Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 13

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 13

–**–**–

ہم آپ کے بہت مشکور ہیں آپ خود چل کر ہمارے کوٹھے پہ رقص دیکھنے کو تشریف لائے۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرنے لگی۔۔۔
شکریہ تو مجھے آپ کو کہنا چاہئے جو میری درخواست قبول کر کے آپ نے مجھے تنہائ میں اپنا رقص دیکھنے کا شرف بخشا۔۔۔۔
یہ میری دلی خواہش تھی کہ جب میں اس علاقے ایم این اے بن کر آؤں سب سے پہلے کا رقص دیکھوں۔۔۔۔
سامنے بیٹھے شخص کی خواہش سن کر غنچہ گل حیرت میں پڑ گئی۔۔۔۔۔
خوب کہی آپ نے بھی حضور ایسے موقعوں پر لوگ صدقہ خیرات یا حج عمرہ کرنے کی خواہش کرتے ہیں۔۔۔۔
اور آپ ایک رقاصہ کا رقص دیکھنے کی خواہش کرتے رہے۔۔۔۔۔
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے میں پچھلے مہینے عمرہ کر کے آگیا ہوں۔۔۔
وہ غنچہ گل کے حسین سراپے کو دیکھتے ہوئے بتانے لگا۔۔۔۔
تو پھر آپ کو نیک اعمال کرنے چاہئیں نہ کہ کوٹھوں پہ آپ کر اپنا وقت برباد کریں۔۔۔۔۔
واہ بہت خوب۔۔۔۔جیسا سنا تھا آپ کے بارے میں ویسا ہی پایا آپ کو۔۔۔
وہ اب داد دینے والے انداز میں مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔۔۔
بجائے اس کے آپ مجھے اپنی اداؤں اور حسن کے جلوں سے لجھائیں
آپ مجھے نیک کاموں کے درس دے رہی ہیں۔۔۔۔۔
آپ سچ میں ایک منفرد عورت ہیں۔۔۔۔
وہ غنچہ گل کے انداز گفتگو سے متاثر ہو گیا تھا۔۔۔۔
میں آپ کی باتیں سن کر ہی آپ کا گرویدہ ہو گیا ہوں۔۔۔۔
لیکن رقص دیکھے بناء میں صبح تک جانے والا نہیں۔۔۔۔
وہاج درانی ماہرانہ انداز میں بات بدل کر اس کی تعریف کرنے لگا۔۔۔۔۔
جی حضور
ہم بھی آپ کو رقص دیکھے بناء صبح تک جانے نہیں دینگے۔۔۔
غنچہ نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔۔اور مسکراہٹ سجائے اٹھ کر ہال کے وسط میں کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
آنکھیں بند کر کے لمبی سانس لی اور رقص شروع کیا۔۔۔۔۔
Teri aakhya ka yo kajal
Manne kare Sa koi ghayal
Tu sahaz sahaz pa dharle
Mera dil dhadkave payal
O….manne pal pal pal pal
Yaad Teri tadpave se hayyyy
Tera roop jigar maen radke aag lagave se
پوری رات رقص کی محفل چلی۔۔۔۔
وہ اس کے رقص سے لطف اندوز ہو کر جھومتا رہا اور اس پر پیسے اور پھول پھینکتا۔۔۔۔
لیکن اس نے شراب کے گلاس کو چھوا تک نہیں۔۔۔۔
صبح ہونے سے کچھ دیر پہلے غنچہ گل نے رقص ختم کیا اور اس کی جانب بڑھی۔۔۔۔۔
جو مسکرائیں تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم
وہ گنگنائے تو باد صبا ٹھہر جائے
وہ ہونٹ ہونٹوں پر رکھ دے دم آخر
مجھے گماں کہ آتی فضا ٹھہر جائے
ی شعر آپ کے حسن اور بہترین رقص کے لیے ہے۔۔۔۔۔
شکریہ حضور وہ بھی جواباً خوش دلی سے مسکرائ
آپ کے ساتھ گزارا ہوا وقت بہت اچھا رہا رات کیسے بیتی پتہ نہیں چلا۔۔۔
وہ براہراست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔
ہمیں بھی خوشی ہوئی آپ کو ہمارا رقص پسند آیا۔۔۔۔آگے بھی آتے رہئیے گا ہمیں انتظار رہے گا۔۔۔
وہ چہرے پہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے جواب دے رہی تھی کیوں کہ اب وہ بہت تھک چکی تھی اور جلدی سے اپنے کمرے میں پہنچ کر آرام کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
دو تین رسمی باتوں کے بعد وہ چلا گیا۔۔۔۔
غنچہ گل بھی اپنے کمرے میں آ کر زیورات اتارنے لگی۔۔ں
لاشعوری طور پر اس کا ذہن وہاج درانی کی طرف بھٹک گیا۔۔۔۔۔
جس کی آنکھوں میں غنچہ کے لیے حوص کا کوئی شبہ نہیں تھا۔۔۔
اس کے حسن اور رقص کے لیے چند تعریفی جملوں کے علاوہ وہاج نے کوئی بےباک گفتگو نہیں کی اور نہ ہی اسے چھونے کی کوشش کی۔۔۔
یہ غنچہ گل کی ذندگی میں آنے والا دوسرا مرد تھا۔۔۔۔
جس کے لیے اس کا ذہن مثبت رائے اختیار کر چکا تھا۔۔۔۔۔
لندن شہر میں شام کے سائے منڈلا رہے تھے۔۔۔
چرند پرند اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔۔۔۔
برفباری کا سلسلہ تیز ہو کر ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔۔۔۔
فضا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
ایسے موسم میں وہ اپنے اپارٹمنٹ سے قریب پارک میں سنکی پینچ پر بیٹھا ہر طرف سے بے خبر تھا۔۔۔
اس کے چہرے کو چھائ اداسی اور سنجیدگی اس کی شخصیت کا حصہ تھی۔۔۔
یا یوں کہنا ذیادہ مناسب ہوگا اداسی نے اس کے اندر ڈیرے جما لیے تھے۔۔۔۔۔۔
اداس شام میں ارد گرد سے بے نیاز بیٹھا شخص اسی شام کا حصہ لگ رہا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: