Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 16

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 16

–**–**–

اے عشق شطرنج دی بازی نھیں
جنھوں گوٹیاں مار کے جتنا اے
نه عشق طوائف دا کوٹھا اے
جتھے دولت وارکے جتنا اے
اس پاک شفاف محبت نوں
سکھ چین وسارکے جتنا اے
اے عشق تاں ایسی بازی اے
جنھوں ذندگی ھار کے جتنا اے
‏جِند وار کے یار دے قدماں توں
اِنج یار نوں__ راضی کر دے آں
اساں یار دے __ھو کے جینے آں
اساں یار دے —-ھو کے مرنے آں
ہال میں داخل ہو کر اس نے بلند آواز میں آراب کہا۔۔۔۔
جس پر ہال میں بیٹھے سب افراد کی نظر اس کی طرف اٹھی۔۔۔
غنچہ گل کے چہرے پہ خوبصورت مسکان تھی اس کی بھی پہلی نظر وہاج پر گئی۔۔۔۔پھر اس کے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ ساکت ہو گئی۔۔۔
اسے لگا کوٹھے کی چھت اس پر گر گئی اور وہ بےجان ہو گئی ہے۔۔۔
سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر وہ بھول ہی گئی وہ کہاں موجود ہے۔۔۔
غنچہ نہیں بہت دعائیں کی تھیں ذندگی میں پھر کبھی اس شخص سے اس کا سامنہ نہ ہو۔۔۔۔۔
لیکن اسے آج یقین ہو گیا تھا اس کی ساری دعائیں رد کر دی گئی ہیں۔۔۔۔
سامنے بیٹھے زہران کی حالت بھی مختلف نہ تھی۔۔۔۔وہ آنکھوں میں حیرانی اور اذیت کا تاثر لیے غنچہ گل کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کی محبت جس کے لیے وہ دن رات اداس رہتا جسے وہ دنیا میں سب سے زیادہ پردے دار اور پاکیزہ سمجھتا آج اس کا اصل روپ دیکھ کر وہ پتھر کا بت بن گیا تھا ۔۔۔
کیا تھی وہ ایک طوائف ناچنے والی لوگوں کے دل بہلانے والی۔۔۔۔
اس سے وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔
غنچہ بیگم آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔۔۔۔
آپ میرے دل عزیز دوست کی اداسی دور کر دینگی۔۔۔۔
وقت آ گیا ہے اپنا وعدہ پورا کریں اور اپنے رقص کے جلوؤں سے میرے دوست کو پہلے جیسا بنا دیں۔۔۔۔
وہاج ان دونوں کی حالت سے انجان اپنی بات کہہ رہا تھا جسے سن کر غنچہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹی۔۔۔۔
سر جھٹک کر ہال کے وسط میں کھڑی ہوگئی ۔۔
اب اسے اس شخص کا سامنہ کرنا ہی تھا۔۔۔۔
اسے خود پر زہران کی جمی نظریں محسوس ہو رہی تھیں
جس کی آنکھیں شدت برداشت سے سرخ ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔
اس نے رقص شروع کیا۔۔۔۔
Raske bhare more nain
Haari haari main haari
Maan anghan pe ishq hai taari
Guzre na then raat hamare
Le gaye ho tum chain hamare
Wari jaaon main saari saari
Maan raqsaam raqsaam
Taan raqsaam
Mya gham payar gham raqsaam
Jo ishq kare haar dam raqsaam
Taan raqsaam
Maan raqsaam
شراب کے جام بھی رقص کے ساتھ چلنے لگے لوگ اس پر پیسے اور پھول بھی پھینک رہے تھے۔۔۔۔
سب جھوم جھوم جا رہے تھے۔۔۔
کچھ تو اس کے ساتھ رقص کرنے لگ گئے۔۔۔۔
زہران اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا تھا وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہال سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
کوٹھے سے نکل کر تیزی سے اپنی گاڑی کی جانب آیا اور دروازہ کھول کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
وہ شدید غصے اور اشتعال کی کیفیت میں گھرا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔
زہران کو جاتا دیکھ کر اس کے دوست بھی معزرت کرتے کوٹھے سے نکلے لیکن وہ جا چکا تھا۔۔۔۔
پیچھے کھڑی غنچہ گل کو اپنے دل میں درد محسوس ہوا۔۔۔
وہ اب یہاں اور نہیں رک سکتی تھی۔۔۔
رقص ادھورا چھوڑ کر آ گئی اور اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔۔۔
وہ آج تک زہران کی محبت بھلا نہیں سکی اس نے بارہا اپنے ربّ سے دعائیں مانگیں ذندگی میں پھر کبھی اس شخص کو نہ دیکھے۔۔۔
وہ زہران کی آنکھوں میں تکلیف اور اپنے لیے نفرت دیکھ چکی تھی آج۔۔۔۔
لیکن اب کچھ نہیں بچا تھا۔۔۔۔اس کے پاس۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: