Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 1

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ جو رقص ہے میرا فرش پر
یہی لے اڑا مجھے عرش پر
میری ذات میں جو دھمال ہے
تیرے عشق کا یہ کمال ہے
دور کسی مسجد میں آذان کی آواز بلند ہوئی۔۔۔۔
وہ جو پوری طرح سے نیند کی وادیوں میں گم تھی۔۔۔
فوراً سے بیدار ہوئی۔۔۔
نیلی گہری جھیل جیسی آنکھوں میں اب بھی نیند کا خمار تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے دوبارہ آنکھیں بند کی اور خوبصورت آواز میں ادا کیے جانے والے آذان کے کلمات سننے لگی۔۔۔۔
جو اسے اپنے دل میں جذب ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔
آذان ختم ہونے کے بعد کلمہ پڑھ کر وہ وہ جلدی سے اٹھی۔۔۔
اپنے سنہرے بالوں کو سمیٹ کر جوڑے کی شکل میں قید کیا اور وضو کی نیت سے واشروم کی جانب چل دی۔۔۔
واشروم سے نکل کر اس نے اپنے کمرے میں ہی جائنماز بچھایا اور پورے انہماک سے نماز پڑھنے لگی۔۔
وہ جب بھی نماز پڑھنے کے لیے کھڑی ہوتی اس کی پوری توجہ نماز پر ہوتی دنیا داری کی سوچوں کو وہ پیچھے دھکیل دیتی۔۔۔
نماز سے فارغ ہو کر وہ کچھ دیر قرآن مجید کی تلاوت کرتی تھی۔۔۔۔۔
جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا تب سے آج تک نماز کی پابند تتھی۔۔۔۔
صبح کی نماز کے بعد باقاعدگی سے تلاوت کرتی۔۔۔
نماز اور تلاوت سے فارغ ہو کر اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جہاں چھ بج گئے تھے۔۔۔۔
اس کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آ ٹھری۔۔
وہ جلدی سے اپنے لیے کیٹل میں چائے بنانے لگی۔۔۔۔
چائے بنا کر کپ میں ڈالنے کے بعد بھاپ اڑاتی چائے کا کپ لے کر۔۔۔۔۔وہ کھڑکی کےپاس آ گئی۔
جیسے ہی اس نے کھڑکی کے پٹ کھولے۔۔۔۔ٹھنڈی ہوا کے تازہ جھونکے نے اس کا استقبال کیا۔۔۔۔۔
جس سے اس کی روح پر چھائ ساری بیزاریت ختم ہوگئی۔۔
اس کی جگہ خوش کن احساس نے لے لی۔۔۔۔
سورج اپنی پوری آب وتاب سے مشرق سے طلوع ہو رہا تھا۔۔
اس کی ہلکی ہلکی کرنیں اس کے چہرے کے گرد خوبصورت حصار باندھ رہی تھیں۔۔
لیکن اس کی پوری توجہ اپنے پسندیدہ منظر کی جانب تھی ۔۔
کھڑکی
سے نیچے جھانکنے پر بڑی سڑک نظر آتی تھی۔۔۔
جس پر صبح کے وقت بہت ٹریفک ہوتی تھی۔
سڑک کے اس پار ایک بڑا اور خوبصورت پارک تھا۔
جہاں بڑے,بوڑھے,بچے اور نوجوان لوگ روزانہ مارننگ والک اور جاگنگ کی غرض سے آتے تھے۔۔
وہ
کھڑکی میں کھڑی ہر کسی کو مکمل نظر انداز کیے۔۔۔
صرف ایک شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
جو اردگرد سے بالکل بے خبر پوری توجہ سے جاگنگ کرنے میں مصروف تھ۔۔
پارک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چکر لگانے کے بعد اب وہ ورزش کے مختلف سٹیپس کر رہا تھ۔۔۔
اس کی صبیح پیشانی پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے سورج کی روشنی میں چمک رہے تھے۔
جس سے اس کی پیشانی اور بھی روشن اور خوبصورت نظر آ رہی تھی۔۔۔
وہ اپنی فٹنس کو لے کر کافی حساس معلوم ہوتا تھا۔
وہ روزانہ چھ بجے اس پارک میں آتا اور جاگنگ کرنے کے ایک گھنٹے بعد سات بجے چلا جاتا۔
اس ایک گھنٹے کے دوران کوئی بہت غور سے اس کی حرکات وسکنات کو نوٹ کرتا اور دل ہی دل میں اس سے ہم کلام ہوتا۔۔۔۔۔
وہ کب کا جا چکا تھا۔۔۔ لیکن وہ دیوانی لڑکی اب بھی اس کے خیالوں میں کھوئی کھڑکی کے پٹ سے لگی کھڑی تھی۔۔۔
بہت سارا وقت مذید ایسے ہی بیت جاتا۔۔۔۔جب گھڑی نے آٹھ بجے کا الارم بجایا۔۔۔۔وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔۔
اور چائے کے کپ کی طرف دیکھا جہاں چائے مکمل طور پر ٹھنڈی ہو کر ویس ہی پڑی تھی۔۔۔
اسے اپنی دیوانگی پر ہنسی آنے لگے۔۔۔
چائے اب پینے کے قابل نہیں رہی تھی۔۔۔۔اس نے چائے کو گرایا کپ دھو کر پاس ہی ٹیبل پر رکھ دیا ۔
خود جلدی جلدی تیار ہو کر برقعہ اوڑھنے لگی۔
کیوں کہ وہ یونیورسٹی سے لیٹ ہو رہی تھی۔
برقعہ اوڑھنے کے بعد اس نے نقاب سے اپنے چہرے کو چھپا لیا۔۔۔ہاتھوں کو بھی کالے داستانوں سے ڈھانپ لیا۔
خود کو مکمل پردے میں چھپا لینے کے بعد اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا ۔۔۔جہاں صرف اس کی نیلی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔۔۔
وہ ایک سرسری سی نگاہ خود پر ڈالتی اپنا بیک کندھے لٹکا کر کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
اپنے کمرے کو لاک کر کے چابی بیگ میں ڈال کر بنا کسی سے بات کیے ہاسٹل سے نکل آئی۔۔۔
یونیورسٹی اس کے ہاسٹل سے ذیادہ دور نہ تھی۔
15,,10 منٹ کی پیدل مسافت کے بعد وہ اس شہر کی سب سے بڑی اور مہنگی یونیورسٹی میں داخل ہو چکی تھی۔
اسے یونیورسٹی آئے ایک سال ہو چکا تھا۔
اب وہ یہاں کافی حد تک ایڈجسٹ کر چکی تھی۔
لیکن آج تک اس نے کسی سے بھی دوستی نہ کی تھی۔
وہ ایسی ہی تھی ہر کسی سے الگ تھلگ اپنے کام سے کام رکھنے والی اپنی ذات میں مکمل گم ۔۔۔
شروع شروع میں جب وہ یونیورسٹی آئی تو کئی لڑکے لڑکیاں اسے حیرت اور تمسخرانہ نگاہوں سے دیکھتے۔کیوں
کہ اس بڑی یونیورسٹی میں صرف امیر ماں باپ کی ماڈرن اولاد ہی پڑھ سکتی تھی۔
لڑکیاں روز نئے نئے فیشن کے لباس اور میک اپ کر کے آتیں۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ یہاں برقعہ پہننے والی پہلی لڑکی تھی یہاں اور بھی لڑکیاں عبایا پہنتی تھیں لیکن وہ بھی ان کے فیشن کا حصہ تھا وہ سب نقاب نہ کرتی تھیں۔۔۔
وہ واحد طالبہ تھی جو مکمل طور پر پردے میں ہوتی تھی صرف اسکی آنکھوں نظر آتیں جو انتہائی خوبصورت اور گہری تھیں۔۔۔
وہ سیدھا اپنی کلاس میں جا کر اپنے بینچ پہ بیٹھ گئی۔
اور کلاس سٹارٹ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
اس کے ساتھ والے بینچ پر ایک لڑکی شانزہ بیٹھتی اس سے بھی اس کی زیادہ بات چیت نہیں تھی اگر ہوتی بھی تو صرف پڑھائی کے حوالے سے۔۔۔۔۔۔۔
شانزہ بلا شبہ ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی پھر بھی ان دونوں کے درمیان ذیادہ انڈرسٹینڈنگ نہ ہوسکی۔۔۔۔
کلاس سٹوڈنٹس سے بھر گئی تھی سر بھی آ گئے تھے لیکن آج وہ دشمن جاں نہ آیا تھا جس کا اسے انتظار روز ہوتا تھا۔۔۔
لیکچر سٹارٹ ہوئے 15منٹ ہی گزرے تھے جب وہ کلاس کے باہر آیا اور سر سے اندر آنے کی اجازت طلب ک۔
مسٹر زہران احمد ۔۔۔۔۔۔کیا میں آپ سے لیٹ آنے کی وجہ پوچنے کی گستاخی کر سکتا ہوں ؟؟؟؟؟
سر نے موٹے چشمے کے پیچھے سے اسے گھورتے ہوئے انتہائی خشک اور اور طنزیہ لحجے میں پوچھا۔
جی۔۔جی سر آپ گستاخی کیا جسارت کیجئیے بندہ ناچیز آپ کی ہر جسارت کو برداشت کرے گا۔
وہ بھی زہران تھا اپنے نام کا ایک ہی سمپل تھا پوری یونیورسٹی میں۔۔
اس کی بات سن کر کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں آنے لگیں۔
سر تھوڑا شرمندہ ہوگئے۔
زہران مجھے لیٹ آنے کی وجہ بتاؤ گے یا میں پھر آج کروں پرنسپل سر سے تمہاری کمپلین
اس بار سر نے قدرے ذیادہ غصے سے کہا۔
ایکچوئلی سر دوسرے ڈپارٹمنٹ کا ایک سٹوڈنٹ آج صبح یونیورسٹی آتے اپنی بائک سے گر کر زخمی ہو گیا۔
میں اسے ہی ہاسپٹل چھوڑ کر اس کی فیملی کو انفارم کر آیا ہوں۔
اتنے موئدبانہ انداز میں تفصیل سے بولے گئے جھوٹ پر پیچھے ںیٹھے زہران کے دوستوں کے منہ پورے کھل گئے۔
لیکن سر اس کی اس نیکی کے جزبے سے کافی متاثر ہوئے اور اسے کلاس میں آنے کی اجازت بھی دے دی۔
یار تم تو نتاشہ کو گھر چھوڑنے گئے تھے نا۔
غالباً اس کی ہائی ہیل کی اسٹپس ٹوٹ گئی تھی۔
اس کے بیٹھتے ہی دوست نے بےچینی سے پوچھا۔۔
تم بھی نا گھامڑ ہی رہنا اب یہ بات میں سر کو کیسے بتاتا۔
اب چپ چاپ لیکچر نوٹ کرو مجھے بھی کرنے دو۔۔۔
زہران کی بات پر ذیادہ دیہان اور تو کسی نے نہ دیا۔۔
لیکن سامنے بیٹھی دو نیلی آنکھیں بہت غور سے اسے دیکھ بھی رہی تھیں اور دیہان بھی اس کی بات پر تھا۔۔۔۔
کلاسیس
اٹینڈ کرنے کے بعد وہ یونیورسٹی سے نکل کر لمبی سٹریٹ پر چلنے لگی۔
سٹریٹ کے دونوں جانب لمبے درخت کھڑے تھ جن کی چھاؤں میں وہ چلتی ہاسٹل پہنچ گئی۔
اپنے
کمرے میں آنے کے بعد اس نے کچھ دیر آرام کیا پھر فوراً اٹھ کر واشروم چل دی۔۔۔
واپس آ کر اس نے ظہر کی نماز پڑھی۔۔
نماز سے فارغ ہو کر وہ باہر ہال میں آ گئی کھانا کھانے کے لیے۔۔۔۔۔
اپنا کھانا لے کر خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ کر کھانے لگی۔
ہال میں اور بھی لڑکیاں تھیں جو آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔۔۔
وہ چپ چاپ کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آ گئ۔
اس کا ارادہ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اپنے نوٹس بنانے کا تھا لیکن اسے نیند آ گئی۔۔۔۔
شام سائے گہرے ہوچلے تھے۔۔
وہ
اپنے کمرے کی واحد کھڑکی میں آ کر کھڑی ہو گئی۔
اور باہر دیکھنے لگی سارا شہر اس وقت روشنی میں نہا گیا تھا۔۔۔
نیچے سڑک پر ٹریفک اب بھی رواں دواں تھی۔
ایک دم ہی اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا اور وہ کرسی پر آ بیٹھی۔
اپنے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔
اس کی ذندگی شدید تنہائی کا شکار تھی۔۔۔
نہ
اس کا کوئی دوست تھا نہ رشتہ دار۔۔۔۔۔
سارا دن ہاسٹل کا کمرہ کھڑکی اور پسندیدہ منظر اور اس کی پڑھائی۔۔۔
ذندگی بہت محدود ڈگر پر چل رہی تھی۔
وہ اپنے دل کی بات کسی سے بھی شیئر نہ کرتی تھی۔
وہ بچپن سے ایسی تھی۔
وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اس کے قریب آئے اور اسے جان لینے کے بعد اس سے نفرت کرنے لگے۔۔۔
مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنے کے بعد اس نے ہال میں کھانا کھایا۔۔۔
اپنے کمرے میں آ کر مطالعہ کرنے لگی۔۔
کچھ دیر اپنی ڈائری لکھنے کے بعد اس نے وقت دیکھا 11 بج گئے تھے۔۔
وہ اپنے بستر پہ لیٹ گئی۔۔
ہر خیال اور سوچ کو اپنے ذہن سے جھٹک کر وہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
اور اس میں کامیاب بھی ہو گئی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: