Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 17

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 17

–**–**–

ابھی سانسوں کے گھنگرو میں تمھارا نام رقصاں ہے
دھمالوں تک جو بات آئی میرے ہو کر رہو گے تم
وہ تیز ڈرائیونگ کر کے گھر پہنچا اور اپنے کمرے میں بند ہو گیا۔۔۔۔۔
کمرے میں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔
ایسے میں وہ صوفے پہلے بیٹھا آج دیکھے گئے کربناک منظر کو سوچ رہا تھا۔۔۔۔
غنچہ گل کا اصل روپ دیکھ کر زہران کو اس سے نفرت ہو رہی تھی۔۔۔
اسے سب یاد آ رہا تھا۔۔۔یونیورسٹی میں اس کا دیکھنا, کھڑکی سے دیکھنا۔۔۔۔ہمیشہ پردے میں رہنا اسے سب ڈھونگ لگ رہا تھا۔۔۔۔
انہی منفی سوچوں کی وجہ سے اسے غنچہ گل کی اور اپنی محبت بھی نہیں نظر آئی۔۔۔۔اسے سب فریب لگنے لگا تھا۔۔۔۔
اتنے سالوں کی محبت چند گھنٹوں میں ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اتنے سال میرے جزبات کے ساتھ کھیلتی رہی۔۔۔
اور آخر میں کیا نکلی ایک ناچنے والی۔۔۔۔میں اس سے ایک ایک لمحے کا حساب لونگا۔۔۔۔اپنی ہی غلط سوچوں میں غرق ہو کر اسے پتہ نہیں چلا کب رات سے صبح ہو گئی۔۔۔۔
رات کمرے میں جانے کے بعد وہ باہر نہیں نکلی تھی۔۔۔۔
نہ ہی کسی سے کوئی بات کی۔۔۔۔صبح نگینہ بیگم کے بہت اصرار پر دروازہ کھولا اور اس کے بہت پوچھنے پر غنچہ گل نے اپنے اور زہران کے بارے میں سب بتا دیا۔۔۔۔
اسے اس وقت اپنے دل کا بوجھ کسی سے بانٹنا تھا اس کے نگینہ بیگم سے بہتر اور کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
اصل بات جان کر نگینہ کو بھی دکھ ہوا وہ یہ سوچ کر آئی تھی شاید رقص کے دوران کسی نے نازیہ حرکت کر لی ہے کیوں کہ غنچہ گل آج بھی ان باتوں پر غصہ ہو جاتی اور دکھی رہتی تھی۔۔۔۔
حضور اگر وہ آپ سے سچی محبت کرتے ہوئے تو ضرور آپ کی آنکھوں میں سچائ پڑھ لیں گے۔۔۔۔
لیکن وہ اب کبھی واپس نہیں لوٹیں گے۔۔۔
وہ نگینہ کی گود میں سر رکھے نم آواز میں کہنے لگی۔۔۔
وہ آئیں گے ضرور واپس آئیں گے۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔
اٹھیے کچھ کھا کر آرام کر لیں۔۔۔۔
وہ بھی نگینہ بیگم کی بات سن کر اثبات میں گردن کو حرکت دیتی واشروم کی طرف چل دی۔۔۔۔
رات اس نے آنکھوں میں کاٹی۔۔۔صبح اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔
دن 12 بجے جاگنے کے بعد اپنے بابا کو ضروری کام کا کہہ کر وہ گھر سے نکلا۔۔۔۔
گاڑی کا رخ کوٹھے کی طرف ہی تھا۔۔۔
اسے اپنے تمام سوالوں کے جواب چاہیے تھے۔۔۔
کیسے وہ لڑکی بھیس بدل کر اسے بیوقوف بناتی رہی۔۔۔
اس کے سامنے باپردہ اور شریف ہونے کا ڈھونگ رچا کر اس پر ڈورے ڈالتی رہی۔۔۔
وہ بالکل یہ بات فراموش کر بیٹھا تھا کتنے سال وہ اسی لڑکی کی محبت کا دم بھرتا رہا۔۔۔۔
اب وہ کوٹھے کی گلی میں داخل ہو گیا تھا۔۔۔
دروازے کے باہر اس نے ہارن بجایا چوکیدار نے دروازہ کھول دیا۔۔۔
یہاں مردوں کا آنا جانا عام تھا وہ یہ بات جانتا تھا۔۔۔
لیکن کوٹھے کے اندرونی دروازے پر ایک اور پہرے دار بھی تھا۔۔۔
جس نے اس سے جاننا چاہا وہ کس سے ملنے آیا ہے۔۔۔۔
غنچہ گل سے ملنا ہے۔۔۔
وہ اس کا پیغام لے کر اندر چلا گیا۔۔۔
لیکن اسے کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی۔۔۔
وہ خود ہی تیزی سے اندر بڑھ گیا۔۔۔
اندرونی حصے میں وہی پہرے دار کھڑا ایک لڑکی کو اس کا پیغام بتا رہا تھا۔۔۔
باہر غنچہ بیگم سے کؤئی ملنے آیا ہے؟؟؟
جو بھی ہے آپ ان سے کہئیے عصر تک وہ کسی سے بھی نہیں ملتیں۔۔۔آپ نماز کے بعد تشریف لائیں۔۔۔
اندر آتے زہران نے لڑکی کا جواب سن لیا تھا۔۔۔۔
کیوں نہیں ملتی وہ کسی اور سے۔؟؟؟؟
کیا دن بھر بھی وہ کسی کے ساتھ ہوتی ہے؟؟؟؟
نگینہ بیگم حیرانی سے اس غصے میں بھرے ہوئے شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
حضور ہم سچ کہہ رہے ہیں یہ وقت ان کی عبادت کا ہے
وہ کسی سے نہیں ملیں گی۔۔۔۔
میں کوئی اور نہیں زہران ہوں مجھ سے ملے گی وہ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
جب وہ لڑکی ایک بار پھر اس کے راستے میں آ گئی۔۔۔۔
ہم آپ سے کہہ رہے ہیں نا آپ ہماری بات مان لیں۔۔۔۔
وہ ملتجی انداز میں اب اس سے مخاطب ہوئی ورنہ دل تو کر رہا تھا سر پھوڑ دے اس کا۔۔۔۔لیکن ایسا صرف سوچ سکتی تھی وہ۔۔۔۔۔
میرے راستے سے ہٹو میں تم جیسیوں کو منہ لگانا پسند نہیں کرتا۔۔۔۔۔
و حقارت سے بولا اور میں ضروری بات کرنے آیا ہوں۔۔
ورنہ اس گندی جگہ کبھی نہیں آتا۔۔۔
آج وہ ادب کی ساری حدیں پار کیے ہوئے تھا۔۔۔۔
اس کی بات اور تذلیل سن کر نگینہ کو بھی غصہ آگیا۔۔۔
آپ جس جگہ کو گندی جگہ کہہ رہے ہیں نا آپ جیسے شریف ہی اس گندگی پہلے آتے بھی ہیں۔۔۔۔
اور ہم جیسی طوائفیں ہی ان شریفوں کی گندگی کو تھامے ہوئے ہیں۔۔۔۔
اور جس سے آپ ملنے کی بات کر رہے ہیں وہ بھی اسی گندی جگہ کی ملکہ ہے۔۔۔
وہ بھی اب دوبدو اسے جواب دے رہی تھی۔۔۔۔
بہت دیر سے لحاظ کر رہی تھی وہ اس بدتمیز انسان کا۔۔۔۔۔
زہران مزید سخت سست سنانے کا ارادہ بنا رہا تھا۔۔۔
جب سامنے موجود کمروں میں سے ایک کا دروازہ کھلا۔۔۔۔۔
اس
کا ہمیشہ سے معمول رہا تھا۔۔۔۔
ظہر سے عصر تک وہ عبادت کرتی تھی۔۔۔۔
اس دوران کسی کو بھی اس کے کمرے میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔
آج بھی وہ جب نوافل کی ادائیگی کر رہی تھی اسے باہر شور سنائی دیا۔۔۔۔
جائنماز کو بچھا چھوڑ کر وہ دروازے کی طرف گئی۔۔۔۔
فوراً سے پہچان گئی
باہر کون کھڑا ہے اور کیوں الجھ رہا ہے۔۔
اس سے پہلے کہ مزید دونوں کے درمیان بدمزگی ہوتی اس نے دروازہ کھول دیا۔۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر زہران اور نگینہ نے اس طرف دیکھا جہاں غنچہ گل نماز کے انداز میں ڈوپٹہ اوڑھے کھڑی تھی۔۔۔۔
نگینہ بیگم انہیں اندر آنے دیجئے ان کے سب سوالوں کے جواب ہم دینگے۔۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ کمرے میں چلی گئی۔۔۔
زہران بھی ایک قہر آلودہ نگاہ نگینہ پہ ڈال کر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
کمرے داخل ہو کر اس نے دیکھا غنچہ گل جائنماز تہہ کر رہی ہے۔۔۔۔
اب وہ میز پر رکھا خوبصورت قرآن مجید چوم کر اونچی جگہ رکھ رہی تھی۔۔۔
وہ خاموشی سے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جب وہ اس کی طرف پلٹی تو چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ سجائے مخاطب ہوا۔۔۔
ایک ناچنے والی اور اتنی عبادت گزار۔۔۔۔کیسے؟؟؟؟
یا پھر یہ بھی تمہارا کوئی نیا روپ ہے۔۔۔
زہران کا لحجہ اور طنز سے اسے غصہ بہت آیا لیکن ضبط کر گئی۔۔۔
نرمی سے گویا ہوئی۔۔۔
ناچنا ہمارا پیشہ ہے جبکہ عبادت ہم اللّٰہ کے لیے کرتے ہیں۔۔۔۔
اس میں بھلا کیا روپ ہوگا۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ تحمل سے اپنی بات کہہ کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
اور تمہیں لگتا ہے ایک ناچنے والی رقاصہ کی عبادت قبول ہوگی؟؟؟؟
اپنی طرف سے اس نے کمال کا سوال پوچھا تھا؟؟؟؟
آپ کو ایسا کیوں لگا۔۔۔۔صرف اس لئے کہ ہم رقص کرتے ہیں ایک طوائف ہیں؟؟؟
تم بہت گناہگار ہو؟؟؟
وہ اس سے رخ پھیر کر کہنے لگا۔۔۔
گناہگار ؟؟؟کون نہیں ہے یہاں لیکن گناہ ک سارے پیمانے ایک طوائف کو ہی ذیادہ گناہگار تولتے ہیں۔۔۔
ایک طوائف اگر اپنا جسم بیچتی ہے۔۔۔۔تو خریدتا بھی تو ایک مرد ہے پھر تو وہ بھی گناہگار ہوا۔۔۔
ایک رقاصہ اگر رقص کرتی ہے تو دیکھنے والے بھی گناہگار ہوئے نا۔۔۔۔
وہ
اسے لاجواب کر گئی تھی۔۔۔۔
تم جانتی تھیں تم کیا ہو۔۔۔۔پھر بھی تم نے مجھے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر کے چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔
میری ذندگی کے اتنے سال برباد کر دیے تم نے۔۔۔
وہ اب اس کے قریب آ کر کندھوں سے تھام کر سخت لحجہ میں بولنے لگا۔۔۔۔
اور اب مجھے خود سے بھی نفرت ہو رہی ہے یہ سوچ کر تم جیسی گندی عورت کو چاہا تھا میں نے۔۔۔۔
اس کی آخری بات پر غنچہ گل خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
وہ تھا یا سوچے ہوئے تھی سامنے کھڑے شخص کی ساری غلط فہمی دور کر دے گی۔۔۔۔
یہ صرف اسی کی خام خیالی تھی۔۔۔۔
ناچاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔۔۔۔۔
زہران ہم صرف رقص کرتے ہیں جسم کا سودا نہیں کرتے اور نہ ہی ہم بری عورت نہیں ہیں۔۔۔
اوہ کس کس کو یقین دلاؤ گی کہ تم پاکدامن ہو؟؟؟
وہ سفاکی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
کسی کو بھی نہیں۔۔۔۔کیوں کہ جو سچی محبت کرتے ہیں انہیں یقین دلانے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ آنکھوں سے ہی جان جاتے ہیں آپ کی حقیقت کردار کی گواہی تو بےیقین لوگ مانگتے ہیں۔۔۔
محبت کی پہلی شرط ہی وہ یقین ہے جو آپ اپنے محبوب پہ کرتے ہیں۔۔۔۔
یہ سب کتابی باتیں ہیں غنچہ گل تم سب کو یقین دلا سکتی ہو لیکن مجھے نہیں۔۔۔۔
تو پھر یہاں کیوں آئے ہیں آپ خدارا یہاں سے چلے جائیں اور کبھی نہ لوٹ کر آئیے گا۔۔۔۔
وہ اپنے شانوں سے اس کے ہاتھ جھٹک کر دیوار کی طرف رخ موڑ گئی۔۔۔۔
زہران بھی اسے حقارت سے دیکھ کر کمرے سے باہر نکلا۔۔۔
باہر کھڑے وہاج پر اس کی نظر پڑی۔۔۔جسے نظر انداز کرتا وہ آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
زہران کے جاتے ہی غنچہ نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔۔۔
وہاج اور نگینہ نے بارہا کوشش کی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔
وہاج کو آج ہی نگینہ بیگم سے ساری سچائی کا پتہ چلا تھا۔۔۔۔
جسے جان کر اسے زہران واقعی بدنصیب انسان لگا۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: