Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 9

0

نخریلی محبتیں از سیما شاہد قسط نمبر 9

حمزہ اپنی بات مکمل کرکے بڑے غور سے گڈو کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ”جی چاچو وہ بہت اچھی ہے بیوٹی فل بھی ہے ہمیں پیار بھی کرتی ہے آج کام سے بھی چھٹی کروائی اور ڈانٹتی تو باکل نہیں ہے اور پتہ ہے اسے آپ بالکل بھی اچھے نہیں لگتے ۔۔“ گڈو نے بڑے آرام سے تفصیلاً جواب دیا ۔

” بڑے ہی بے وفا ہو یار ! یعنی میں اب تمہارے لئیے کچھ بھی نہیں ہوں اور کیا میں ہینڈسم نہیں ہو جو تم دونوں اب اس سے چمٹے رہتے ہو اور میری برائیاں سنتے ہو ۔۔“ حمزہ نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے گڈو کو شرمندہ کرنا چاہا ” چاچو آئی لو یو ٹو ! بٹ آئی لو ہر مور ۔۔“ گڈو بڑے پیار سے بولا ” کیوں بے موٹو پالا پوسا میں نے اور وہ کل کی آئی بےبی یو لو ہر مور ۔۔“ حمزہ نے اس کی نقل اتاری ۔

”چاچو خود کو دیکھیں اتنے لمبے ہیں کہ منہ اٹھا کر بات کرنی پڑتی ہے اور چہرے پر یہ کالے کالے بال کتنے برے لگتے ہیں پپی بھی کرتے ہیں تو زور سے درد ہوتا ہے “ ۔۔وہ اس کے وجیہہ چہرے پر ہلکے ہلکے سے شیو کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا ” ابے موٹے یہ شیو کہلاتا ہے یہ تو مرد کی شان ہوتا ہے ۔۔۔۔“ حمزہ نے جواب دیا ۔ ”مگر چاچو ٹی وی پر جو شان آتا ہے اس کا فیس تو اتنا برائٹ ہے بالکل صاف ستھرا پپو کے جیسا ۔۔“ گڈو الجھ کر بولا ” بندر کیا جانے ادرک کا مزا ! میرے یار گڈو جانی تو دس بارہ سال سال گزرنے دے پھر دیکھنا تڑپ تڑپ کر اللہ سے میرے جیسا شیو مانگے گا ۔۔“ حمزہ نے گردن اکڑا کر جواب دیا۔ ”چاچو ہٹیں بھی بےبی اندر آرہی ہے مجھے بے بی کے پاس جانا ہے ۔۔۔“ وہ مریم کو اندر آتا دیکھ کر بولا

حمزہ کے پیچھے ہٹتے ہی گڈو نے کرسی سے جمپ لگائی اور دوڑتا ہوا اندر داخل ہوتی مریم کی جانب بڑھا ۔۔۔

حمزہ نے ایک گہری نظر سبز لباس میں ملبوس نازک سی مریم پر ڈالی جو پپو کو گود سے اتار کر چہرے پر نرمی اور مسکراہٹ لئیے اب گڈو کی بات سن رہی تھی ۔۔

” تینوں ہی بہت بڑا ڈرامہ ہیں ۔۔۔“ وہ بڑبڑاتے ہوئے آگے بڑھا اور مریم کے پاس جاکر رک گیا ۔۔۔ ”سنو میں باہر سے تکہ کباب روٹی لیکر آیا ہوں تم جلدی سے میز لگاؤ میں بچوں کو نہلا دھلا کر لاتا ہوں ۔۔“ دونوں بچوں کو اپنے بازوؤں میں جکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا

” اگر تمہیں باہر سے کھانا لانا تھا تو مجھے کچن میں کیوں کھپایا دیکھو تو میرا ہاتھ بھی کٹ گیا ۔۔۔“ مریم خفگی سے اپنا دائیاں ہاتھ آگے کیا جس پر بچوں والا سنی پلاسٹ لگا ہوا تھا ۔۔ ”چاچو بےبی کے ہاتھ میں چوٹ لگ گئی تھی بے بی رو رہی تھی پھر گڈو نے ڈاگی والا سنی پلاسٹ لگایا اور میں نے ہاتھ پہ ایسے پیار کیا تو ٹھیک ہوگیا ۔۔۔“ پپو حمزہ کے ہاتھ پر کس کرتا ہوا بولا حمزہ مریم پر ایک نظر ڈالتے ہوئے بچوں کو لیکر اندر چلا گیا۔مریم بھی آہستگی سے کچن کی جانب روانہ ہوئی ۔۔

مریم نےکچن میں موجود بڑی سی ٹیبل پر برتن لگانے شروع کئیے پھر حمزہ کا لایا ہوا کھانا ڈشز میں نکال کر رکھا اور اپنی بنائی ہوئی بریانی نما کھچڑی ٹائپ چاول جو پہلے ہی ڈش میں تھے مائیکروویو میں گرم کرکے رکھے ہی تھے کہ صاف ستھرے نہائے دھوئے سلیپنگ ڈریس میں ملبوس دونوں بچے حمزہ کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔۔

”ابھی تو رات بھی نہیں ہوئی تم نے ان معصوموں کو سلیپنگ ڈریس کیوں پہنا دیا ۔۔“ مریم نے حیرانگی سے پوچھا ۔ ” مس مریم عرف پپو کی بےبی ٹائم دیکھو شام ہو رہی ہے اب تو یہ لنچ کم ڈنر کرکے ان کو سلا دونگا اور کل صبح پانچ بجے اٹھ کر یہ میرے ساتھ جاگنگ پر جائیں گے ۔۔ کیوں گڈ پپو؟ “ حمزہ نے مریم کو جواب دیتے ہوئے دونوں سے پوچھا ۔

” جی چاچو۔۔۔۔“ دونوں نے سر ہلا کر بڑے جوش سے جواب دیا ”مگر کیوں ۔۔۔“ مریم نے پوچھا ”بےبی آج ہم کام پر نہیں گئے نا تو یہ ہماری پنشمنٹ ہے ۔۔۔“ گڈو جواب دیتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر بیٹھا ۔

حمزہ نے پپو کو اٹھا کر اپنے برابر رکھی اونچی کرسی پر بٹھایا گڈو نے بھی نشست سنبھالی اور مریم کے بیٹھتے ہی یہ لنچ کم ڈنر شروع ہوگیا سب نے پہلے بریانی پلیٹوں میں نکالی ۔۔۔۔۔

” سسس پانی مرچیں ہیں ۔۔۔۔“ پپو نے دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملیں مریم نے اور حمزہ دونوں نے ایک ساتھ پانی کے جگ کی طرف ہاتھ بڑھایا حمزہ کے ہاتھ سے مریم کا ہاتھ ٹچ ہوا تو مریم نے تیزی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا ۔۔۔ حمزہ نے مریم کو دیکھا پھر پپو کو پانی نکال کر پلایا اب سب حمزہ کا لایا ہوا کھانا کھا رہے تھے اور مریم کی بنائی کھچڑی بریانی دور پڑی اپنی ناقدری پہ رو رہی تھی ۔۔۔

” میں نے اتنی محنت سے لائف میں پہلی بار کھانا پکایا کیا ہوا جو تھوڑی مرچیں تیز ہوگئی اور چاول لئی ہوگئے پر تمہیں تھوڑا سا تو کھانا چاہئیے تھا ۔۔“ مریم نے حمزہ سے شکوہ کیا ” میں کوئی پاگل ہوں جو اتنے زبردست کباب بوٹی چھوڑ کر یہ دلیہ نما چیز کھاؤ گا جو تم خود بھی نہیں کھا پارہی ہو معاف کرنا ایسا کھانا تو میں عشق میں اندھا ہو کر بھی نہیں کھا سکتا ۔۔“ حمزہ نے دو ٹوک جوابدیا

کھانے کے بعد مریم نے کچن سمیٹا اور حمزہ بچوں کو لیکر بیڈروم میں چلا گیا ۔۔۔ رات کے آٹھ بجنے والے تھے پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا دونوں بچے سو چکے تھے حمزہ نے ان پر باری باری لحاف درست کیا اور ان سوئے ہوئے معصوم شیطانوں کے ماتھے پر پیار کرتا باہر نکل کر کھڑکیاں دروازے لاک کرتا اپنے کمرے میں چلا آیا تھوڑی دیر نیٹ پر لگا رہا پھر خود بھی لباس بدل کر الارم لگا کر سونے لیٹ گیا کافی دیر تک کر کروٹیں بدلتا رہا پھر تنگ آکر اٹھ بیٹھا ۔۔۔ گھڑی میں ٹائم دیکھا تو نو بجنے والے تھے وہ بیڈ سے اٹھ کر سلیپر پہنتا کمرے سے باہر نکلا کچن میں موجود فرسٹ ایڈ باکس سے اینٹی سیپٹک مرہم نکالا اور کونے پر بنے گیسٹ روم کی جانب بڑھا قریب پہنچ کر دروازے پر دستک دی ۔۔۔ ” کون ہے ۔۔۔۔“ اندر سے مریم کی مدھم سی آواز آئی۔۔۔

وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو پورے کمرےمیں چراغاں ہورہا تھا ایک ایک لائٹ جل رہی تھی یہاں تک کے اٹیچ باتھ کی لائٹ بھی آن تھی ٹی وی بھی آن تھا پر آواز بند کی ہوئی تھی اور مریم بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔

مریم حمزہ کو دیکھتے ہی بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔

”تم اس وقت ادھر کیا کررہے ہو ۔۔۔“ مریم نے پوچھا۔

” یہ ساری لائیٹیں کیوں آن ہیں ۔۔۔“ حمزہ نے چاروں جانب دیکھتے ہوئے پوچھا ” وہ دراصل میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔“ مریم کہتے کہتے ہچکچا کر چپ ہوگئی حمزہ نے ایک گہری نظر سر جھکائے کھڑی مریم پر ڈالی اور خاموشی سے اسکا ہاتھ تھام کر اس پر بندھے سنی پلاسٹ کو دیکھا اور پھر بنا کچھ کہے بڑی نرمی سے اس کی انگلی سے لپٹا سنی پلاسٹ ہٹایا ۔۔۔ چھری سے لگا ایک گہرا کٹ نظر آرہا تھا اس نے بنا کچھ بھی کہے اپنے ہاتھ میں پکڑا مرہم کھولا اور بڑے آرام سے اس کی نازک سی انگلی پر لگانے لگا وہ اتنے انہماک سے مرہم لگا رہا تھا جیسے اس وقت اس لمحہ اس سے اہم اور کوئی کام نہیں ہے ۔۔۔ مریم اس کی توجہ اور انہماک دیکھ کر پزل ہورہی تھی ۔۔۔

”اف اب اگر یہ ایسے کئیر کریگا تو کہیں واقعی میں مجھے اس سے پیار نہ ہوجائے کمبخت ہینڈسم بھی تو بہت ہے ۔۔۔“ مریم نے سوچا پھر ایک جھرجھری لیکر کر تیزی سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا ”کیا ہوا ۔۔“ حمزہ نے پوچھا ” کچھ نہیں اب تم جاؤ یہاں سے ۔۔“ مریم نظریں چرا کر بولی ”جا رہا ہوں پر کیا اس ماہ کا بجلی کا بل تم بھرو گئی جو اتنا چراغاں کیا ہوا ہے ۔۔۔“ حمزہ نے لائٹوں کی طرف نگاہ دوڑاتے ہوئے پوچھا ” بہت ہی کنجوس مکھی چوس ہو تم ، فکر مت کرو جتنا بھی خرچہ تم مجھ پر کررہے ہو سب واپس کردونگی ۔۔۔“ مریم نے سنجیدگی سے کہا ” او ریئلی بہت اچھے مگر کب ۔۔“ حمزہ دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹتا ہوا گویا ہوا ۔ اس لمحہ مریم کو شدت سے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوا ۔۔۔ ”بہت جلد ۔۔۔“ وہ بھرائے ہوئے لہجے میں کہتی پلٹ گئی ۔ حمزہ نے آگے بڑھ کر ساری لائیٹیں آف کی اور زیرو بلب جلاتا ہوا صوفہ پر دراز ہوگیا ۔ ”اب کھڑی کیوں ہو جاؤ جاکر سو جاؤ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں ادھر ، کل دن میں تمہارے لئیے بچوں کے ساتھ والا کمرہ سیٹ کروا دونگا ۔۔ “ وہ پیر پسارتے ہوئے آنکھیں بند کرتا ہوا بولا مریم پلٹ کر بیڈ پر چلی گئی کچھ بھی ہو حمزہ کی موجودگی سے سارے ڈر و خوف دور بھاگ گئے تھے ۔۔ ” سنو جاگ رہے ہو کیا ۔۔“ اندھیرے میں مریم کی آواز گونجی ” کیوں اب کیا ہوا ۔۔۔۔“ حمزہ نے پوچھا

”میرے سونے کے بعد وعدہ کرو مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے تو نہیں جاوگے ۔۔“ مریم نے پوچھا

”مریم ! تم چپ ہونے کا کیا لوگی ۔۔۔مجھے صبح پانچ بجے اٹھنا ہے سونے دو ۔۔“ حمزہ بھنایا ” تو تم وعدہ کرونا ! آخر تم پولیس والے ہو کیسے تمہاری بات کا بھروسہ کرلوں ۔۔“ مریم کی آواز گونجی

” اچھا میرے بچوں کی بے بی ۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑونگا اب اجازت ہو تو سوجاؤں ۔۔“ حمزہ گویا ہوا

”کیا کل تم واقعی بچوں کو پانچ بچے اٹھاؤگے ۔۔“ مریم نے پوچھا ” ہاں “ حمزہ غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا ” ٹھیک ہے مگر یاد رکھو اگر تم نے دوبارہ پورے گھر میں شور شرابا کیا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔“ مریم نے اسے وارن کیا اور آنکھیں بند کرتی سونے لیٹ گئی

**************************for more books – urdunovels.info

ماہین کا پورا دن آج شاپنگ اور پارلر میں گزرا تھا اب وہ اپنا بیگ پیک کررہی تھی بس کل کا دن اور تھا پھر اسے حمزہ کے گھر رہنے جانا تھا ابھی وہ سامان ہی پیک کررہی تھی کہ دروازہ کھول کر احمد صاحب اور مسز احمد اندر داخل ہوئے ۔۔۔ ” ہاں بھئی ماہین گڑیا پیکنگ ہوگئی کیا “ ۔۔ ”جی احمد بھائی ساری تیاری مکمل ہے ۔۔“ ماہین نے جواب دیا ”دیکھو ماہین قدرت نے تمہیں حمزہ کو پھسانے کا ایک بہترین موقع دیا ہے اب تمہیں اس سے فائدہ اٹھانا ہے اور ان بچوں اور حمزہ کو اپنے بس میں کرنا ہے ۔۔۔۔ “ کمشنر احمد سنجیدگی سے بولے ”ماہین حمزہ کے اتنے قریب ہوجانا کہ وہ تمہیں پانے کو مچل جائے بس پھر ہمارا کام ہوجائیگا۔“ مسز احمد نے اسے ہدایات دیں ۔ ” جی آپی آپ بالکل فکر مت کریں ۔۔۔“ ماہین نے جواب دیا

”یاد رکھنا حمزہ کا دل وہ بچے ہیں انہیں اپنا ٹارگٹ بناؤ ۔۔۔“کمشنر صاحب گویا ہوئے ۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: