Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Episode 9

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – قسط نمبر 9

–**–**–

»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»«««««««««««««««««
“منان!!
” رھبہ نے اسکی آنکھیں کھولی دیکھ کر فورا اسے پکارا،،میرے خیال سے وہ اس کی آنکھیں کھولنے کا ہی انتظار کر رہی تھی”
” ہوں…
” منان نے نیند سے بھری آواز میں کہا،، تو رھبہ بیڈ پہ بیٹھے ہوئے اپنے بالوں کا جھوڑا بناتے ہوئے،، اپنے گاؤں کی ڈوریاں باندھنے لگی۔۔
” آپ رات کو کھڑکی سے باہر کیوں کودے تھے؟؟
” رھبہ کا لہجہ کسی شک شبہ سے عاری تھا۔۔۔
” لیکن منان کی نیند کا نشہ فٹ سے اتر گیا”
” کیا مطلب ہے تمہارا؟ میں راتوں کو آوارہ گردیاں کرتا ہوں۔۔
” نہ جانے کیوں منان کو رھبہ کی بات غصہ دلا گئی اور وہ اس سے نہایت تیز لہجے میں بات کر رہا تھا،، رھبہ تو اس کا یہ روپ دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔۔۔
” کیا ہوگیا ہے منان آپ کو میں نے تو جسٹ بات کی ہے۔۔
” تم نا بات کرنے کو رہنے دیا کرو۔۔ وہ اپنی بیڈ پہ پڑی شرٹ اٹھاتے ہوئے اس کو غصے سے بولا کر واش روم میں چلا گیا۔۔۔
“رھبہ بیٹھ کے رونا شروع ہو چکی تھی کیونکہ،، شادی کے اتنے ٹائم بعد بھی، منان نے کبھی اس سے غصے سے بات نہیں کی تھی۔۔
” وہ ہمیشہ اس کی ہر بات بن کہے مان جاتی اور بدلے میں وہ اس کو ہمیشہ خوش رکھتا اور ڈھیر سارا پیار دیتا تھا،، اسی لئے رھبہ کو اس کے غصے کی عادت نہیں تھی نہ جانے کیوں منان کو اس کی چھوٹی سی بات پہ اتنا غصہ آگیا تھا، اس سے کبھی اس لہجے میں بات نہیں کرتا تھا لیکن وہ بھی تو بار بار اسے،، وہ سب پوچھ کر غصہ دلا رہی تھی۔۔۔
” منان بھی کیا کرتا ایک طرف اس کی شہزادی تھی اور دوسری طرف اس کی بیوی جو اس کے ہونے والے بچے کی ماں بننے والی تھی”
” منان شاور لے کر واش روم سے باہر نکلا تو رھبہ اسی طرح بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی،منان کو اب اپنی روٹھی بیوی کو منان تھا۔۔۔
” منان ٹاول سے سر کو رگڑتے ہوئے بیڈ تک آیا یا اور ٹاول اور ہاتھ میں اٹھائی اپنی شرٹ کو بیڈ پر اچھال دیا”
” رھبہ کو اپنے سامنے کھڑا کرتے ہوئے بولا۔۔ تمہیں پتا ہے نا مجھے زیادہ سوال جواب پسند نہیں ہیں تمہیں اس دن بھی بتایا تھا کہ رات کو مجھے گھٹن محسوس ہوتی ہے جس وجہ سے میں باہر چلا جاتا ہوں اس بات کو تم بار بار پوچھ کیوں رہی ہو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی۔۔
” اس لیے تھوڑا غصہ کر گیا اس کے لیے سوری”
” اس نے اس کا منھ تھوڑی سے اوپر کرتے ہوئے کہا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کو صاف کرنے لگا،،وہ ابھی بھی اس کو ناراض نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ اب وہ اس کی ناراض نظروں کی پرواہ کئے بغیر اس کے خوبصورت سراپے کو غور سے دیکھنے لگا”
” منان کا اپنی کیوٹ سی بیوی کو دیکھ کر دل ڈم ڈول ہوگیا اور وہ اس کے کے گاؤں کی فرنٹ دوریاں کھولنے لگا”
“رھبہ اس کی حرکت پر اپنی ناراضگی بھول کر فورا سے بولی کیا کر رہے ہیں منان ؟؟
” منان نے اپنے ہونٹ پہ انگلی رکھے کر ششششی کہا اور اسے اٹھا کر آرام سے بیڈ پہ ڈال دیا۔۔۔۔
” وہ اپنی تمام تر مزحمت ترک کر کے خاموش ہو چکی تھی کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر اب اس کی ایک نہیں سننے والا،،
” وہ اسے اپنے پیار کے رنگ میں رنگنے کے بعد اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے پیار سے بولا روبی میں دو دن کے لیے کام سے جا رہا ہوں تم اپنا اور آپنے بے بی کا بہت سارا خیال رکھنا اوکے ،،وہ اسے پیار سے بتانے آنے لگا ”
“آپ کہاں جا رہے ہیں؟ میں آپ کے بغیر کیسے رہو گی رھبہ نے اداسی سے کہا”
“بس دو دن میری جان بس پھر واپس تمہارے پاس آ جاؤں گا منان اس کے ہونٹوں پے انگلی کو پھیرتے ہوئے بولا ”
“اچھا آپ نے کس ٹائم نکلنا ہے ؟؟؟
“رھبہ نے اداس لہجے میں کہا رات بارہ بجے کے بعد نکلنا ہے وہ بتاتے ہوئے دوبارہ سے واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔
“رات کو منان نے رھبہ کے ساتھ کھانا کھایا اور پھر اسے میڈیسن دے کے سلادیا۔۔۔۔
“بارہ بجے کے قریب کے اسے کھڑکی سے باہر ایک ایک خوبصورت سا طلسمی قالین آسمان سے اترتا ہوا نظر آیا منان قالین دیکھتے ہی فوراً کھڑکی سے باہر چلا گیا اسے معلوم ہو چکا تھا کہ کہ حورین نے اس کے لیے قالین بھیجا ہے …
“اس نے قالین کو اشارہ کیا تو وہ رک گئی اور منان اس کے اوپر بیٹھ گیا اور قالین کو اڑنے کا اشارہ کیا دیکھتے ہی دیکھتے قالین برف کی وادی میں پہنچ چکا تھا”
” اب سامنے ایک سنہری رنگ دروازہ تھا ،،جو قالین کو دیکھتے ہی فوراً سے خود بخود کھل گیا” “منان پہلے جب بھی حورین کے ساتھ پر ستان آیا تھا اسے ان سب کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا” “اب دوبارہ سے ایک سنہری رنگ کا دروازہ آچکا تھا قالین اس سے گزرتا ہوا اندر جا چکا تھا۔۔۔
” سامنے گول چکر میں سیڑھیاں بنی ہوئی تھی قالین ان کے اوپر سے اڑتا ہوا ایک حال کے سامنے آ کے رک گیا ۔۔۔
” منان اس سے نیچے اتر گیا ۔۔
” اب منان آگے پیچھے نظر گھما کے دیکھ رہا تھا کہ اسے کدھر جانا چاہیے”
” تبھی اسے حورین کی آواز کانوں میں سنائی دی سامنے پڑی چھڑی کو اٹھا لیں اور اسے اپنے کپڑوں پہ مار لے”
” منان نے ایسا ہی کیا اور اور منان کے سادہ کپڑے دیکھتے ہی دیکھتے شاہی شہزادوں والے لباس میں تبدیل ہوگئے,, اب دوبارہ اسے حورین کی آواز سنائی دی،،
“کہ سامنے راہداری میں چل کے جائیں وہاں ایک گول سرکل میں گلاب ا پھول پڑا ملے گا،،،آپ اس گلاب کا ایک پتا توڑ کے اس سرکل میں ڈال دیں باقی گلاب اپنے پاکٹ میں ڈال لیں۔۔۔
” منان نے ایسا ہی کیا جیسے اسے حورین نے کہا تھا ،، اس نے گلاب کا پتا اٹھا کے کے گھول سے چکر میں ڈالا تو وہاں پر ایک چھوٹا سا رستہ نمودار ہوا اب دوبارہ سے اسے حورین کی آواز کان میں سنائی دی،،شہزادہ صاحب آپ کو پرستان میں اپنے محل میں خوش آمدید اب اس راستے سے چلتے ہوئے آپ آ جائیں سامنے ہی آپ کو میں نظر آ جاؤں گی”.
” منان اس راستے سے اترتا ہوا نیچے چلا گیا،،، منان نے جیسے ہی نیچے قدم رکھا،، تو ہر طرف سے اس پے گلاب کے پھولوں کی پتیاں برسنے لگی، اور رنگ برنگی پوشاکوں والی پریاں اسے خوش آمدید کے نعرے لگا رہی تھی”
” تبھی کنیزیں آئی اور منان کو ادب کے ساتھ حورین کے پاس لے کر گئی۔۔۔
“وہ جو ہمیشہ سبز رنگ کے لباس میں نظر آتی تھی آج جس نے سفید رنگ کا لہنگا زیب تن کر رکھا تھا،، منان اسے دیکھتے ہی رہ گیا وہ اتنی خوبصورت تھی یا آج اسے اتنی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی”
تبھی ملکہ حورین نے اہم اہم منان آپ سب کے بیچ میں ییں،، حورین کے بتانے پر منان نے اسے دیکھنے سے گریز کیا۔۔
“شہزادہ صاحب شہزادی صاحبہ ہمے نکاح کا وقت لیٹ نہیں کرنا چاہیے، مولوی صاحب انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
” شہزادے زوہان نے پہلے شہزادی حورین کو اور پھر شہزادہ منان کو مخاطب کرکے کہا ہاں جی بالکل ہمیں لیٹ نہیں کرنا چاہیے آپ چلے منان نے ان کو کہا اور خود بھی ان کے ساتھ چل پڑھا۔۔
««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“اسلام علیکم آنٹی آپ نے بلایا تھا مجھے؟؟
” تہامی نے ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے مومنہ سے کہا،، جو ٹی وی پے کوئی ٹاک شو دیکھ رہی تھی”
” ہاں بیٹا بیٹھو مومنہ نے سامنے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، میں نے تمہیں اس لئے بلایا تھا مومنہ نے ایلئڈی کو میوٹ کرتے ہوئے کہا، دراصل منان دو دن کے لیے لئے شہر سے باہر گیا ہوا ہے کام سے،، اور آج عدن کی دوست کی انگیجمنٹ ہے”
” اسے جانا ہے میں تو جا نہیں سکتی تمہیں پتا ہے مجھے پارٹیز اٹینڈ کرنا کتنا برا لگتا ہے اور تمہارے انکل انہیں اپنے آفس کے کاموں سے ہی فرصت نہیں اور منان اس نے وعدہ کیا تھا اس سے ساتھ لے جانے کا لیکن وہ ادھر ہے نہیں تو کیا تم عدن کو لے جا سکتے ہو، اگر بیزی نہیں ہو تو مومنہ نے بات کہہ کے آخر میں فیصلہ اس پہ چھوڑا”
” وائی ناٹ” آنٹی وہ ویسے بھی تو میری ہی ذمہ داری ہے میں اسے ساتھ لے کے جاؤں گا اور ساتھ ہی واپس لے کے آؤں گا آپ بے فکر ہو جائیں”
” اسے تیار ہونے کا بول دیں، میں ابھی گھر سے تیار ہوکر آتا ہوں۔۔
” ٹھیک ہے بیٹا تم جاؤ جا کے تیار ہو جاؤ میں بھی اس سے تیار ہونے کا کہتی ہو ،،مومنہ اسے کہتی وہاں سے عدن کی طرف چلی گئی۔۔۔
” آدھے گھنٹے بعد عدن تیار ہو کر تہامی کا انتظار کر رہی تھی، تبھی ہاران کی آواز پر پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہاں تہامی اسے آنے کا کہہ رہا تھا۔۔
“عدن ا کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی..
«««««««««««««««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»
آج پھر سے سالار عدن کی تصویر سامنے فریم میں لگائے ،،کالے عمل میں مصروف تھا۔۔
” وہ عدن کی تصویر کو دیکھتے ہوئے ایک کپڑے کی گڑیا تیار کر رہا تھا جب گڑیا تیار ہو چکی ،،تو سالار نے گڑیا کو اٹھا کر سامنے ایک فریم میں لگا دیا”
“اور سامنے پراتوں میں پڑا خون اٹھا کے اپنے جسم پے انڈیلنا شروع کر دیا، پھر اس کے جسم میں مختلف قسم کی روشنیاں پھوٹنے لگی،، تھوڑی دیر بعد روشنیاں ختم ہوئی، تو سالار اس گڑیا کی طرف بڑھنے گا”
” گڑیا کے قریب جا کر اس نے پھونک ماری تو گڑیا کو ان دیکھی آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے گڑیا ان دیکھی آگ میں جل کے راکھ ہو گئیں، لیکن وہاں پہ آگ کا ایک ٹکڑا بھی موجود نہیں تھا نہ ہی راکھ کا کوئی ٹکڑا گڑیا ان دیکھی آگ میں جلی اور اس کا جسم غائب گیا تھا”
” سالار اپنے عمل سے فارغ ہوا تو زور زور سے ہنسنے لگا ،،
“جیسے اپنی جیت کا جشن منا رہا ہو۔۔۔
«««««««««««««««««««««««««««»»»»»»»››»»»›››»»»›»»
“زوہان،یمن اور دوسرے شہزادے اور شہزادیاں کے ہمراہ منان اور حورین ایک خوبصورت سے کمرے میں داخل ہوئے”
“جہاں ہر طرف پھولوں کی لڑیاں ہی لڑیاں تھی” “منان اور حورین کو جالی کے ایک پردے کے آر پار بٹھایا گیا اور پھر مولوی صاحب نے نکاح پڑھنا شروع کیا ”
” دونوں کے نکاح کے بعد سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور ان دونوں کو ایک خوبصورت سے سونے کے بنے تخت پر بٹھا دیا گیا”
” تھوڑی دیر بعد دو کنیزیں تھال میں دو تاج لے کر آئیں ،، جو کہ سونے اور ہیرے کے موتیوں سے جڑے ہوئے تھے ،ایک بڑا تھا جبکہ دوسرا اس کی نسبت چھوٹا لیکن دونوں بالکل ایک جیسے تھے کنیز نے تھال لاکر کر سامنے میز پر رکھ دیا”
“تب بی شہزادہ زوہان اور ملکہ یمن اٹھے اور ایک تاج اٹھا کر یمن نے حورین کے سر پہ زوہان نے منان کے سر پہ تاج رکھا”
“۔ سب نے اسے بادشاہ بننے کی بہت مبارک دی”
” پھر پرستان کے اصول کے مطابق نکاح کے بعد شادی میں جتنے بھی شہزادے اور شہزادیاں شرکت فرما تھے ،انہوں نے منان اور حورین کو تحائف دینا شروع کیے اور پھر سب کو کھانا کھلایا گیا کھانا کھانے کے بعد آہستہ آہستہ سارے مہمان رخصت ہو چکے تھے”
“اب صرف یمن شہزادی اور شہزادہ زوہان اور حورین کی کچھ سکھیاں رہ گئی تھی”
” زوہان نے ملکہ حورین کے سر پر ہاتھ رکھ کے بہت سی دعائیں دی،،وہ ہمیشہ اسے چھوٹی بہنوں کی طرح پیار کرتا تھا اور منان کے بھی بغلگیر ہوا ”
” پھر شہزادی یمن نے اور حورین کی سہیلیوں نے اس کا لہنگا سنبھالتے ہوئے اسے خواب گاہ تک پہنچایا”
” منان تمام مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد اب خواب گاہ کی طرف جا رہا تھا ”
“منان جب خواب گاہ میں داخل ہوا تو خواب گاہ کا تفصیلی جائزہ لینے لگا” “سامنے ایک جہازی سائز سونے کا بیڈ پڑا ہوا تھا بیڈ سے تھوڑے سے دور قد آدم آئینہ تھا دوسری سائیڈ پہ وارڈروب تھی اور اس کے بعد خواب گاہ میں ایک صوفہ پڑا ہوا تھا”
” ان گنتی کے چند چیزوں کے علاوہ کمرے میں اور کچھ نہ تھا لیکن پھر بھی کمرہ اتنا زیادہ خوبصورت تھا کہ ایک پل کے لئے اسے دیکھتا ہی رہا”
” منان چلتا ہوا حورین کے قریب بیڈ پر جا بیٹھا، شہزادی صاحبہ آپ کے شایان شان میرے پاس کوئی تحفہ ہی نہیں ہے۔۔
” میں اب آپ کو کیا دوں منان نے حورین کا نازک ہاتھ تھامتے ہوئے کہا” “شہزادہ صاحب ساری کی ساری سلطنت سمیت میں بھی آپ کی ملکیت ہوں اور آپ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں حورین نے بغیر شرمائے منان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا”.
” اچھا جی .. یعنی ہمیں چھڑی کا استعمال کرنا چاہیے منان نے اس کی طرف دیکھ کر کہا ہاں جی بالکل چھڑی بھی آپ کی آپ جیسے مرضی استعمال کریں،،،حورین نے اس کی طرف آنکھ مارتے ہوئے کہا”
” توبہ توبہ پرستان کی شہزادی کو شرمانا نہیں آتا کیا؟؟ منان نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا،، جی نہیں شہزادہ صاحب ہمیں شرمانہ ورمانہ نہیں آتا، حورین نے ہنستے ہوئے منان کو کہا”
” اچھا جی منان نے چھڑی کی مدد سے حورین کے اوپر گلاب کی پتیوں کی برسات کی پھر چھڑی کی مدد سے خوبصورت ڈائمنڈ رنگ حاضر کی اور اس کی نازک انگلی میں پہناتے ہوئے،، حورین سے پوچھنے لگا کہ کیا آپ واقعی میں نہیں شرماتی؟؟ بالکل بھی نہیں حورین نے نفی میں سر ہلائے” ”
” اگر ہم آج آپ کو شرمانے پہ مجبور کر دیں تو؟؟ منان اسکی کندھے سے لے کر کونی تک بنی ہوئی ڈوری کو کھینچ کر کھولتے ہوئے بولا، تو حورین کا بازو کندھے تک بلکل کھل گیا”
“حورین کے چہرے پر سرخی پھیل گئی اس نے حیا سے نظریں جھکا لیں”
” ارے یہ شہزادی تو ابھی سے شرمانے لگی گئ منان نے اس کی جھکی ہوئی نظریں دیکھ کر کہا اب کی بار جیسے حورین کے منہ میں زبان ہی نہیں رہی ہو”
“اہم اہم،، لگتا ہے آج تو آپ کو بھر پور شرمانہ پڑے گا یہ کہتے ہوئے منان اس کے سر سے دوپٹہ سرکا چکا تھا”.
” اب وہ اسکی کمر پہ بنی ہوئئ ڈوریاں کھولنے لگا اور اسے بیڈ پہ لیٹا کر ساتھ لگا لیمپ آف کر دیا۔۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»›»«««««««««««««««
“انگیجمنٹ پارٹی ختم ہوتے ہوئے رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے تھے”
” عدن اپنی سہیلی کو الوداع کہتے ہوئے تہامی کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کے گھر جانے کے لئے تیار ہو گئ”
” عدن نے آج سرخ رنگ کا شرارہ پہن رکھا تھا” “ابھی وہ مشکل سے دس پندرہ منٹ کی دوری پر ہی گئے ہوں گے،کہ عدن نے زور سے چیخ ماری” “کیا ہوا عدن؟ تہامی نے گاڑی کو سائیڈ پر کرتے ہوئے پریشانی سے عدن سے پوچھا ”
“تہامی میرے جسم پر آگ لگی ہوئی ہے،،میرا جسم جل رہا ہے، اس نے تکلیف سے کیا”
” کیا یار پاگلوں جیسی باتیں کر رہی ہو کدھر؟ آگ لگی ہے مجھے تو نظر نہیں آرہی”
“تہامی نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا جیسے وہ سمجھ رہا ہو کہ وہ مذاق کر رہی ہے ”
“تہامی میں مذاق نہیں کر رہی ہوں، میرا جسم جل رہا ہے اب اس نے رونا شروع کر دیا تھا”
” تب ہی دیکھتے ہی دیکھتے عدن کے جسم سے اس کی شرٹ غائب ہو چکی تھی ”
“اور وہ چیخ مار کے اپنے جسم کو ہاتھوں سے ڈھانپنے لگی،، تہامی صحیح معنوں میں اب پریشان ہوا تھا کہ واقعہ میں ہی عدن کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا تھا اور وہ اسے مذاق سمجھ رہا تھا ”
“تہامی نے جب عدن کو اپنا جسم ہاتھوں سے ڈھانپنے ہوئے دیکھا تو فورا سے پہلے اپنی شرٹ اتار کے اسے دی ،،جو اس نے فورا اسے پہن لی”
” تہامی میرے بیگ میں ایک ایک تعویذ ہے وہ میرے گلے میں ڈال دیں تاکہ میری طبیعت نارمل ہو سکے, عدن کو جلدی سے تعویذ کا خیال آیا کہ کہیں اسکا شرارہ بھی غائب نہ ہوجائے”
” تہامی نے عدن کے بیگ سے ایک تعویذ نکال کر اس کے گلے میں ڈال دیا اور اب عدن کی طبیعت کافی بہتر ہو چکی تھی” “عدن تم نے یہ تعویذ نکالا کیوں؟؟ اپنے گلے سے تہامی نے اس سے سخت لہجے میں پوچھا ”
” وہ میں نے سوچا پارٹی میں یہ بیک ورڈ لگے گا اس وجہ سے عدن نظریں جھکائے ہوئے تہامی کو بتایا”
“آئندہ یہ تمہارے گلے سے الگ نہیں ہونا چاہیے آئی سمجھ تہامی نے اسے باور کرواتے ہوئے کہا”.
“وہ جی کہتی ونڈو سے باہر دیکھنے لگی”
“اب طبیعت کیسی ہے تمہاری، تہامی نے تھوڑی دیر بعد پوچھا؟؟
“اب ٹھیک ہے، عدن نے انتا ہی کہا”
“تہامی ہی سوچ رہا تھا، کہ اگر عدن ڈرائور یا پھر کسی اور کے ساتھ آتی تو وہ کسی اور کے سامنے ایسے عریاں ہوجاتی، یہ سوچ کر تہامی کو عدن
پہ غصہ آرہا تھا کہ اس نے کیوں تعویذ اتار،، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عدن کہ ساتھ میں ہی تھا اسکا ہسبنڈ، انہی سوچوں میں وہ گھر پہنچ چکے تھے”…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: