Nago Ka Jora Season 2 Pari Novel By Tawasul Shah – Last Episode 12

0
ناگوں کا جوڑا یسزن ٹو پری از تاوسل شاہ – آخری قسط نمبر 12

–**–**–

پیپ۔۔۔۔ پیپ۔۔۔۔۔
“موبائل پہ مسلسل بجتے آلام نے منان کو آنکھیں کھولنے پہ مجبور کردیا تو اس نے اٹھ کر آلام کو بند کیا اور وقت دیکھا”
“صبح کے پانچ بجنے میں ابھی دس منٹ باقی تھے۔۔ “منان جلدی سے بیڈ سے اترا کیوں کہ آج اسے اور حورین کو پریستان کے لیے نکلنا تھا، تاکہ وہاں بھی وہ اپنے ولیمے کی دعوت دے سکے”
“وہ بیڈ سے اترا تو اسکی نظر بیڈ پہ سوئی ہوئی آپنی دونوں بیویوں پہ پڑی جو دنیا جہاں سے بےخبر سکون سے سو رہھیں تھیں”
“منان نے کچھ سوچتے ہوئے حورین کو ہلکا سا ہلایا تکہ وہ نیند سے بغیر ڈرے اٹھ جایے، حورین اٹھ جاو یار ہمے پرستان جانا ہے لیث ہوجائے گا”
اچھا اٹھتی ہوں منان،اس نے نیند سے بند آنکھوں سے ہی کہا اور منان واشروم چلا گیا”
منان جب شاور لے کر واپس آیا تو حورین کو اسی طرح سویا ہوا پایا”
“یہ ایسے نہیں اٹھی گئ، منان نفی میں گردن ہلاتا ہوا حورین کی طرف بڑھ گیا”
“حورین کو نیند میں اپنی گردن پر ٹھنڈے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا تو اس کے سوئے ہوئے اسباب نے بیدار ہونا شروع کیا”
“اب ہونٹ گردن سے ہوتے ہوئے کندھے سے نیچھے والے حصے پر پہنچ چکے تھے، اب حورین بھی مکمل بیدار ہوچکی تھی،،،اب وہ صرف آنکھیں بند کیے سونے کا ناٹک کر رہی تھی تاکہ وہ اپنے شوہر کا ٹھرکی پن دیکھ سکے”
“منان کے ہاتھ مزید نیچھے جاتے اس سے پہلے حورین اپنے سونے کا ڈرامہ ختم کرتی منان کو پیچھے کرکہ اٹھ کر بیٹھ گئی”
“آپ پھر سے صبح ہی صبح شروع ہوگے منان؟ “حورین نے اسے گھورتے ہوا کہا؟؟
“ارے نہیں جان منان یہ تو تمہیں جگانے کا طریقہ تھا، منان نے آنکھ مار کے کہا”
“جس پر حورین اسکی طرف کشن پھنکتی بیڈ سے نیچھے اتر گئ”
“بس بس ہمے دیر ہورہی ہے یار، منان نے کشن کے سامنے اپنے بازو رکھتے ہوئے کہا”
“اوووووووو نو حورین گھڑی کی طرح دیکھ کر بولی اور فورا اپنے ڈریس اٹھا کر واشروم میں بھاگ گئ۔۔۔
««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“عدن کو اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی، عدن نے وہشت سے اپنی آنکھیں بند کر لی”
“عدن آنکھیں بند کیے یہ ہی سوچ رہی تھی، کہ ابھی ناگ اسے ڈنگ مارے گا، لیکن جب اسے اپنے ہونٹوں پر ہلکی چھبن کے ساتھ ہونٹ محسوس ہوئے تو اس نے فورا سے آنکھیں کھولی،،تو اسے اپنے ہونٹوں پہ جھکا ہوا تہامی نظر آیا”
“عدن پھٹی پھٹی آنکھیں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی، لیکن مقابل بغیر کسی چیز کی پروا کیے اسکے ہونٹوں کی لالی چورانے میں مصروف تھا”
“جب کافی دیر بعد اسکی پیاس ختم ہوئی تو وہ اسکے ہونٹ آزاد کرتے بیڈ پر بیٹھ گیا”
“عدن اپنے ہونٹوں کو ہاتھ کا مکاہ بناکر صاف کرتی تہامی کو غصہ سے گھورنے لگی”
“ارے میری جان شادی کی پہلی رات بھی کوئی لڑکی اپنی شوہر کو ایسی نظروں سے دیکھتی ہے کیا؟؟؟ “تہامی اسکی کلائی پکڑ کر اسکی چوڑیاں اتارتے ہوئے بولا”
“تہامی آپکو اندازہ ہے آپکے آنے سے پہلے میرے اوپر کیا تھا؟ عدن اپنی کلائی چھڑواتی بیڈ کہ نیچھے دیکھتی ہوئی بولی”
کیا تھا؟؟ کیا ڈھونڈ رہی ہو بیڈ کے نیچھے؟؟
تہامی ناگ تھا میرے لہنگے پہ اور وہ دوبارہ سے بیڈ کے نیچھے دیکھنے لگی”
“تم جس ناگ کو بیڈ کے نیچھے تلاش کررہی ہو، وہ ناگ تمہارے سامنے بیڈ پر موجود ہے، تہامی نے عدن سے کہا”
“کہاں پر ہے تہامی عدن نے بیڈ پر دیکھتے ہی پوچھا؟؟
“دیکھتا ہوں پر ڈرنا نہیں، یہ کہتے ہی تہامی اپنے ناگ روپ میں آگیا”
“عدن کے سامنے بیڈ پہ ایک بڑا سنہری رنگ کا ناگ تھا، عدن کی آنکھیں خیرت سے پھیل گھیں”
“تہامی اب دوبارہ انسانی روپ میں آچکا تھا”
“آآآ۔۔آپ ن۔۔ن۔ناگ ہیں؟
“عدن نے اٹک اٹک کر پوچھا”
“ہاں عدن میں اچھاداری خاندان سے ہوں،، میں ایک ناگ ہوں میرے ماما بابا بھی ناگ تھے اور رھبہ بھی ناگن تھی”
“تھی مطلب؟؟
“شادی کے بعد وہ ناگن ختم ہوچکی ہے، کیوں کہ منان ناگ نہیں ہے”
“اور آپ مجھے اتنا بڑا سچ آج بتاریے ہیں؟؟، عدن نے اسے ناراض نظروں سے دیکھا”
“یار میں بتانا چاہتا تھا لیکن کوئی مناسب موقع نہیں ملا”
“آپ ناگ اور میں انسان ہمارا ملن کیسے ممکن ہے؟؟ عدن نے سر جھکتے ہوئے کہا”
“میری جان پرشان کیوں ہوتی ہو، منان نے اسے باہوں میں لیتے ہوئے کہا۔۔
“اس ناگ روپ کا آج آخری دن ہے، تمہیں پیار کرنے کہ بعد ختم ہوجائے گا”
“عدن نے خیرانگی سے اسکی طرف دیکھا”
“ہاں میری جان جب میں تمہارے ساتھ حق زوجہت اپناٶ گا تو یہ میرا ناگ روپ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجایے گا”
“عدن بلش کرنے لگی ، لیکن اندر سے عدن نے اطمنان سے تہامی کے سینے پر سر رکھ دیا”
“اب بہت باتیں ہوگئ ،،مجھے اپنی بیوی چاہے یار بہت ویٹ کیا اس دن کا عدن نے پلکے جھکا دی جس کا مطلب تھا وہ اس رشتہ سے رضامند ہے”
“اوو ہو مجھے یاد آیا تہامی اووو کہتا ہوا سائڈ ٹیبل کے ڈراز سے ایک نیلے رنگ کا محمل ڈبہ نکالا اور اس میں سے ایک نازک سا چین اٹھایا جس میں ایک دل بنا تھا اور دل میں “TA” لکھا ہوا تھا، یعنی تہامی اور عدن”
“تہامی اسکا دوپٹہ سرکتے ہوئے اسکی گردن میں چین ڈالنے لگا”
“عدن نے چین کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا یہ تو اتنی پیاری ہے تہامی”
“ہاں بہت پیاری ہے،، لیکن تم سے بہت کم ہے۔۔اسے کبھی اپنے گلے سے جدا نہ کرنا”
“جو حکم میرے سرتاج اور تہامی نے اسے اپنے باہوں میں سمیٹ لیا۔۔۔۔۔
««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»
“حورین منان جب فجر ادا کر واپس اپنے کمرے میں آئے تو رھبہ اپنا پیٹ پہ ہاتھ رکھے رو رہی تھی۔۔
“کیا ہوا چندا حورین نے اس کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھرنے ہوئے پوچھا؟؟
“آپی مجھے بہت پین ہورہی ہے رھبہ نے روتے ہوے بامشکل بتایا”
“رھبہ حوصلہ رکھو یار اور یہ بتاو ڈاکٹر نے کونسی ڈیٹ دی تھی؟؟
“آپی ڈیٹ میں ابھی پندرہ دن باقی ہیں”
“اچھا تم لیٹو نہیں بلکہ روم میں ہی آرام آرام سے واک کرو میں تمہارے لیے گرم دودھ لے کر آتی ہوں”
“حورین نے رھبہ کو بیڈ پر لیٹتے دیکھ کر کہا”
“آپی رھبہ حورین کا ہاتھ پکڑ کر بولی، پلیز منان کو میرے پاس بھج دیں”
“اوکے تم رونا بند کرو میں انہے بھجتی ہوں، اور یہ بال کھول دو حورین نے اسکی جوڑے میں قید بالوں کی طرف اشارہ کیا اور کمرے سے باہر چلی گئ”
“حوری یار کدھر تھی جلدی چلو ہم لیٹ ہو رہے ہیں، تم نیچھے سب سے مل لو میں رھبہ سے مل کر آتا ہوں، حورین جب سیڑیوں تک پہنچی تو اسے منان نیچھے سے آتا دکھا”
“نہیں منان ہم نہیں جاسکتے اج،،،آپ رھبہ کہ پاس جائے اسے لیبر پین شروع ہوچکی ہے، میں گاڑی نکلواتی ہوں، آپ اوپر جائے اور اسکا ڈریس چینج کروا دیں وہ بہت رو رہی ہے میری تو کوئی ہدایت نہیں مان رہی آپ ہی جائے”
“اوکے اوکے تم ماما کو بھی بتا دو میں جاتا ہوں”
“آنٹی رھبہ کو لیبر پین شروع ہوچکی ہے آپ اوپر جائے میں اسکے لیے دودھ لیے دودھ کا رہی ہوں”
“مومنہ جو اپنی ورڈروب ٹھیک کررہی تھی حورین کے بتانے پر فورا رھبہ کے روم میں چلی گئ”
“مومنہ جب اوپر پہنچی تو رھبہ بیڈ پہ لیٹے رو رہی تھی منان اسکا ہاتھ پکڑے اسے سہارا دے رہا تھا۔۔
“رھبہ بیٹا!!
“مومنہ کو دیکھ کر منان سائڈ پر ہوا تاکہ مومنہ رھبہ کہ پاس بیٹھ سکے”
“بیٹا ایسے لیٹتے نہیں ایسی کنڈیشن میں چلنا اچھا رہتا ہے،،چلو اٹھو، وہ رھبہ کو سہارا دیکر اٹھنے لگی اب رھبہ آرام آرام سے روم میں چل رہی تھی، رھبہ بیٹا یہ بال اور مومنہ نے اسکے بال کھول دیے اتنے میں حورین گرم دودھ لے آئی،یہ پی لو رھبہ،،،حوری بیٹا اس میں دیسی گھئ ڈالا ہے نا، مومنہ نے حورین سے پوچھا؟؟ جو دودھ کا گلاس لیے گھڑی تھی”
“جی جی آنٹی تین چمچ ڈالے ہیں۔۔۔
“ٹھیک ہے دودھ پیلا کر اسے نیچھے لے آو تاکے ہوسپیٹل چلے”
“رھبہ نے مشکل سے دودھ ختم کیا تو منان اسے اپنی باہوں میں اٹھاکر گاڑی تک لے آیا اور پھر وہ ہوسپیٹل روانہ ہوگے۔۔۔
“آج پانچ دن ہوچکے تھے رھبہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تھا”
“جو بلکل رھبہ پہ گیا تھا سرخ سفید اور سبز آنکھوں والا وہ بہت خوبصورت سا بچا تھا”
“مومنہ نے اسکا نام حنان رکھا تھا”
“آج حورین اور منان نے پرستان جانا تھا وہ سب کو تو ہنی مون کا کہہ کر گئے تھے جبکہ رھبہ جانتی تھی وہ پرستان گئے ہیں۔۔۔۔۔
«««««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“سامنے پڑی بوتل جس میں وہ پچهلے ایک ہفتے سے قید تھا، کچھ دیر پہلے ہی اسے اپنی بوتل کے اردگرد دوھا سا نظر آرہا تھا۔۔
اب وہ دوھا آہستہ آہستہ بوتل میں داخل ہورہا تھا، جب سارا دوھا بوتل میں داخل ہوچکا تو پٹھک سے بوتل پھٹ گئ اور دیکھتے ہی دیکھتے سالار بوتل سے باہر نکلا اور ایک چھوٹے سے انسان سے بڑا ہوتا گیا”

“جے ماں کالی۔۔۔۔ جے ماں کالی۔۔۔۔ جے ماں کالی۔۔۔
“وہ اپنی پوجا کو مکمل کرنے کے بعد مندر کی گھنٹی بجاتا ہو ا،، اپنے گرو کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔
“کمار تو نہیں جانتا میں نے کتنی مشکل سے تجھے آزاد کروایا ہے، وہ جادوئی بوتل تورنے کے لیے میں نے ایک پورے ہفتے کا پاٹ کیا ہے،تب جاکر تو باہر آیا۔۔
گرو جی بہت بہت دنوات آپکی شران میں ہی تو مجھے سب دیا ہے۔ وہ گرو کے پاوں چومتے ہوئے بولا۔۔
“جااب جاکر اپنا انتکام پورا کرلے گرو نے اسے جانے کا کہا تو وہ چلا گیا۔۔۔
«««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»›»»»
“حنان کے رونے کی آواز پر اسکئ آنکھ کھلی، اس نے وقت دیکھا تو بارہ بجنے میں ابھی دس منٹ باقی تھے۔ اس نے روتے ہوئے حنان کو فیڈ کروانے کے بعد اٹھ کر واشروم جانے لگی، سائڈ ٹیبل پر دوپٹہ لگنے کی وجہ سے اس پہ پڑا لاکٹ زمین پر جا گرا جس پر ایگل بنا تھا رھبہ اسے اٹھاکر رکھنے لگی تو اسے منان کی کہہ بات یاد ائئ۔۔
“میری جان میں اور حورین پرستان جارہے ہیں، جانا بہت ضروری ہے رونہ تمہیں اور حنان کو چھوڑ کرجانے کو دل نہیں کررہا”
“کوئی بات نہیں ادھر بھی آپکا جانا بہت ضروری ہے نا اور ویسے بھی تو بس دو ہی دن کی تو بات ہے آپ اور حوری آپی واپس آجائے گئے”
“ہممم میری کیوٹ وائف. یہ لاکٹ اپنے گلے میں پہن لو اللہ نہ کرئے تم پر کوئی مشکل گھڑی آئے تم مجھے پکارو گئ تو اس سے مجھے تمہاری آواز پہنچ جائے گئ”
“اوو میں کیوں بھول جاتئ ہوں کہ میں ایک نارمل انسان کی بیوی نہیں ہوں، رھبہ نے لاکٹ لیتے ہوئے۔۔۔
“رھبہ کے ایسے کہنے پر منان اسے گھور کے دیکھنے لگا ، کیوں میں تمہیں ابنارمل لگتا ہوں کیا؟؟
“ہاہاہاہاہاہاہا میرا مطلب میں ایک شہزادے کی بیوی ہوں تو آپ نارمل تھوڑا ہی ہو، رھبہ منان کے بال بگاڑتی ہوئے بولی”
“اللہ حافظ جان منان اسکی پیشانی پر کس کرکے باہر نکل گیا”
“رھبہ منان کی بات یاد کرتی لاکٹ کو اپنے لگے میں ڈال لیتی ہے اور واشروم چلی جاتی ہے۔۔۔
“جب رھبہ واشروم سے باہر آئی تو حنان بیڈ پر مجود نہیں تھا”
“رھبہ یہ سوچتے ہوئے مومنہ کے روم میں چلی گئ کہ وہ حنان کو اکیلا چھوڑنے پہ رھبہ کو غصہ کرتی تھی تبی وہ اسے اکیلا پاکر لے گھیں ہیں”
“آنٹی حنان کہاں ہے، رھبہ نے مومنہ کے کمرے میں نظر دوراتے ہوئے پوچھا؟؟
“نہیں بیٹا میں تو نہیں لائی حنان کو اب رھبہ پرشان ہوچکی تھی دونوں ساس بہو حنان کو ڈونڈھنا شروع ہوچکی تھیں۔۔
“دونوں نے سارا گھر چھان مارا لیکن حنان کا نام و نشان بھی موجود نہیں تھا، رھبہ نے تو اب بقاعدہ رونہ شروع کردیا تھا”
“بیٹا صبر کرو میں علی کو کال کرتی ہوں مومنہ اپنے روم کی طرف چلی گئ تاکہ علی کو کال کرسکے۔۔
“منان۔۔۔ رھبہ بھی بھاگ کر اپنے روم میں گئ اور لاکٹ پہ ہاتھ رکھ کے رو رو کر منان کو پکارنے لگی۔۔۔۔
«««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
“ابھی کچھ دیر پہلے ہی حورین اور منان پرستان میں اپنے ولیمہ کی تقریب سے فارغ ہو کر آپنی شاہی خواب گاہ میں آئے تھے۔۔
“حوری ادھر آو منان حورین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے سے لگا چکا تھا”
“وہ اسکی ڈریس کی بیک کی ڈوریاں کھول کر حورین کو بیڈ پر دھکا دے چکا تھا۔۔۔ وہ حورین کے ہونٹوں سے سراب ہوتا ہونٹوں سے نیچھے کی طرف بڑھ نے لگا”
“کچھ دیر کہ بعد حورین واشروم سے باہر نکلی اور ڈرائے سے اپنے بال سوکھنے لگی۔۔۔
“جاکر آپ بھی غسل فرما لے نا وہ اپنے شوہر کی پھر سے تپش بھری نظر دیکھ کر بولی اسے یہ ہی ڈر تھا کہ منان دوبارہ اسے اپنی باہوں کے گیرے میں قید نہ کرلے”
“”جس بات کا تمکو ڈر کے وہ کرکے دیکھا دوگا””
منان حورین کو آنکھ مارتے ہوئے گنگنے لگا تو حورین اسے زبردستی واشروم میں دھکا دےکر باہر سے دوڑ لاک کر چکی تھی”
“منان ہنستے ہوئے مجبورن شاور کھولنے لگا۔۔۔
“حورین کو لگا جب منان اب نہا رہا ہے تو وہ لاک کھول کر بیڈ پر آکر لیٹ گئ۔۔۔
“منان نہا کر آیا اور بغیر شرٹ کے آکر حورین پر جھکا گیا”,
“شہزادہ صاحب آپ کیوں گیلے گیلے مجھ پہ آکر گرے ہیں؟؟
“تو ابھی تمہاری ہیٹ سے خشک ہوجاو گا نا۔۔۔
ابھی منان دوبارہ حورین کو اپنے حصارے میں قید کرتا اس سے پہلے اس کے کان میں رھبہ کی روتی ہوئی آواز پڑی۔۔۔
“منان اٹھ کر بیٹھ گیا اور سامنے لگی پینٹنگ پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری تو وہاں رھبہ کے کمرے کا منظر چلنے لگا۔۔۔
“منان ہمارا حنان نہیں مل رہا کوئی لے گیا ہے اسے رھبہ نے روتے ہوئے بتایا”
“رھبہ تم پرشان مت ہو میں ابھی پتہ لگتا ہوں”
“منان نے کچھ پڑھ کر آنکھیں بند کیں تو حنان اسے اسی مندر میں نظر آیا اور وہ کسی اور کے پاس نہیں بلکے سالار کے پاس ہئ تھا جو کوئی جاپ کرنے میں مصروف تھا اور حنان کالی کے بت کے قدموں میں پڑا تھا”
“حورین میں جارہا ہوں حنان کو اس خبیس سے لینے تم بھی زوہان اور یمن کو بتا کر آجاو منان اسے کہتا ہوا فورا غائب ہو گیا۔۔۔
“حورین نے بھی کچھ پڑھ کے آنکھیں بند کی تو اسے بھی ساری صورت حال معلوم ہوگئ۔ وہ زوہان اور یمن کو اپنے محل آنے کا کہہ کر اور انہے صورت حال سے آگاہ کرکے ‘منان کے پیچھے چلی گئ۔۔۔

“سالار اپنی پوجا کرکے حنان کو کالی کے سامنے بلی چڑھنے کے لیا اسے ہاتھ بڑھا کر اٹھنے کی کوشش کرتا لیکن وہ جیسے ہی حنان کے جسم سے اسکا ہاتھ ٹچ ہوتا حنان کی سبز آنکھیں سے نکلنے والی روشنی اس کے جسم پر پڑتی اور اسے شدید قسم کا کرنٹ لگتا اور وہ اسکے جسم سے کہیں انچ دور جا گرتا۔۔۔
“سالار کوئی دس سے گیارہ بار کوشش کر چکا تھا، لیکن حنان کو اٹھنے میں ناکام رہا تھا”
“تب ہی منان وہاں پہنچ گیا۔۔
“تو ہاتھ بھئ نہیں لگا سکتا میرے بچے کو یہ کوئی عام بچا نہیں ہے پری زادہ ہے منان نے اسے جتایا اب حورین بھی وہاں پہنچ چکی تھی، ‘منان نے حنان کو اٹھا کر حورین کو پکڑیا اور سالار پہ کچھ پڑھ کر پھونک ماری تو اسے آگ لگ گی، اب تو دوبارہ نہیں بچے گا کیوں کہ اب میں اپنے سارا جادو سیکھ چکا ہوں،،اور دیکھتے ہی دیکھتے سالار جل کر راکھ ہوچکا تھا، حورین تم جاو گھر میں اسکے گرو کو بھی ٹھکانے لگا کر آتا ہوں”
“منان نے گرو اور اسکے تمام چیلوں کو بھی اس دنیا سے مٹا دیا اور گرو کے تمام آستاتوں کو بھی بھسم کردیا۔۔۔۔۔۔
*five year later*
“ڈاکٹر میرئ وائف کو اچانک کیا ہوگیا تھا تہامی نے ڈاکٹر سے پرشانی سے پوچھا؟؟
“ڈاکٹر کو خاموش دیکھ کر تہامی کا اپنا مری آنے کا فیصلہ غلط لگنے لگا کیوں کے مری جسے ٹھنڈے علاقہ میں آکر اسکی بیوی ٹھنڈ کی وجہ سے بیمار ہو گئ تھی۔۔۔
“پرشانی کی کوئی بات نہیں مسٹر آپکی وائف ماں بنے والی ہیں۔۔
“تہامی کی تو خوشی سے آواز بھی نہیں نکل رہی تھی”
“سچ ڈاکٹر, تہامی نے خوشی سے کہا”
“جی بلکل”
“کتنے بچے ہیں پہلے آپ کے؟؟ایک بھی نہیں ڈاکٹر پانچ سال سے اس خوشخبری کے لیے میرا دل ترس رہے تھا،، لیکن جس روح نے جب آنا ہو تب ہی آتی ہے”
“ہممم آپ ایسا کریں اب انکے لیے مزید دو منتھ سفر ٹھیک نہیں رہے گا اور یہ میڈیسن باقائیدگی سے انہے دیتے رہیے گا”
“جی ڈاکٹر بلکل نہیں کررئے گئے سفر اور وہ عدن کو لے کر واپس آگیا۔۔
پیپ۔۔۔۔۔ پیپ۔۔۔
ا”رے بیگمات کال اٹھا لے ورنہ یہ جاگ گیا تو مجھ غریب کا کیا ہوگا ‘منان نے پانچ سالہ حنان کے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
“منان رھبہ باہر ہے اور میں اگر مناہل کو چھوڑ کر اٹھی تو پھر آپ بھول جایے سب، حورین نے آپنی تین سالہ بیٹی مناہل کو تھپکی دیتے ہوۓ کہا۔۔
“ہیلو منان اپنے نیند کو خیرآباد کہتا اٹھ کر فون سنے لگا”
جی ہیلو۔۔۔
“منان یار تو ماموں اور میں پایا بنے والا ہوں رھبہ کو بنانا اور ہاں اب نیکسٹ دو منتھ اور ہم مری میں ہی رکنے والے ہیں کیوں کہ عدن کو ڈاکٹر نے سفر سے منع کیا ہے، رسمی دعا سلام کے بعد وہ نان اسٹاپ شروع ہوچکا تھا”
“مبارکاں مبارک آخر پانچ سال بعد اللہ نے تم دونوں کی سن لی منان نے کہا اور تھوڑی دیر اور بات کرنے بعد فون رکھ دیا۔۔
“منان اٹھ کر آیا مناہل کو حورین سے لے کر بیڈ پر ڈالا اور صوفے پر ہی حورین پہ جھکا گیا”
“منان کیا کررہے ہو حنان دیکھ لے گا، اور وہ ہی ہوا
بابا چھوٹی ممی۔ حنان کی چہکتی آواز دونوں کو سنائی دی تو دونوں جلدی سے پیچھے ہٹے۔۔۔
حورین منان کو گھورتا ہوئی باہر چلی گئ”

“رھبہ۔۔۔۔۔۔ حورین۔۔۔۔۔
“حنان اور مناہل کدھر ہیں؟؟
“منان نے دونوں بیویوں سے باری باری پوچھا”
“آنٹئ انکل کے پاس ہوگئے رھبہ نے اپنے موبائل میں مصروف انداز میں کہا”
“نہیں میں سارے گھر میں دیکھ چکا ہوں، دونوں بہن بھائی ماما پاپا کے پاس بھی نہیں ہیں”
“وہ دیکھے منان حورین نے کھڑکی سے باہر اشارہ کیا، جہان زمین سے کچھ اوپر شاہی بھگی میں حنان اور مناہل پرستان جارہے تھے،،رھبہ حورین، اور منان یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگ گئے۔۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆ختم شد∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ہوسٹ کو لائک اور شیئر ضرور کیجیئے گا۔۔
ڈیئر ریڈرز میرے موبائل کا وائس ٹائپر خراب ہے جس وجہ سے لیٹ ایپسوڈ دی۔۔
اب جو میرے پیارے ریڈرز ہیں وہ یہ ایپیسوڈ ریڈ کرکے ایک لمبا سا کمینٹ ضرور کریں گئے،
ملتے ہیں ایک نیو ناول کے ساتھ،،تو تب تک کے لیے اللہ حافظ۔۔۔“`

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: