Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 11

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 11

–**–**–

ان چند سالوں میں حسینہ بیگم بیمار ہو کر بستر پہ پڑ گئی تھیں۔۔۔۔
انہیں کینسر جیسی موزی مرض لاحق ہو گئی۔۔۔۔
بہت علاج کروانے سے بھی کوئی افاقہ نہ ہوا۔۔۔۔
رخسار بیگم ان کے ہر طرح سے تیمارداری کرتیں۔۔۔۔
بستر مرگ پہ پڑنے کے بعد انہیں اپنی کی گئی سب ذیادتیاں اور ظلم یاد آنے لگے۔۔۔
ایسے ہی ایک رات جب دل کا بوجھ بڑھنے لگا تو اس نے نگینہ بائ کے ذریعہ غنچہ گل کو پیغام بھیجوا دیا آخری بار ملنے کے لیے۔۔۔۔
وہ بھی حسبِ توقع آج ان سے ملنے کے لیے راضی ہو گئی۔۔۔۔
نگینہ بائ کے ساتھ اپنی ماں کے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی سامنے بستر پہ پڑے وجود کو دیکھ کر اسے حیرت اور دکھ ہوا۔۔۔۔
یہ وہی حسینہ بیگم نہیں تھی ۔
جس کی آواز اور ظلم سے اس کوٹھے کی در و دیوار کانپتے تھے۔۔۔۔
یہ تو کوئی ہڈیوں کی پوٹلی تھی۔۔۔۔
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے, چہرے پہ چھائ ذردی اور سر کے بال بالکل نہیں رہے تھے۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی حسینہ بیگم کے وجود میں حرکت ہوئی۔۔۔۔
وہ اسے پکار رہی تھی۔۔۔۔اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ بھ
ی خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ گئ۔۔۔۔۔
غنچہ گل میری بچی۔۔۔؟میرے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔۔
تم سے کچھ باتيں کرنی تھیں۔۔۔۔
میرے دل پہ بہت بوجھ ہیں اور میں اس بوجھ کو ہلکا کر کے مرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
غنچہ حیرت سے انہیں تکے جا رہی تھی۔۔۔
بیماری سے ان کا غرور تنتنہ اور مخصوص لب و لحجہ ختم ہو گیا تھا۔۔۔
وہ کچھ دیر سانس لینے کو رکی۔۔۔نقاہت اور کمزوری سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔
ایک طویل سانس لے کر وہ پھر سے گویا ہوئیں۔۔۔۔
تمہارا باپ اچھا انسان تھا۔۔۔۔
ایک دن اپنے دوست یاروں کے ساتھ کوٹھے پر آپ گیا۔۔۔۔
یہاں میں نے اسے اپنی اداؤں کے جال میں پھانس لیا۔۔۔۔
وہ بھی مجھ سے محبت کرنے لگا۔۔۔۔۔اور عزت سے نکاح کر کے اپنے گھر بھی لے گیا۔۔۔۔
انہوں لیکن نے تمہارے دادا علاقے کے سردار تھے۔۔۔۔۔
انہوں نے مجھے قبول نہیں کیا۔۔۔۔
تمہارے باپ کے ساتھ میں شہر آ گئی۔۔۔۔۔۔
لیکن میں ٹھری ایک طوائف عزت کی ذندگی مجھے کہاں راس آنی تھی۔۔۔۔
کچھ عرصے بعد میں نے پھر سے اپنے برے کام شروع کر دیے۔۔۔۔
جب تمہارے باپ کو یہ سب پتہ چلا وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا جلا ہی دنیا سے چلا گیا۔۔۔۔
پہلے ہی گھر والوں سے تعلق ختم ہو گیا۔۔۔۔اولاد بھی اس کی میری وجہ سے دور ہو گئی۔۔۔۔۔اور میں نے بھی وفا نہ کی۔۔۔۔۔
ربنواز کی موت کے بعد میں پھر ایک بار حویلی گئی۔۔۔۔۔
تاکہ ربنواز کی بیوہ کی حیثیت سے جائداد سے اپنا حصہ لے سکوں۔۔۔۔
جو کہ سردار حشمت علی نے دینے سے انکار کر دیا۔۔۔اور مجھے بھی ذلیل کر کے وہاں سے نکالا۔۔۔۔۔
بدلے کی آگ میں جلتے جلتے میں نے تمہارے دادا کو پہلے مروایا۔۔۔۔۔
پھر تمہاری ماں کو یہاں کوٹھے پر لے آئی۔۔۔۔
ہر طرح کا ظلم کر کے میں نے اسے طوائف بننے پر مجبور کیا۔۔۔۔
لیکن وہ صابرہ عورت سب برداشت کر کے مر گئی لیکن میری بات نہیں مانی۔۔۔۔۔
جائداد ساری تمہارے نام تھی یہ بات مجھے بعد میں پتہ چلی۔۔۔۔
تمہاری ذندگی بھی برباد کر کے اب میں وہ جائداد اپنے نام کروانے والی تھی۔۔۔
لیکن پہلے ہی اس موزی مرض نے مجھے آن گھیرا۔۔۔۔۔
لیکن تمہاری رگوں میں ایک غیرت مند باپ اور با حیاء ماں کا خون شامل ہے طوائف بن جانے کے باوجود بھی تمہاری آنکھوں میں آج بھی حیاء ہے اور تم اس ماحول سے ملاپ نہیں کرتی۔۔۔۔۔
تمہاری گناہگار کوئی اور نہیں تمہاری اپنی سوتیلی ماں ہے۔ ۔۔۔
اپنے باپ کے بارے میں جان کر اور اپنی ماں کے ساتھ کیے گئے ظلم سن کر غنچہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔۔۔
میرے دل میں اس گناہ کا بوجھ ہے تم اگر معاف کر دو گی تو میں سکوں سے مر جاؤں گی۔ ۔۔۔
آخر میں روتے ہوئے اس نے منت بھرے لہجے میں کہتے غنچہ کے ہاتھ تھام لیے۔۔۔۔
آپ روئیں نہیں ہم نے آپ کو معاف کیا اللّٰہ آپ پر اپنا رحم فرمائے۔۔۔۔۔
ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر یقین دلاتی وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی۔۔۔۔
اس سے ذیادہ برداشت نہیں تھی اس کی۔۔۔۔۔
اپنے ماں باپ کے بارے میں جان کر وہ دیر تک روتی رہی۔۔۔۔
اگر آج وہ ذندہ ہوتے۔۔۔۔غنچہ کی ذندگی مختلف ہوتی۔۔۔۔
حسینہ بیگم اس رات جہان فانی سے چلی گئیں۔۔۔۔
شاید وہ غنچہ سے معافی مانگنے کے لیے ذندہ تھیں۔۔۔۔۔
کوٹھے پر صف ِ ماتم بچھ گیا۔۔۔۔
کچھ ہفتے کؤئی بھی ناچ گانا مجرا یا کوئی بھی محفل نہیں رکھی گئی۔۔۔۔
غنچہ گل نے خود کو کمرے میں بند کر دیا۔۔۔۔۔
اس کے لیے یہ انکشاف ہی بہت تکلیف دہ تھا حسینہ اس کی سوتیلی ماں تھی۔۔۔۔
جلد ہی وہ خود کو سنبھال کر معمول کی ذندگی کی طرف لوٹنے لگی۔۔۔۔
وہ ایک رقاصہ تھی اب اس کی پہچان اس کا رقص ہی تھا۔۔۔۔
********************
حسینہ بیگم تو اپنے انجام کہ پہنچ چکی تھیں لیکن ابھی کسی اور کو اس کے انجام تک پہنچانا باقی تھا۔۔۔۔۔
بہت دن بعد آج وہ کوٹھے سے منسلک یچھلے احاطے میں بنے تہہ خانے میں گئی۔۔۔۔۔۔
اس کا خاص آدمی سجاد بھی ساتھ تھا۔ ۔۔
تہہ خانے کے چھوٹے سے دروازے پر کھڑے چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی تالا کھول دیا۔۔۔۔۔
وہ احتیاط سے قدم اٹھاتی اندر موجود زنجیروں سے بندھے شخص کے پاس چلی آئی۔۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی شیرا نے اپنے ہاتھ جوڑ لیے۔۔۔۔
کیوں شیرا تمھیں لگتا ہے ہم تم پر رحم کریں گے۔۔۔۔۔
مجھے قانون کے حوالے کر دیں آپ۔۔۔۔۔
کونسا قانون وہ جس کے سامنے تم معصوم لڑکیوں کی عصمت لوٹتے تھے۔۔۔۔۔
اور کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا تمہیں۔۔۔۔۔
وہ استہزائیہ ہنسی ہنسنے لگی۔۔۔۔۔
فکر نہیں کرو ہم تمہیں بہت آسان موت دیں گے۔۔۔۔۔
فرق صرف اتنا ہوگا۔۔۔۔۔تم نے ذندہ لوگوں کو نوچا۔۔۔۔
ہم تمھارا مردہ وجود کتوں کے آگے ڈال دیں گے۔۔۔۔وہ خود نوچیں گے۔۔۔۔۔
سرد لحجے میں کہہ کر ایک قہر بھری نگاہ شیرا پہ ڈال کر تہہ خانے سے باہر نکلی۔۔۔۔
باہر کھڑے اپنے وفادار ملازم کو ہاتھ کے اشارے سے برائی کو ختم کرنے کا کہہ کر وہ کوٹھے کی جانب چل دی۔۔۔۔
شیرا کی درد ناک چیخوں نے اس کا دور تک پیچھا کیا۔۔۔۔
لیکن اپنی ماں کے ساتھ دوسری معصوم لڑکیوں کے قاتل کو معاف کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: