Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 14

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 14

–**–**–

برفباری کی رفتار میں اور تیزی آ گئی۔۔۔
سردی کی لہر بھی تیزی سے بڑھنے لگی۔۔۔۔
ٹھنڈ لگنے کے احساس سے اس نے اپنی موندی ہوئی آنکھیں کھولیں کچھ وقت ادھر اودھر کا جائزہ لیا۔۔۔
پارک خالی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔وہ اکیلا رہ گیا تھا۔۔۔۔
جلدی سے اٹھ کر اس نے اپنی لیدر کی جیکٹ پہنی اور تیز تیز قدم اٹھاتا پارک کے صدر دروازے کو عبور کر گیا۔۔۔۔
وہ پارک سے نکل کر لمبی سٹریٹ پر چلنے لگا۔۔۔۔
جس کے دونوں اطراف میں لمبے لمبے درخت تھے جن پر برف کی تہیں روئ کے گالے دکھتے تھے۔۔۔۔
لیکن وہ ہر حسین منظر نظر انداز کیے چہرے پہ سنجیدگی لائے تیزی سے چلتا جا رہا تھا۔۔۔۔
جلد ہی ایک اونچی خوبصورت بلڈنگ کے سامنے پہنچ گیا تھا۔۔۔
بلڈنگ میں قرم رکھتے ہی وہ لفٹ کی جانب گیا اور اپنے اپارٹمنٹ کا فلور نمبر پریس کیا۔۔۔
لفٹ سے نکل کر اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا سارا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔
موبائل کی لائٹ سے اس نے بورڈ کا بٹن دبایا پورا کمرہ روشن ہوا۔۔۔۔
تاہم سردی کا احساس کچھ اور بھی بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اس نے ہیٹر جلایا اور طائرانہ نگاہ کمرے پر ڈالی۔۔۔۔
چار سال سے وہ اسی کمرے میں قیام کیے ہوئے تھا۔۔۔۔
یہ کمرہ اس کی تنہائی کا بہترین ساتھی رہا۔۔۔۔
وہ بیڈ کے پاس سے گزر کر صوفے پہ رکھے اپنے سوٹ کیس اور بیگ کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔
ساری پیکنگ اس نے صبح ہی مکمل کر لی تھی۔۔۔۔۔
آج کچھ دوستوں کو ملنے کر دن باہر گزارنے کے بعد وہ واپس آیا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر آرام کے بعد اسے پھر سے جانا تھا۔۔۔کیوں کہ اس کی فلائٹ کا ٹائم تھا۔۔۔
کل وہ اپنے ملک واپس جا رہا تھا۔۔۔۔واپسی کا سوچ کر اس کا دل اور بھی اداس ہو گیا۔۔۔
لائٹ آف کر کے وہ بستر پہ دراز ہو گیا۔۔۔
آنکھیں بند کرتے ہی ایک چہرہ چھم سے اس کی یادوں کے پردے سے جھانکا۔۔۔۔
اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں اور اس کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔
ناجانے کیسی ہوگی وہ ؟؟؟؟
مجھے تو بھول چکی ہوگی۔۔۔۔۔اب تک شادی بھی ہوچکی ہو اس کی۔۔۔۔
بہت خوش قسمت ہوگا وہ انسان جو اس کا ہمسفر بنا ہوگا۔۔۔
کاش وہ خوش قسمت انسان میں ہوتا۔۔۔۔
یہ ایک جملہ ان چار سالوں میں اس نے کئی بار سوچا اور خود سے دہرایا۔۔۔۔
وہ کبھی بھولا نہیں سکا اسے۔۔۔۔
یہ سوچتے ہی اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔۔۔۔جسے سختی سے رگڑ کر وہ پھر سے لیٹ گیا۔۔۔
ایک بار پھر سے سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔۔۔۔
دسمبر کا اوائل چل رہا تھا۔۔۔۔
سردی کی شدت میں اضافہ ہو چکا تھا۔۔۔۔
وہ دھوپ میں بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔۔۔۔
جب ملازمہ نے اسے وہاج درانی کی آمد کی اطلاع دی۔۔۔۔
انہیں یہیں لانے کا کہہ کر وہ تخت پر ٹھیک طرح سے سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
وہ آج بھی ہشاش بشاش سا مسکراہٹیں بکھیرتا تخت کے سامنے رکھی کرسی پہ آ کر براجمان ہو گیا۔۔۔۔
وہ بھی اسے دیکھ کر خوش ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
رقاصہ بننے کے بعد وہ واحد شخص تھا جس کی آنکھوں میں غنچہ کو اپنے لیے احترام دکھتا تھا۔۔۔۔
چند رسمی علیک سلیک کی گفتگو کے بعد اچانک اس نے غنچہ گل سے سوال کیا۔۔۔۔۔
کبھی کسی نے آپ سے محبت کی ہے؟؟؟؟؟
ایک لمحے کے لیے وہ اس کا سوال سن کر خاموش ہو گئی۔۔۔۔
لیکن پھر خود کو سنبھالتی ہوئے اس کی طرف دیکھ کر وہ ایک ادائے ناز سے اپنی ہتھیلی کو لبوں کی طرف لے جا کر ہنسنے لگی۔۔۔۔۔
محبت اور ہم سے۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بھلا ایک طوائف سے محبت کوئی کیوں کرے گا۔۔۔؟؟؟
کیوں کیا ایک طوائف سے محبت نہیں ہو سکتی۔۔۔وہ بھی آنکھوں میں الجھن بھرا تاثر لیے غنچہ کے انداز میں ہی پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
اسے محبت نہیں حضور چند پل کی دل لگی کہتے ہیں۔۔۔۔جو طوائفوں سے کی جاتی ہے۔۔۔۔بھلا ہم طوائفیں چاہے جانے یا عزت بنانے کے قابل ہیں۔۔۔۔
اس کے اندر کی تلخی اس کے لحجے میں بولنے لگی تھی۔۔۔۔
بالکل غلط۔۔۔۔میرے نذدیک محبت دنیا کا وہ جزبہ ہیں جو اگر ایک طوائف سے بھی ہو جائے تو اسے بھی دنیا کی حسین ترین پاک دامنِ اور عزت داری عورت بنا دیتی ہے عاشق کی نظر میں۔۔۔۔
وہ بہت نرم لہجہ میں اسے سمجھا رہا تھا۔۔۔محبت کا فلسفہ۔۔۔۔
یہ تو آپ نے درست فرمایا حضور۔۔۔۔ابھی وہ اپنی بات مکمل بھی نہ کر سکی وہ باتونی انسان پھر بول پڑا۔۔۔۔
میں آپ کی کہی بات کی تصیح کر دیتا ہوں۔۔۔۔
آپ طواف نہیں رقاصہ ہیں۔۔۔
اس سے کیا فرق پڑتا ہے ہم طوائف یا رقاصہ بات تو ایک ہی ہے۔۔۔۔
دنیا والے بھی اس کا ایک ہی مطلب جانتے ہیں۔۔۔۔
وہ اپنے لحجے میں آئی تلخی کو چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔
فرق تو دوسری طوائفوں اور آپ میں بھی بہت ہے۔۔۔۔
وہاج کو آج غنچہ کے چہرے پہ آنے والا غصہ اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔
وہ اس کے دل کی بات جاننے کی کوشش کر رہا تھا آج۔۔۔۔
بھلا کیا فرق ہو سکتا ہے۔۔۔۔
وہ بھی اب اس کی باتوں میں دلچسپی لیتی ہوئی تھوڑا آگے کو جھکی۔۔۔۔
آپ کی آنکھوں میں طوائفوں جیسی بےباکی کیوں نہیں دکھتی۔۔۔۔۔درد دکھتا ہے کچھ کھوئے جانے کا ملال بھی دکھ رہا ہے۔۔۔۔
وہاج کی بات پر وہ سناٹے میں آ گئی۔۔۔۔
کتنا ماہر تھا سامنے بیٹھا شخص چہرے پڑھنے میں۔۔۔۔وہ صرف سوچ سکی۔۔۔۔۔
ہم آپ کے لیے چائے کا کہلواتے ہیں آج تو آپ ہمارے ساتھ چائے ضرور پی کر ہی جائیے گا۔۔۔۔
غنچہ گل نے ایک دم بات بدل دی۔۔۔۔
جس سے وہاج کو تھوڑا دکھ محسوس ہوا لیکن وہ خاموش ہو گیا۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔چائے پھر کبھی سہی ابھی مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے یہاں سے گزرتے ہوئے سوچا آپ کو ایک نظر دیکھتا جاؤں۔۔۔۔
مسکرا کر کہتا اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔
پھر کب خدمت کاموقع دینگے حضور؟؟؟؟
شاید وہ اسے پھر جلد دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
خدمت کا موقع تو آپ کو جلد دینگے لیکن اس بار آپ کو ہمارے لیے نہیں کسی اور کے لیے رقص کرنا ہوگا۔۔۔
کون ہیں وہ کیا ہم جان سکتے ہیں۔؟؟؟؟
وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
بیرونِ ملک سے آیا میرا ایک دوست ہے کچھ مجنوں سا ہو گیا ہے۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں آپ اپنے رقص سے میرے دل عزیز دوست کی اداسی ختم کر دیں۔۔۔۔
ٹیبل سے اپنا موبائل اور چابیاں اٹھاتے ہوئے اسے بتانے لگا۔۔۔
ضرور ضرور۔۔۔۔
ہم اپنے رقص کے جلوے بکھیر کر آپ کے دوست کے من پہ چھائی اداسی کو ختم کر دینگے اور انہیں پہلے کی طرح مہکتا ہوا یہاں سے رخصت کریں گے۔۔۔۔
وہ خوش دلی سے مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔
ہمیں آپ سے یہی امید ہے جواباً وہاج بھی مسکرایا۔۔۔۔
اور اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
جلد آپ سے ملاقات ہوگی اپنا خیال رکھیں۔۔۔
آپ بھی اپنا خیال رکھیئے گا۔۔۔۔
وہاج اب تیز قدم اٹھاتا بیرونی دروازہ عبور کر گیا۔۔۔۔
پیچھے کھڑی غنچہ گل اس کی باتوں پر غور کرتے سوچنے لگی۔۔۔۔اس کوٹھے کے در و دیوار میں کئی آہیں اور سسکیاں دب گئیں اور پھر طوائف بن کر ابھریں۔۔۔۔
طوائف ہو یا رقاصہ دونوں کا ہی دوسرا نام درد تکلیف اور وہ اذیت ہے جو شوخ وچنچل اداؤں اور گھنگھروؤں کی جھنکار میں تماشہ بین کو سنائی نہیں دیتیں۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: