Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 12

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 12

–**–**–

ہوا کا تخت بچھاتا ہوں رقص کرتا ہوں
بدن چراغ بناتا ہوں رقص کرتا ہوں
میں بیٹھ جاتا ہوں تکیہ لگا کے باطن میں
خود اپنی بزم سجاتا ہوں رقص کرتا ہوں
زمین ہانپنے لگتی ہے اک جگہ رک کر
میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہوں رقص کرتا ہوں
میرا سرور مجھے کھینچتا ہے اپنی طرف
میں اپنے آپ میں آتا ہوں رقص کرتا ہوں
میں جانتا ہوں مجھے کیسے شانت ہونا ہے
کہو تو ہو کے دکھاتا ہوں رقص کرتا ہوں
مری مثال دھواں ہے بجھے چراغوں کا
جب اپنا سوگ مناتا ہوں رقص کرتا ہوں
عجیب لہر سی انجمؔ مرے خمیر میں ہے
جسے وجود میں لاتا ہوں رقص کرتا ہوں
سرما کی نرم گرم دھوپ نے کوٹھے کے آنگن میں اپنا ڈیرا جمایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
نکھرا ستھرا آسمان آج کچھ ذیادہ ہی پیارا لگ رہا تھا۔۔۔۔
آنگن میں لکڑی کے جھولے پہ بیٹھی وہ اس ماحول کا خوبصورت حصہ لگ رہی تھی۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑی اسلامی کتاب کے مطالعے میں وہ پوری طرح مشغول تھی۔۔۔
جب ایک ملازمہ آئی اور ادب سے سر جھکا کر۔۔۔۔سجاد (اس کے خاص ملازم) کے آنے کی اطلاع دینے لگی۔۔۔۔
وہ سرعت سے چلتی ہوئی ہال نما کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔
سلام غنچہ بیگم
واعلیکم سلام
کہیئے کیسے آنا ہوا سجاد۔؟؟؟؟
حضور میں آپ کے لیے علاقے کے نئے ایم این اے وہاج درانی کا پیغام لے کر آیا ہوں۔۔۔۔
سجاد نے مودبانہ انداز میں سر جھکا کر اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔۔۔۔
ٹھیک ہے ہمیں کب تک جانا ہوگا؟؟؟؟
ہمیں مقررہ تاریخ اور دن بتا دیں
وہ پہلے سے جانتی تھی سجاد کیا پیغام لایا ہوگا۔۔۔۔
جب بھی اسے کسی رقص کی محفل میں بلایا جاتا تو ان سب کاموں کی ذمیداری سجاد کو سونپی گئی تھی۔۔۔۔
وہی پیغام لاتا لے جاتا تھا۔۔۔۔
جی حضور۔۔۔۔
رقص وہ آپ کا دو دن بعد دیکھنا چاہ رہے ہیں لیکن انہوں نے ایک درخواست کی تھی۔۔۔۔
کیسی درخواست؟؟؟
وہ سوالیہ نظریں سجاد کی طرف اٹھا کر پوچھنے لگی۔۔۔۔
غنچہ بیگم وہ آپ کا رقص کوٹھے پہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
لیکن ان کی درخواست ہے اس دن کوئی محفل نہ ہو۔۔۔۔
وہ اکیلے ہی آپ کے رقص سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اس کے لیے منہ مانگی قیمت ادا کرنے کو بھی تیار ہیں۔۔۔۔
اسے یہ درخواست کچھ عجیب لگی کیوں کہ کوٹھے پر کوئی بھی اکیلے رقص دیکھنے کا پیغام نہیں بھیجتا تھا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے دو دن بعد تو ہمارا مجرا ہے ہم اس بارے میں سوچ کر صیح وقت آپ کو بتا دیں گے۔۔۔۔
ہم نے ایم این اے صاحب کی درخواست قبول کر دی ہے آپ انہیں ہمارا پیغام پہنچا دیجیئے گا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔جیسا آپ کو بہتر لگے۔۔۔۔۔
سجاد سعادت مندی سے کہتا گردن جھکائے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
اس نے تخت پہ بیٹھ کر ملازمہ کو آواز دی اور نگینہ بیگم کو بلوایا۔۔۔۔
جی حضور آپ نے ہمیں یار فرمایا اور ہم حاضر ہو گئے آپ کی خدمت میں۔۔۔۔
نگینہ بیگم نے خوش دلی سے اندر آتے کہا۔۔۔۔
نگینہ بیگم دو دن بعد جو مجرا تھا ہمارا اسے منسوخ کر دیجئیے۔۔۔۔
کیوں کہ علاقے کے ایم این اے ہمارا مجرا دیکھنے آ رہے ہیں اور ان کی درخواست ہے اس دن دوسرا کوئی شخص نہ ہو۔۔
اس کی تفصیلاً بات سن کر نگینہ بیگم کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔۔۔
اہاں۔۔۔۔۔واہ حضور یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔۔۔۔
ہم نے تو یہاں تک سن رکھا ہے وہ انسان بھی بہت اچھے ہیں۔۔۔۔
اگر اچھے ہوتے وہ تو کیا طوائفوں کے رقص دیکھتے۔۔۔۔اس نے نگینہ بیگم کی بات پر طنزیہ جواب دیا۔۔۔۔
اب یہ تو آپ ذیادتی کر رہی ہیں غنچہ بیگم۔۔۔۔۔
آپ بھی تو ایک اچھی انسان ہیں پھر بھی رقص کر رہی ہیں ۔۔۔۔
اس مقام پر آجانے کے بعد یہ سب دیکھنا مجبوری بن جاتا ہے۔۔۔ ان لوگوں کے لیے۔۔۔۔شاید ایسا ہی ہو۔۔۔
اس نے نگینہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور ویسے بھی آپ کے رقص کی دھوم دور دور تک مچی ہوئی ہے۔۔۔۔
جو بھی سنتا ہے دیکھے بنا اس سے رہا نہیں جاتا۔۔۔۔۔
بس کریں آپ پھر سے شروع ہوگئیں ہمارے رقص کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے۔۔۔۔
جائییے اور مجرے کی تیاری کریئے۔۔۔۔۔
اس نے نگینہ بیگم کو بھیجنے میں ہی عافیت سمجی
نگینہ بیگم بھی اس کی بات پر ہنستی ہوئی اپنا پراندہ لہراتیں وہاں سے چل دیں۔۔۔۔
پیچھے اس کے چہرے پہ بھی ایک تلخ مسکراہٹ آ کر معدوم ہو گئي۔۔۔۔۔۔
کوٹھے کے آنگن میں یہ صبح بہت نکھری نکھری اتری تھی۔۔۔۔
ہر طرف چہل پہل کا سماں تھا۔۔۔۔
سب اس کے خاص مجرے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔۔
شام کو رقص کے لیے تیار ہونے کے بعد جب وہ مجرا ہال میں گئی۔۔۔۔۔
سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے پہ حیرت کا عنصر نمایاں ہوا۔۔۔۔
جسے اس نے فوراً چھپا لیا۔۔۔۔۔
اور چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے اس کی طرف بڑھی
وہ تو یہ سوچے بیٹھی تھی درمیانی عمر کا کوئی عاشق مزاج شخص یہاں ہوگا۔۔۔۔
یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا۔۔۔۔
یہ تو 28,29 سال کی عمر کا خوبرو شوخ سا نوجوان تھا۔۔۔۔
غنچہ گل کو دیکھ کر اس کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آئی اور اس کے استقبال کے لیے اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
آداب حضور
ہمیں اچھا نہیں لگے گا آپ کا اس طرح کھڑے رہنا بیٹھ جائیے۔۔۔۔
اسے ایک طرف دیوار کے ساتھ لگے گاؤ تکیوں کی طرف بیٹھنے کا اشارہ دے کر خود بھی فاصلے پر بیٹھ گئگئی۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: