Nami Raqsam Novel By Ifrah Khan – Episode 2

0
نمی رقصم از افراح خان – قسط نمبر 2

–**–**–

جتنی دعا ئیں آتی تھیں
سب مانگ لیں ہم نے
جتنے وظیفے یاد تھے سارے
کر بیٹھے ہیں
کئی طرح سے جی کے دیکھا ہے
کئی طرح سے مر بیٹھے ہیں
لیکن جاناں!
کسی بھی صورت
تم میرے ہو کر ہی نہیں دیتے
صبح پھر آذان کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی۔۔۔۔
نماز ادا کرنے اور قران پاک کی تلاوت کرنے کے بعد وہ کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی۔۔۔
جہاں ہمیشہ کی طرح وہ دشمن جاں ہر طرف سے بےنیاز اپنی فٹنس پہ فوکس کیے ہوئے تھا۔۔۔
اس منظر کو اپنی نگاہوں کے ذریعے اپنے دل میں اتارنے لگی۔۔۔
اس کے جانے کے بعد وہ بھی تیار ہو کر یونیورسٹی چل دی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار کل میں جلدی چلا گیا تھا اس لئے کچھ لیکچر میں نے مسسس کر دیے۔۔۔
مجھے نوٹس دے دو کل کے لیکچرز کے۔۔۔
وہ پاس سے گزر رہی تھی جب زہران کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔
ہم
نے پہلے کبھی کؤئی لیکچر نوٹ کر کے ٹائم پہ نوٹس بنائے ہیں کیا؟؟؟؟
اس کے دوستوں نے مصنوعی حیرت سے مذاق اڑاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
لیکچرز تم اور وہ برقعہ avenger ہی نوٹ کرو کیوں کہ تم دونوں کو ہی ہمیشہ کلاس میں ٹاپ کرنے کی فکر ہوتی ہے۔
اپنے نقاب کی اس طرح سے تضحیک پر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ فوراً سے لائبریری میں جا کر قدرے الگ سے کونے میں بیٹھ گئی۔۔۔
اچھا بس۔۔۔۔
اگر وہ برقعہ کرتی ہے تو اس میں تم لوگوں کو کیا مسئلہ ہے ویسے بھی اسلام کی شہزادیاں پردے میں ہی اچھی لگتی ہیں ۔۔۔
زہران کو اپنے دوستوں کا اس قسم کا مذاق ایک آنکھ نہ بھاتا تھا
ان باتوں پر اکثر اپس میں اختلافات رہتے۔۔۔
تجھے آج بڑا اسلام یاد آ رہا ہے۔۔۔نتاشہ سے بات ختم ہو گئی ہے کیا جو آج برقعہ avenger کی سائیڈ لے رہے ہو۔۔۔۔
میں تمہیں کسی بھی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا ۔۔۔
ایسا کہ کر وہ اپنے دوستوں کی باتیں اگنور کرتا وہاں سے چل دیا۔۔۔
اس نیلی آنکھوں والی ساحرہ کی تلاش میں کیوں کہ اس نے ساحرہ کو یہاں سے گزرتے اور باتيں سنتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے تلاش کرتے لائبریری آ گیا تھا۔۔۔
اس کی توقع کے عین مطابق وہ وہیں کتاب کھولے سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔
ایکسکیوزمی؟؟؟
وہ جو سر جھکائے اپنا غم کم کر رہی تھی۔۔۔اس کی آواز پر چونکی۔۔۔
اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ کر پھر نگاہ جھکا لی۔۔
مقابل بھی اس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈورے دیکھ چکا تھا۔۔۔
وہ ایکچلی میں کل کے کچھ لیکچرز مس کر گیا تھا مجھے ان کے نوٹس چاہئیے تھے۔۔۔
آپ کے نوٹس کلاس میں سب سے بہتر ہوتے ہیں تو سوچا آپ سے مانگ لوں
وہ اپنے آنے کی وجہ تفصیل سے بتانے لگا ۔ ۔۔
کوئی
اور شخص ہوتا تو اسے نوٹس دینا تو دور کی بات وہ اس سے بات تک نہ کرتی لیکن سامنے کھڑا شخص اسے ہر چیز سے بھی ذیادہ قیمتی تھا۔۔
صرف وہی تھا اس کی بے رنگ ذندگی میں واحد ایک خوبصورت رنگ۔۔۔
اس نے خاموشی سے اپنی فائل سامنے بڑھا کر ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔
جسے زہران نے حیرت سے دیکھا پھر خاموشی سے فائل اٹھا لی۔۔
بہت شکریہ میں کل تک سارے نوٹس کاپی کروا کر آپ کو واپس کر دونگا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔اس سے زیادہ بات وہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ پھر سے اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہوگئ۔۔۔
زہران یہی سمجھا شاید وہ اس کے دوستوں کی باتیں سن کر غصہ ہوگئی ہے۔۔۔
میں کل ضرور سوری کرونگا۔۔۔
دل ہی دل میں وہ سوچتے وہاں سے چل دیا۔۔۔
وہ نظروں میں محبت سموئے اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی اور اس خوبصورت لمحے کو اپنی یادوں کے پردے میں محفوظ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن جب وہ یونیورسٹی آئ ۔۔۔۔
زہران پہلے سے ہی نوٹس ہاتھ میں پکڑے اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
دور سے اسے دیکھ کر وہ اس کے پاس آیا اور نوٹس اس کی طرف بڑھائے جنہیں اس نے کانپتے ہاتھوں سے تھام لیا۔۔۔۔
یہ آپ کے نوٹس۔۔۔۔تھینکیو سو مچ۔۔۔۔
اور ہاں کل کے لیے سوری جو بھی میرے دوستوں نے کہا اس کے لیے میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔۔۔۔۔
زہران نے سچے دل سے اس سے ایکسکیوز کیا۔۔
کوئی بات نہیں میں اب ان باتوں کی عادی ہو چکی ہوں۔۔۔
اس نے کچھ تلخی اور دکھ کی ملی جلی کیفیت سے کہا۔۔۔۔
کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں؟؟؟؟
زہران کے اتنے غیر متوقع سوال پر وہ تھوڑا بوکھلا گئی۔۔۔
جی۔۔۔غنچہ۔۔۔۔۔غنچہ گل ۔
اتنا کہہ کر وہ رکی نہيں وہاں سے آگے بڑھ گئی کہیں وہ کچھ اور نہ پوچھ لے۔۔۔۔۔
غنچہ گل۔۔۔۔
جیسا نام خوبصورت تھا ویس ہی اس کی شخصیت تھی۔۔۔
اس کے نام کو اپنے لبوں سے دہراتا وہ خوشی اور سر شاری کی کیفیت میں وہاں سے چل گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی سے واپس آ کر بھی وہ زہران کے بارے میں سوچتی رہی۔۔۔۔
اس نے مجھ سے بات کی۔۔۔اللّٰہ آپ کا بہت بہت شکریہ میں نے جو دعا مانگی آپ نے قبول کر دی۔۔۔
آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔وہ بہت خوش تھی اپنے خیالوں میں ہم کلام بھی تھی۔۔۔۔
لیکن جو اگر اسے کبھی تمہاری سچائی پتہ چل گئی۔۔۔
تو کیا وہ ایسے ہی بات کرے گا۔۔۔؟؟؟
شاید وہ تمہاری شکل دیکھنا بھی نہ پسند کرے۔۔۔
پھر کہاں جاؤ گی۔۔ کیسے رہو گی؟؟؟؟؟
اسے اپنے اندر سے کہیں آواز آئی۔۔۔
نہیں میں اسے کچھ بھی پتہ چلنے نہیں دونگی۔۔
بلکہ میں آج کے بعد اس سے بات ہی نہیں کرونگی۔۔۔
صرف اسے دیکھوں گی۔
ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔۔۔خود سے باتیں کرتی تسلیاں دیتی وہ خود کو مطمئن کرنے کے بعد وہ ظہر کی نماز ادا کرنے لگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دسمبر کی وہ خنک رات تھی۔۔۔
کڑاکے کی سردی میں ہر مخلوق اپنے ٹھکانے میں دبی بیٹھی تھی۔۔۔
وہ پریشانی سے ادھر اودھر ٹہل رہی تھی۔۔۔
ایسے میں اس کی خاص ملازمہ بھی اس کی پریشانی کو سمجھتے ہوئے اس کے کمرے میں موجود تھی۔۔۔۔
کوٹھے پہ ہر طرف خاموشی کا سایہ سا ہو گیا تھا۔۔۔
ان تمام کمروں میں بھی خاموشی کا سکوت طاری تھا۔۔۔
جہاں کبھی دبی دبی سسکیوں اور سر گوشیوں کی آہٹیں سنائ دیتی تھیں۔۔۔۔۔
مجرا ہال بھی ایک ہفتہ سے بند پڑا تھا۔۔
جو مجرے اس ہفتے ہوئے تھے وہ بھی کچھ خاص کمائی نہ کر سکے۔۔۔۔

کوئی بھی بڑا آدمی اب کوٹھے پر دل بہلانے نہیں آتا تھا۔۔۔۔۔

کبھی یہ کوٹھا ا شہر کا مشہور کوٹھا تھا۔۔۔
جب وہ خود جوان اور حسین تھی۔۔۔
اس کے جسم میں کشش تھی۔۔۔۔۔دیکھنے والوں کی آنکھیں اس کے حسن رقص اور جان لیوا اداؤں سے چندھیا جاتی تھیں۔۔۔۔
بڑے بڑے امراء اور وزراء آتے اور اس کی بولی لگاتے۔۔
جو سب سے زیادہ قیمت دیتا وہی اس کے ساتھ ایک رات گزارنے کا حقدار قرار پاتا۔۔۔۔۔
ہفتے میں دو دن وہ مجرا کرتی۔۔۔۔ہال بڑے بڑے امیر لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا۔۔۔۔۔
ساری رات محفلِ شراب اور رقص چلتی۔۔۔۔جس میں وہ اپنے رقص اور اداؤں سے دیکھنے والوں کے دل لوٹتی۔۔۔۔۔
لیکن اب تو وہ سب جیسے خواب سا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔
وقت گزرنے کے ساتھ ہر چیز کو زوال آتا ہے۔۔۔
اس کا حسن بھی اب کملانے لگا تھا۔۔۔۔جسم میں وہ کشش نہ رہی تھی۔۔۔۔
جس سے مرد اس کی طرف مائل ہوتے تھے۔۔۔
رقص تو اس نے بہت پہلے چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
اب اس میں اتنی سکت نہیں رہی تھی کہ وہ پوری رات ناچتی۔۔۔۔
اسی وجہ سے یہاں امیر لوگوں کا آنا جانا کم ہو گیا تھا۔۔۔
شروع شروع میں کوٹھے کی دوسری طوائفوں نے بہت کوشش کی اس کوٹھے کی شان وشوق برقرار رکھنے کی۔۔۔
لیکن آنے والے مردوں کو وہ حسن اور ادائیں ان طوائفوں میں نہ دکھتی تھیں جو حسینہ بیگم میں تھیں۔۔۔۔
کیوں کہ وہ ایک پیدائشی ططوائف تھی۔۔۔۔۔
جب سے حسینہ بیگم کی ماں شبنم بیگم نے وفات پائی تھی۔۔۔
تب سے کوٹھے کے سارے معاملات حسینہ بیگم نے سنبھال لیے تھے۔۔۔
بچپن سے اس ماحول میں رہنے کی وجہ کے باعث اس میں طوائف ذادیوں جیسے ادب وآداب دل کو لباہ لینے والی ادائیں پختہ ہو چکی تھیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور آپ آرام فرما لیجیئے۔۔۔۔
رخسار بیگم بولی جو کب سے حسینہ بیگم کو پریشانی سے ٹہلتے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ہم کیسے آرام فرما لیں؟؟؟
کتنے دن سے کام بند پڑا ہے۔۔۔۔۔۔اب ہم تو رہے اس عمر میں مجرے کرنے سے۔۔۔۔۔۔۔رقم کم ہوتی جا رہی ہے۔۔۔۔
جمع پونجی بھی خرچ ہو رہی ہے۔۔۔۔
جو طوائفیں موجود ہیں وہ چھوٹے موٹے مردوں کے دل تو بہلا لیتی ہیں لیکن امیرذادوں کے نہیں۔۔۔
جن کی نظریں ہمیشہ ہیرے پر ہوتی ہیں۔۔۔۔
وہ پریشانی اور غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔
ہمیں بتائیں کیا آج کوئی آیا ہے؟؟؟؟؟
وہ اپنا رخ رخسار بیگم کی طرف کر کے پوچھنے لگی۔۔۔
جی حضور۔۔۔۔۔آج کچھ لڑکے آئے تھے۔۔۔۔۔
لیکن انہیں معمولی سی سالگرہ کی تقریب میں رقص کرنے کے لیے لڑکی درکار تھی۔۔۔
تو ہم نے شہنیلہ بائی کو بھیج دیا۔۔۔
کچھ رقم وہ پیشگی ادا کر گئے ہیں اور کچھ شہنیلہ بائی اپنے ہمراہ لیتی آئیں گی۔۔
رخسار بیگم نے سر جھکا کر جواب دیا۔۔۔۔
ہاہ۔۔۔۔۔ کبھی وہ وقت بھی تھا ہم اس طرح کے منچلے اور آوارہ لڑکوں کو اپنے کوٹھے کی گلی میں بھی نہیں بھٹکنے دیتے تھے۔۔۔
اور آج وہ ہمارے کوٹھے سے سستے داموں لڑکیاں خرید کر لے جانے لگے۔۔۔
اس نے ایک ٹھنڈی اہ بھرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جی حضور دن بہ دن کوٹھے کی کمائی میں کمی آتی جا رہی ہے۔۔۔
یہی حالات رہے تو کھانے کے بھی لالے پڑ جانے ہیں۔۔۔
پیسے کے بغير تو سانس لینا بھی دوبھر ہو جاتا ہے۔۔۔
ایک طوائف کے لیے تو پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے۔۔
رخسار بیگم نے فکر مندی سے کہا۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ہم جلدی ہی اس کا کچھ حل نکالیں گے۔۔
حسینہ بیگم نے بستر پہ دراز ہوتے ہوئے کچھ سوچ کر کہا۔۔۔
حضور کیا آپ بھی وہی سوچ رہی ہیں جس کی صلاح ہم نے بہت پہلے دی تھی آپ کو رخسار نے کھوجتی نظروں سے دیکتھے ہوئے کہا۔۔۔
آپ نے بالکل ٹھیک صلاح دی تھی۔۔۔۔۔
اس کوٹھے کو چلانا ان معمولی طوائفوں کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔اسے کوئی پیدائشی طوائف ہی چلا سکتی ہے۔۔۔
اب آپ جائیے ہم آرام کرنا چاہتےہیں
کل اس موضوع پر بات کریں گے۔۔۔
رخسار
بیگم کو تسلی آمیز جواب دے کر اس نے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔
رخسار بیگم بھی خوشی سے جھومتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
آج بہت دن بعد انہیں بھی سکون کی نیند آئے گی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: