Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 15

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 15

–**–**–

ایئر پورٹ پہ ہر طرف چہل پہل نظر آ رہی تھی۔۔۔
کچھ مسافر آپ رہے تھے اور کچھ جا رہے تھے ۔۔۔
کچھ لوگ اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑنے اور لینے آئے تھے۔۔۔۔
اس نے بھی جہاز سے نکل کر جب ایئرپورٹ کی زمین پر قدم رکھے تو اپنی روح میں اترتے سکوں کو محسوس کیا۔۔۔
چار سال بعد وہ اپنے ملک لوٹا تھا۔۔۔
ایئرپورٹ سے نکل کر باہر ہی اسے اپنے دو دوست نظر آئے۔۔۔۔
دونوں خوشی سے مسکرا کر اس کی طرف بڑھے۔۔۔ اور گرم جوشی سے بغلگیر ہوئے۔۔۔۔
آگیا اپنا شیر۔۔۔۔آخر کار آ ہی گئی تجھے بھی اپنے ملک کی یاد۔۔۔۔یاسر نے محبت سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میرا گھر,میرا ملک, میرے بابا اور میرے دوست جو میرا انتظار کر رہے تھے۔۔۔جواباً وہ بھی مسکرا کر کہنے لگا۔۔۔
اگر اتنا ہی سب کا احساس تھا تو چھوڑ کر ہی کیوں گئے؟؟؟
وہ اس سوال کا جواب سوچ رہا تھا وہاج بیچ میں بول پڑا۔۔۔جو کب سے اسے سر تا پاؤں گھورے جا رہا تھا۔۔۔
یار زہران تم بہت کمزور ہو گئے ہو۔۔۔۔وہ فکر مندی سے کہنے لگا۔۔۔۔
ہاں بھئی کمزور تو ہونگا ہی پردیس میں رہنا آسان تھوڑا ہی ہے۔۔۔۔۔
پڑھائی کے ساتھ جاب اور واپس آ کر خود ہی کچا پکا کھانا بنا کر کھا لینا۔۔۔۔
تمہاری طرح ایم این اے تو ہوں نہیں۔۔۔جو ہر وقت ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھا رہے گا اور ایک حکم پر سب کام کروا لے گا۔۔۔۔
اس نے بات کو م ذاق میں اڑا کر آخر میں وہاج پر چوٹ کی ۔۔۔۔
زہران کی آخری بات سن کر وھاج کے چہرے پہ غصے کے مصنوعی آثار نظر آنے لگے۔۔۔۔۔اس نے پھر کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا۔۔۔۔یاسر تیزی سے بول اٹھا۔۔۔۔
یار تم کیا ماؤں کی طرح فکریں کر رہے ہو۔۔۔۔جو اچھے خاصے ہٹے کٹے بیٹوں کو یہ کہہ کر بگاڑ دیتی ہیں بیٹا کمزور لگ رہے ہو۔۔۔۔
یاسر اب باقاعدہ جھنجلائے انداز میں ایکٹنگ کر کے بتانے لگا۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوا اسے ٹھیک ٹھاک ہے باقی باتیں راستے میں کرنا اب چل کر گاڑی میں بیٹھو۔۔۔۔یاسر تیز تیز بولتا ان دونوں کو گاڑی تک لایا اسے ڈر تھا کہیں دونوں لمبی بحث میں نہ پڑ جائیں۔۔۔
وہ دونوں بھی اس کے انداز دیکھ کر ہنستے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔۔
ڈرائیونگ سیٹ یاسر نے سنبھالی وہ دونوں پیچھے بیٹھ گئے۔۔۔
اب بھی ہنسی مذاق اور ہلکی نوک جھونک جاری تھی ان کی۔۔۔۔
گاڑی سگنل پہ رکی اور اچانک یاسر کو کچھ یاد آنے پر پیچھے پلٹا۔۔۔۔
زہران تم تو پی ایچ ڈی کرنے گئے تھے نا؟؟؟
ہاں بالکل۔۔اس نے سادہ سے لحجے میں جواب دیا۔۔۔اب وہ انہیں کیا بتاتا کسی کی یادیں بھلانے میں پی ایچ ڈی کرنے گیا تھا وہ اور اس میں بھی ناکام لوٹا تھا۔۔۔۔
تمہیں دیکھ کر تو نہیں لگ رہا تم پی ایچ ڈی کر آئے ہو۔۔۔
لیکن کیوں۔؟؟م
سوالیہ تاثر لیے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
کیوں کہ تمہاری دماغی حالت بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔جس سے میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے تم چار سال گوری میموں کے ساتھ گھوم پھر کر آگئے واپس۔۔۔
یاسر کی بات سن کر تینوں کا جاندار قہقہہ گاڑی میں گونجا
ایئرپورٹ سے گھر تک کا سفر خوشگوار رہا۔۔۔۔
یاسر نے گاڑی زہران کے گھر اندر روکی۔۔ ۔ملازم آگے بڑھ کر ڈگی سے سامان نکالنے لگا۔۔۔
جہانگیر صاحب( زہران کے والد)بےچینی سے لان میں ٹہل رہے تھے اپنے بیٹے کے انتظار میں۔۔۔۔
گھر کے اندر رکتی گاڑی کو دیکھ کر وہ تیزی سے اس جانب بڑھے زہران بھی گاڑی سے نکل کر تیز قدم اٹھاتا اپنے بابا جان کی طرف آیا۔۔ اور ان کے گلے لگ گیا۔۔۔
جہانگیر صاحب نے اسے خود سے علیحدہ کر کے اس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرا اتنے سالوں بعد اپنی اکلوتی اولاد کو دیکھ کر ان کی آنکی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔۔
وہ تو زہران کو اتنے دور بھیجنے پر بھی خوش نہیں تھے۔۔۔
لیکن زہران کی ضد کے سامنے مجبور ہو گئے۔۔۔۔
دونوں باپ بیٹا خاموشی سے آنسو بہاتے ہاتھ پکڑے کھڑے تھے۔۔۔
آخر کار یاسر کو ہی انہیں اپنی طرف متوجہ کروانا پڑا۔۔۔
براہے کرم ہم پہ بھی کرم فرمائیں آپ باپ بیٹے کے پاس پورا دن اور رات بھی ہے ملتے رہیئے گا
جہانگیر صاحب مسکرا کر ان دونوں کی طرف بڑھے اور دونوں سے مصافحہ کیا۔۔۔۔اندر آنے کی دعوت دی۔۔۔۔
جس پر دونوں نے ضروری کام کا کہہ کر سہولت سے انکار کر دیا۔۔۔۔
زہران کے اصرار کرنے کے باوجود وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔
وھاج کو کچھ یاد آنے پر اس نے گاڑی سے باہر سر نکالا اور زہران کو مخاطب کیا۔۔۔
دو دن بعد پھر ملاقات ہوگی۔۔۔۔ہم تمہیں لینے آئیں گے۔۔۔
جب تک تم اپنے رشتہ داروں سے ملنے والا سیشن بھی کمپلیٹ کر لو۔۔۔۔
وہاج کی بات پر زہران نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
یاسر نے گاڑی سٹارٹ کی اور باہر کی جانب موڑ دی۔۔۔۔۔
زہران پلٹ کر اپنے بابا کی طرف آیا اور محبت سے انہیں کندھوں سے تھامے گھر کے اندر لے گیا۔۔۔۔۔
کوٹھے پر صبح سے ہی تیاریاں شروع تھیں۔۔۔
اسے اطلاع مل چکی تھی وہاج درانی اپنے عزیز دوستوں کے ساتھ آ رہا ہے۔۔۔۔
وہ ہر طرح سے وہاج کی امید پر پورا اترتا چاہتی تھی۔۔۔۔
جس کے لیے اس نے خاص اہتمام اور رقص کی تیاری کی تھی۔۔۔۔۔
نگینہ بیگم کمرے میں اسے سنگھار میز کے سامنے بٹھائے تیار کر رہی تھی۔۔۔۔وقفے وقفے سے اس کی نظر غنچہ گل کے چہرے پہ جاتی۔۔۔
جہاں میٹھی مسکان کے ساتھ نرم تاثر صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔۔
حضور ایک بات کہیں آپ سے۔؟؟؟
وہ اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔۔۔
نگینہ بیگم کی بات پر چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
ہمم,,,, کہئیے کیا کہنا چاہتی ہیں آپ ؟؟؟
حضور ہم کئی دنوں سے دیکھ رہے ہیں جب بھی وہاج صاحب کوٹھے پہ آپ کا رقص دیکھنے تشریف لاتے ہیں۔۔۔
آپ کے چہرے کی گلالیاں بڑھ جاتی ہیں۔۔۔۔
کہیں آپ کو ان سے محبت تو نہیں ہو گئی۔؟؟؟؟
نگینہ نے اپنی بات مکمل کر کے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔۔۔۔
چند لمحے غنچہ گل خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر ہلکا سا مسکرائ
ایسا نہیں ہے نگینہ بیگم ہمیں ان سے محبت نہیں۔۔۔۔ہاں وہ ہمیں کوٹھے پہ آئے دوسرے مردوں سے الگ ضرور لگتے ہیں۔۔۔
وہ اسے اپنے دل کی بات بتانے لگی۔۔۔۔
لیکن وہ آپ کو باقی مردوں سے الگ کیسے لگے؟؟؟؟
ہمیں ان کی آنکھوں میں اپنے لیے حوص نہیں دکھتی کبھی بھی۔۔۔۔۔وہ یہاں آنے والے پہلے انسان ہیں جن کے لیے ہمارے دل میں عزت روزانہ بڑھتی ہی ہے۔۔۔۔
وہ اپنا رخ نگینہ بیگم کی طرف موڑ کر براہراست اسے بتانے لگی۔۔۔۔
اور وہ بھی ہمیں عزت دیتے ہیں ہمیشہ۔۔۔۔
یہ تو بہت خوشی کی بات ہے حضور۔۔۔۔
ہاں لیکن عزت دینے اور عزت بنانے میں بہت فرق ہے نگینہ بیگم۔۔۔۔
عزت دار بننا ہم طوائفوں اور رقاصاؤں کے مقدر میں کہاں۔۔۔
وہ اب مایوس سے کہہ رہی تھی۔۔۔۔
نہیں حضور یہ تو میرے رب کے کام ہیں وہ جب چاہے جسے چاہے عزت دے۔۔۔۔۔اور جس سے بھی چاہے عزت چھین کر ذلّت مقدر میں لکھ دے۔۔۔۔
بیشک ہم آپ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔۔۔
وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔پہلے والی مایوسی کچھ کم ہو گئی۔۔۔۔
ٹھیک ہے حضور ہم چلتے ہیں جیسے ہوں مہمان آئیں گے ہم آپ کو اطلاع کروادیں گے۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
نگینہ بیگم کے جاتے ہی وہ اپنا عکس آئینے میں دیکھ کر مسکرانے لگی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ملازمہ نے دستک دے ، اسے مہمانوں کی آمد سے مطلع کیا۔۔۔۔
وہ جلدی سے اپنے گھنگھرو باندھ کر ایک آخری جائزہ آئینے میں لیتی کمرے کی باہر نکلی اور سہج سہج کر چلتی مجرا ہال میں داخل ہوئی۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: