وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اور میں بھی اس سے پیار کرتا ہوں، لیکن اگر تم رھبہ کے ہوتے ہوئے میری زندگی میں شامل ہونا چاہتی ہو تو ،مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔
” اور رھبہ کو بھی میں بنا لوں گا ہمارے لیے۔۔شہزادہ صاحب مجتھے اپنا شہزادہ چاہیے یہ فرق نہیں پڑتا کہ وہ آپ کی بیوی ہے یا نہیں،،،آپ میرے شہزادے ہیں اور وہ بھی میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔
“میں پھر میں تم سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں منان نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا ٹھیک ہے میں پرستان جا رہی ہوں ہو اپنی شادی کے انوٹیشن اور انتظامات کرنے۔۔۔
” میں نے اور سب کو اطلاع کرنی ہےکہ ملکہ کی اور شہزادے صاحب کی شادی ہو رہی ہے، تاکہ دشمنوں کا منہ بند ہو سکے ٹھیک ہے۔۔
” اب میں چلتی ہوں آپ کے لیے طلسمی قالین بجوا دو گی آپ اس کے ذریعے پرستان آ جائے گا تاکہ ہمارا نکاح تمام ملک اور شہزادوں کے بیچ میں ہو سکے یہ کہتے ہی وہ اپنا سبز آنچل لہراتی ہوئی غائب ہوگئی ملکہ حورین نے منان کو قالین اس لیے بھیجنے کا کہا کیوں کے منان جادو نہیں جانتا تھا ابھی اسے کلاس لینی تھی تب اسے جادو آتا۔۔
«««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»
“رجب اور رانیہ کو اس دنیا سے گزرے ہوئے آج دو مہینے گزر چکے تھے،، تہامی کو اپنے کاموں کے لیے بہت مشکل پیش آتی تھی ایسا نہیں تھا کہ وہ ملازمہ فوڈ نہیں کر سکتے ان کے گھر میں دس دس ملازم تھے،، لیکن اسے ملازمہ کے ہاتھوں کا کھانا پسند نہیں تھا۔۔
” دوسرا اسے ہوٹلز سوٹ نہیں کرتی تھی اور ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ خود کھانا نہیں بنا سکتا تھا وہ خود بھی کھانا بنا لیتا تھا لیکن اس نے ابھی نیو بزنس سٹارٹ کیا تھا ایسے میں آفس سے واپسی پر اسے کھانا بنانا ایک مشکل کام لگتا تھا۔۔۔
“رانیہ کے بعد رھبہ اس کا کھانا بنانے جایا کرتی تھی لیکن اس کی بڑھتی طبیعت خرابی کے پیش نظر رھبہ کو کھانا بنانے آنے سے منع کر دیا تھا۔۔۔
” گڑیا یہ تم کھانا بنانے نہیں آیا کرو تمہاری طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ایسے میں مجھے اچھا نہیں لگتا تم میرے لیے کھانا بناؤ ۔۔۔
“تو بھائی آپ کے لئے کون کھانا بنائے گا آپ کو رجو اس کے ہاتھ کا بھی کھانا پسند نہیں ہے تم گھر جاؤ آج میں انکل سے عدن کے لیے بات کرتا ہوں، بھائی آپ جلدی عدن کے لیے بات کر لیں، رھبہ کہتی ہوئی گھر چلی گئ۔۔
” تہانی نے اپنی پرابلم بتاتے ہوئے علی مومنہ اور منان کو اس کے اور عدن کے نکاح کا کہا تو علی نے اس کی پرابلم دیکھتے ہوئے فوراً ہاں کر دی۔۔۔
” اسی لئے آج شام میں دونوں کا نکاح رکھا گیا تھا لیکن رخصتی کچھ ٹائم بعد منان کے ولیمے کے ساتھ رکھی گئ تھی ۔۔۔
” آپ کا نکاح تہامی ولد رجب علی کے ساتھ حق مہر ایک لاکھ روپے جو ادا کر دیا گیا ہے۔۔
” کیا آپ کو نکاح قبول ہے ،، مولوی کی کی بارعب آواز عدن کے کے کے کان سے سے ٹکرائی۔۔
” بولو بیٹا آپ کو نکاح قبول ہے، پاس کھڑی مومنہ نے کہا تو عدن ہوش میں آئی۔۔
” قبول ہے قبول ہے قبول ہے عدن نے قبول کیا اور اور دونوں کے کے سگنیچر کے بعد دونوں کو شرعی اور قانونی طور پر میاں بیوی قرار دیا گیا،، مبارک ہو کی سدا اٹھی اور پھر آہستہ آہستہ سب مہمان جا چکے تھے ،علی بھی اپنے داماد کو کو گلے سے لگاتا ہوا جا چکا تھا ۔۔
“اب صرف کمرے میں منان رہ گیا تھا منان یار کیا میں عدن سے ملو لو؟؟
” تہامی نے معصوم شکل بنا کے منان سے اجازت چاہی۔۔
” اگر میں اجازت نہ دوں تو تو منان نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔۔
“تو اجازت دے یا نہ دے میں اس سے ملوں گا کیوں کہ اب میرا اس پر قانونی حق ہے تیری ہمت نہیں روکنے کی تہامی نے بھی اسی کے انداز میں اسے جواب دیا اور عدن کے کمرے کی طرف چل پڑا۔۔
” عدن ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں اپنا خوبصورت سراپا دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی آج تک تہامی کے ساتھ اس کا ایک خوبصورت رشتہ جڑ چکا ہے ۔۔
“ہیلو بیگم صاحبہ نکاح مبارک ہو!!! روم کے اندر آتے ہوئے تہامی نے عدن سے کہا، عدن نے جب تہامی کو آتے دیکھا تو حیاء سے پلکیں جھکا گی،، تہامی نے روم لاک کر کے عدن کو اپنے مضبوط حصار میں کھینچ لیا،، تہامی عدن نے تہامی کو گھوری سے نوازا۔۔
” ارے بیگم صاحبہ آج تو یہ پروٹوکول نہ دو مجھے آج ہی تو میں تمہارے شوہر کے عہدے پر فائز ہوا ہوں۔۔
” تہامی اسے اپنے سے بے حد قریب کرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی تہامی پلیز مجھے چھوڑ دیا کیا کر رہے ہیں۔۔
” یار میں کیا کر رہا ہوں میں اپنی دولہن کو دیکھ رہا ہوں تھوڑا سا اور کیا کر رہے ہو۔۔
“تہامی ابھی رخصتی نہیں ہوئی عدن نے اس کے حصار میں مچلتے ہوئے کہا۔۔
” ہاں تو کیا ہوا میری جان رخصتی نہیں ہوئی تو نکاح تو ہو گیا ہے نا۔۔ وہ اس کے کھلے بالوں کو آگے کی طرف کرتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اس کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔۔
“عدن کے ننھے دل کی دھڑکنوں نے شور مچانا شروع کر دیا، تہامی نے اس کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے اس کے منہ کو ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس کے خوبصورت ہونٹوں سے اپنے ہونٹوں کو سراب کرنے لگا۔۔ عدن اس کی اس حرکت سے بالکل خاموش ہو چکی تھی،، تہامی اپنی ننھی سی خواہش پوری کرنے کے بعد عدن کو آزاد کیا تھا،، لیکن اس کی نظریں زمین میں گڑی ہوئی تھیں،، وہ اتنی شرما آ رہی تھی جیسے وہ اس کا شوہر نہیں بلکہ کوئی لڑکا ہو تہامی اس کے اس قدر شرمانے بے دل سے خوش ہوتے ہوئے لیکن اس کے دونوں کندھوں کو تھام کر بولا ریلیکس میری جان کیا ہوگیا ہے میں تمہارا ہسبینڈ ہو۔۔۔
” اچھا اچھا اچھا جا رہا ہوں یار وہ تہامی کو دیکھ بھی نہیں رہی تھی ابھی بھی عدن کی نظر نیچے دیکھیں کر وہ جلدی سے باہر نکل گیا۔۔۔
««««««««««««««««««««««««««««»»»›»»»»»»»»›»»»»

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: