Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 10

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 10

–**–**–

حضور جلدی کیجئیے بھاگ جائیے۔۔۔۔
ہم نے چوکیدار سے معاملہ تہہ کر لیا ہے۔۔۔
سب ادھر اودھر مصروف ہیں۔۔۔
جلدی کیجیئے دیر نہ کیجئے۔۔۔۔
وہ اس کی مدد کرنے آئی تھی۔۔۔
شاید اسے غنچہ پر رحم آ گیا تھا۔۔۔
خدا کے لیے یہاں سے نکلیں ہم آپ کو پوری مدد دینگے۔۔۔۔
وہ عجلت میں بولتی اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی راہ دکھانے لگی۔۔۔
نہیں نگینہ بائ ہم نہیں بھاگیں گے۔۔۔
ہم فیصلہ کر چکے ہیں۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑواتی ہال کی طرف جانے لگی۔۔۔
ہم اس کوٹھے کی ایسی طوائف بنیں گے جس کی لوگ خوبصورتی سے زیادہ رحمدلی کی مثال دینگے۔۔۔۔
یہاں مجبور لوگوں کو اس عورت کی بادشاہت سے آزاری دلوائیں گے۔۔۔۔
اگر ہم بھاگ بھی جائیں ۔ کہاں جائیں گے۔۔۔۔اس دنیا میں ہمارا کوئی بھی نہیں۔۔۔کوٹھے میں کچھ عزت تو محفوظ ہے باہر تو بھیڑیے ہمیں نوچ کھائیں گے۔۔۔
کوئی ہمیں عزت سے نہیں اپنائے گا۔۔۔
یہی ہمارا محفوظ ٹھکانہ اور نصیب ہے۔۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کر کے مجرا ہال میں چلی گئی۔۔۔۔
چلیئے حضور سب آپ ہی کا انتظار فرما رہے ہیں۔۔
ایسا رقص کیجیئے گا کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں دیکھتی ہی رہ جائیں۔۔۔
رخسار بیگم اسے اندر لے جاتے ہوئے سمجھانے لگی۔۔
وہ مجرا ہال میں داخل ہوئی سب کی نظریں اسی پر تھیں۔۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کر کے لمبی سانس لی اور ہال کے وسط میں کھڑے ہو کر اپنا رقص شروع کیا۔۔۔۔
Main teri aankhon ka sahil.
Main tere dil ke hi Kabil
Tu musafir main teri manzil
Ishq ka dariya hai behta
Doob ja tujhse hai kehta
Han meri bahoon mein aake mil
Woh sharabi kya sharabi
Dil mein jiske gham Na ho
Lut gya samjho sharabi
Pas jiske hum na hoon
O Saki Saki re saki saki
Aa pas aa reh na jaaye
Koi khowaish baaki
وہ ناچنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔لیکن ناچ رہی تھی۔۔۔
شراب اور جام کی محفل عروج پر تھی۔۔۔ں
سب مدہوشی کی حالت میں اس پر پیسے اور پھول پھینک رہے تھے۔۔۔
دوران رقص وہ ادھر اودھر مہمانوں کے پاس جاتی جو شراب پیتے اس کے جسم کو چھونے کی کوشش کرتے ۔۔۔۔
اسے اس سب سے کراہیت محسوس ہو رہی تھی۔۔لیکن یہ اس کا اپنا فیصلہ تھا۔۔۔۔جو اسے تا عمر اب برداشت کرنا تھا۔۔۔۔
وہ ناچ ناچ کر تھک چکی تھی۔۔۔اس کے پیروں سے خون رسنے لگا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے پیروں کے نیچے نوٹوں کو روندھتی رقص کرتی جا رہی تھی ۔۔۔
جب تھک کر زمین پر گر پڑی۔۔۔۔رخسار بیگم فوراً سے اس کی طرف بڑھیں اور اسے سہارا دے کر باہر لے جانے لگیں
ہال کے باہر آپ کر وہ اپنے تیز ہوتے تنفس کو نارمل کرنے لگی۔۔۔۔
اس کے پاؤں میں شدید تکلیف ہو رہی تھی۔۔
واہ غنچہ بیگم نے تو کمال کر دیا۔۔۔۔سب طوائفوں کو مات دے دی۔۔۔
اس کوٹھے پر ہم نے آج سے پہلے ایسا شاندار رقص نہیں دیکھا۔۔۔
انہوں نے تو حسینہ بیگم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا رقص میں۔۔۔
ایک امیر ذادہ کھلے دل سے سراہ رہا تھا۔۔۔
رخسار بیگم مہمانوں کی پسندیدگی پر خوشی سے پھولے ناسماء رہی تھیں۔۔۔۔
حسینہ بیگم بھی چہرے پر مغرور مسکراہٹ سجائے سب تعریفیں وصول کر رہی تھیں۔۔۔۔
مدعے کی بات پر آتے ہیں حضور۔۔۔بولی لگائیے۔۔۔۔
کیا قیمت لگائیں گی؟؟اس ہیرے کی۔۔؟؟
مردوں نے اپنی جیبیں خالی کر کے رق سامنے رکھ دی۔۔
جسے دیکھ کر حسینہ بیگم للچانے لگیں۔۔۔۔
وہ جلدی سے معاملہ تہہ کرنے کا سوچ کر اچانک سے غنچہ پر قیامت ڈھانے والی تھیں۔۔۔۔۔
لیکن باہر کھڑی غنچہ گل سب سن رہی تھی۔۔۔
وہ تیزی سے اندر داخل ہوئی۔۔۔
یہاں صرف رقص ہوتا ہے حضور۔۔۔۔
ہم بات کر رہے ہیں نا غنچہ بیگممممم۔۔۔۔حسینہ اونچی آواز میں بولی۔۔۔۔۔
غالباً کوٹھے کی ملکہ ہم ہیں۔۔۔۔۔اور ہم کہہ چکے ہیں یہاں صرف رقص ہی ہوگا۔۔۔۔
آپ سب کی تشریف آوری کا بہت شکریہ۔۔۔۔
رقص کی رقم ہم وصول کر چکے ہیں باقی رقم آپ ساتھ لے جائیے۔۔۔
وہ اپنی بات ختم کر کے جانے لگی ۔۔۔۔
آپ ابھی نئی ہیں اس لیے رقص کا کہہ رہی ہیں۔۔۔
لیکن ہم آپ کے رقص کے بھی دیوانے ہیں گئے۔۔۔۔
شباب کا لطف جبھی لینگے۔۔۔۔جب آپ خود اپنی بولی لگوائیں گ۔۔۔۔
دیکھتے ہیں کب تک سنبھالتی ہیں آپ خود کو۔۔۔
اپنی بات کہہ کر وہ شخص خباثت سے ہنسنے لگا۔۔۔۔
پاس بیٹھے دوسرے تماشائی بھی بے ہنگم قہقہے لگانے لگے۔۔۔۔۔
جو نشے میں مکمل رھت تھے۔۔۔۔
اس کے لیے اب وہاں ٹھرنا محال ہو گیا تھا۔۔۔۔
اپنی ماں پر ایک دکھ اور تاسف بھری نگاہ ڈال کر وہ ہال سے نکل کر اپنے کمرے میں آ گئی۔۔۔۔۔
محفل اپنے اختتام کو پہنچ گئی تھی صبح کا اجالا بھی ہلکا ہلکا پھیلنے لگا تھا۔۔۔۔
کمرے میں آنے کےبعد اس نے سب سے پہلا کام خود کو اس بھاری لباس اور زیورات سے آذاد کروانے کا کیا۔۔۔۔
دروازہ پر دستک ہوئی نگینہ بائ تھال میں پانی لے کر آئی اس کے پاؤں دھلوانے لگی۔۔۔۔
ٹھنڈے پانی میں زخمی پاؤں رکھ کر اسے کچھ سکون محسوس ہوا۔۔۔۔۔
حضور آپ کے پاؤں گھنگھروؤں سے بہت زخمی ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔
ان پر مرہم لگانا ہوگا۔۔۔۔
نگینہ بائ نے فکر سے اس کے پاؤں کے تلوے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
پاؤں کے زخموں پر تو آپ مرہم لگا ئیں گی وہ ٹھیک بھی ہو جائیں گے۔۔۔۔۔
لیکن کیا آپ روح پر لگے زخموں پہ مرہم لگا سکتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟
اس نے نم آواز میں کہا۔۔۔
اس کی بات پر نگینہ بائ نے سر اٹھا کر اس کے چہرے پہ دیکھا جہاں دکھ اور قرب کے اثرات نمایاں نظر آ رہے تھے۔۔۔۔۔
حضور اب بھی وقت ہے آپ نے کچھ نہیں کھویا۔۔۔ہم آپ سے کہہ رہے ہیں یہاں سے بھاگ جائیں وہ اس سے منت بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔
عزت ایک ہی بار نیلام ہوتی ہے نگینہ بائ اور پھر کبھی واپس نہیں آتی۔۔۔
ہماری عزت آج چلی گئی ہم کس کس یقین دلائیں گے کہ ہم ویسے نہیں جیسے دکھتے ہیں۔۔۔۔
اب ہم بھاگیں یا رہیں ایک ہی بات ہے۔۔۔۔۔۔
کہاں جائیں گے بھاگ کر کون اپنائے گا عزت سے ہمیں؟؟؟؟
اس سے لحجہ تھوڑا تلخ ہو گیا تھا۔۔۔۔
ہمارا دل کہتا ہے آپ ایک دن بہت اونچا مقام پائیں گی۔۔۔۔
نگینہ نے اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہمیں اونچا مقام مل گیا ہے۔۔۔۔ اور کسی مقام رتبے کی خواہش نہیں رہی ہمیں اب۔۔۔۔
غصے اور تلخی سے کہہ کر وہ اپنا رخ دوسری طرف موڑ کر پلنگ پہ لیٹ گئی۔۔۔۔۔
ہم کچھ دیر آرام کریں گے چلی جائیے آپ یہاں سے۔۔۔
اس نے رخ موڑے ہوئے ہی بلند آواز میں کہا۔۔۔۔
نگینہ اسے دکھ سے دیکھتی کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔
اس نے بھی سب سوچوں کو پیچھے دھکیل کر آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔
تھکن اور زخمی پاؤں کی وجہ سے وہ دو دن تک بخار میں تپتی رہی۔۔۔۔
اس دوران سب طوائفیں اس کے لیے فکرمند ہو گئیں۔۔
ںگینہ بائ نے اس کی بہت دیکھ بھال کی۔۔۔۔
دوسری طوائفیں بھی اپنی باری پر مجرا کر رہی تھیں۔۔ ں
لی غنچہ گل کے مجرے کی ڈیمانڈ بڑھنے لگی تھی۔۔۔۔
ایک ہفتے بعد اس کا طبیعت تھوڑی سنبھل گئی۔۔۔۔
وہ پھر سے مجرا کے لیے تیار ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
غنچہ بیگم مہمان آپ کا رقص دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔۔۔۔آ جائیے۔۔۔۔
رخسار بیگم اسے بلانے آئیں۔۔۔۔
وہ جلدی سے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کر کے چل دی۔۔۔۔
یہ کیا آپ نے گھنگھرو نہیں پہنے ان کے بنا تو رقص ادھورا ہے۔۔۔۔۔۔
مہمان ان گھنگھروؤں کی جھنکار پر ہی تو جھومتے ہیں۔۔۔۔
وہ خاموشی سے گھنگھرو پہننے لگی۔۔۔۔
آج بھی اس نے بہترین رقص کیا مہمان اس کے رقص اور شراب کے نشےمیں مدہوش ہو گئے۔۔۔۔۔
بولی لگنے کا مطالبہ پھر سے کیا گیا جسے اس نے مسترد کر دیا۔۔۔۔
حسینہ بیگم تو اس کے انکار پر تلملا کے رہ گئیں۔۔۔۔
لیکن رقص سے آتی رقم بھی کافی ذیادہ تھی۔۔۔۔
اس لئے اس کے دل کو کچھ حوصلہ تھا۔۔۔
اس کے بعد بھی اس نے کئی مجرے کیے اب وہ اس ماحول کی عادی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
حسینہ بیگم کو مکمل نظر انداز کیے اس نے کوٹھے کے سارے معاملات سنبھال لیے تھے۔۔۔۔۔
لوگ اس کے رقص, حسن اخلاق اور خوبصورتی کے گرویدہ تھے۔۔۔۔۔
اب وہ اپنے رقص کی بھی منہ مانگی قیمت وصول کرتی ۔۔۔۔
کوٹھے کے تمام امور اس کے حکم کے مطابق چلتے تھے۔۔۔۔۔
دوسری طوائفیں بھی اس سے خوش اور مطمئن تھیں۔۔۔۔
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزرتا چلا گیا۔۔۔۔۔
اب وہ ایک مشہور رقاصہ تھی۔۔۔۔۔
دور دور سے امراء اور وزراءِ اس کا رقص دیکھنے آتے اور منہ مانگی قیمت ادا کرتے۔۔۔۔۔
یہ وہی لوگ تھے جو دن کی روشنی میں شرفاء بنے پھرتے اور رات کے اندھیرے میں ان کی رنگین مزاجیاں عروج پر ہوتیں۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: